واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


سنت کی آئینی حیثیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-11-11, 10:11 AM   #1
سنت کی آئینی حیثیت
حیدر حیدر آن لائن ہے 19-11-11, 10:11 AM

احادیث پر اعتراضات کا سلسلہ سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اُٹھا ۔جب خوارج کے متشددانہ نظریات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی احادیث ہی بنیں۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے (یعنی قرآن وسنت) پر قائم شدہ اسلامی معاشرے میں خوارجی نظریات مسلسل ناکامی کا شکار ہوتے رہے۔ اسی بنا پر انہوں نے سنت و احادیث کو واجب الاتباع ہونے سے ہی انکار کر دیا۔
اس کے برعکس معتزلہ فرقہ کو انکار حدیث کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ عجمی اور یونانی فلسفیوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے وہ اس کو ہر صورت میں کسی طریقہ سے حل کر دینا چاہتے تھے۔ ان میں اتنی علمی جرات تو تھی نہیں کہ پہلے وہ اعتراضات کا تنقیدی جائزہ لے کر انکی صحت و قوت جانچ سکتے ، بلکہ انہوں نے ہر اُس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی تھی ،سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلام کے عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے کہ وہ نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو جائیں۔ اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ احادیث بنیں، کیونکہ کئی احادیث ایسی تھیں جو عام سمجھ سے باہر تھیں۔ چناچہ ان کو سب سے آسان حل یہی لگا کہ وہ احادیث کا انکار ہی کر دیں۔ کئی وجوہات کی بنا پر ان دونوں فرقوں کے نظریات اپنی موت آپ مر گئے اور مسلمانوں میں یہ خیالات رواج نہ پا سکے۔بلکہ ان نظریات کی وجہ سے مسلمانوں میں اس موضوع پر جو عالی شان تحقیق ہوئی اُس کا ثمر آج ہم ـ علم حدیثـ کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔
آج سے چند دہائیاں قبل کے اگر ہم علمائے دین سے کئیے گئے سوالات کا بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سائنسی ترقی نے پھر سے مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جو یونانی فلسفے نے کیا تھا۔ نت نئی سائنسی تحقیق اور اس کی بنیاد پر ہونے والی غیر مسلم تنقید نے ہمارے عقائد کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ لوگوں کی کوشش شروع ہو گئی کہ وہ قرآن و حدیث کو جدید سائنسی اصولوں پر پرکھ سکیں، اور جب انسانی عقل اپنی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے اس سے عاجز ہو جاتی تھی تو اسلام سے برگشتگی سی پیدا ہو جاتی تھی۔ سونےپر سہاگہ علمائے دین میں سے اکثریت کا سائنس سے متعلق انتہائی سخت اور ناروا رویہ تھا۔ چناچہ پھر سے ہمارے عقائد کی بنیادیں ہلنا شروع ہو گئیں اور بجائے اس کے کہ ہم لوگ لمحہ بہ لمحہ بدلتی اور اپنی ہی سابقہ تحقیق کو غلط کرتی سائنسی تحقیقات کا تنقیدی جائزہ لیتے ، ہم لوگ اپنے گھر کی مرمت کے نام پر اپنے ہی گھر کی دیواروں کو گرانے کے درپے ہو گئے۔ احادیث پر پھر شدت سے اعتراضات وارد ہونا شروع ہو گئے۔ایسے ایسے نقائص بیان کئیے جانے لگے احادیث میں کہ عامی تو عامی خود مخلصین کے ذہن بھی شدید شبہات کا شکار ہو گئے۔دو فریقین میں سے ایک مکمل تیاری کے ساتھ اور اسلحہ و ساز و سامان سے لیس ہو ، جبکہ دوسرے فریق کو ٹھیک سے پوزیشن کا بھی علم نہ ہو تو ایسے میں دوسرے فریق کی ذہنی شکست کا ہونا لازمی امر ہوتا ہے۔
احادیث پر اعتراضات اور اس کو قرآن پر پرکھنے کے نام پر انکار کی یہ تحریک اس قدر منظم انداز میں چل رہی ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں اور سرکاری دفاتر میں غیر محسوس انداز میں ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ اس وقت پڑھے لکھے طبقے میں ایک واضح تعداد احادیث کے بارے میں غیر شعوری طور پر شکوک و شبہات کا شکار ہو چکی ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہر فرد احادیث سے متعلق ان اصولوں کا بغور مطالعہ کرے خواہ وہ احادیث کا قائل ہو یا ان سے منکر۔ جو شخص جیسی چاہے مرضی رائے قائم کرے ، مگر کسی پڑھے لکھے آدمی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ محض ایک رُخ کے مطالعہ پر اپنا ایک ذہن بنا لے اور دوسرا رُخ دیکھنے سے ہی انکار کر دے۔

