واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


سنت کس شکل میں موجود ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-10-08, 05:03 PM   #1
سنت کس شکل میں موجود ہے
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 21-10-08, 05:03 PM

سوال:
"کیا قرآن کی طرح ہمارے ہاں ایسی کوئی کتاب موجود ہے جس میں سنت رسول اللہ مرتب شکل میں موجود ہو، یعنی قرآن کی طرح اس کی کوئی جامع و مانع کتاب ہے؟"
جواب :
۔ میں اس کے جواب میں عرض کروں گا کہ آج پونے چودہ سو سال گزر جانے کے بعد پہلی مرتبہ ہم کو اس سوال کا سابقہ پیش نہیں آ گیا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال قبل جو نبوت مبعوث ہوئی تھی اس نے کیا سنت چھوڑی ہے۔ دو تاریخی حقیقتیں ناقابل انکار ہیں:

ایک یہ کہ قرآن کی تعلیم اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر جو معاشرہ اسلام کے آغاز میں پہلے دن قائم ہوا تھا وہ اس وقت سے آج تک مسلسل زندہ ہے، اس کی زندگی میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا ہے اور اس کے تمام ادارے اس ساری مدت میں پیہم کام کرتے رہے ہیں۔ آج تمام دنیا کے مسلمانوں میں عقائد اور طرزِ فکر، اخلاق اور اقدار (Values)، عبادات اور معاملات، نظریۂ حیات اور طریقِ حیات کے اعتبار سے جو گہری مماثلت پائی جاتی ہے، جس میں اختلاف کی بہ نسبت ہم آہنگی کا عنصر بہت زیادہ موجود ہے، جو ان کو تمام روئے زمین پر منتشر ہونے کے باوجود ایک امت بنائے رکھنے کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ہے، یہی امر اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اس معاشرے کو کسی ایک ہی سنت پر قائم کیا گیا تھا اور وہ سنت ان طویل صدیوں کے دوران میں مسلسل جاری ہے۔ یہ کوئی گم شدہ چیز نہیں ہے جسے تلاش کرنے کے لیے ہمیں اندھیرے میں ٹٹولنا پڑ رہا ہو۔
دوسری تاریخی حقیقت، جو اتنی ہی روشن ہے، یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سے ہر زمانے میں مسلمان یہ معلوم کرنے کی پیہم کوشش کرتے رہے ہیں کہ سنتِ ثابتہ کیا ہے اور کیا نئی چیز ان کے نظامِ حیات میں کسی جعلی طریقہ سے داخل ہو رہی ہے۔ چونکہ سنت ان کے لیے قانون کی حیثیت رکھتی تھی، اسی پر ان کی عدالتوں میں فیصلے ہونے تھے اور ان کے گھروں سے لے کر حکومتوں تک کے معاملات چلنے تھے،اس لیے وہ اس کی تحقیق میں بے پروا اور لا ابالی نہیں ہو سکتے تھے۔ اس تحقیق کے ذرائع بھی اور اس کے نتائج بھی ہم کو اسلام کی پہلی خلافت کے زمانے سے لے کر آج تک نسلً بعد نسل میراث میں ملے ہیں اور بلا انقطاع ہر نسل کا کیا ہوا کام محفوظ ہے۔
ان دو حقیقتوں کو اگر کوئی اچھی طرح سمجھ لے اور سنت کو معلوم کرنے کے ذرائع کا باقاعدہ علمی مطالعہ کرے تو اسے کبھی یہ شبہ لاحق نہیں ہو سکتا کہ یہ کوئی لا ینحل معمہ ہے جس سے وہ آج یکایک دوچار ہو گیا ہے"
نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے عہد نبوت میں مسلمانوں کے لیے محض ایک پیر و مرشد اور واعظ نہیں تھے بلکہ عملاً ان کی جماعت کے قائد، رہنما، حاکم، قاضی، شارع، مربی، معلم سب کچھ تھے اور عقائد و تصورات سے لے کر عملی زندگی کے تمام گوشوں تک مسلم سوسائٹی کی پوری تشکیل آپ ہی کے بتائے، سکھائے اور مقرر کیے ہوئے طریقوں پر ہوئي تھی۔ اس لیے کبھی یہ نہیں ہوا کہ آپ نے نماز، روزے اور مناسک حج کی جو تعلیم دی ہو، بس وہی مسلمانوں میں رواج پا گئی ہو اور باقی باتیں محض وعظ و ارشاد میں مسلمان سن کر رہ جاتے ہوں بلکہ فی الواقع جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ جس طرح آپ کی سکھائی ہوئی نماز فوراً مسجدوں میں رائج ہوئی اور اسی وقت جماعتیں اس پر قائم ہونے لگیں، اسی طرح شادی بیاہ اور طلاق و وراثت کے متعلق جو قوانین آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقرر کیے انہی پر مسلم خاندانوں میں عمل شروع ہو گیا، لین دین کے جو ضابطے آپ نے مقرر کیے، انہی کا بازاروں میں چلن ہونے لگا، مقدمات کے جو فیصلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیے وہی ملک کا قانون قرار پائے، لڑائیوں میں جو معاملات آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دشمنوں کے ساتھ اور فتح پاکر مفتوح علاقوں کی آبادی کے ساتھ کیے، وہی مسلم مملکت کے ضابطے بن گئے اور فی الجملہ اسلامی معاشرہ اور اس کا نظامِ حیات اپنے تمام پہلوؤں کےساتھ انہی سنتوں پر قائم ہوا جو آپ نے خود رائج کیں یا جنہیں پہلے کے مروج طریقوں میں سے بعض کو برقرار رکھ کر آپ نے سنت اسلام کا جز بنا لیا۔
یہ وہ معلوم و متعارف سنتیں تھی جن پر مسجد سے لے کر خاندان، منڈی، عدالت، ایوانِ حکومت اور بین الاقوامی سیاست تک مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے تمام ادارات نے نبی کریم ﷺ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی ہی میں عملدرآمد شروع کر دیا تھا اور بعد میں خلفائے راشدین کے عہد سے لے کر دور حاضر تک ہمارے اجتماعی ادارات کے تسلسل میں ایک دن کا انقطاع بھی واقع نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی انقطاع رونما ہوا ہے تو صرف حکومت و عدالت اور پبلک لا (law)کے ادارات عملاً درہم برہم ہو جانے سے ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔ ان (سنتوں) کے معاملے میں ایک طرف حدیث کی مستند روایات اور دوسری طرف امت کا متواتر عمل، دونوں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔
ان معلوم و متعارف سنتوں کے علاوہ ایک قسم سنتوں کی وہ تھی جنہیں نبیﷺ م کی زندگی میں شہرت اور رواج عام حاصل نہ ہوا تھا، جو مختلف اوقات میں نبیﷺ کے کسی فیصلے، ارشاد، امر و نہی، تقریر ، اجازت، یا عمل کو یکھ کر یا سن کر خاص خاص اشخاص کے علم میں آئی تھی اور عام لوگ ان سے واقف نہ ہو سکے تھے۔
ان سنتوں کا علم جو متفرق افراد کے پاس بکھرا ہوا تھا، امت نے اس کو جمع کرنے کا سلسلہ نبیﷺ کی وفات کے بعد فوراً ہی شروع کر دیا۔ کیونکہ خلفاء، حکام، قاضی، مفتی اور عوام سب اپنے اپنے دائرۂ کار میں پیش آنے والے مسائل کے متعلق کوئی فیصلہ یا عمل اپنی رائے اور استنباط کی بنا پر کرنے سے پہلے یہ معلوم کر لینا ضروری سمجھتے تھے کہ اس معاملہ میں نبیﷺ کی کوئی ہدایت تو موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کی خاطر ہر اس شخص کی تلاش شروع ہوئی جس کے پاس سنت کا کوئی علم تھا اور ہر اس شخص نے جس کے پاس ایسا کوئی علم تھا، خود بھی اس کو دوسروں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی روایت حدیث کا نقطۂ آغاز ہے اور 11ھ سے تیسری چوتھی صدی تک ان متفرق سنتوں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ موضوعات گھڑنے والوں نے ان کے اندر آمیزش کی جتنی کوششیں بھی کیں وہ قریب قریب سب ناکام بنا دی گئیں کیونکہ جن سنتوں سے کوئی حل ثابت یا ساقط ہوتا تھا،جن کی بنا پر کوئی چیز حرام یا حلال ہوتی تھی، جس سے کوئی شخص سزا پا سکتا تھا یا کوئی ملزم بری ہو سکتا تھا، غرض یہ کہ جن سنتوں پر احکام اور قوانین کا مدار تھا، ان کے بارے میں حکومتیں اور عدالتیں اور افتاء کی مسندیں اتنی بے پرواہ نہیں ہو سکتی تھیں کہ یونہی اٹھ کر کوئی شخص قال النبی صلی اللہ علیہ و سلم کہہ دیتا۔ اسی لیے جو سنتیں احکام سے متعلق تھیں ان کے بارے میں پوری چھان بین کی گئی، سخت تنقید کی چھلنیوں سے ان کو چھانا گیا۔ روایت کے اصولوں پر بھی انہیں پرکھا گیا اور درایت کے اصولوں پر بھی اور وہ سارا مواد جمع کر دیا گیا، جس کی بنا پر کوئی روایت مانی گئی ہے یا رد کر دی گئی ہے، تاکہ بعد میں بھی ہر شخص اس کے رد و قبول کے متعلق تحقیقی رائے قائم کر سکے۔
کسی کا کہنا کہ عہدِ نبوی کے رواجات، روایات، نظائر، فیصلوں، احکام اور ہدایات کا پورا ریکارڈ ہم کو "ایک کتاب" کی شکل میں مرتب شدہ ملنا چاہیے تھا، درحقیقت ایک خالص غیر عملی طرز فکر ہے اور وہی شخص یہ بات کہہ سکتا ہے جو خیالی دنیا میں رہتا ہو۔ آپ قدیم زمانے کے عرب کی حالت کو چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لیے آج اس زمانے کی حالت کو لے لیجیے جب کہ احوال و وقائع کو ریکارڈ کرنے کے ذرائع بے حد ترقی کر چکے ہیں۔ فرض کر لیجیے کہ اس زمانے میں کوئی لیڈر ایسا موجود ہے جو 23 سال تک شب و روز کی مصروف زندگی میں ایک عظیم الشان تحریک برپا کرتا ہے۔ ہزاروں افراد کو اپنی تعلیم و تربیت سے تیار کرتا ہے۔ ان سے کام لے کر ایک پورے ملک کی فکری، اخلاقی، تمدنی اور معاشی زندگی میں انقلاب پیدا کرتا ہے۔ اپنی قیادت و رہنمائی میں ایک نیا معاشرہ اور ایک نئی ریاست وجود میں لاتا ہے۔ اس معاشرے میں اس کی ذات ہر وقت ایک مستقل نمونۂ ہدایت بنی رہتی ہے۔ ہر حالت میں لوگ اس کو دیکھ دیکھ کر یہ سبق لیتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے۔ ہر طرح کے لوگ شب و روز اس سے ملتے رہتے ہیں اور وہ ان کو عقائد و افکار، سیرت و اخلاق، عبادات و معاملات، غرض ہر شعبۂ زندگی کے متعلق اصولی ہدایات بھی دیتا ہے اور جزئی احکام بھی۔ پھر اپنی قائم کردہ ریاست کا فرمانروا، قاضی، شارع، مدبر اور سپہ سالار بھی تنہا وہی ہے اور دس سال تک اس مملکت کے تمام شعبوں کو وہ خود اپنے اصولوں پر قائم کرتا اور اپنی رہنمائی میں چلاتا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آج اس زمانے میں بھی یہ سارا کام کسی ایک ملک میں ہو تو اس کا ریکارڈ "ایک کتاب" کی شکل میں مرتب ہو سکتا ہے؟ کیا ہر وقت اس لیڈر کے ساتھ ٹیپ ریکارڈ لگا رہ سکتا ہے؟ کیا ہر آن فلم کی مشین اس کی شبانہ روز نقل و حرکت ثبت کرنے میں لگی رہ سکتی ہے؟ اور اگر یہ نہ ہو سکے تو کیا آپ کہیں گے کہ وہ ٹھپا جو اس لیڈر نے ہزاروں لاکھوں افراد کی زندگی پر پورے معاشرے کی ہئیات اور پوری ریاست کے نظام پر چھوڑا ہے، سرے سے کوئی شہادت ہی نہیں ہے۔ جس کا اعتبار کیا جا سکے؟ کیا آپ یہ دعویٰ کریں گے کہ اس لیڈر کی تقریریں سننے والے، اس کی زندگی دیکھنے والے، اس سے ربط و تعلق رکھنے والے بے شمار اشخاص کی رپورٹیں سب کی سب ناقابل اعتماد ہیں کیونکہ خود اس لیڈر کے سامنے وہ "ایک کتاب" کی شکل میں مرتب نہیں کی گئیں اور لیڈر نے ان پر اپنے ہاتھ سے مہر تصدیق ثبت نہیں کی؟ کیا آپ فرمائیں گے کہ اس کے عدالتی فیصلے، اس کے انتظامی احکام، اس کے قانونی فرامین، اس کے صلح و جنگ کے معاملات کے متعلق جتنا مواد بھی بہت سی مختلف صورتوں میں موجود ہے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے، کیونکہ وہ "ایک جامع و مانع کتاب" کی شکل میں تو ہے ہی نہیں؟
ان امور پر اگر بحث کی نیت سے نہیں بلکہ بات سمجھنے کی نیت سے غور کیا جائے تو ایک ذی فہم آدمی خود محسوس کر لے گا کہ یہ "ایک کتاب" کا مطالبہ کتنا مہمل ہے۔ اس طرح کی باتیں ایک کمرے میں بیٹھ کر چند نیم خواندہ اور فریب خوردہ عقیدت مندوں کے سامنے کر لی جائیں تو مضائقہ نہیں، مگر کھلے میدان میں پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے ان کو چیلنج کے انداز میں پیش کرنا بڑی جسارت ہے۔

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 334
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (22-10-08), مرزا عامر (13-09-10), ابن جلال (22-10-08), خالد احمد صدیقی (23-10-08)
پرانا 22-10-08, 01:13 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: سنت کس شکل میں موجود ہے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، جزاک اللہ خیرا ، اللہ مزید کی ہمت دے ، اور پڑھنے والوں کو فلسفوں اور خود ساختہ خیالات سے محفوظ رہ کر سمجھنے کی توفیق دے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
پرانا 22-10-08, 08:09 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,614
کمائي: 31,179
شکریہ: 7,118
2,944 مراسلہ میں 8,724 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: سنت کس شکل میں موجود ہے

السلام علیکم۔
درست فرمایا کہ صحیح‌ حدیث اور سنت موجود ہے۔ سنت پر عمل کرنا جہاں تک ممکن ہو احسن ہے ، سنت فرض نہیں اور بہشتر صورتوں میں اس کو چھوڑنے سے کوئی گناہ بھی نہیں۔ بقول بریلوی فرقوں کے استادوں کے بہت سے لوگ حدیث کی کتب کو مانتے ہی نہیں لیکن وہ بھی سنت جاریہ کو مانتے ہیں۔ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کسی سنت کو فرض بنا کر پیش کیا جائے اس کو جھگڑے کی بنیاد بنایا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ کسی خاص سنت کو چھوڑنے سے فرض چھوڑنے جیسا گناہ ہوتا ہے۔ فرض میں اضافہ کرنا یا اس کی ترمیم کرنا جیسے کسی غیر اللہ کو اللہ بنانے کے مترادف ہے یعنی صاف صاف شرک ہے۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (22-10-08), مرزا عامر (13-09-10)
جواب

Tags
فرض, قرآن, لوگ, میراث, متعارف, مسائل, معلوم, معاشرہ, آبادی, آج, آدمی, اللہ, اسلام, اسلامی, تلاش, تعلیم, جواب, حدیث, زندگی, سیاست, سال, شخص, طلاق, عہد, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:12 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger