واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے بارے اختلاف اور اسکی حقیقت

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-09-11, 10:36 PM   #1
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے بارے اختلاف اور اسکی حقیقت
فیصل ناصر فیصل ناصر آف لائن ہے 01-09-11, 10:36 PM

محترم رفیق طاہر صاحب کے کہنے پر ایک تھریڈ میں موجود سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے بارے موجود شبہات کی بحث کو ایک الگ تھریڈ کی شکل میں یہاں پیش کررہا ہوں


اس سلسلے میں فاروق سرور خان نے مندرجہ ذیل دلائل پیش کئے ہیں
یہ مراسلہ چونکہ کسی اور موضوع میں پیش کیا گیا تھا اس لئے ہوسکتا ہے کے مراسلہ کے کچھ مندرجات ہمارے عنوان کئے گئے موضوع سے الگ ہو
لیکن موجودہ تھریڈ میں توجہ "سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے بارے اختلاف اور اسکی حقیقت " پر ہی مرتکز رہے گی

شکریہ !


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا کی شادی کے وقت عمر میں‌اختلاف کا مشاہدہ کرتے ہیں :
کتب روایات میں آپ کو حضرت عائشہ (ر) کی شادی کے وقت عمر کی روایات ملتی ہیں۔ آئیے ان کا معائنہ کرتے ہیں۔ اس معائنہ کی وجہ "بیانات" اور "حساب کتاب " کا اختلاف ہے ۔

حضرت عائشہ (ر)‌ کے نکاح‌کے بارے میں زیادہ تر روایات ، ہشام ابن عروہ سے منسوب ہیں۔ یہ صاحب فرماتے ہیں‌کہ حضرت عائشہ کا نکاح سات سال کی عمر میں‌ہوا اور ان کا وداع 9 سال کی عمر میں۔ (حوالہ مختلف کتب روایات)

جناب ابن حجر العسقلانی لکھتے ہیں (‌تہذیب التہذیب، صفحہ 50 ، جلد 11)


اسی صفحے پر لکھتے ہیں‌:
مالك بن أنس (ر) کا ہشام ابن عروہ (ر) کی ا ن روایات پر اعتراض‌ ہے جو عراقیوں نے ان سے روایت کیں۔

لیکن ہشام ابن عروہ اپنے والد محترم کی "چین" سے ایک معتبر راوی ہیں۔۔ کس کی بات مانیں‌گے آپِ؟

اہم تاریخیں:
610 ء سے پہلے --- دور جاہلیت
610 ء --- اولین آیات کا نزول
610 ء --- جناب ابوبکر (ر)‌ کا اسلام قبول کرنا
613 ء -- رسول اکرم کا آزادانہ ترویج اسلام
620 ء -- حضرت عائشہ سے نکاح
622 ء --- ہجرت
623 یا 624 ء --- حضرت عائشہ کا وداع

ابن طبری ، ہشام ابن عروہ (ر)‌، ابن حنبل (ر) اور ابن سعد (ر)‌سے منسوب کرتے ہیں‌کہ :‌ حضرت عائشہ کا نکاح سات سال کی عمر میں‌ہوا اور وداع نو سال کی عمر میں‌"

ابن طبری تاریخ‌الامم والمملوک (‌جلد 4، ص 50، مکتبہ دار لفکر، بیروت 1979) میں‌لکھتے ہیں‌: جناب ابو بکر (ر)‌کی سب اولادیں احیاء اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں پیدا ہوئی تھیں۔

ابن طبری کے یہ بیانات ان کتب سے منسوب ہیں‌ یا ان روایات سے منسوب ہیں‌جو جاری و ساری رہی ہیں اور ان تک پہنچی ہیں۔ تھوڑا سا حساب کرتے ہیں۔

620 ء‌ --- حضرت عائشہ (ر)‌کا نکاح --- بعمر 7 سال گویا پیدائش 613 ء‌ میں‌؟؟؟؟
جی؟؟؟
جبکہ دور جاہلیت 610 عیسوی میں ختم ہوا ۔۔ تو یہ کیسے ہوا کہ حضرت عائشہ (ر)‌ دور جاہلیت میں‌پیدا ہوئیں‌ جبکہ پہلی وحی 610 میں‌آئی تو پھر یہ 613 میں‌کیسے پیدا ہوئیں؟ اگر 610 میں‌بھی پیدا ہوئیں‌ تو عمر بنتی ہے 10 سال ، یہ کیسا حساب کتاب ہے ؟ یہ ناقابل قبول تبدیلی کب آئی؟ ابن طبری تک کیا سب کچھ درست پہنچا؟؟؟‌

ابن طبری کا کون سا بیان درست ہے؟‌ اس بیان کے پیچھے کونسی روایات درست ہیں ؟ کیا ابن طبری قابل بھروسہ ہے یا اس تک پہنچنے والی روایات قابل بھروسہ ہیں ؟ ابن طبری تک کتب روایات کی کونسی جلدیں پہنچی تھیں؟