یہاں پر دونوں رُخ پوری وضاحت سے بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی اس لیےا ُمید ہے کہ یہ قائلین سنت اور منکرین سنت ، دونوں کو ایک متوازن رائے قائم کرنے میں مدد دے گی۔
میرا مقصد اس تھریڈ کو بنانے کا ہر گز یہ نہیں کہ ایک ایک حدیث کو پکڑ کر اس کی جانچ پڑتال کی جائے۔ کیونکہ اگر اس کام میں لگ گئے تو ہزاروں سال بھی کافی نہیں ہیں۔ اور نہ ہی اس سے مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔ بلکہ اس تھریڈ میں سنت سے متعلق محض اصولی باتیں ڈسکس کی جائیں گی۔ یہ ایسے اصول ہوں گے جن کی بنیاد پر سنت کے بارے میں معتدل رائے قائم کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ مراسلہ جات میرے ذاتی الفاظ نہ ہوں گے، بلکہ مختلف مضامین میں سے اخذ کئیے گئے اصولوں پر مبنی ہوں گے۔ جو اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے ممد و معاون ثابت ہوں گے۔

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 361
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (12-12-11), فیصل ناصر (20-11-11), مرزا عامر (19-11-11), احمد نذیر (12-12-11), بنت حوا (20-11-11), رفیق طاہر (22-01-12), رضی (20-11-11), سیفی خان (19-11-11), شکاری (13-12-11), عادل سہیل (04-12-11)
پرانا 19-11-11, 10:14 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو وہ الگ تھریڈ میں اعتراضات کا سلسلہ شروع کر سکتا ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (12-12-11), سیفی خان (19-11-11), عادل سہیل (04-12-11)
پرانا 19-11-11, 11:11 AM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قسط اول: کیا کسی آج کے کسی مسلمان کے لیے اطاعت رسول کرنا لازمی امر ہے؟

اتباع اور اطاعت رسول :

حافظ محمد اسلم جیراجپوری اپنی کتاب "تعلیمات قرآن" میں ان قرآنی آیات

"جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اُتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اولیا کی پیروی نہ کرو"الاعراف
اور یہ جملہ قوانین محض قرآن کی روشنی میں بنائے جائیں گے
"اور انکی حکومت انکے باہم مشورے سے ہے" شوریٰ

چناچہ فاضل مصنف ان اور ان جیسی دیگر آیات سے استنباط کرتے ہیں کہ مسلمان قرآن کریم سے اصول لے کر باہمی مشورہ سے تفصیلی قوانین وضع کر لیا کریں۔ اور اس عمل میں وہ سنت کی اہمیت سے انکار کر دیتے ہیں کہ اس کی ضرورت نہیں

لیکن ان دونوں کڑیوں کے درمیان سلسلہ کی ایک اور کڑی بھی تھی جس کو خود اللہ تعالیٰ نے اس زنجیر میں پیوست کیا تھا ۔وہ کڑی یہ ہے :
"اے محمد ! کہو کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، خدا تم سے محبت کرے گا" (آل عمران)

اس میں کوئی شک نہیں کہ اصولی قانون قرآن ہی ہے۔ مگر یہ قانون ہمارے پاس بلاواسطہ نہیں بھیجا گیا بلکہ رسول خدا کے واسطے سے بھیجا گیا ہے۔ اور رسول کو درمیانی واسطہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ وہ اصولی قانون کو اپنی اور اپنی امت کی عملی زندگی میں نافذ کر کے ایک نمونہ پیش کر دیں اور اپنی خداداد بصیرت سے ہمارے لیے وہ طریقے متعین کر دیں جن کے مطابق ہمیں اس اصولی قانون کو اپنی اجتماعی زندگی اور انفرادی برتاؤ میں نافذ کرنا چاہیے۔ پس قرآن کی رُو سے صحیح ضابطہ یہ ہوا کہ پہلے خدا کا بھیجا ہوا قانون ، پھر خدا کے رسول کا بتایا ہوا طریقہ اور پھر ان دونوں کی روشنی میں ہمارے اولیٰ الامر کا اجتہاد۔
"اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان اولیٰ الامر کی جو تم میں سئے ہوں ۔پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات پر نزاع ہو جائے تو اس میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو" النسا

آخری جملہ خاص طور پر قابل غور ہے۔ مسائل شرعی میں جب مسلمانوں کے درمیان نزاع اور اختلاف واقع ہو تو حکم ہے کہ خدا اور رسول کی طرف رجوع کر۔ اگر مرجع صرف قرآن مجید ہوتا تو صرف "اللہ کی طرف رجوع کرو" کہنا کافی تھا۔لیکن اس میں رسول کی طرف رجوع کرنے کا بھی کہا گیا ہے جس میں صاف اشارہ ہے کہ قرآن کے بعد رسول کا طریقہ تمہارے لیے رجوع کرنے کی جگہ ہے

رسول محض ایک ہرکارہ یا پیغام رساں؟ :
مولانا اسلم صاحب قرآن کی چند آیات سے اخذ کرتے ہیں کہ منصب رسالت کا فریضہ صرف پیغام الہیٰ کی تبلیغ ہےئ اور بس مثلاً
"تیرے اوپر صرف تبلیغ ہے"(الشوریٰ)
"اگر تم نے منہ پھیر لیا تو ہمارے رسول پر صرف کھلی ہوئی تبلیغ ہے اور بس" (التغابن)
"تمہارے اوپر پہنچانا ہے اور ہمارے اوپر حساب لینا" (رعد)

یہاں مصنف نے آیات کے سیاق و سباق اور فحوائے کلام کو نظر انداز کر کے رسول اللہ کی حیثیت کو اس انداز میں بیان کیا ہے کہ گویا وہ محض ایک نامہ بر یا نعوذ باللہ اللہ کی ڈاک کا ہرکارہ ہے۔ لیکن اگر وہ ان جملوں کو ان عبارات کے سیاق و سباق سے ملا کر پڑھتے جن میں یہ وارد ہوئے ہیں تو انہیں خود معلوم ہو جاتا کہ دراصل جو کُچھ کہا گیا ہے ، یہ نبی پر ایمان لانے والوں سے نہیں بلکہ ان کا انکار کرنے والوں سے تعلق رکھتا ہےیہ اور ان جیسی کئی اور آیات واضط طور پر رسول کو تسلی دے رہی ہیں کہ تمہارے اوپر ان تک حق کو پہنچا دینا ہے ، پس اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو تم دل گرفتہ مت ہو جاؤ۔ ہم انکا حساب لیں گے (تفصیل مختصر کر رہا ہوں مراسلہ کو چھوٹا کرنے کے لیے)
رہے وہ لوگ جو اسلام قبول کر لیں اور امت مسلمہ میں داخل ہو جائیں ، تو انکے لیے رسول کی حیثیت محض پیغام پہنچا دینے والے کی نہیں ہے۔ بلکہ رسول ان کے لیے معلم اور مربی بھی ہے، اسلامی زندگی کا نمونہ بھی ہے اور ایسا مایر بھی ہے جس کی اطاعت ہر زمانے میں بے چوں چراں ی جانی چاہیے۔ معلم کی حیثیت سے رسول کا کام یہ ہے کہ پیٍام الہیٰ کی تعلیمات اور اس کے قوانین کی تشریح اور توضیح کرے (و یعلمھہم الکتاب و الحکمۃ)، مربی ہونے کی حیثیت سے اس کا کام یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات اور قوانین کے مطابق مسلمانوں کی تربیت کرے اور ان کی زندگیاں اسی سانچے میں ڈھالے (و یزکیھم) اور نمونہ ہونے کی حیثیت سے اس کا کام یہ ہے کہ خؤد قرآنی تعلیم کا عملی مجسمہ بن کر دکھائے تاکہ اس کی زندگی اس زندگی کا ٹھیک ٹھیک تصویر بن جائے جو کتاب اللہ کے مقصود کے مطابق ایک مسلمان کی زندگی ہونی چاہئیے (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ) اور اس کے ساتھ ہی رسول کی حیثیت مسلمانوں کے امیر کی بھی ہے، ایسا امیر جس کے حکم کو بے چوں چراں ماننا وویسا ہی فرض ہے جیسا قرآن کی ایات کو ماننا (پس اگر تمہارے درمیان کسی بات کا تنازع ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اور جو رسول کی اطاعت کرے گا پس وہ اللہ کی اطاعت کرے گا۔النسا) بلکہ رسول تو ایسا امیر ہے جو قیامت تک امت مسلمہ کا امیر ہے جس کے احکام مسلمانوں کے لیے ہر زمانہ اور ہر حال میں مرجع ہیں۔ اس لیے کہ قرآن کی جتنی بھی اوپر آیات ہیں ان میں سے کوئی بھی زمانہ کے ساتھ مقید نہیں ہے۔

چناچہ قرآن کی چند آیات کے سیاق و سباق کے بغیر غلط مفہوم کے کر رسول اللہ کا کام صرف تبلیغ تک محدود کرنا غلطی ہے۔ رسول اللہ کی مبلغانہ حیثیت صرف اس وقت تک ہے جب تک لوگ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہوں۔ اور صرف ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے رسول کی تعلیمات کا ابھی قبول نہ کیا ہو۔ رہے وہ لوگ جو اسلام قبول کرکے امت مسلمہ میں داخل ہو جائیں تو ان کے لیے رسول کی حیثیت محض مبلٍغ کی نہیں بلکہ وہ انکا لیڈر ہے، فرماروا ہے، مقنن ہے، معلم ہے، مربی اور واجب التقلید نمونہ ہے۔

جب کسی سے رسول کو محض مبلغ کی حیثیت دینے کی غلطی ہو جاتی ہے تو یہیں سے دوسری غلطی کا صدور شروع ہو جاتا ہے۔ ان کو یہ دشواری پیش آ جاتی ہے کہ قرآن میں جو رسول کو مسلمانوں کے لیے معلم اور مربی اور نمونہ قرار دیا گیا ہے اس کا کیا مفہوم معین کیا جائے۔ آخر کار انہوں نے رسول کی ان سب حیثیات کو تبلیغ کے ضمن میں ہی شامل کر دیا۔ اور یہ نتیجہ نکال لیا کہ مبلغانہ حیثیت کے علاوہ آں حضرت کی زندگی کے اور جتنے پہلو ہیں وہ سب آپ کی شخصی یا پرائیویٹ حیثیت سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ کہ رسول اللہ جو کُچھ کلام کرتے تھے وہ سب کا سب وحی نہیں تھا۔ (اس بارے میں الگ مراسلے میں نبی کی شخصی حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی)
اور پھر یہیں سے تیسری غلطی کا صدور ہوتا ہے کہ رسول اللہ کی حیثیت ہمارے لیے دائمی امیر کی نہیں ہے بلکہ ان کے جو بھی فیصلے تھے وہ محض اُس وقت کے لیے تھے اور آج ہمارے لیے وہ کسی قسم کی کوئی نظر نہیں ہیں۔ (اس سلسلے میں الگ سے مراسلہ پیش کیا جائے گا جس میں رسول کی بطور حاکم حیثیت پر ڈسکشن پیش کی جائے گی)

ماخذ:تفہیمات: ابوالاعلیٰ مودودی

Last edited by حیدر; 19-11-11 at 11:16 AM.
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (12-12-11), فیصل ناصر (20-11-11), احمد نذیر (12-12-11), بنت حوا (20-11-11), رفیق طاہر (22-01-12), شکاری (20-11-11), عادل سہیل (04-12-11)
پرانا 20-11-11, 11:03 AM   #4
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,538
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہترین بہترین
۔ شکریہ
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (12-12-11), بنت حوا (20-11-11)
پرانا 12-12-11, 08:26 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default انسانیت ہدایت کی تلاش میں :تغیر احوال و تغیر احکام اور سنت

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو وہ الگ تھریڈ میں اعتراضات کا سلسلہ شروع کر سکتا ہے۔

انسانیت ہدایت کی تلاش میں :تغیر احوال و تغیر احکام اور سنت
rana ammar mazhar آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوشش, گھر, پاک, لکھے, مکمل, موت, معلوم, اللہ, انداز, اسلامی, تعلیم, جیسی, حل, حدیث, حضرات, سال, شخص, عقل, عقلی, عقائد, علمی, غلط, صلاحیتوں, صحت, صدی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فتنہ قادیانیت و مرزائیت کے خلاف حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کی تصنیف سیف چشتیائی ملک اظہر کتاب گھر 10 25-01-12 09:03 PM
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger