| حجت حدیث حجت حدیث |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 401
|
||||
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم معزز قارئین کرام اس سے پہلے کہ ہم معترض کے اعتراضات کی طرف بڑھیں ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں انتہائی مختصر طور پر حدیث رسول کی تعریف پیش کردی جائے ۔
حدیث کے لفظی معنی بات STATEMENT اور گفتگو TALK کے ہیں علامہ جوہری صحاح میں لکھتے ہیں : " الحدیث الکلام قلیلہ وکثیرہ " یعنی حدیث بات کو کہتے ہیں کم ہو یا زیادہ ۔ یہی کلام جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے حوالہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال ،افعال و اوصاف اور تقاریر کی صورت میں بیان کیا جائے یعنی روایت کیا جائے تو احادیث کی اس روایت یعنی تحدیث کو TRANSMISSION (یعنی آگے پہنچانا ) کہا جاتا ہے ۔ حدیث لغوی معنی: لغوی معنٰی جدید (نیا) اس کی جمع احادیث خلاف ضابطہ آتی ہے۔ حدیث اصطلاحی تعریف : ایسا قول فعل یا تقریر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب منسوب ہو یعنی محدثین کی اصطلاح میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں ۔ محدثین نے صحابہ اور تابعین کے اقوال ،افعال اور تقاریر پر بھی حدیث کا اطلاق کیا ہے ۔ روایت نام ہے حدیث کی تحدیث یعنی TRANSMISSION کا ۔ دنیا جہان کی ہر زبان اور اس کے قواعد و ضوابط میں کسی بھی کلام کو متکلم کی نسبت سے بیان کرنے کے لیے ہر دو طریق بالاتفاق رائج ہیں ایک ہوتا ہے کلام کو تحت اللفظ یعنی بعینہ متکلم کے الفاظ میں نقل کرنا اور دوسرا ہوتا ہے تحت المعنی یعنی کلام کو متکلم کی مراد کے مطابق نقل کرنا ان میں سے پہلے طریق پر تو کوئی کلام نہیں وہ بالاتفاق جائز و درست ہے ۔ جبکہ دوسرے طریق پر کچھ اضافی اصول و قواعد ہیں یعنی یہ کے قائل متکلم کے کلام کا ہر پہلو سے احاطہ کیے ہوئے ہو۔ یعنی الفاظ اور اسکے مدلولات پر قائل کو مکمل دسترس ہو نیز اسکے ساتھ ساتھ وہ کلام کے دقائق اور متکلم کے مرادی معنی کے اعتبار سے ماحول وقائع کا بھی عالم ہو وغیرہ وغیرہ تو ایسی صورت میں اس کا کسی بھی کلام کو تحت اللفظ کی بجائے تحت المعنی بیان کرنا بالکل جائز امر ہوگا اور ویسے بھی یہ منطقی اصول ہے کہ کلام میں اصل مقصود بالذات معنی ہوتے ہیں نہ کہ الفاظ کا تناسب یعنی کسی بھی کلام کا مقصود اصلی اسکا معنی و مفھوم ہوتا ہے یعنی ہم جب بھی بولنے کے لیے کوئی کلمہ منہ سے نکالتے ہیں تو اس سے اصلا ہماری مراد ہمارے مخاطبین تک اس معنی کا انتقال ہوتا ہے جو کے ہماری معلومات میں ہو یعنی جو مرادی معنی ہماری دسترس علمی میں ہوتا ہے ہم اسے ہی مختلف الفاظ کی شکل میں چاہے مشترک ہوں یا متحد المعنی مفرد ہوں یا مرکب اپنے مخاطبین تک منتقل کرتے ہیں ۔ لہذا ثابت یہ ہوا کلام نفسی میں اصلا مقصود الفاظ نہیں بلکہ اس کلام نقسی کا مراد و مفھوم معتبر و مقصود بالذات ہوا کرتا ہے سو یہی وجہ ہے روایت حدیث میں بھی اس منطقی اصول کی پیروی کی گئی ہے لہذا مشروط طور روایات کو بالمعنی طریق سے روایت کرنے کی اجازت دی گئی ہے جیسا کہ ہم اوپر بیان کرچکے چناچہ یاد رہے کہ محدثین کی اصطلاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و اقوال اور آپ کے سامنے پیش آئے واقعات کو حدیث کہا جاتا ہے لہذا اگر روایت بالمعنی کی کوئی ضرورت پیش آئے بھی تو وہ فقط اقوال رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی حدیثوں میں تو آسکتی ہے مگر آپ کے افعال و احوال کو جب بھی بیان کیا جائے گا تو راوی اسے اپنے ہی الفاظ میں ہی بیان کرئے گا۔ اور یہ ایک ایسی بدیہی بات ہے کہ جس کا کوئی انکار نہیں کرے گا الا یہ کہ جاہل ۔ لہذا جب یہ ثابت ہوا کہ علم حدیث کی رو سے روایات کا ایک بڑا ذخیرہ خود محتاج ہے کہ اسے بالمعنی طریق پر بیان کیا جائے چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و احوال کو بیان کرنے والا ہر روای اپنے اپنے تجربہ و مشاہدہ کی رو سے ان واقعات کو خود اپنے ہی الفاظ میں نقل کرتا ہے۔ جہاں تک بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کی تو ان میں بھی جیسا کہ ہم اوپر نقل کر آئے اذکار و ادعیہ ،اذان و اقامت تشھد و تسبیحات ،احادیث اخلاق ،احادیث قدسیہ اور جوامع الکلم کے بارے میں بلا خوف تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب کہ سب تحت اللفظ ہی منقول ہیں ان کے علاوہ جو احادیث ہیں انھے بھی صحابہ کرام تحت اللفظ یاد رکھنے کا بڑا اہتمام کیا کرتے تھے جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ بعض صحابہ تو اسکے وجوب کے قائل تھے نیز اگر کہیں روایت بالمعنی ناگزیر ہو بھی جائے تو بھی اس کے لیے چند شرائط مذکور ہیں کہ جو اگر پیش نظر ہوں تو حدیث کا مفھوم بدلنا ناممکن ہے ۔ یعنی راوی عربی زبان کے اسرار و رموز سے واقف ہو یعنی عربی زبان و ادب نیز اسکے قواعد و ضوابط کے ساتھ ساتھ اسکے محاورہ اور عرف کا بھی عالم ہو نیز شریعت کی غرض و غایت اور مقاصد سے بھی آگاہ ہو نیز وہ ایسی حدیث بالمعنی بیان کرئے جو کہ حلال و حرام سے متعلق نہ ہو اور اگر ہو تو مفھوم اس طریق سے ادا کرئے کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہ بنائے ۔ لہذا جو راوی ان شرائط پر پورا نہ اترے محدثین کے نزدیک اسکی روایت بالمعنی مطلقا مقبول نہیں ۔ نیز روایت بالمعنی کے سلسلے میں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ احادیث نبویہ کے اولین راوی صحابہ کرام ہیں وہ جہاں ایک طرف اعلی درجہ کا حافظہ رکھنے والے تھے وہیں مزاج آشنا رسول اور نزول وحی کے شاہد و محافظ اور اعلی درجہ کی کردار و سیرت کے مالک تھے کہ جن کی نیتوں اور صدق ایمان و اعمال کی گواہی متعدد بار قرآن پاک نے دی ہے لہذا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے مفھوم میں کسی قسم کے ایک ذرہ برابر بھی تغیر و تبدل کو اپنے لیے محال سمجھتے تھے لہزا اس قسم کے راویوں نے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہے تو اس سے یہ خیال کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے اصل معنی میں تغیر واقع ہوگیا ہوگا صحابہ کرام سے تعصب ہے ۔ العیاذباللہ ۔ معزز قارئین کرام حدیث کو مشکوک بنانے کی سازش کوئی پہلی مرتبہ نہیں کی گئی ایک عرصہ سے منکرین حدیث مختلف حیلوں بہانوں اور اوچھے ہتھکنڈوں سے امت کے بھولے بھالے افراد کا ناطہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم توڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور قرآن کی آڑ میں عامۃ الناس کو بہکارہے ہیں ۔ عمومی طور پر منکرین حدیث روایت بالمعنی کو جواز بنا کر احادیث کے اس ذخیرہ کو مشکوک ٹھرانے کی سازش کرتے کہ جسکو محدثین نے اخلاص و للٰہیت کے ساتھ شب و روز کی انتھک محنتوں بے لوث خدمتوں اور ان گنت کاوشوں کے زریعہ سے ایسا نکھار کرپیش کیا ہے کہ اب باطل کی کوئی چارہ جوئی انکے قائم کردہ اس علمی حصار کو توڑ کر امت مرحومہ کا رشتہ اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی دلنشیں سنتوں سے نہیں بگاڑ سکتی اور نہ ہی مشکوک بنا سکتی ہے اللہ پاک تمام محدثین و فقہاء پر اپنی خصوصی رحمتیں فرمائے آمین ۔ منکرین حدیث سے ایک الزامی سوال : عمومی طور پر منکرین حدیث حجیت حدیث کا یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ احادیث میں روایات بالمعنی شامل ہیں سو احادیث کا ذخیرہ قابل احتجاج نہیں اور یوں وہ امت کا رخ حدیث سے موڑ کر براہ راست قرآن کی طرف جوڑتے ہیں اور اپنے زعم باطل میں داعی قرآن بنے پھرتے ہیں لیکن یہی سوال ہم ان سے قرآن کی بابت کرتے ہیں کہ یہ طے شدہ بات ہے کہ قرآن میں قصص سابقہ انبیاء و امم بکثرت موجود ہیں اور یہ بات بدیہی ہے کہ تمام انبیاء اور ان کی امتوں کی زبان ہرگز عربی نہ تھی بلکہ بعض کی عبرانی بعض کی سریانی اور بعض کی دیگر زبانیں اور لہجے تھے تو پھر کیا وجہ ہے قرآن پاک میں ان سب کے قصص فقط عربی زبان میں مذکور ہیں نیز اس پر بھی بعض جگہ ایک ہی واقعہ کو اختصارا بیان کیا گیا ہے اور بعض جگہ اسی واقعہ کو تطویلا بیان کیا گیا ہے اور تو اور قرآن کریم میں ایک ہی واقعہ کو متعدد اسالیب میں بیان کیا گیا ہے اور بیان کے وقت الفاظ اور ترتیب میں نمایاں فرق بھی ہے ۔ لہذا جو لوگ روایات بالمعنی کی بنیاد پر حدیث کو مشکوک ٹھراتے ہیں وہ قرآن کے بارے میں کیا جواب دیں گے ؟؟؟؟ ما ھو جوابکم فھو جوابنا ۔۔فاعتبروا یااولی الابصار ۔۔ اب ہم ذیل میں محترم معترض موصوف کے اعتراضات کو نقل کرکے ان کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ پیش کریں گے ۔ ۔ ۔ اقتباس:
لگتا ہے ہمارے ممدوح معترض موصوف منکرین حدیث کے لٹریچر سے متاثر ہیں کیونکہ جو سوال انھوں نے اٹھایا ہے اس قسم کہ سوالات ایک عرصہ سے منکرین حدیث کبھی غلام احمد پرویز کبھی حافظ محمد اسلم جیراجپوری اور کبھی تمنا عمادی کی صورتوں میں اٹھا چکے ہیں اور علمائے حق سے منہ کی کھا چکے ہیں ۔ لہزا انکے شافی اور مسکت جوابات ایک عرصہ سے علمائے حق نے منکرین حدیث کے رد میں لکھی گئی بے شمار کتب میں دے رکھے ہیں ۔مگر لگتا ہے کہ ہمارے ممدوح کی پہنچ میں ابھی تک فقط منکرین حدیث کا ہی لٹریچر آیا ہے لہزا یہی وجہ ہے کہ انھوں نے امام ذھبی کی تذکرۃ الحفاظ میں اصل حوالہ دیکھے بغیر کسی منکر حدیث کی کتاب سے فقط اعتراض نقل کردیا ہے آئیے ہم آپکے سامنے امام ذھبی کی اصل عبارت اور پھر اس پر امام صاحب کا ذاتی تبصرہ بھی نقل کریں : ومن مراسيل ابن أبي مليكة أن الصديق جمع الناس بعد وفاة نبيهم فقال إنكم تحدثون عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أحاديث تختلفون فيها والناس بعدكم أشد اختلافا فلا تحدثوا عن رسول الله شيئا فمن سألكم فقولوا بيننا وبينكم كتاب الله فاستحلوا حلاله وحرموا حرامه فهذا المرسل يدلك على أن مراد الصديق التثبت في الأخبار والتحري لا سد باب الرواية ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ امام صاحب نے اس اثر کو مراسیل ابی ملیکہ سے نقل کیا ہے اور مرسل روایت علم اصول حدیث کی رو سے بالاتقاق ضعیف روایت شمار ہوتی ہے لہذا حجت نہیں نیز حافظ ذھبی کہتے ہیں یہ مرسل زیادہ سے زیادہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صدیق اکبر روایات کے معاملہ میں خوب چھان پھٹک ( investigation and confirmation ) کرنے والے تھے یعنی بہت محتاط تھے اسی لیے انھوں نے حضرت صدیق اکبر کا تذکرہ ان الفاط کے ساتھ شروع کیا ہے کہ " وكان اول من احتاط في قبول الاخبار " کہ آپ وہ پہلے محتاط شخص تھے کہ جنھوں نے قبول روایت میں احتیاط برتی ۔ لہذا امام صاحب نے لکھا کہ یہ مرسل اس بات پر دلالت ہے کہ صدیق اکبر روایات کہ سلسلہ میں انتہائی احتیاط برتنے والے تھے تاکہ خبر کی تحقیق بصورت توثیق تصدیق کی جاسکے جبکہ انکا ہرگز مطلب (بیان) روایات کا سدباب کرنا نہ تھا ۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ امر اول تو یہ ہے کہ یہ روایت خود ضعیف ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں بخاری و مسلم اور دیگر کتب صحاح کی جید روایات اس امر پر شاہد ہیں احادیث کو بیان کیا جائے امر دوم یہ کہ ہمارے محترم معترض نے " روایت بالمعنی " کے عنوان کہ تحت اس روایت کو نقل کیا ہے جبکہ اس روایت میں روایت بالمعنی کا تو سرے سے ذکر ہی موجود نہیں بلکہ اس روایت میں تو مطلقا روایت کرنے کی ممانعت ہے لہزا معترض کہ نکتہ اعتراض کی " معقولیت " کے اعتبار سے بھی یہ روایت" پایہ استدلال " کو نہ پہنچ سکی ۔۔ اقتباس:
یہ روایت بھی ہمارے ممدوح نے کسی منکر حدیث کی کتاب سے نقل کی ہے لہذا یہی وجہ کے اصل ماخذ کتاب کا نام اور تبصرہ مصنف مفقود ہے ۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ روایت کس کتاب میں آئی ہے اور اسکی حیثیت کیا ہے یہ روایت توجیہ النظر سے لی گئی ہے آئیے ہم اسی کتاب سے مکمل روایت اور مصنف کا تبصرہ نقل کردیں ۔ قال علي ورووا عنه أنه حبس عبد الله بن مسعود۔۔۔۔۔۔ قال قال عمر لابن مسعود ولأبي الدرداء ولأبي ذر ما هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال وأحسبه أنه لم يدعهم أن يخرجوا من المدينة حتى مات قال علي هذا مرسل ومشكوك فيه من شعبة فلا يصح ولا يجوز الاحتجاج به ثم هو في نفسه ظاهر الكذب والتوليد ۔ ۔ یعنی جب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس روایت کا ذکر کیا گیا کہ تو انھوں نے فرمایا کہ یہ مرسل مشکوک ہے کیونکہ اس میں شعبہ ہے اور یہ صحیح نہیں اور اس سے احتجاج بھی جائز نہیں اور پھر یہ روایت فی نفسہ ہی جھوٹ اور کذب ہے جو کہ گھڑی گئی ہے ۔۔۔ ہم کہتے یں کہ اول روایت مرسل ہے اور شدید ضعیف اور پھر اس سے بھی بڑھ گھڑنتو اور مکذوب ہے لہزا قابل احتجاج نہیں ثانیا اس روایت میں بھی مطلقا روایات نہ بیان کرنے کی بات کہی گئی ہے روایات بالمعنی کا ایشو یہاں زیر بحث نہیں لہزا اصول کے مطابق معترض کو اس سے احتجاج جائز نہیں اور نہ ہی یہ انکے موئید ہے۔ لطیفہ : منکرین حدیث کے لٹریچر میں یہ ایک بڑا لطیفہ ہے کہ سارے کا سارا لٹریچر حجیت حدیث کے خلاف ہوتا ہے اور امت کو یہ باور کرانے میں ہوتا ہے کہ احادیث ناقابل احتجاج ہیں کیونکہ فنی حیثیت سے سب کی سب مشکوک ہیں مگر طرفہ یہ ہے ان کے تمام لٹریچر میں احتجاج بھی خود روایات سے ہی کیا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر ان روایات سے کو جو فن حدیث اور اصول حدیث کے اعتبار ناقابل احتجاج ہیں یعنی اتنے بڑے ذخیرہ احادیث یکسر ناقابل احتجاج ٹھرانے کے لیے منکرین حدیث خود اشی شئے کا سہارا لیتے ہیں کہ جس شئے کو ناقابل حجت بیان کر رہے ہوتے ہیں اور اس ذخیرے میں بھی ان کو صحیح حدیث شاذ ہی اپنے مطلب پر ملتی ہے تبھی تو ضعیف حتی کے موضوع روایات سے اپنی مطلب برآری چاہتے ہیں فیا للعجب ۔ ۔ ۔ اقتباس:
صحابہ کرام ان کے کردار اور انکے اخلاص و للٰہیت پر تو کوئی بھی صاحب نظر کلام نہیں کرسکتا رہ گئی بنو امیہ اور بنو عباس کہ پر فتن دور کی بات تو ان ادوار میں جہاں وضاعین احادیث نے اپنا کام دکھایا وہیں محدثین نے بھی اصول حدیث روایتا اور درایتا کی ایسی ایسی چھلنیاں تیار کیں کہ ہر کھرا اور کھوٹا نکھر کر سامنے آگیا سو علم حدیث کا مبتدی طالب علم بھی ایسی ہر قسم کی روایات سے بخوبی آگاہ ہے لہذا فقط اس اعتراض کی رو سے تمام ذخیرہ احادیث کو نہ تو یکسر نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس اعتراض کی براہ راست ضرب روایت بالمعنی کی حجیت پر پڑتی ہے جو کہ ہمارے ممدوح معترض کے موئید ہو ۔۔۔ اقتباس:
اوپر بیان کیے گئے اعتراضات سے روایات بالمعنی کا عدم جواز کہاں سے ثابت ہوا اگر برسبیل تنزل اوپر بیان کیے اعتراضات کو درست تسلیم کیا جائے تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے مطلقا روایات حدیث کو ہی مجروح قرار دے دیا جائے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے اور نہ ہی یہ ہمارے ممدوح کا بھی مطالبہ اور دعوٰی ہے ثانیا معترض کا یہ کہنا کہ سوائے معدودے چند چھوٹی حدیثوں کہ باقی سب کی سب احادیث روایات بالمعنی ہیں ایک ایسا دعوٰی ہے جو کہ بلا ثبوت اور محتاج دلیل ہے لہزا اول اس امر کا ثبوت فراہم کیا جائے کہ کس قدر روایات بالمعنی ہیں اور پھر ہر دور میں کہاں کہاں کس کس روایت میں کن کن روایوں نے اپنے الفاظ شامل کیے ؟؟؟؟ اس ضمن میں اگر فقط چند ایک امثال ہی نقل کردی جائیں تو کافی ہونگی زیادہ تفصیلی اعداد و شمار کی حاجت نہیں امید ہے کہ ہم مایوس نہ ہونگے ہمارے ممدوح معترض ضرور اس امر کا ثبوت باہم پہنچائیں گے ۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے محترم ممدوح کا یہ اعتراض محض مفروضے پر مبنی ہے لہذا بے سرو پا ہے اور محتاج دلیل ہے لہزا یہی وجہ ہے کہ اصول حدیث اور نقل اور عقل ہر دو اصولوں کے خلاف ہے اول ہم اوپر نقل کر آئے روایات بالمعنی مشروط اعتبار سے جمہور محدثین کے نزدیک قابل قبول ہے اور پھر روایات بالمعنی پر انحصار اس وقت تک زیادہ تھا جب کہ ابھی زیادہ تر روایات کی تدوین نہ ہوئی تھی یعنی دور صحابہ لہزا یہی وجہ ہے کہ بعض اصولیین کے نزدیک صحابہ کا روایت بالمعنی کرنا جائز ہے جبکہ ان کے بعد والوں کا نہیں اور پھر سب سے بڑھ کر جب روایات تابعین کے دور میں زیادہ تیزی سے مدون ہونا شروع ہوگئیں تو روایات بالمعنی کی ضرورت بھی معدوم ہوتی گئی چناچہ یہی وجہ ہے متن حدیث تو ایک طرف بعد میں آنے والے محدثین جب کسی مدون شدہ نسخہ کی سند میں بھی کوئی وضاحتی نوٹ دینا چاہا تو اول سند کے الفاظ جوں کے توں نقل کیے اور پھر بعد میں حاشیہ یا پھر قوسین میں وضاحتی نوٹ ساتھ لکھا تاکہ وہ اصل کتابیں جب بعد میں آنے والے لوگ پڑھیں تو فرق کرسکیں کہ اصل محدث کے کیا الفاظ تھے جب کہ محشی و شارح کے کیا الفاط ہیں ۔۔۔ یہی ہمارے ممدوح معترض کے بنیادی اعتراضات تھے کہ جن کے جوابات ہم نے عرض کردیے باقی ہمیں اپنے ممدوح معترض پر حسن ظن ہے کہ انھے منکرین حدیث کا لٹریچر پڑھ کر واقعی شبہات لاحق ہوگئے تھے لہزا ہم نے اپنی سی کوشش کرتے ہوئے انھے مطمئن کرنے کی کوشش ضرور کی اب ہم اس میں کس حد تک کامیاب ہویے اس بات کا فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتے ہیں والسلام ۔ ۔ ۔ Last edited by آبی ٹوکول; 19-08-11 at 10:28 AM. |
||||
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
جزاک اللہ خیرا۔ اس موضوع پر اس کتاب کا مطالعہ بھی مفید ہو گا ان شاء اللہ۔ تفہیم اسلام بجواب دو اسلام - کتب لائبریری - کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی جانے والی اردو اسلامی کتب کا سب سے بڑا مفت مرکز |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 65
کمائي: 1,226
شکریہ: 196
39 مراسلہ میں 81 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واقعی تفھیم اسلام بہت زبردست کتاب ہے اس کی یونیکوڈ کاپی تیار کرنا اس وقت کی ایک اہم ضرورت ہے
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بشیر احمد عسکری بھائی یہ کام لگتا ہے کہ آپکو ہی کرنا پڑے گا ( ابتسامہ )
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 65
کمائي: 1,226
شکریہ: 196
39 مراسلہ میں 81 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی آپ کی دعائیں شامل حال رہیں تو اس کتاب کی یونیکوڈ کاپی بھی تیار ہوکر رہے گی ان شاء اللہ ۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے bashirahmed98 کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, فورم, کلمات, پاک, لوگ, ممکن, معلوم, آدمی, اللہ, اسلام, جواب, حدیث, حضرات, خلاف, دعا, زمانہ, شخص, عقل, عدم, عرب, عرض, غزالی, صورتحال, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 3 | 21-12-10 04:54 PM |
| مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل | جاویداسد | خبریں | 15 | 22-10-10 12:49 PM |
| عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک | جاویداسد | خبریں | 1 | 08-08-10 09:46 PM |
| آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ | Zullu230 | سیاست | 6 | 29-06-10 12:18 AM |
| جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 08-12-07 11:19 AM |