واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


روایت بالمعنٰی ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-08-11, 05:22 AM   #1
روایت بالمعنٰی ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 19-08-11, 05:22 AM

اسلام علیکم معزز قارئین کرام ایک فورم پر ایک صاحب نے روایت بالمعنٰی کے حوالہ سے چند شبہات کا اظہار فرمایا تو احباب نے ہماری توجہ اس امر کی طرف دلوائی اور جواب دینے کو کہا تو ہم نے درج زیل مقالہ ترتیب دے دیا ۔
ترتیب اس مقالہ کی یوں ہوگی کہ اس میں اول ہم روایت بالمعنٰی کی تعریف پیش کریں گے پھر روایت بالمعنٰی کے حجت ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے محدثین و فقہاء اور اصولیین کے اختلاف کی تحقیق پیش کی جائے گی جبکہ آخر میں بطور محاکمہ معترض کے اعتراضات کو نقل کرکے انکا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے گا دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں حق کہنے حق لکھنے اور حق ہی کی ترویج و اشاعت کی توفیق عطا فرمائے اور قیامت والے دن حق والوں ہی کے ساتھ ہمارا حشر فرمائے آمین ۔

روایت بالمعنٰی تعریف و مفھوم :


مفھوم :
روایت بالمعنی یہ ہے کہ راوی روایت کے الفاظ کے بجائے معنی کو اپنے الفاظ میں بیان کردے چناچہ اس ضمن میں حافظ ابن الصلاح اپنی کتاب مقدمہ میں رقمطراز ہیں کہ:

إذا أراد رواية ما سمعه على معناه دون لفظه

یعنی جب وہ سنی ہوئی بات کے الفاظ کے بجائے معانی کی روایت کرئے تو یہ روایت بالمعنٰی ہوگی ۔

روایت بالمعنٰی کی شرعی حیثیت :

روایت بالمعنٰی کی حیثت پر فقہاء محدثین اور اصولیین کے مختلف اقوال وارد ہیں لیکن ا س پر سب کا اتفاق ہے اس شخص کے لیے روایت بالمعنی جائز نہیں کہ جسے الفاظ اور اسکی تعبیرات اور مدلولات پر اسکی دلالت کی معرفت حاصل نہ ہو چناچہ حافظ ابن الصلاح اپنی کتاب " مقدمہ " میں رقمطراز ہیں کہ :

۔ ۔ ۔فإن لم يكن عالما عارفا بالألفاظ ومقاصدها خبيرا بما يحيل معانيها بصيرا بمقادير التفاوت بينها فلا خلاف أنه لا يجوز له ذلك وعليه أن لا يروي ما سمعه إلا على اللفظ الذي سمعه من غير تغيير ۔۔۔۔

یعنی اگر وہ الفاظ اور اسکے مقاصد کا علم اور معرفت رکھنے والا نہیں نیز الفاظ کے معنٰی کے تغیر کا سے آگاہ نہیں اور وہ انکے تفاوت کے مقادیر کا شعور نہیں رکھتا تو اس کے لیے روایت بالمعنٰی بالاتفاق ناجائز ہے اور اس پر لازم ہے کہ جو کچھ اس نے سنا اسے بغیر کیس تغیر کے انہی الفاط میں روایت کرے کہ جن میں اس نے سنا تھا ۔

چناچہ اسی ضمن میں علامہ آمدی اپنی کتاب " الإحكام في أصول الأحكام " میں رقمطراز ہیں :

والذی علیہ اتفاق الشافعی ، ومالک ، وابوحنیفہ واحمد بن حنبل الحسن البصری واکثر الائمہ انہ یحرم علی الناقل از کان غیر عارف بدلالات الالفاظ واختلاف مواقعھا ۔ ۔ ۔

یعنی :جس رائے پر امام شافعی ،مالک ،ابوحنیفہ ،احمد اور حسن بصری اور اکثر ائمہ کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ اگر ناقل الفاظ کی دلالت اور انکے اختلاف کے مواقع کی معرفت نہیں رکھتا تو اس کے لیے روایت بالمعنٰی حرام ہے ۔ ۔ ۔

اسی طرح کی بات مشھور اصولی امام غزالی علیہ رحمہ نے بھی فرمائی کے کہ اگر آدمی الفاظ کی باریکیوں کی معرفت نہیں رکھتا تو اس پر روایت بالمعنٰی حرام ہے ۔۔
(بحوالہ اصول حدیث ڈاکٹر خالد علوی )

علامہ ڈاکٹر محمود الطحان اپنی کتاب " تیسیر مصطلح الحدیث " میں روایت بالمعنٰی کی بحث کے تحت رقمطراز ہیں کہ :

کسی روایت کو بالمعنی نقل کرنے میں علمائے امت کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک ناجائز جبکہ بعض کے نزدیک جائز ہے ۔

فقہاء اور محدثین کی ایک جماعت نے اسے ناجائز قرار دیا ہے ان میں ابن سیریں اور ابوبکر رازی قابل ذکر ہیں جبکہ جمہور سلف محدثین ،فقہاء اور اصولیین نے اسے جائز قرار دیا ہے ان میں ائمہ اربعہ بھی شامل ہیں مگر یہ سب راوی کے روایت کے حقیقی الفاظ کے معنٰی پر قطیعت علمی کی شرط عائد کرتے ہیں ۔

قطیعت کے علاوہ جو شرائط قائلین جواز کی طرف سے عائد کی گئی ہیں وہ درج زیل ہیں ۔

1: روای الفاظ اور انکے مقاصد کا بخوبی علم رکھتا ہو۔
2:الفاط کے معنٰی اور تغیرات سے واقف ہو ۔


روایت بالمعنٰی کے جواز و عدم جواز میں ائمہ سلف سے تین طرح کا اختلاف منقول ہے ایک گروہ مطلقا جواز کا قول کرتا ہے جبکہ دوسرا گروہ مطلقا ناجائز ہونے کا قول کرتا ہے جبکہ تیسری اور صائب الرائے جماعت مشروط جواز کا قول کرتی ہے اور یہی رائے سلف و خلف اور جمہور ائمہ دین و ملت کی ہے ۔

گروہ اول کے دلائل کہ روایت بالمعنی مطلقا جائز ہے :

بعض حضرات کے نزدیک روایت بالمعنی مطلقا جائز ہے اور ان کا مدار استدلال وہ حدیث جسے ابن مندہ نے معرفۃ الصحابہ میں طبرانی نے اپنے معجم کبیر میں روایت کیا ہے چناچہ علامہ جلال الدین سیوطی علیہ رحمہ اپنی مشھور زمانہ تصنیف تدریب راوی جو کہ شرح تقریب کی اس میں رقمطراز ہیں کہ:

رواه ابن منده في معرفة الصحابة والطبراني في الكبير من حديث عبد الله بن سليمان بن أكتمة الليثي قال قلت يا رسول الله إني أسمع منك الحديث لا أستطيع أن أؤديه كما أسمع منك يزيد حرفا أو ينقص حرفا فقال إذا لم تحلوا حراما ولم تحرموا حلالا وأصبتم المعنى فلا بأس ۔ ۔ ۔ ۔ ۔فذكر ذلك للحسن فقال لولا هذا ما حدثنا ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وروى البيهقي عن مكحول قال دخلت أنا وأبو الأزهر على واثلة بن الأسقع فقلنا له يا أبا الأسقع حدثنا بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس فيه وهم ولا مزيد ولا نسيان فقال هل قرأ أحد منكم من القرآن شيئا فقلنا نعم وما نحن له بحافظين جدا إنا لنزيد الواو والألف وننقص قال فهذا القرآن مكتوب بين أظهركم لا تألونه حفظا وأنتم تزعمون أنكم تزيدون وتنقصون فكيف بأحاديث سمعناها من رسول الله صلى الله عليه و سلم عسى أن لا نكون سمعناها منه إلا مرة واحدة حسبكم إذا حدثناكم بالحديث على المعنى ۔۔۔۔


یعنی کہ عبداللہ بن سلیمان اکتمۃ اللیثی کہتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ سے حدیث سنتا ہوں مگر یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ میں اسی طرح ادا کروں کہ جس طرح آپ سے سنتا ہوں اس میں حرف کا اضافہ ہوجاتا ہے یا کمی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں بناتے اور معنی کو ٹھیک سمجھتے ہو تو کوئی حرج نہیں۔ ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ ۔اور جب حسن بصری کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ اگر یہ اجازت نہ ہوتی تو ہم حدیثیں بیان ہی نہ کرپاتے ۔ ۔ ۔ ۔

۔ ۔۔ اسی طرح امام بیقہی نے مکحول سے نقل کیا وہ کہتے ہیں کہ میں اور ابو الازہر واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ہم نے ان سے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث سناؤ کہ جسے آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو اور کوئی وہم نہ ہوا ہو نہ الفاظ میں کوئی اضافہ ہو اور نہ ہی خطا ۔
اس پر انہوں نے جواب دیا کہ کیا تم میں سے کسی نے قرآن کا کچھ حفظ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں مگر وہ ہمیں اچھی طرح سے یاد نہیں ہم سے اس میں واؤ یا الف کی کمی بیشی ہوجاتی ہے تو انہوں نے کہا یہ قرآن ہے کہ جو تمہارے پاس لکھی ہوئی صورت میں موجود ہے اور تم اس کے حفظ میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے اور اس کے باوجود تم سے اس میں کمی بیشی ہوجاتی ہے تو یہ بات احادیث کی روایت میں کیونکر ممکن نہیں کہ جنہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور ممکن ہے ایک ہی بار سنا ہو۔ اور تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ ہم تم تک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفھوم کی روایت کریں ۔ ۔ ۔ ۔


۔ ۔ وفي المدخل عن جابر بن عبد الله قال قال حذيفة إنا قوم عرب نردد الأحاديث فنقدم ونؤخر ۔ ۔ ۔


۔ ۔۔ واستدل لذلك الشافعي بحديث أنزل القرآن على سبعة أحرف فاقرؤا ما تيسر منه قال وإذا كان الله برأفته بخلقه أنزل كتابه على سبعة أحرف علمنا منه بأن الكتاب قد نزل لتحل لهم قراءته وإن اختلف لفظهم فيه ما لم يكن اختلافهم إحالة معنى كان ما سوى كتاب الله سبحانه أولى أن يجوز فيه اختلاف اللفظ ما لم يحل معناه ۔ ۔


۔ ۔ ۔اسی طرح مدخل میں جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حذیفہ نے کہا کہ ہم عرب لوگ جب باتوں کو دہراتے ہیں تو ہم اس میں تقدیم و تاخیر کرجاتے ہیں ۔ ۔ ۔

۔۔۔اور امام شافعی نے حدیث " انزل القرآن علی سبعۃ احرف " سے استدلال کیا ہے کہ اللہ پاک نے مخلوق کے لیے اپنی رحمت سے اپنی کتاب کو سات حرفوں پر نازل کیا تو ہمیں اس سے معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کو اس طرح سے اس لیے نازل کیا تاکہ الفاظ کے اختلاف کے باوجود اس کی قرآت جائز ہو بشرطیکہ اس کے معنی تبدیل نہ ہوں تو کتاب اللہ کے سوا دیگر امور میں تو الفاظ کا اختلاف بطریق اولی جائز ہوگا بشرطیکہ معنی تبدیل نہ ہوں۔۔ ۔

مطلقا ناجائز کہنے والوں کے دلائل :