ابن حجر الاصابہ فی تمیز الصحابہ، جلد 5، صفحہ 377، طبع شدہ مکتبہ الریاض الحدیثہ، الریاض، 1978 ، مختلف کتب روایات سے روایت کرتے ہیں۔
حضرت فاطمہ (ر) کعبہ کی دوبارہ تعمیر کے وقت پیدا ہوئی تھیں‌جبکہ نبی اکرم صلعم کی عمر مبارک 35 سال تھی۔ حضرت فاطمہ (ر)‌ ، حضرت عائشہ (ر)‌سے پانچ سال بڑی تھیں۔

سوال: اگر یہ درست ہے کہ حضرت عائشہ (ر)‌ کی پیدایش کے وقت نبی اکرم کی عمر مبارک 40 سال تھی اور نکاح‌کے وقت 52 سال تو یہ فرق تو 12 سال نکلا۔

جن روایات پر ان حضرات نے بھروسہ کیا وہ روایات ، کتب روایات کا حصہ ہیں‌لیکن بیانات کا حساب کتاب کچھ اور کہتا ہے ؟ کیوں
تو ان میں‌سے کون سچا ہے ؟‌
12 سال عمر والا؟ یا
7 سال عمر والا ؟ یا
10 سال عمر والا؟

کیا ابن حنبل ، ابن طبری اور ابن حجر ایک دوسرے کی تردیدکررہے ہیں ؟‌ یا جو روایات ان تک پہنچی ہیں‌ ان کی صحت درست نہیں‌ہے ۔ کیا وجہ ہے کہ اتنے اہم معاملے پر "رٹی"‌ہوئی روایات ، دل میں یاد روایات میں عمروں‌کا اتنا فرق؟؟؟

جب رسول اکرم کی زوجہ محترمہ کی عمر کا حساب نہیں‌ رکھ پائیں‌یہ روایات تو باقی کیا درست ہے ؟

جب میں‌کہتا ہوں‌کے متن میں‌فرق ہے تو آپ دیکھتے ہیں‌لفظوں‌ اور حرفوں‌کو۔ مافی الضمیر کو نہیں‌۔

مزید دیکھئے:
1۔ عبدالرحمان ابن ابی زناد (ر)‌ کے مطابق حضرت اسماء (ر)، حضرت عائشہ سے 10 سال بڑی تھیں‌۔

2۔ البدایۃ والنہایۃ ۔۔ ابن کثیر۔۔۔ جلد 8، صفحہ 361، مکتبہ دارلفکر، 1933)
حضرت اسماء (ر) ، حضرت عائشہ (ر) سے 10 سال بڑی تھیں۔

3۔ البدایۃ والنہایۃ ۔۔ ابن کثیر۔۔۔ جلد 8، صفحہ 372، مکتبہ دارلفکر، 1933)
حضرت اسماء نے اپنے بیٹے کو قتل ہوتے 73 ھ میں‌ دیکھا ، 5 دن بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا ، کچھ راوی 10 ، 20 یا 100 دن بعد کا لکھتے ہیں ۔۔۔ وفات کے وقت حضرت اسماء‌کی عمر 100 سال تھی۔

تقریب التہذیب، ابن حجر العسقلانی۔ ص 654، باب فی النساء‌ الحرف الالیف، لکھنؤ)
حضرت اسماء کا انتقال 73 یا 74 ھ میں‌ 100 سال کی عمر میں‌ہوا۔

ان تمام تاریخ‌دانوں‌ تک یہ "دلوں میں ازبر"‌ روایات پہنچیں۔ ان سب کا متن ایک ہے کہ حضرت اسماء حضرت عائشہ سے 10 سال بڑی تھیں‌ اور ان کا انتقال 73 یا 74 ہجری میں‌ 100 سال کی عمر میں‌ہوا۔ یعنی ان کی عمر کوئی 27 یا 28 سال تھی جب ہجرت واقع ہوئی۔ گویا حضرت عائشہ (ر)‌کی عمر کوئی 17 یا 18 سال تھی جب ہجرت واقع ہوئی۔ گویا نکاح کے وقت حضرت عائشہ (ر)کی عمر 15 یا 16 سال تھی۔۔

تو اب کو ن سچا ہے؟
12 سال عمر والا؟ یا پھر
7 سال عمر والا ؟ یا پھر
10 سال عمر والا؟ یا پھر
15 یا 16 سال والا؟؟؟؟؟

کیا ابن حجر، ابن طبری، ابن کثیر تک ابی زناد (ر)‌سے منسوب درست روایات پہنچی تھیں ؟؟؟؟؟ خود ابن حجر کے بیان کے مطابق ایک جگہ ان کی عمر 12 سال ہے اور دوسری جگہ ان کی عمر 15 یا 16 سال ہے۔ ابن حجر کا کونسا بیان درست ہے ۔ کیا ابن حجر ایک مستند مصنف ہے ؟‌

کیا ابن حجر، ابن طبری، ابن کثیر تک تما م روایات "دلوں میں‌ ازبر "‌ پہنچی تھیں؟ کیا ان کی ترتیب و تصنیف شدہ کتب قابل اعتبار ہیں؟ اگر یہ کتب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عمر کا حساب درست فراہم نہیں‌کرتی ہیں‌، تو پھر کیا درست ہے ؟؟؟ ان کتب کی پرکھ کی کسوٹی کیا ہے ؟


صحیح‌مسلم کی روایات:
کتاب الجہاد و السیار:
حضرت عائشہ جنگ بدر کے بارے میں بتا رہی ہیں‌۔
جب ہم شجرہ کے مقام پر پہنچے ۔۔۔ گویا ، حضرت عائشہ (ر) جنگ بدر میں‌ساتھ ہیں۔

کتاب الجہاد و السیار ۔۔۔ باب غزوہ النساء
حضرت انس (ر)‌ سے روایت ہے کہ احد کے دن صحابہ رسول اکرم کے گرد نہیں‌تھے ۔ اس وقت میں‌نے دیکھا کہ عائشہ اور ام السلیم نے اپنے پائنچے اوپر کئے ہوئے تھے

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ (ر)‌ جنگ بدر اور جنگ احد میں موجود تھیں۔

اب بخاری کی اس روایت کو دیکھئے۔
ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے ان کو جنگ احد میں‌شامل ہونے نہیں‌ دیا جب وہ 14 سال کے تھے لیکن جنگ خندق میں‌جب وہ 15 سال کے تھے، رسول اللہ نے شمولیت کی اجازت دے دی۔

گویا جنگ بدر اور جنگ احد کے دوران حضرت عائشہ کم از کم 15 سال کی تھیں‌۔ جنگ بدر میں حضرت عائشہ مدد کرنے گئی تھیں‌یا مزید ایک ذمہ داری تھیں؟

تو حضرت عائشہ کی عمر کے بارے میں کونسی روایات درست ہیں؟ علم الرجال، علم الحدیث ، دلوں میں‌ازبر روایات کیوں‌کر حساب کتاب میں فیل ہورہی ہیں ؟؟؟

ان مصنفین تک کیوں‌ درست روایات نہیں‌ پہنچی ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ رسول اکرم کے حضرت عائشہ سے نکاح کے وقت درست عمر تک کا پتہ نہیں؟ یہ مصنفین ناقابل اعتبار ہیں‌یا پھر ان تک روایات پہنچا نے والے راوی ناقابل اعتبار ہیں ؟؟؟

حضرت عائشہ کی عمر اور سورۃ‌القمر
کتب روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ ہجرت سے 8 سال پہلے پیدا ہوئی تھیں۔
صحیح‌البخاری، کتاب التفسیر، کے مطابق،
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ سورۃ‌القمر کے نزول کے وقت، میں‌ایک نوجوان لڑکی (‌جاریہ)‌تھی

جب کہ سورۃ‌القمر ، ہجرت سے 8 سال پہلے ، 614 ہجری میں‌ نازل ہوئی تھی۔ گویا حضرت عائشہ ، سورۃ‌ القمر کے نزول کے وقت ایک نوزائیدہ بچی (سبایہ)تھیں لیکن اسی کتاب کے مطابق یہ جاریہ (‌نوجوان لڑکی) بھی تھیں اور ان کو سورۃ‌القمر کا نزول بھی یاد ہے ، جبکہ جاریہ ایک 6 سے 13 سالہ لڑکی کو کہتے ہیں۔۔۔

روایات کے حساب کتاب میں‌ایسا فرق کیوں؟

میرے پاس اس کا صرف ایک جواب ہے ۔
قرآن ان تمام کتب روایات کی کسوٹی ہے۔



والسلام
نوٹ مراسلہ کو موضوع کی مناسبت سے کچھ ایڈٹ کیا گیا ہے
اصل مراسلہ یہاں ہے
تیسرا قدم :"احادیث کا ہماری زندگی میں مقام"
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

 
فیصل ناصر's Avatar
فیصل ناصر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1374
11 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
gazali (02-09-11), shafresha (01-09-11), skjatala (06-09-11), کنعان (02-09-11), پاکستانی (01-09-11), محمدخلیل (01-09-11), مرزا عامر (20-09-11), حیدر (02-09-11), حیدر Rehan (03-09-11), شھزادباجوہ (02-09-11), عبداللہ آدم (02-09-11)
پرانا 01-09-11, 10:54 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,976
کمائي: 48,889
شکریہ: 7,288
5,957 مراسلہ میں 15,119 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی ناصر بہت اچھا کام کیا ہے شکریہ۔


مرحبا یہ جلوہ زیبائے بامِ عائشہ
ہے ہلالِ آمنہ ، ماہِ تمامِ عائشہ

عائشہ کے اس شرف کو بھی ذرا ملحوظ رکھ
اپنے منہ سے مصطفی لیتے تھے نامِ عائشہ

آ نہ جائے سن کے زہرا کی طبیعت پر ملال
لی جیو مت بے ادب لہجے میں نامِ عائشہ

جب نکیرین آئیں گے کہہ دوں گا اُن سے قبر میں
مجھ سے کچھ مت پوچھیے ، میں ہوں غلامِ عائشہ

اپنا اندر صاف رکھنے کے لئے ہر میل سے
سانس کی تسبیح پر لیتا ہوں نامِ عائشہ

ذہن میں لا کر تصور عظمتِ بوبکر کا
ایک نعرہ اے علی مستو! بنامِ عائشہ
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (02-09-11), احمد نذیر (02-09-11), حیدر (02-09-11), شھزادباجوہ (02-09-11)
پرانا 01-09-11, 11:06 PM   #3
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے قبل بہتر ہوتا ہے کہ اس موضوع سے متعلق کچھ اصول طے کر لیے جائیں , تاکہ بحث کے دوران ان اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے اور اسی پر ساری بحث کا مدار ہو ۔
موصوف نے بہت سے اقوال پیش کیے ہیں کچھ کتب احادیث سے اور کچھ کتب تاریخ سے , لیکن ان میں سے صحیح تو بہر حال کوئی ایک ہی قول ہے ۔
لہذا , صحت وسقم کو پرکھنے کے لیے کوئی اصول اور قاعدہ ہونا چاہیے جس پر ان روایات کو ہم پرکھ سکیں خواہ وہ کتب احادیث میں ہوں یا کتب تاریخ میں ۔
پھر اس معیار اور قاعدہ پر جو بات پوری اترے اسے قبول کیا جائے اور جو پوری نہ اترے اسے رد کر دیا جائے ۔
کیونکہ
اس دنیا میں توحید کے قائلین بھی ہیں اور تثلیث کے بھی اور کئی معبودوں کو ماننے والے بھی , لیکن کوئی ذی شعور یہ نہیں کہہ سکتا چونکہ ان تمام لوگوں کی باتوں میں اختلاف ہے لہذا سارے ہی جھوٹے ہیں ۔ بلکہ دانشمند انسان تحقیق کرتا ہے اور پرکھتا ہے کہ ان سب میں سے سچا کون ہے ۔
یہی حال مذکورہ بالا روایات کا ہے , کہ مختلف روایات مختلف باتیں بیان کر رہی ہیں اب دیکھنا ہے کہ ان میں سے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے , تاکہ کھرا اور کھوٹا الگ الگ کیا جاسکے ۔
اور صحت وسقم کو پرکھنے کے لیے انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کی بجائے اللہ تعالى کے بنائے ہوئے قانون کو اپنایا جائے گا تو نتیجہ حاصل کرنا ممکن ہوگا وگرنہ ناممکن ۔
اگر یہاں تک محترم فیصل صاحب متفق ہیں تو میں بات کو آگے بڑھاتا ہوں ۔
__________________
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر
جامعہ دار الحدیث محمدیہ
عام خاص باغ ملتان
رفیق طاہر آف لائن ہے  
14 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا
gazali (02-09-11), skjatala (06-09-11), فیصل ناصر (01-09-11), فاروق سرورخان (02-09-11), کنعان (02-09-11), پاکستانی (01-09-11), ھارون اعظم (02-09-11), احمد نذیر (02-09-11), حیدر (02-09-11), شھزادباجوہ (02-09-11), شمشاد احمد (02-09-11), عُکاشہ (01-09-11), عبداللہ آدم (02-09-11), عبداللہ حیدر (02-09-11)
پرانا 01-09-11, 11:17 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,976
کمائي: 48,889
شکریہ: 7,288
5,957 مراسلہ میں 15,119 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرے پاس علم نہیں‌ہے لیکن اتنا کہونگا کہ کہ حضرت عائشہ سلام اللہ علیہ۔ کی شادی کی عمر اتنی تھی جتنی کہ ہونی چاہیے۔
محمدخلیل آن لائن ہے  
10 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
skjatala (06-09-11), فیصل ناصر (01-09-11), فاروق سرورخان (02-09-11), کنعان (02-09-11), مرزا عامر (20-09-11), احمد نذیر (02-09-11), حیدر (02-09-11), شھزادباجوہ (02-09-11), شمشاد احمد (02-09-11), عبداللہ آدم (06-09-11)
پرانا 01-09-11, 11:32 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
میرے پاس علم نہیں‌ہے لیکن اتنا کہونگا کہ کہ حضرت عائشہ سلام اللہ علیہ۔ کی شادی کی عمر اتنی تھی جتنی کہ ہونی چاہیے۔
إن شاء اللہ چند ہی پوسٹوں کے بعد آپکے پاس بھی علم آجائے گا کہ انکی عمر کتنی تھی
رفیق طاہر آف لائن ہے  
9 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-09-11), فاروق سرورخان (02-09-11), کنعان (02-09-11), محمد یاسرعلی (02-09-11), احمد نذیر (02-09-11), حیدر (02-09-11), شمشاد احمد (02-09-11), عُکاشہ (03-09-11), عبداللہ آدم (06-09-11)
پرانا 02-09-11, 12:24 AM   #6
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,664
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,142 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

امید ہے رفیق بھائی آگے چل کے آپ سے مذید سیکھنے کا موقعہ ملے گیا ناصر بھائی اور آپ نے اچھے موضوع کا انتخاب کیا ہے اب کیونکہ اس بارے ہمارا علم نہیں اس لیے کسی قسم کی راے نہیں دیتے امید ہے بحث کے اختتام تک ہمارے علم میں بھی اس بارے کافی علم ہو چکا ہو گا
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب
https://www.facebook.com/groups/pak.net

دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔
محمد یاسرعلی آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-09-11), فاروق سرورخان (02-09-11), کنعان (02-09-11), رفیق طاہر (02-09-11), عُکاشہ (03-09-11)
پرانا 02-09-11, 12:40 AM   #7
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ جناب
بحث کے کسی منطقی نتیجہ پر پہنچنے سے قبل کوئی بھی معزز رکن اظہار خیال سے گریز کرے تا کہ بامقصد پوسٹیں ہی قاری کو پڑھنے کو ملیں اور جب بحث مکمل ہو چکی ہو تو اسکے بعد اپنی طبع آزمائی سے کسی کو ممانعت نہیں
رفیق طاہر آف لائن ہے  
8 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-09-11), فاروق سرورخان (02-09-11), کنعان (02-09-11), محمد یاسرعلی (02-09-11), حیدر (02-09-11), شھزادباجوہ (02-09-11), شمشاد احمد (02-09-11), عُکاشہ (03-09-11)
پرانا 02-09-11, 10:55 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,614
کمائي: 31,179
شکریہ: 7,118
2,944 مراسلہ میں 8,724 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادر محترم، اگر بتادیجئے کہ عمر کتنی تھی اور کیوں تو بہت نوازش ہوگی ۔ بات سمجھنے میں‌ آسانی رہے گی۔ روایت کی بنیاد پر تواریخ‌ اور انسانی تواریخ‌ کی بنیاد پر روایات ۔۔۔ یقیناً ان کتب روایات میں کچھ نا کچھ درست نہیں‌ہے ۔ لیکن یہ درست ہے کہ سب کچھ غلط نہیں۔ یہاں آپ سے اتفاق ہے۔

وہ کسوٹی کیا ہے ؟؟؟‌ وہ کسوٹی ہے فرمان الہی۔ قرآن۔ لہذا اگر ایک واقعہ قرآن کے اصولوں پر پورا اترتا ہے تو کوئی وجہ نہیں‌کہ اس کو رد کیا جائے ۔۔۔ اگر فرمان الہی کے خلاف ہو تو کیا وجہ ہے کہ اس کو تنقیدی نگاہ سے نا دیکھا جائے۔۔

قرآن حکیم ۔۔۔ وہ اصول ضرور بتاتا ہے جو شادی کی عمر کے لئے ضروری ہیں۔
تو اس سے فرق کیا پڑتا ہے؟
قرآن کے بعد آنے والی کسی کامل کتاب پر ایمان کا حکم کس نے دیا؟ کہ اس میں‌جو کچھ ہے مان لو؟ اس سے یہ فرق پڑتا ہے کہ فرمان الہی کے مخالف روایات صرف روایات رہ جاتی ہیں۔ دنیا کو کوئی علم ایسا نہیں‌جو 7، 9 ، 10، 12، 15 ، 17 کو ایک دوسرے کے مساوی ثابت کردے۔۔ علہم الرجال ، علم الاسناد ، علم الحدیث ، کوئی جادو نہیں‌ جو بیانات سے نکلنے والے حساب کتاب کو یکساں‌ کردے۔۔۔۔

آپ بھی معلوما ت فراہم کیجئے تاکہ ہم جیسے معمولی طالب علموں کے علم میں‌ سب کے ساتھ مناسب اضافہ ہو۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (02-09-11)
پرانا 02-09-11, 03:50 PM   #9
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق سرور صاحب !
اس موضوع پر آپ سے بحث نہیں ہے , آپ در اندازی نہ فرمائیں !
اسی موضوع پر ہم آپ سے بھی بحث کریں گے لیکن پہلے جو آپ ایک بحث چھیڑ کے بیٹھے ہیں اسکے مکمل ہو جانے کے بعد۔
فی الحال فیصل ناصر صاحب کو اس موضوع پر طبع آزمائی فرما لینے دیں ۔
ون بائے ون بحث ہو تو نتیجہ خیز ہوتی ہے , وگرنہ کھچڑی پک جاتی ہے ۔
میں فیصل ناصر صاحب کے جواب کا منتظر ہوں ۔
رفیق طاہر آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (03-09-11), ھارون اعظم (02-09-11), شھزادباجوہ (02-09-11), عُکاشہ (03-09-11)
پرانا 02-09-11, 04:12 PM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بغیر کسی معذرت کے ۔۔۔۔ یہ تو مناظرہ جُوئی والا انداز ہے۔ میں احادیث سے متعلق ایسے تمام تھریڈز کو اپنی نگرانی میں لیتا ہوں۔ اور اس تھریڈ پر بھی حجت حدیث والے قوانین لاگو کرتا ہوں۔

اگر کسی نے اس موضؤع پر اپنے دلائل پیش کرنے ہیں تو بہتر ۔۔۔ورنہ میں اس تھریڈ سے متعلق فیصلہ لینے کا اختیار رکھتا ہوں۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ
حیدر آن لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (06-09-11), فیصل ناصر (02-09-11), منتظمین (02-09-11), احمد نذیر (02-09-11), رضی (03-09-11), عبداللہ آدم (06-09-11)
پرانا 02-09-11, 05:34 PM   #11
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,181
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ حیدر بھائی !

رفیق طاہر صاحب سے عرض ہے کے میں اس تھریڈ میں فریق نہیں بلکہ صرف ایک طالب علم ہوں
چونکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے بارے مختلف دلائل اور اعتراضات فاروق سرور خان نے ہی پیش کئے ہیں اس لئے بحث میں کلیدی کردار بھی فاروق سرور خان کا ہی ہے

مجھے امید ہے آپ میرا مدعا سمجھ گئے ہونگے
بہتر تو یہی ہے کے ہم مناظرہ جوئی والے انداز کے بجائے مناسب انداز میں سب کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیں
اور اگر آپ سمجھتے ہیں ون بائی ون بحث ہی نتیجہ خیز ہوگی تو آپ تو فاروق سرور خان صاحب کے مراسلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے جوابات اور دلائل پیش کرتے رہیں اور تھریڈ میں موجود دیگر مراسلوں کو نظر انداز کردیں

اللہ کی ذات سے امید ہے کے ہم جلد کسی بہتر نتیجے تک پہنچیں گے
فیصل ناصر آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (06-09-11), کنعان (03-09-11), مرزا عامر (20-09-11), حیدر (02-09-11), شھزادباجوہ (02-09-11), عبداللہ آدم (06-09-11)
پرانا 02-09-11, 05:55 PM   #12
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یعنی محترم فیصل ناصر صاحب مناقشہ میں حصہ نہیں لیں گے ۔
بہت خوب !
تو جناب فاروق صاحب ہی کے سوالوں کا جواب مجھے دینا ہے ناں بس !
یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے إن شاء اللہ
در اصل , جب ایک مکالمہ میں بہت سے لوگ سوال اٹھانے والے ہوں تو بحث طول پکڑ جاتی ہے ۔
اسی لیے عرض کیا ہے کہ ایک شخص کے سوالات ختم ہو جائیں تو پھر دوسرا شروع کر لے , کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جو سوال دوسرا کرنے والا ہے وہ پہلے شخص نے بھی کرنا ہو لیکن مناسب وقت پر لیکن جب وہ سوال پہلے شخص کی فہم کے مطابق وقت سے قبل آجاتا ہے تو بحث متشتت ہو جاتی ہے ۔
اب فاروق سرور صاحب کے مراسلہ کا جواب تحریر کرتا ہوں ۔ إن شاء اللہ
رفیق طاہر آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-09-11), کنعان (03-09-11), حیدر (03-09-11), عبداللہ آدم (06-09-11)
پرانا 02-09-11, 06:09 PM   #13
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
برادر محترم،
۱۔ اگر بتادیجئے کہ عمر کتنی تھی اور کیوں تو بہت نوازش ہوگی ۔ بات سمجھنے میں‌ آسانی رہے گی۔
۲۔ روایت کی بنیاد پر تواریخ‌ اور انسانی تواریخ‌ کی بنیاد پر روایات ۔۔۔
۳۔ یقیناً ان کتب روایات میں کچھ نا کچھ درست نہیں‌ہے ۔ لیکن یہ درست ہے کہ سب کچھ غلط نہیں۔ یہاں آپ سے اتفاق ہے۔

۴۔ وہ کسوٹی کیا ہے ؟؟؟‌ وہ کسوٹی ہے فرمان الہی۔ قرآن۔ لہذا اگر ایک واقعہ قرآن کے اصولوں پر پورا اترتا ہے تو کوئی وجہ نہیں‌کہ اس کو رد کیا جائے ۔۔۔ اگر فرمان الہی کے خلاف ہو تو کیا وجہ ہے کہ اس کو تنقیدی نگاہ سے نا دیکھا جائے۔۔

۵۔ قرآن حکیم ۔۔۔ وہ اصول ضرور بتاتا ہے جو شادی کی عمر کے لئے ضروری ہیں۔
تو اس سے فرق کیا پڑتا ہے؟
قرآن کے بعد آنے والی کسی کامل کتاب پر ایمان کا حکم کس نے دیا؟ کہ اس میں‌جو کچھ ہے مان لو؟ اس سے یہ فرق پڑتا ہے کہ فرمان الہی کے مخالف روایات صرف روایات رہ جاتی ہیں۔ دنیا کو کوئی علم ایسا نہیں‌جو 7، 9 ، 10، 12، 15 ، 17 کو ایک دوسرے کے مساوی ثابت کردے۔۔ علہم الرجال ، علم الاسناد ، علم الحدیث ، کوئی جادو نہیں‌ جو بیانات سے نکلنے والے حساب کتاب کو یکساں‌ کردے۔۔۔۔

آپ بھی معلوما ت فراہم کیجئے تاکہ ہم جیسے معمولی طالب علموں کے علم میں‌ سب کے ساتھ مناسب اضافہ ہو۔

والسلام
۱۔ ہم اسی بات کی تحقیق کے لیے ہی یہ بحث چھیڑ کر بیٹھے ہیں آپ صبر کریں جلد ہی معلوم ہو جائے گا
ع .................. اک ذرا صبر , کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں ..!!!
۲۔ اس جملہ کا پہلا حصہ تو صحیح ہے لیکن دوسرا غلط !
چونکہ اسکا تعلق ہمارے موضوع بحث سے نہیں لہذا
ع .......... رنگ پر جو اب نہ آئیں ان افسانوں کو نہ چھیڑ ...!!!
۳۔ الحمد للہ کہ یہاں تک اتفاق ہوا , إن شاء اللہ دلائل کے سامنے آتے ہیں ہم ہر بات پر متفق نظر آئیں گے , اللہ اس امت میں اتحاد پیدا فرما دے ۔
۴۔ جی ہاں ! میں نے اپنے پہلے مراسلہ میں اسی بات کا اظہار کیا ہے کہ :
اقتباس:
صحت وسقم کو پرکھنے کے لیے انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کی بجائے اللہ تعالى کے بنائے ہوئے قانون کو اپنایا جائے گا تو نتیجہ حاصل کرنا ممکن ہوگا وگرنہ ناممکن ۔
چونکہ ہم نے ان روایات کو پرکھنا ہے جو کتب احادیث و تاریخ میں ہیں , لہذا قرآنی الہی حکم اور اصول جس پر کسی بھی خبر کو پرکھا جاتا ہے )خواہ اسکا تعلق تاریخ سے ہو یا حدیث سے) پہلے کتاب اللہ کے دلائل کی رو سے اسکا تعین کر لیا جائے تو بات بڑھانا آسان ہوگی ۔
۵۔ شادی کی عمر اور بناء ( ازدواجی تعلقات قائم کرنے ) کی عمر کی حد بندی بھی کتاب اللہ سے ہی ثابت کریں گے لیکن چونکہ یہ فی الحال ہمارا موضوع نہیں ہے اس لیے اس سے صرف نظر کرتے ہیں , فی الحال ہمارا موضوع صرف اور صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس عمر کی تحقیق ہے جس عمر میں انکا نکاح ہوا اور رخصتی ہوئی ۔
اسکے فورا بعد ہم نکاح و رخصتی کے لیے قرآنی الہی عمر کا تعین بھی کریں گے ۔ إن شاء اللہ تعالى ۔ کیونکہ یہ بحث بھی ہمارے اس موضوع کا ضمیمہ ہے ۔
____________________
لہذا
محترم فاروق قیصر صاحب سے گزارش ہے کہ اگر انہیں خبر یا روایت کی صحت وسقم پرکھنے کے لیے جو اصول اللہ تعالى نے مقرر فرمایا ہے معلوم ہے تو کتاب اللہ کے دلائل سمیت اسے تحریر فرمائیں , وگرنہ میں ان شاء اللہ , سچی اور جھوٹی خبر کے درمیان تمیز کے لیے کتاب اللہ کی آیات سے دلائل دے کر وہ اصول بیان کروں جسے اللہ تعالى نے مقرر فرمایا ہے ۔
براہ کرم موضوع کو اسی نقطہ پر مرکوز رکھیں , اصول دریافت کریں تاکہ اسی اصول کے مطابق ہم اس بحث کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں
رفیق طاہر آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (03-09-11), کنعان (03-09-11), احمد نذیر (02-09-11), حیدر (03-09-11), عُکاشہ (03-09-11), عبداللہ آدم (06-09-11)
پرانا 03-09-11, 05:05 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,614
کمائي: 31,179
شکریہ: 7,118
2,944 مراسلہ میں 8,724 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

محترم ،

یہ دھاگہ قطعاً حضرت عائشہ کی نکاح کے وقت عمر معلوم کرنے کے لئے نہیں لگایا گیا۔

میں نے روایات کی کتب کے مستند یا غیر مستند ہونے پر لکھنا چھوڑ دیا تھا ۔۔ لیکن یہاں‌ عادل سہیل، عبداللہ آدم، شمشاد احمد، اور دیگر برادران مسلسل بھاگ جانے کا طعنہ دیتے رہے۔ لہذا 6 مہینے کے باقاعدہ اصرار کے بعد یہ نکات پیش کئے ہیں کہ ہم کو یہ بتائیے کہ ان روایتی تواریخ میں اور تاریخی روایات میں -- نبی اکرم کی زوجہ محترمہ کی عمر کے بارے میں اتنی روایات کیوں‌ہیں؟

آپ جواب یہ تلاش کیجئے کہ ان حضرات تک وہ کیا تاریخ روایات اور روایتی تاریخ پہنچی کہ بیانات سے نکلنے والے حسابات حجرت عایشہ صدیقہ کی نکاح کے وقت ایک سے زائید عمر کی طرف اشارہ کرتے ہیں ؟؟

پھر ہم کو بتائیے کہ یہ مصنفین ، ابن حجر، ابن کثیر، ابن حنبل کیوں بناء‌ تحقیق یہ معاملہ ایسے ہی بڑھاتے رہے؟ ایسا کیا ہوا کہ یہ "دلوں میں ازبر" ہزار چھنیوں کی چھنی ہوئی کتب روایات، حقیقت کی عکاسی نہیں کرتی ہیں۔۔ ان میں سے کون سا مصنف قابل اعتبار ہے اور کون کس کی تردید کرتا ہے ۔۔۔۔

پھر ذہن میں‌رکھئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا کی نکاح کے وقت عمر جاننے کی یہ کاوش نہیں ہے۔۔ نبی اکرم سے جب بھی ان کی شادی ہوئی وہ اللہ تعالی کے قانون کے مطابق ہوئی۔ بقول خلیل کے ان کی شادی ، شادی کی عمر میں ہی ہوئی۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان مصنفین نے بیانات سے نکلنے والے حسابات کی تحقیق نہیں کی جو اس بات کی نشانی ہے کہ یہ کتب "ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ" جیسی کتابیں نہیں ہیں۔ ان میں نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ بھی موجود ہیں اور من گھڑت کہانیاں بھی۔

ان کتب پر ایمان رکھنے کا حکم ہم کو نا اللہ نے دیا اور نا ہی رسول اللہ صلعم نے۔ ان کتب کی واحد کسوٹی قرآن حکیم ہے۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (03-09-11)
پرانا 03-09-11, 05:08 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,614
کمائي: 31,179
شکریہ: 7,118
2,944 مراسلہ میں 8,724 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رفیق طاہر مراسلہ دیکھیں
۱
محترم فاروق سرور خان صاحب سے گزارش ہے کہ اگر انہیں خبر یا روایت کی صحت وسقم پرکھنے کے لیے جو اصول اللہ تعالى نے مقرر فرمایا ہے معلوم ہے تو کتاب اللہ کے دلائل سمیت اسے تحریر فرمائیں , وگرنہ میں ان شاء اللہ , سچی اور جھوٹی خبر کے درمیان تمیز کے لیے کتاب اللہ کی آیات سے دلائل دے کر وہ اصول بیان کروں جسے اللہ تعالى نے مقرر فرمایا ہے ۔
براہ کرم موضوع کو اسی نقطہ پر مرکوز رکھیں , اصول دریافت کریں تاکہ اسی اصول کے مطابق ہم اس بحث کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں
برادر محترم ، سلام،

اس معمولی طالب علم کی معلومات میں اضافہ فرمائیے۔ سچی اور جھوٹٰ خبر کے درمیاں تمیز کے لئے کتاب اللہ سے مدلل اصول بیان فرمائیے۔ اللہ تعالی آپ کا حامی و مددگار ہو۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
حیدر (03-09-11), رضی (03-09-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
color, کیسا, قرآن, لڑکی, چین, موجودہ, اللہ, اسلام, بدر, جواب, جلد, حضرات, خان, سال, شادی, عیسوی, علم, عنوان, عائشہ, عراقیوں, غزوہ, صفحہ, صحت, صدیقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیانے سیاستدان کو ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی! ھارون اعظم سیاست 3 15-04-10 06:00 PM
تفسیرتفسیر احسن البیان پروف ریڈ ورژن اردو ان پیج فارمیٹ‌میں ! جان جی ترجمہ و تفسیر 10 21-04-09 08:30 AM
سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 12:49 PM
وزیر اعظم نے اختر مینگل سمیت تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا حکم دیدیا محمدعدنان خبریں 1 03-05-08 02:39 PM
تاریخِ سیرت میں ’’سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کا امتیازی مقام محمدعدنان پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 6 03-10-07 11:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger