|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 334
|
||||
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، جزاک اللہ خیرا ، اللہ مزید کی ہمت دے ، اور پڑھنے والوں کو فلسفوں اور خود ساختہ خیالات سے محفوظ رہ کر سمجھنے کی توفیق دے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ابن جلال (22-10-08), خالد احمد صدیقی (23-10-08) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم۔
درست فرمایا کہ صحیح حدیث اور سنت موجود ہے۔ سنت پر عمل کرنا جہاں تک ممکن ہو احسن ہے ، سنت فرض نہیں اور بہشتر صورتوں میں اس کو چھوڑنے سے کوئی گناہ بھی نہیں۔ بقول بریلوی فرقوں کے استادوں کے بہت سے لوگ حدیث کی کتب کو مانتے ہی نہیں لیکن وہ بھی سنت جاریہ کو مانتے ہیں۔ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کسی سنت کو فرض بنا کر پیش کیا جائے اس کو جھگڑے کی بنیاد بنایا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ کسی خاص سنت کو چھوڑنے سے فرض چھوڑنے جیسا گناہ ہوتا ہے۔ فرض میں اضافہ کرنا یا اس کی ترمیم کرنا جیسے کسی غیر اللہ کو اللہ بنانے کے مترادف ہے یعنی صاف صاف شرک ہے۔ والسلام |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (22-10-08), مرزا عامر (13-09-10) |
![]() |
| Tags |
| فرض, قرآن, لوگ, میراث, متعارف, مسائل, معلوم, معاشرہ, آبادی, آج, آدمی, اللہ, اسلام, اسلامی, تلاش, تعلیم, جواب, حدیث, زندگی, سیاست, سال, شخص, طلاق, عہد, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|