بعض ائمہ کے نزدیک روایت بالمعنٰی مطلقا ناجائز ہے چناچہ علامہ حافظ سخاوی نے اپنی کتاب فتح المغیث میں اس رائے کا ذکر یوں کیا ہے ۔۔۔

وقيل : لا تجوز له الرواية بالمعنى مطلقا . قاله طائفة من المحدثين والفقهاء والأصوليين من الشافعية وغيرهم ۔ ۔

اور کہا گیا ہے روایت بالمعنی مطلقا ناجائز ہے اور یہ کہا ہے محدثین ،فقہاء اور اصولیین کہ ایک گروہ نے کہ جو شافعی المسلک ہیں ۔

خطیب نے الکفایہ میں ان آراء کو جمع کیا ہے کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض صحابہ روایت تحت الفظ کو واجب سمجھتے تھے ۔

مشروط جواز کے قائلین اور انکے دلائل :

جمہور علماء محدثین اور فقہاء اور اصولیین نے روایت بالمعنی کو جائز قرار دیا یے لیکن بعض شرائط کے ساتھ حافظ ابن الصلاح کہتے ہیں :

۔ ۔ ۔فأما إذا كان عالما عارفا بذلك فهذا مما اختلف فيه السلف وأصحاب الحديث وأرباب الفقه والأصول : فجوزها أكثرهم ولم يجوزه بعض المحدثين وطائفة من الفقهاء والأصوليين من الشافعيين وغيرهم
ومنعه بعضهم في حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم وأجازه في غيره
١٢٣ ) والأصح : جواز ذلك في الجميع إذا كان عالما بما وصفناه قاطعا بأنه أدى معنى اللفظ الذي بلغه لأن ذلك )
هو الذي تشهد به أحوال الصحابة والسلف الأولين . وكثيرا ما كانوا ينقلون معنى واحدا في أمر واحد بألفاظ
مختلفة وما ذلك إلا لأن معولهم كان على المعنى دون اللفظ ۔ ۔۔


اگر راوی الفاظ اور انکے مقاصد کا عالم ہو تو اسکی روایت بالمعنی کے بارے میں سلف، اصحاب حدیث اور ارباب فقہ اور اصول کی اکثریت نے جائز قرار دیا ہے جبکہ بعض شافعی المسلک محدثین اور اصولیوں نے اسے ناجائز کہا ہے بعض نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے سلسلہ میں ناجائز اور غیر رسول کی حدیث میں جائز کہا ہے جبکہ اصح( یعنی زیادہ صحیح رائے) یہی ہے کہ روایت بالمعنی ہر قسم کی حدیث میں جائز ہے اگر راوی ایسا عالم ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے اور اسے یقین ہو کہ اس نے اس لفظ کے معنی کو ادا کردیا ہے جو اس تک پہنچا تھا۔ کیونکہ یہ وہی صورتحال ہے کہ جس پر صحابہ اور اوائل دور کے سلف کہ احوال شاہد ہیں ان میں سے اکثر حضرات ایک ہی مفھوم کو مختلف الفاظ میں ادا کرتے تھے کیونکہ ان کا اعتماد لفظ کی بجائے اسکے معنی پر ہوتا تھا ۔

اسکے علاوہ امام غزالی ،خاتم المحدثین امام ابن حجر عسقلانی ،امام ترمذی مشھور متکلم امام رازی ،امام ابن حزم ،علامہ آمدی اور جمہور محدثین و فقہاء اور اصولیین کی یہی رائے ہے لہزا اس ضمن میں ہم ان تمام ائمہ نے جو شرائط بیان کی ہیں ان کا اختصار کے ساتھ ذکر کریں گے اور وہ شرائط درج زیل ہیں ۔

1:راوی الفاظ و معنی کے مدلولات اور دقائق کا عالم و عارف ہو
2:مترادف لفظ کی تبدیلی جائز ہے بشرطیکہ صورتحال مشتبہ نہ ہو
3:حدیث کا تعلق جوامع الکلم سے نہ ہو کیونکہ جوامع الکلم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے لہزا اس میں روایت بالمعنی جائز نہیں ۔
4: حدیث کا تعلق امور تعبدی سے نہ ہو جیسے تکبیر صلوۃ اور تشھد وغیرہ نیز حدیث میں بیان شدہ کلمات کا تعلق ادعیہ و اذکار ماثور و مسنونہ سے نہ ہو ۔
5:بعض کے نزدیک مفردات میں لفظ کی تبدیلی جائز ہے جبکہ مرکبات میں نہیں ۔
6: روایت بالمعنی کی صرف اسے اجازت ہے کہ جسے الفاظ مستحضر ہوں اور وہ ان میں تصرف کی قدرت رکھتا ہو۔
7: امام مالک علیہ رحمہ کے نزدیک حدیث مرفوع کی روایت بالمعنی جائز نہیں جبکہ دیگر کی جائز ہے
8۔ اور اسی طرح بعض محدثین کے نزدیک روایت بالمعنی کا اختیار فقط صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے کیونکہ وہ کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دقائق اور وقائع دونوں کے ناظر و مشاہد ہیں
۔۔۔۔

معزز قارئین کرام یہ تو تھی روایت بالمعنی کے جواز و عدم وجواز پر مشتمل اختلاف کی امہات الکتب سے تحقیقی اور انتہائی مختصر بحث ۔ہم نے قارئین کی بوریت اور وقت کی قلت کی وجہ سے اس بحث کو انتہائی مختصر رکھا وگرنہ علم حدیث کے مبتدی طالب علم پر یہ بات روشن ہے کہ اجلہ محدثین ،فقہاء اور اصولیین نے اس باب میں کس کس طریق سے اور کتنی طویل اور بامعنی بحوث نقل کی ہیں جسے شوق ہو امہات کتب کی طرف رجوع کرے ۔۔۔ اللہ پاک ان سب کے درجات بلند فرمائے کہ انھوں نے دین اسلام کی خدمت میں اپنے شب و روز ایک کرڈالے اور ہمارے لیے معاملہ بہت آسان کردیا کہ ہم تو اب محض ناقلین ہیں ۔ ۔
اب اس کے بعد اگلے مراسلہ میں ہم محترم معترض کے چند اعتراضات کو نقل کرکے عقل و نقل کے اعتبار سے اسکا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کریں گے نیز ہمارا اگلا مراسلہ اس موضوع پر بصورت محاکمہ ہوگا ۔۔۔
فقط والسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔ ۔
۔۔
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

Last edited by آبی ٹوکول; 19-08-11 at 08:07 AM..

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 401
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (19-08-11), مہتاب (19-08-11), عبداللہ آدم (31-08-11)
پرانا 19-08-11, 10:08 AM   #2
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم معزز قارئین کرام اس سے پہلے کہ ہم معترض کے اعتراضات کی طرف بڑھیں ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں انتہائی مختصر طور پر حدیث رسول کی تعریف پیش کردی جائے ۔

حدیث کے لفظی معنی بات STATEMENT اور گفتگو TALK کے ہیں علامہ جوہری صحاح میں لکھتے ہیں : " الحدیث الکلام قلیلہ وکثیرہ "

یعنی حدیث بات کو کہتے ہیں کم ہو یا زیادہ ۔

یہی کلام جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے حوالہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال ،افعال و اوصاف اور تقاریر کی صورت میں بیان کیا جائے یعنی روایت کیا جائے تو احادیث کی اس روایت یعنی تحدیث کو TRANSMISSION (یعنی آگے پہنچانا ) کہا جاتا ہے
۔

حدیث لغوی معنی: لغوی معنٰی جدید (نیا) اس کی جمع احادیث خلاف ضابطہ آتی ہے۔
حدیث اصطلاحی تعریف : ایسا قول فعل یا تقریر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب منسوب ہو یعنی محدثین کی اصطلاح میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں ۔
محدثین نے صحابہ اور تابعین کے اقوال ،افعال اور تقاریر پر بھی حدیث کا اطلاق کیا ہے ۔

روایت نام ہے حدیث کی تحدیث یعنی TRANSMISSION کا ۔ دنیا جہان کی ہر زبان اور اس کے قواعد و ضوابط میں کسی بھی کلام کو متکلم کی نسبت سے بیان کرنے کے لیے ہر دو طریق بالاتفاق رائج ہیں ایک ہوتا ہے کلام کو تحت اللفظ یعنی بعینہ متکلم کے الفاظ میں نقل کرنا اور دوسرا ہوتا ہے تحت المعنی یعنی کلام کو متکلم کی مراد کے مطابق نقل کرنا ان میں سے پہلے طریق پر تو کوئی کلام نہیں وہ بالاتفاق جائز و درست ہے ۔
جبکہ دوسرے طریق پر کچھ اضافی اصول و قواعد ہیں یعنی یہ کے قائل متکلم کے کلام کا ہر پہلو سے احاطہ کیے ہوئے ہو۔ یعنی الفاظ اور اسکے مدلولات پر قائل کو مکمل دسترس ہو نیز اسکے ساتھ ساتھ وہ کلام کے دقائق اور متکلم کے مرادی معنی کے اعتبار سے ماحول وقائع کا بھی عالم ہو وغیرہ وغیرہ تو ایسی صورت میں اس کا کسی بھی کلام کو تحت اللفظ کی بجائے تحت المعنی بیان کرنا بالکل جائز امر ہوگا اور ویسے بھی یہ منطقی اصول ہے کہ کلام میں اصل مقصود بالذات معنی ہوتے ہیں نہ کہ الفاظ کا تناسب یعنی کسی بھی کلام کا مقصود اصلی اسکا معنی و مفھوم ہوتا ہے یعنی ہم جب بھی بولنے کے لیے کوئی کلمہ منہ سے نکالتے ہیں تو اس سے اصلا ہماری مراد ہمارے مخاطبین تک اس معنی کا انتقال ہوتا ہے جو کے ہماری معلومات میں ہو یعنی جو مرادی معنی ہماری دسترس علمی میں ہوتا ہے ہم اسے ہی مختلف الفاظ کی شکل میں چاہے مشترک ہوں یا متحد المعنی مفرد ہوں یا مرکب اپنے مخاطبین تک منتقل کرتے ہیں ۔
لہذا ثابت یہ ہوا کلام نفسی میں اصلا مقصود الفاظ نہیں بلکہ اس کلام نقسی کا مراد و مفھوم معتبر و مقصود بالذات ہوا کرتا ہے سو یہی وجہ ہے روایت حدیث میں بھی اس منطقی اصول کی پیروی کی گئی ہے لہذا مشروط طور روایات کو بالمعنی طریق سے روایت کرنے کی اجازت دی گئی ہے جیسا کہ ہم اوپر بیان کرچکے چناچہ یاد رہے کہ محدثین کی اصطلاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و اقوال اور آپ کے سامنے پیش آئے واقعات کو حدیث کہا جاتا ہے لہذا اگر روایت بالمعنی کی کوئی ضرورت پیش آئے بھی تو وہ فقط اقوال رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی حدیثوں میں تو آسکتی ہے مگر آپ کے افعال و احوال کو جب بھی بیان کیا جائے گا تو راوی اسے اپنے ہی الفاظ میں ہی بیان کرئے گا۔ اور یہ ایک ایسی بدیہی بات ہے کہ جس کا کوئی انکار نہیں کرے گا الا یہ کہ جاہل ۔
لہذا جب یہ ثابت ہوا کہ علم حدیث کی رو سے روایات کا ایک بڑا ذخیرہ خود محتاج ہے کہ اسے بالمعنی طریق پر بیان کیا جائے چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و احوال کو بیان کرنے والا ہر روای اپنے اپنے تجربہ و مشاہدہ کی رو سے ان واقعات کو خود اپنے ہی الفاظ میں نقل کرتا ہے۔

جہاں تک بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کی تو ان میں بھی جیسا کہ ہم اوپر نقل کر آئے اذکار و ادعیہ ،اذان و اقامت تشھد و تسبیحات ،احادیث اخلاق ،احادیث قدسیہ اور جوامع الکلم کے بارے میں بلا خوف تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب کہ سب تحت اللفظ ہی منقول ہیں ان کے علاوہ جو احادیث ہیں انھے بھی صحابہ کرام تحت اللفظ یاد رکھنے کا بڑا اہتمام کیا کرتے تھے جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ بعض صحابہ تو اسکے وجوب کے قائل تھے نیز اگر کہیں روایت بالمعنی ناگزیر ہو بھی جائے تو بھی اس کے لیے چند شرائط مذکور ہیں کہ جو اگر پیش نظر ہوں تو حدیث کا مفھوم بدلنا ناممکن ہے ۔

یعنی راوی عربی زبان کے اسرار و رموز سے واقف ہو یعنی عربی زبان و ادب نیز اسکے قواعد و ضوابط کے ساتھ ساتھ اسکے محاورہ اور عرف کا بھی عالم ہو
نیز شریعت کی غرض و غایت اور مقاصد سے بھی آگاہ ہو نیز وہ ایسی حدیث بالمعنی بیان کرئے جو کہ حلال و حرام سے متعلق نہ ہو اور اگر ہو تو مفھوم اس طریق سے ادا کرئے کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہ بنائے ۔
لہذا جو راوی ان شرائط پر پورا نہ اترے محدثین کے نزدیک اسکی روایت بالمعنی مطلقا مقبول نہیں
۔

نیز روایت بالمعنی کے سلسلے میں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ احادیث نبویہ کے اولین راوی صحابہ کرام ہیں وہ جہاں ایک طرف اعلی درجہ کا حافظہ رکھنے والے تھے وہیں مزاج آشنا رسول اور نزول وحی کے شاہد و محافظ اور اعلی درجہ کی کردار و سیرت کے مالک تھے کہ جن کی نیتوں اور صدق ایمان و اعمال کی گواہی متعدد بار قرآن پاک نے دی ہے لہذا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے مفھوم میں کسی قسم کے ایک ذرہ برابر بھی تغیر و تبدل کو اپنے لیے محال سمجھتے تھے لہزا اس قسم کے راویوں نے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو اپنے الفاظ میں بیان کردیا ہے تو اس سے یہ خیال کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے اصل معنی میں تغیر واقع ہوگیا ہوگا صحابہ کرام سے تعصب ہے ۔ العیاذباللہ ۔

معزز قارئین کرام حدیث کو مشکوک بنانے کی سازش کوئی پہلی مرتبہ نہیں کی گئی ایک عرصہ سے منکرین حدیث مختلف حیلوں بہانوں اور اوچھے ہتھکنڈوں سے امت کے بھولے بھالے افراد کا ناطہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم توڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور قرآن کی آڑ میں عامۃ الناس کو بہکارہے ہیں ۔

عمومی طور پر منکرین حدیث روایت بالمعنی کو جواز بنا کر احادیث کے اس ذخیرہ کو مشکوک ٹھرانے کی سازش کرتے کہ جسکو محدثین نے اخلاص و للٰہیت کے ساتھ شب و روز کی انتھک محنتوں بے لوث خدمتوں اور ان گنت کاوشوں کے زریعہ سے ایسا نکھار کرپیش کیا ہے کہ اب باطل کی کوئی چارہ جوئی انکے قائم کردہ اس علمی حصار کو توڑ کر امت مرحومہ کا رشتہ اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی دلنشیں سنتوں سے نہیں بگاڑ سکتی اور نہ ہی مشکوک بنا سکتی ہے اللہ پاک تمام محدثین و فقہاء پر اپنی خصوصی رحمتیں فرمائے آمین ۔

منکرین حدیث سے ایک الزامی سوال :
عمومی طور پر منکرین حدیث حجیت حدیث کا یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں کہ احادیث میں روایات بالمعنی شامل ہیں سو احادیث کا ذخیرہ قابل احتجاج نہیں اور یوں وہ امت کا رخ حدیث سے موڑ کر براہ راست قرآن کی طرف جوڑتے ہیں اور اپنے زعم باطل میں داعی قرآن بنے پھرتے ہیں لیکن یہی سوال ہم ان سے قرآن کی بابت کرتے ہیں کہ یہ طے شدہ بات ہے کہ قرآن میں قصص سابقہ انبیاء و امم بکثرت موجود ہیں اور یہ بات بدیہی ہے کہ تمام انبیاء اور ان کی امتوں کی زبان ہرگز عربی نہ تھی بلکہ بعض کی عبرانی بعض کی سریانی اور بعض کی دیگر زبانیں اور لہجے تھے تو پھر کیا وجہ ہے قرآن پاک میں ان سب کے قصص فقط عربی زبان میں مذکور ہیں نیز اس پر بھی بعض جگہ ایک ہی واقعہ کو اختصارا بیان کیا گیا ہے اور بعض جگہ اسی واقعہ کو تطویلا بیان کیا گیا ہے اور تو اور قرآن کریم میں ایک ہی واقعہ کو متعدد اسالیب میں بیان کیا گیا ہے اور بیان کے وقت الفاظ اور ترتیب میں نمایاں فرق بھی ہے ۔ لہذا جو لوگ روایات بالمعنی کی بنیاد پر حدیث کو مشکوک ٹھراتے ہیں وہ قرآن کے بارے میں کیا جواب دیں گے ؟؟؟؟
ما ھو جوابکم فھو جوابنا ۔۔فاعتبروا یااولی الابصار
۔۔

اب ہم ذیل میں محترم معترض موصوف کے اعتراضات کو نقل کرکے ان کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ پیش کریں گے ۔ ۔ ۔

اقتباس:
اعتراض نمبر ایک :
کتاب تذکرہ الحفاظ جلد اول صفحہ ٣ پر درج ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں
کو جمع کیااور کہا تم رسول اللہ کی بہت سی حدیثیں بیان کرتے ہواور ان میں اختلاف بھی کرتے
ہواور تمہارے بعد کے لوگ بہت زیادہ اختلاف کریں گے پس تم رسول اللہ صعلم سے کوئی حدیث
نہ بیان کرو۔۔جو کوئی تم سے پوچھے تو کہدوکہ ہم میں ور تمہارے میں اللہ کی کتاب یعنی قران مجید ہے


لگتا ہے ہمارے ممدوح معترض موصوف منکرین حدیث کے لٹریچر سے متاثر ہیں کیونکہ جو سوال انھوں نے اٹھایا ہے اس قسم کہ سوالات ایک عرصہ سے منکرین حدیث کبھی غلام احمد پرویز کبھی حافظ محمد اسلم جیراجپوری اور کبھی تمنا عمادی کی صورتوں میں اٹھا چکے ہیں اور علمائے حق سے منہ کی کھا چکے ہیں ۔
لہزا انکے شافی اور مسکت جوابات ایک عرصہ سے علمائے حق نے منکرین حدیث کے رد میں لکھی گئی بے شمار کتب میں دے رکھے ہیں ۔مگر لگتا ہے کہ ہمارے ممدوح کی پہنچ میں ابھی تک فقط منکرین حدیث کا ہی لٹریچر آیا ہے لہزا یہی وجہ ہے کہ انھوں نے امام ذھبی کی تذکرۃ الحفاظ میں اصل حوالہ دیکھے بغیر کسی منکر حدیث کی کتاب سے فقط اعتراض نقل کردیا ہے آئیے ہم آپکے سامنے امام ذھبی کی اصل عبارت اور پھر اس پر امام صاحب کا ذاتی تبصرہ بھی نقل کریں :

ومن مراسيل ابن أبي مليكة أن الصديق جمع الناس بعد وفاة نبيهم فقال إنكم تحدثون عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أحاديث تختلفون فيها والناس بعدكم أشد اختلافا فلا تحدثوا عن رسول الله شيئا فمن سألكم فقولوا بيننا وبينكم كتاب الله فاستحلوا حلاله وحرموا حرامه
فهذا المرسل يدلك على أن مراد الصديق التثبت في الأخبار والتحري لا سد باب الرواية ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔


امام صاحب نے اس اثر کو مراسیل ابی ملیکہ سے نقل کیا ہے اور مرسل روایت علم اصول حدیث کی رو سے بالاتقاق ضعیف روایت شمار ہوتی ہے لہذا حجت نہیں نیز حافظ ذھبی کہتے ہیں یہ مرسل زیادہ سے زیادہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صدیق اکبر روایات کے معاملہ میں خوب چھان پھٹک ( investigation and confirmation ) کرنے والے تھے یعنی بہت محتاط تھے اسی لیے انھوں نے حضرت صدیق اکبر کا تذکرہ ان الفاط کے ساتھ شروع کیا ہے کہ " وكان اول من احتاط في قبول الاخبار " کہ آپ وہ پہلے محتاط شخص تھے کہ جنھوں نے قبول روایت میں احتیاط برتی ۔
لہذا امام صاحب نے لکھا کہ یہ مرسل اس بات پر دلالت ہے کہ صدیق اکبر روایات کہ سلسلہ میں انتہائی احتیاط برتنے والے تھے تاکہ خبر کی تحقیق بصورت توثیق تصدیق کی جاسکے جبکہ انکا ہرگز مطلب (بیان) روایات کا سدباب کرنا نہ تھا ۔

جبکہ ہم کہتے ہیں کہ امر اول تو یہ ہے کہ یہ روایت خود ضعیف ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں بخاری و مسلم اور دیگر کتب صحاح کی جید روایات اس امر پر شاہد ہیں احادیث کو بیان کیا جائے امر دوم یہ کہ ہمارے محترم معترض نے " روایت بالمعنی " کے عنوان کہ تحت اس روایت کو نقل کیا ہے جبکہ اس روایت میں روایت بالمعنی کا تو سرے سے ذکر ہی موجود نہیں بلکہ اس روایت میں تو مطلقا روایت کرنے کی ممانعت ہے لہزا معترض کہ نکتہ اعتراض کی " معقولیت " کے اعتبار سے بھی یہ روایت" پایہ استدلال " کو نہ پہنچ سکی ۔۔

اقتباس:
اعتراض نمبر دو : حضرت عمر فاروق نے بھی بہت دفعہ اوربہت لوگوں کو آنحضرت سے حدیثوں کے روایت کرنے سے
منع کیا اور کہا کہ حسنا کتاب اللہ یہاں تک کے ایک دفعہ انہوں نے بڑے عالماورفقیہ تین صحابیوں
کو یعنی ابن مسعود، ابوداود اورابو مسعود انصاری کو اس لیے کہ وہ انحضرت صلی علیہ واسلم سے
بہت سی حدیثیں روایت کیا کرتے تھے قید کر دیا


یہ روایت بھی ہمارے ممدوح نے کسی منکر حدیث کی کتاب سے نقل کی ہے لہذا یہی وجہ کے اصل ماخذ کتاب کا نام اور تبصرہ مصنف مفقود ہے ۔

آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ روایت کس کتاب میں آئی ہے اور اسکی حیثیت کیا ہے
یہ روایت توجیہ النظر سے لی گئی ہے آئیے ہم اسی کتاب سے مکمل روایت اور مصنف کا تبصرہ نقل کردیں ۔

قال علي ورووا عنه أنه حبس عبد الله بن مسعود۔۔۔۔۔۔ قال قال عمر لابن مسعود ولأبي الدرداء ولأبي ذر ما هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال وأحسبه أنه لم يدعهم أن يخرجوا من المدينة حتى مات قال علي هذا مرسل ومشكوك فيه من شعبة فلا يصح ولا يجوز الاحتجاج به ثم هو في نفسه ظاهر الكذب والتوليد ۔ ۔
یعنی جب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس روایت کا ذکر کیا گیا کہ تو انھوں نے فرمایا کہ یہ مرسل مشکوک ہے کیونکہ اس میں شعبہ ہے اور یہ صحیح نہیں اور اس سے احتجاج بھی جائز نہیں اور پھر یہ روایت فی نفسہ ہی جھوٹ اور کذب ہے جو کہ گھڑی گئی ہے ۔۔۔

ہم کہتے یں کہ اول روایت مرسل ہے اور شدید ضعیف اور پھر اس سے بھی بڑھ گھڑنتو اور مکذوب ہے لہزا قابل احتجاج نہیں ثانیا اس روایت میں بھی مطلقا روایات نہ بیان کرنے کی بات کہی گئی ہے روایات بالمعنی کا ایشو یہاں زیر بحث نہیں لہزا اصول کے مطابق معترض کو اس سے احتجاج جائز نہیں اور نہ ہی یہ انکے موئید ہے۔

لطیفہ : منکرین حدیث کے لٹریچر میں یہ ایک بڑا لطیفہ ہے کہ سارے کا سارا لٹریچر حجیت حدیث کے خلاف ہوتا ہے اور امت کو یہ باور کرانے میں ہوتا ہے کہ احادیث ناقابل احتجاج ہیں کیونکہ فنی حیثیت سے سب کی سب مشکوک ہیں مگر طرفہ یہ ہے ان کے تمام لٹریچر میں‌ احتجاج بھی خود روایات سے ہی کیا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر ان روایات سے کو جو فن حدیث اور اصول حدیث کے اعتبار ناقابل احتجاج ہیں یعنی اتنے بڑے ذخیرہ احادیث یکسر ناقابل احتجاج ٹھرانے کے لیے منکرین حدیث خود اشی شئے کا سہارا لیتے ہیں کہ جس شئے کو ناقابل حجت بیان کر رہے ہوتے ہیں اور اس ذخیرے میں بھی ان کو صحیح حدیث شاذ ہی اپنے مطلب پر ملتی ہے تبھی تو ضعیف حتی کے موضوع روایات سے اپنی مطلب برآری چاہتے ہیں فیا للعجب ۔ ۔ ۔

اقتباس:
تیسرا اعتراض :حضرت ابوبکر اورحضرت عمر کے بعد جو زمانہ آیا جس میں مشاجرات صحابہ اور جنگ جمل اور جنگ
صفین واقع ہوئیاوراخر کار دردناک واقعہ شہادت حسین علیہ اسلام کا واقع ہوا پھر بنی امیہ اور بنی عباس
کا زمانہ آیا اور وہ ایسا شور شغب کا زمانہ تھااورروایات پر بد اثر ڈالنے والا بہت سی حدیثیں گھڑی گئی
کے بیان سے باہر ہے


صحابہ کرام ان کے کردار اور انکے اخلاص و للٰہیت پر تو کوئی بھی صاحب نظر کلام نہیں کرسکتا رہ گئی بنو امیہ اور بنو عباس کہ پر فتن دور کی بات تو ان ادوار میں جہاں وضاعین احادیث نے اپنا کام دکھایا وہیں محدثین نے بھی اصول حدیث روایتا اور درایتا کی ایسی ایسی چھلنیاں تیار کیں کہ ہر کھرا اور کھوٹا نکھر کر سامنے آگیا سو علم حدیث کا مبتدی طالب علم بھی ایسی ہر قسم کی روایات سے بخوبی آگاہ ہے لہذا فقط اس اعتراض کی رو سے تمام ذخیرہ احادیث کو نہ تو یکسر نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس اعتراض کی براہ راست ضرب روایت بالمعنی کی حجیت پر پڑتی ہے جو کہ ہمارے ممدوح معترض کے موئید ہو ۔۔۔

اقتباس:
چوتھا اعتراض :
ایک چیز جب ثابت ہو گئی کے آپ سے جتنی بھی حدیثیں روایت ہیں ماسوائے شاز و نادر چھوٹی حدیثوں
کے سب بالمعنی روایت کی گئی ہیں یعنی جو بات آپ نے جن لفظوں میں فرمائی تھیں وہ لفظ بعینہ
و بجنسہ نہیں ہیں بلکہ راویوں نے جو مطلب سمجھا اس کو ان لفظوں میں جن میں وہ بیان کر سکتے تھے
بیان کیا۔۔پھر اسی طرح دوسرے روای نے پہلےراوی کے اورتیسرے راوی نے دوسرے راوی کے اورچوتھے
راوی نے تیسرے راوی کے بیان کو اپنے لفظوں میں بیان کیا اور علی ہذاالقیاس


اوپر بیان کیے گئے اعتراضات سے روایات بالمعنی کا عدم جواز کہاں سے ثابت ہوا اگر برسبیل تنزل اوپر بیان کیے اعتراضات کو درست تسلیم کیا جائے تو عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے مطلقا روایات حدیث کو ہی مجروح قرار دے دیا جائے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے اور نہ ہی یہ ہمارے ممدوح کا بھی مطالبہ اور دعوٰی ہے ثانیا معترض کا یہ کہنا کہ سوائے معدودے چند چھوٹی حدیثوں کہ باقی سب کی سب احادیث روایات بالمعنی ہیں ایک ایسا دعوٰی ہے جو کہ بلا ثبوت اور محتاج دلیل ہے لہزا اول اس امر کا ثبوت فراہم کیا جائے کہ کس قدر روایات بالمعنی ہیں اور پھر ہر دور میں کہاں کہاں کس کس روایت میں کن کن روایوں نے اپنے الفاظ شامل کیے ؟؟؟؟ اس ضمن میں اگر فقط چند ایک امثال ہی نقل کردی جائیں تو کافی ہونگی زیادہ تفصیلی اعداد و شمار کی حاجت نہیں امید ہے کہ ہم مایوس نہ ہونگے ہمارے ممدوح معترض ضرور اس امر کا ثبوت باہم پہنچائیں گے ۔۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے محترم ممدوح کا یہ اعتراض محض مفروضے پر مبنی ہے لہذا بے سرو پا ہے اور محتاج دلیل ہے لہزا یہی وجہ ہے کہ اصول حدیث اور نقل اور عقل ہر دو اصولوں کے خلاف ہے اول ہم اوپر نقل کر آئے روایات بالمعنی مشروط اعتبار سے جمہور محدثین کے نزدیک قابل قبول ہے اور پھر روایات بالمعنی پر انحصار اس وقت تک زیادہ تھا جب کہ ابھی زیادہ تر روایات کی تدوین نہ ہوئی تھی یعنی دور صحابہ لہزا یہی وجہ ہے کہ بعض اصولیین کے نزدیک صحابہ کا روایت بالمعنی کرنا جائز ہے جبکہ ان کے بعد والوں کا نہیں اور پھر سب سے بڑھ کر جب روایات تابعین کے دور میں زیادہ تیزی سے مدون ہونا شروع ہوگئیں تو روایات بالمعنی کی ضرورت بھی معدوم ہوتی گئی چناچہ یہی وجہ ہے متن حدیث تو ایک طرف بعد میں آنے والے محدثین جب کسی مدون شدہ نسخہ کی سند میں بھی کوئی وضاحتی نوٹ دینا چاہا تو اول سند کے الفاظ جوں کے توں نقل کیے اور پھر بعد میں حاشیہ یا پھر قوسین میں وضاحتی نوٹ ساتھ لکھا تاکہ وہ اصل کتابیں جب بعد میں آنے والے لوگ پڑھیں تو فرق کرسکیں کہ اصل محدث کے کیا الفاظ تھے جب کہ محشی و شارح کے کیا الفاط ہیں ۔۔۔

یہی ہمارے ممدوح معترض کے بنیادی اعتراضات تھے کہ جن کے جوابات ہم نے عرض کردیے باقی ہمیں اپنے ممدوح معترض پر حسن ظن ہے کہ انھے منکرین حدیث کا لٹریچر پڑھ کر واقعی شبہات لاحق ہوگئے تھے لہزا ہم نے اپنی سی کوشش کرتے ہوئے انھے مطمئن کرنے کی کوشش ضرور کی اب ہم اس میں کس حد تک کامیاب ہویے اس بات کا فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتے ہیں والسلام ۔ ۔ ۔

Last edited by آبی ٹوکول; 19-08-11 at 10:28 AM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (19-08-11), کنعان (19-08-11), مہتاب (19-08-11), شکاری (20-08-11)
پرانا 19-08-11, 11:58 AM   #3
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,033
کمائي: 22,563
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب
عابد بھائی اللہ پاک آپکی کاوش قبول فرمائے

جزاک اللہ
مہتاب آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (19-08-11), کنعان (19-08-11)
پرانا 19-08-11, 12:12 PM   #4
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,230
شکریہ: 7,943
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی اور معلوماتی شیرنگ ہے
شکریہ ۔ ۔ ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (19-08-11), کنعان (19-08-11)
پرانا 19-08-11, 06:38 PM   #5
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
جزاک اللہ خیرا۔ اس موضوع پر اس کتاب کا مطالعہ بھی مفید ہو گا ان شاء اللہ۔
تفہیم اسلام بجواب دو اسلام - کتب لائبریری - کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی جانے والی اردو اسلامی کتب کا سب سے بڑا مفت مرکز
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (19-08-11), آبی ٹوکول (19-08-11), شکاری (20-08-11)
پرانا 20-08-11, 03:12 PM   #6
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 65
کمائي: 1,226
شکریہ: 196
39 مراسلہ میں 81 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واقعی تفھیم اسلام بہت زبردست کتاب ہے اس کی یونیکوڈ کاپی تیار کرنا اس وقت کی ایک اہم ضرورت ہے
bashirahmed98 آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے bashirahmed98 کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (20-08-11), شکاری (20-08-11)
پرانا 01-09-11, 08:14 AM   #7
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بشیر احمد عسکری بھائی یہ کام لگتا ہے کہ آپکو ہی کرنا پڑے گا ( ابتسامہ )
رفیق طاہر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-09-11, 10:10 AM   #8
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 65
کمائي: 1,226
شکریہ: 196
39 مراسلہ میں 81 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی آپ کی دعائیں شامل حال رہیں تو اس کتاب کی یونیکوڈ کاپی بھی تیار ہوکر رہے گی ان شاء اللہ ۔
bashirahmed98 آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے bashirahmed98 کا شکریہ ادا کیا
رفیق طاہر (01-09-11), عُکاشہ (01-09-11), عبداللہ حیدر (01-09-11)
جواب

Tags
color, فورم, کلمات, پاک, لوگ, ممکن, معلوم, آدمی, اللہ, اسلام, جواب, حدیث, حضرات, خلاف, دعا, زمانہ, شخص, عقل, عدم, عرب, عرض, غزالی, صورتحال, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:12 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger