|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 361
|
||||
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو وہ الگ تھریڈ میں اعتراضات کا سلسلہ شروع کر سکتا ہے۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اتباع اور اطاعت رسول :
حافظ محمد اسلم جیراجپوری اپنی کتاب "تعلیمات قرآن" میں ان قرآنی آیات "جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اُتارا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اولیا کی پیروی نہ کرو"الاعراف اور یہ جملہ قوانین محض قرآن کی روشنی میں بنائے جائیں گے "اور انکی حکومت انکے باہم مشورے سے ہے" شوریٰ چناچہ فاضل مصنف ان اور ان جیسی دیگر آیات سے استنباط کرتے ہیں کہ مسلمان قرآن کریم سے اصول لے کر باہمی مشورہ سے تفصیلی قوانین وضع کر لیا کریں۔ اور اس عمل میں وہ سنت کی اہمیت سے انکار کر دیتے ہیں کہ اس کی ضرورت نہیں لیکن ان دونوں کڑیوں کے درمیان سلسلہ کی ایک اور کڑی بھی تھی جس کو خود اللہ تعالیٰ نے اس زنجیر میں پیوست کیا تھا ۔وہ کڑی یہ ہے : "اے محمد ! کہو کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، خدا تم سے محبت کرے گا" (آل عمران) اس میں کوئی شک نہیں کہ اصولی قانون قرآن ہی ہے۔ مگر یہ قانون ہمارے پاس بلاواسطہ نہیں بھیجا گیا بلکہ رسول خدا کے واسطے سے بھیجا گیا ہے۔ اور رسول کو درمیانی واسطہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ وہ اصولی قانون کو اپنی اور اپنی امت کی عملی زندگی میں نافذ کر کے ایک نمونہ پیش کر دیں اور اپنی خداداد بصیرت سے ہمارے لیے وہ طریقے متعین کر دیں جن کے مطابق ہمیں اس اصولی قانون کو اپنی اجتماعی زندگی اور انفرادی برتاؤ میں نافذ کرنا چاہیے۔ پس قرآن کی رُو سے صحیح ضابطہ یہ ہوا کہ پہلے خدا کا بھیجا ہوا قانون ، پھر خدا کے رسول کا بتایا ہوا طریقہ اور پھر ان دونوں کی روشنی میں ہمارے اولیٰ الامر کا اجتہاد۔ "اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان اولیٰ الامر کی جو تم میں سئے ہوں ۔پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات پر نزاع ہو جائے تو اس میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو" النسا آخری جملہ خاص طور پر قابل غور ہے۔ مسائل شرعی میں جب مسلمانوں کے درمیان نزاع اور اختلاف واقع ہو تو حکم ہے کہ خدا اور رسول کی طرف رجوع کر۔ اگر مرجع صرف قرآن مجید ہوتا تو صرف "اللہ کی طرف رجوع کرو" کہنا کافی تھا۔لیکن اس میں رسول کی طرف رجوع کرنے کا بھی کہا گیا ہے جس میں صاف اشارہ ہے کہ قرآن کے بعد رسول کا طریقہ تمہارے لیے رجوع کرنے کی جگہ ہے رسول محض ایک ہرکارہ یا پیغام رساں؟ : مولانا اسلم صاحب قرآن کی چند آیات سے اخذ کرتے ہیں کہ منصب رسالت کا فریضہ صرف پیغام الہیٰ کی تبلیغ ہےئ اور بس مثلاً "تیرے اوپر صرف تبلیغ ہے"(الشوریٰ) "اگر تم نے منہ پھیر لیا تو ہمارے رسول پر صرف کھلی ہوئی تبلیغ ہے اور بس" (التغابن) "تمہارے اوپر پہنچانا ہے اور ہمارے اوپر حساب لینا" (رعد) یہاں مصنف نے آیات کے سیاق و سباق اور فحوائے کلام کو نظر انداز کر کے رسول اللہ کی حیثیت کو اس انداز میں بیان کیا ہے کہ گویا وہ محض ایک نامہ بر یا نعوذ باللہ اللہ کی ڈاک کا ہرکارہ ہے۔ لیکن اگر وہ ان جملوں کو ان عبارات کے سیاق و سباق سے ملا کر پڑھتے جن میں یہ وارد ہوئے ہیں تو انہیں خود معلوم ہو جاتا کہ دراصل جو کُچھ کہا گیا ہے ، یہ نبی پر ایمان لانے والوں سے نہیں بلکہ ان کا انکار کرنے والوں سے تعلق رکھتا ہےیہ اور ان جیسی کئی اور آیات واضط طور پر رسول کو تسلی دے رہی ہیں کہ تمہارے اوپر ان تک حق کو پہنچا دینا ہے ، پس اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو تم دل گرفتہ مت ہو جاؤ۔ ہم انکا حساب لیں گے (تفصیل مختصر کر رہا ہوں مراسلہ کو چھوٹا کرنے کے لیے) رہے وہ لوگ جو اسلام قبول کر لیں اور امت مسلمہ میں داخل ہو جائیں ، تو انکے لیے رسول کی حیثیت محض پیغام پہنچا دینے والے کی نہیں ہے۔ بلکہ رسول ان کے لیے معلم اور مربی بھی ہے، اسلامی زندگی کا نمونہ بھی ہے اور ایسا مایر بھی ہے جس کی اطاعت ہر زمانے میں بے چوں چراں ی جانی چاہیے۔ معلم کی حیثیت سے رسول کا کام یہ ہے کہ پیٍام الہیٰ کی تعلیمات اور اس کے قوانین کی تشریح اور توضیح کرے (و یعلمھہم الکتاب و الحکمۃ)، مربی ہونے کی حیثیت سے اس کا کام یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات اور قوانین کے مطابق مسلمانوں کی تربیت کرے اور ان کی زندگیاں اسی سانچے میں ڈھالے (و یزکیھم) اور نمونہ ہونے کی حیثیت سے اس کا کام یہ ہے کہ خؤد قرآنی تعلیم کا عملی مجسمہ بن کر دکھائے تاکہ اس کی زندگی اس زندگی کا ٹھیک ٹھیک تصویر بن جائے جو کتاب اللہ کے مقصود کے مطابق ایک مسلمان کی زندگی ہونی چاہئیے (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ) اور اس کے ساتھ ہی رسول کی حیثیت مسلمانوں کے امیر کی بھی ہے، ایسا امیر جس کے حکم کو بے چوں چراں ماننا وویسا ہی فرض ہے جیسا قرآن کی ایات کو ماننا (پس اگر تمہارے درمیان کسی بات کا تنازع ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اور جو رسول کی اطاعت کرے گا پس وہ اللہ کی اطاعت کرے گا۔النسا) بلکہ رسول تو ایسا امیر ہے جو قیامت تک امت مسلمہ کا امیر ہے جس کے احکام مسلمانوں کے لیے ہر زمانہ اور ہر حال میں مرجع ہیں۔ اس لیے کہ قرآن کی جتنی بھی اوپر آیات ہیں ان میں سے کوئی بھی زمانہ کے ساتھ مقید نہیں ہے۔ چناچہ قرآن کی چند آیات کے سیاق و سباق کے بغیر غلط مفہوم کے کر رسول اللہ کا کام صرف تبلیغ تک محدود کرنا غلطی ہے۔ رسول اللہ کی مبلغانہ حیثیت صرف اس وقت تک ہے جب تک لوگ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہوں۔ اور صرف ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے رسول کی تعلیمات کا ابھی قبول نہ کیا ہو۔ رہے وہ لوگ جو اسلام قبول کرکے امت مسلمہ میں داخل ہو جائیں تو ان کے لیے رسول کی حیثیت محض مبلٍغ کی نہیں بلکہ وہ انکا لیڈر ہے، فرماروا ہے، مقنن ہے، معلم ہے، مربی اور واجب التقلید نمونہ ہے۔ جب کسی سے رسول کو محض مبلغ کی حیثیت دینے کی غلطی ہو جاتی ہے تو یہیں سے دوسری غلطی کا صدور شروع ہو جاتا ہے۔ ان کو یہ دشواری پیش آ جاتی ہے کہ قرآن میں جو رسول کو مسلمانوں کے لیے معلم اور مربی اور نمونہ قرار دیا گیا ہے اس کا کیا مفہوم معین کیا جائے۔ آخر کار انہوں نے رسول کی ان سب حیثیات کو تبلیغ کے ضمن میں ہی شامل کر دیا۔ اور یہ نتیجہ نکال لیا کہ مبلغانہ حیثیت کے علاوہ آں حضرت کی زندگی کے اور جتنے پہلو ہیں وہ سب آپ کی شخصی یا پرائیویٹ حیثیت سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ کہ رسول اللہ جو کُچھ کلام کرتے تھے وہ سب کا سب وحی نہیں تھا۔ (اس بارے میں الگ مراسلے میں نبی کی شخصی حیثیت پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی) اور پھر یہیں سے تیسری غلطی کا صدور ہوتا ہے کہ رسول اللہ کی حیثیت ہمارے لیے دائمی امیر کی نہیں ہے بلکہ ان کے جو بھی فیصلے تھے وہ محض اُس وقت کے لیے تھے اور آج ہمارے لیے وہ کسی قسم کی کوئی نظر نہیں ہیں۔ (اس سلسلے میں الگ سے مراسلہ پیش کیا جائے گا جس میں رسول کی بطور حاکم حیثیت پر ڈسکشن پیش کی جائے گی) ماخذ:تفہیمات: ابوالاعلیٰ مودودی Last edited by حیدر; 19-11-11 at 11:16 AM. |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,538
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہترین بہترین
۔ شکریہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (12-12-11), بنت حوا (20-11-11) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
انسانیت ہدایت کی تلاش میں :تغیر احوال و تغیر احکام اور سنت |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کوشش, گھر, پاک, لکھے, مکمل, موت, معلوم, اللہ, انداز, اسلامی, تعلیم, جیسی, حل, حدیث, حضرات, سال, شخص, عقل, عقلی, عقائد, علمی, غلط, صلاحیتوں, صحت, صدی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| فتنہ قادیانیت و مرزائیت کے خلاف حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب کی تصنیف سیف چشتیائی | ملک اظہر | کتاب گھر | 10 | 25-01-12 09:03 PM |
| کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 3 | 21-12-10 04:54 PM |
| عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک | جاویداسد | خبریں | 1 | 08-08-10 09:46 PM |
| آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ | Zullu230 | سیاست | 6 | 29-06-10 12:18 AM |
| جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 08-12-07 11:19 AM |