آج کی جدید علمی دنیا میں یہ بات معروف ہے کہ سن 58 ھجری سے پہلے تحریر کردہ حدیث کی ایک کتاب بعنوان "الصحیفہ الصحیحہ ہمام بن منبہ عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ" برلن اور دمشق کی لائیبریری سے دستیاب ہوئی ہے جس کا اردو ترجمہ بھی ابھی حال میں منظر عام پر آیا ہے۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: [حیدرآباد دکن] 9 فروری 1908ء ، انتقال : [امریکہ] 17 دسمبر 2002ء) معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔ آپ کو 1985ء میں پاکستان نے اپنا اعلیٰ ترین شہری اعزاز "ہلال امتیاز" سے نوازا تھا۔ اور ڈاکٹر صاحب نے اس اعزاز کے ساتھ ملنے والی رقم (ایک کروڑ روپے) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے "ادارۂ تحقیقات اسلامی" کو عطیہ کے طور پر عنایت کر دی تھی۔ اس جامعہ کی لائیبریری ڈاکٹر حمید اللہ کے نام سے موسوم ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت ہمام ابن منبہ کے صحیفے کی دریافت اور اس کی تدوین کا کام ڈاکٹر حمید اللہ کا بہت بڑا کارنامہ تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ فرانسیسی زبان میں ان کے ترجمہ قرآن کی اہمیت بھی مسلم ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ کے دو مخطوطے ڈاکٹر حمید اللہ کو دستیاب ہوئے تھے، جن میں بال برابر بھی فرق نہ تھا۔ ایک دمشق میں تھا اور دوسرا برلن میں۔ اس صحیفے میں کل 138 احادیث موجود ہیں۔
مولانا عبدالرحمٰن کیلانی (علیہ الرحمۃ) لکھتے ہیں :
اقتباس:
صحیفہ ہمام بن منبہ ، جسے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے حال ہی میں شائع کیا ہے ، یہ ہمام بن منبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے یہ صحیفہ (جس میں 138 حدیثیں درج ہیں) لکھ کر اپنے استاد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (وفات:58ھ) پر پیش کر کے اس کی تصحیح و تصویب کرائی تھی۔ گویا یہ صحیفہ سن 58 ھجری سے بہرحال پہلے ہی ضبط تحریر میں لایا گیا تھا۔ اس کی ایک قلمی نسخہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے سن 1933 عیسوی میں برلن کی کسی لائیبریری سے ڈھونڈ نکالا۔ اور دوسرا مخطوطہ دمشق کی کسی لائیبریری سے۔ پھر ان دونوں نسخوں کا تقابل کر کے 1955ء میں حیدرآباد دکن سے شائع کیا۔ اور جہاں کہیں الفاظ کا اختلاف ہے ، اسے بھی واضح کر دیا۔
ہمیں یہ دیکھ کر کمال حیرت ہوتی ہے کہ یہ صحیفہ پورے کا پورا مسند احمد بن حنبل میں مندرج ہے۔ اور بعینہ اسی طرح درج ہے جس طرح قلمی نسخوں میں ہے ماسوائے چند لفظی اختلافات کے ، جن کا ذکر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں تک زبانی روایات کی وجہ سے معنوی تحریف کے امکان کا تعلق ہے ، اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اب دیکھئے امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ) کا سن 240 ھجری ہے۔ بعینہ صحیفہ مذکور اور مسند احمد بن حنبل میں تقریباً 200 سال کا عرصہ حائل ہے۔ اور دو سو سال کے عرصے میں صحیفہ ہمام بن منبہ کی روایات زیادہ تر زبانی روایات کے ذریعے ہی امام موصوف تک منتقل ہوتی رہیں۔ اب دونوں تحریروں میں کمال یکسانیت کا ہونا کیا اس بات کا واضح ثبوت نہیں کہ زبانی روایات کا سلسلہ مکمل طور پر قابل اعتماد تھا۔
صحیفہ کی اشاعت اور تقابل کے بعد دو باتوں میں ایک بات بہرحال تسلیم کرنا پڑتی ہے :
1 : زبانی روایات ، خواہ ان پر دو سو سال گزر چکے ہوں ، قابل اعتماد ہو سکتی ہیں۔
2 : یہ کہ کتابتِ حدیث کا سلسلہ کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوا۔
(بحوالہ : آئینۂ پرویزیت ، ص:533-534)
|
جامعہ الازہر کے معروف عالم ڈاکٹر رفعت فوزی عبدالمطلب اس مطبوعہ صحیفے کی تحقیق ، تخریج اور شرح کا کام کر رہے تھے اور وہ آدھا کام مکمل کر چکے تھے ، حسن اتفاق ایسا ہوا کہ "دارالکتب المصریہ" سے ایک اور مخطوطہ ان کے ہاتھ لگ گیا جو سن 557 ھجری کا مکتوب تھا۔
اس مخطوطے میں ان دونوں کے مقابلے میں ایک حدیث زائد ہے اور یہ زائد حدیث مسند احمد میں شامل صحیفے کی احادیث میں بھی موجود ہے۔ اب ڈاکٹر رفعت فوزی نے اسی مصری مخطوطے کو بنیاد بنا کر کام مکمل کیا۔ اسے "المکتبہ الخانجی" نے پہلی مرتبہ ستمبر 1985ء (بمطابق محرم الحرام 1406ھ) میں قاہرہ سے شائع کیا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ کی 139 احادیث کی تفصیل کچھ یوں ہے :
61 - عقائد و ایمانیات
46 - عبادات
9 - معاملات
17 - اخلاقیات
9 - متفرقات
12 - احادیث قدسیہ
***
صحیفہ ہمام بن منبہ (عربی) ، ویکی سورس پر :
الصحيفة الصحيحة - همام بن منبه
///
عربی پی۔ڈی۔ایف (12 میگابائٹس) ، المحقق: رفعت فوزي عبد المطلب -
ڈاؤن لوڈ
///
صحیفہ ہمام بن منبہ (اردو ترجمہ) ، کتاب و سنت لائیبریری پر : ۔۔۔۔۔۔۔
اردو ترجمہ و شرح : حافظ عبداللہ شمیم
صفحات : 490
پی۔ڈی۔ایف فائل سائز : قریب 11 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک :
صحیفہ ہمام بن منبہ