نکاح کے وقت ام المؤمنين سيده عائشہ رضي اللہ تعالٰي عنہا کي عمر
اعتراض : حضرت عائشہ فرماتي ہيں کہ جب نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے ان سے نکاح کيا تو ان کي عمر 6سال تھي جب ان سے خلوت کي گئي تو عمر 9سال تھي ۔ (صحيح بخاري کتاب النکاح صفحہ: 75) (اسلام کے مجرم صفحہ: 31)
ازالہ : ڈاکٹر شبير اس روايت پر تبصرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہيں :
''قرآن کے مطابق ذہني اور جسماني بلوغت نکاح کے لئے لازم ہے قرآن نکاح کو انتہائي سنجيدہ معاہدہ کہتا ہے بچے سنجيدہ معاہدہ کيسے کرسکتے ہيں اگر آپ کي بيٹي يا بہن 6يا 9سال کي ہے تو آپ اس موضوعہ روايت کا زہر محسوس کرسکتے ہيں''۔ (اسلام کے مجرم صفحہ :31)
ازالہ:۔
زير بحث روايت صحيح بخاري ميں موجود ہے جو کہ حديث رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نہيں بلکہ عائشہ کا اپنا قول ہے کہ:
أن النبي صلي اللہ عليہ وسلم تزوجھا وھي بنت ست سنين وبني بھا وھي بنت تسع سنين (صحيح بخاري کتاب النکاح باب تزويج الأب ابنة من الامام رقم الحديث5134)
'' عائشہ رضي اللہ عنہا فرماتي ہيں کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے ان سے چھ برس کي عمر ميں نکاح کيا اور نو برس کي عمر ميں رخصتي کي گئي ''
(1) روايت کا ترجمہ کرتے وقت ڈاکٹر شبيرنے بنٰي کا ترجمہ خلوت کيا ہے جو کہ غلط ہے بنٰي کا معني رخصتي ہے نہ کہ خلوت (النھايہ في غريب الحديث جلد 1صفحہ156)
(2) اس روايت کوڈاکٹرشبيرنے موضوع کہا ہے جبکہ ڈاکٹر موصوف جو جرح وتعديل کي ابجد سے بھي واقف نہيں اور صحيح روايت کو اپنے مبلغ علم کي بنيا د پر ضعيف بھي نہيں بلکہ موضوع (من گھڑت ) قرار دے رہے ہيں ؟
(3) کياسيدہ عائشہ رضي اللہ عنہا بوقت رخصتي نابالغہ تھيں اور اگر نا بالغہ تھيں تو قرآن نے کہاں نابالغہ سے نکاح ممنوع قرار ديا ہے :
(4) ڈاکٹر شبيرتحرير فرماتے ہيں :''قرآن کے مطابق ذہني اور جسماني بلوغت نکاح کے لئے لازم ہے''۔ ھٰذا بھتان عظيم ۔ قرآن حکيم ميں ا يسا حکم کہيں موجودنہيں۔ حالانکہ قرآن مجيد تو اس کے بالکل برعکس اصول بيان کرتا ہے ۔اللہ تعاليٰ فرماتا ہے :
''اور تمھاري عورتوں ميں سے جو حيض سے ما يوس ہوچکي ہيں اگرتمھيں کچھ شبہ ہو تو انکي عدت تين ماہ ہے اور ان کي بھي کہ جنھيں ابھي حيض شروع نہ ہوا ہو ۔''(سورة الطلاق ۔آيت :4)
مندرجہ بالا آيت ميں اللہ رب العالمين عدت کے قوانين بيان کررہا ہے کہ ،
(1) وہ عورتيں جنھيں حيض آنا بند ہوگيا ہو ۔ان کي عدت تين ماہ ہے ۔
(2) وہ عورتيں جنہيں ابھي حيض آنا شروع ہي نہ ہوا ہو، ان کي عدت بھي تين ماہ ہے (يعني جو ابھي بالغ نہيں ہوئيں)۔
قارئين کرام !.
عورت پر عدت کے احکام خاوند کے انتقال کے بعد اور يا جب طلاق مل جائے اور يا وہ خلع حاصل کرے اس وقت لاگو ہوتے ہيں ۔
اب وہ لڑکي جس کو ابھي حيض نہيں آيا (يعني بالغ نہيں ہوئي ) نکاح کے بعد اس کي عدت کا ذکر قرآن ميں موجود ہے اور عدت منکوحہ کے لئے ہے لہٰذا کم سن کا نکاح اور عدت کا بيان قرآن مجيد ميں موجود ہے اب جو اعتراض حديث پر ہے وہي قرآن پر بھي وارد ہوتا ہے ۔
مزيد برآں :
ہر ملک وعلاقے کے ماحول کے مطابق لوگوں کے رنگ وروپ ،جسماني وجنسي بناوٹ اورعادت واطوار جس طرح باہم مختلف ہوتے ہيں اسي طرح سن بلوغت ميں بھي کافي تفاوت و فرق ہوتا ہے ۔ جن ممالک ميں موسم سرد ہوتا ہے وہاں بلوغت کي عمر زيادہ ہوتي ہے اور جہاں موسم گرم ہوتا ہے وہاں بلوغت جلد وقوع پذير ہوجاتي ہے ۔ مثلاً عرب ايک گرم ملک ہے ۔وہاں کي خوراک بھي گرم ہوتي ہے جوکہ عموماً کھجور اور اونٹ کے گوشت پر مبني ہوتي ہے۔ اس لئے ام المؤمنين عائشہ رضي اللہ عنہا کا 9سال کي عمر ميں بالغ ہوجانا بعيد از عقل نہيں ۔ کيونکہ اسلاف نے ايسے بہت سے واقعات نقل فرمائے ہيںجو منکرين حديث سے اوجھل ہيں صرف امي عائشہ رضي اللہ عنہا کا قصہ ہي کيوں زير بحث ہے حالانکہ کئي حوالے اس بات پر دلالت کرتے ہيں کہ يہ کوئي انوکھا معاملہ نہيں پہلے بھي اس قسم کے بہت سارے معاملات ہوچکے ہيںاور اب بھي اخباروں ميں اس قسم کي خبريں موجود ہيں ۔ عرب کے معاشرے ميں نو (9) سال کي عمر ميں بچہ جنم دينا اور اس عمر ميں نکاح کرنارواج تھاپر ان لوگوں کے لئے يہ کوئي حيرت کي بات نہيں تھي۔مثلاً ،
(1) ابوعاصم النبيل کہتے ہيں کہ ميري والدہ ايک سو دس (110) ہجري ميں پيدا ہوئيں اور ميں ايک سو بائيس( 122) ہجري ميں پيدا ہوا۔ (سير اعلاالنبلاء جلد7رقم1627) يعني بارہ سال کي عمر ميں ان کا بيٹا پيدا ہوا تو ظاہر ہے کہ ان کي والدہ کي شادي دس سے گيارہ سال کي عمر ميں ہوئي ہوگي۔
(2) عبداللہ بن عمر و اپنے باپ عمرو بن عاص رضي اللہ عنہ سے صرف گيارہ سال چھوٹے تھے ۔( تذکرة الحفاظ جلد1ص93)
(3) ہشام بن عروہ نے فاطمہ بنت منذر سے شادي کي اور بوقت زواج فاطمہ کي عمر نو سال تھي ۔ (الضعفاء للعقيلي جلد4رقم 1583، تاريخ بغداد 222/1)
(4) عبداللہ بن صالح کہتے ہيں کہ ان کے پڑوس ميں ايک عورت نو سال کي عمر ميں حاملہ ہوئي اور اس روايت ميں يہ بھي درج ہے کہ ايک آدمي نے ان کو بتاياکہ اس کي بيٹي دس سال کي عمر ميں حاملہ ہوئي ۔ (کامل لابن عدي جلد5ر قم 1015)
حضرت معاويہ رضي اللہ عنہ نے اپني بيٹي کي شادي نو سال کي عمر ميں عبداللہ بن عامر سے کرائي (تاريخ ابن عساکر جلد70) ۔
امام دارقطني رحمہ اللہ نے ايک واقعہ نقل فرمايا ہے کہ عباد بن عباد المہلبي فرماتے ہيں ميں نے ايک عورت کو ديکھا کہ وہ اٹھارہ سال کي عمر ميں ناني بن گئي نو سال کي عمر ميں اس نے بيٹي کو جنم ديا اور اس کي بيٹي نے بھي نو سال کي عمر ميں بچہ جنم ديا ۔(سنن دارقطني جلد3کتاب النکاح رقم 3836) ان دلائل کے علاوہ اور بھي بے شماردلائل موجود ہيں جو کہ طالب حق کے لئے کافي اور شافي ہونگے ۔ ان شاء اللہ ۔
ماضي قريب ميں بھي اسي طرح کا ايک واقعہ رونما ہواکہ 8سال کي بچي حاملہ ہوئي اور 9سال کي عمر ميں بچہ جنا ۔ (روزنامہ DAWN 29 مارچ1966) دور حاضر کے نامور اسلامک اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائيک اپنے ايک انٹر ويو ميں فرماتے ہيں : ''حديث عائشہ رضي اللہ عنہا کے بارے ميں ميرے ذہن ميں بھي کافي شکوک وشبہات تھے۔بطور پيشہ ميں ايک ميڈيکل ڈاکٹر ہوں۔ ايک دن ميرے پاس ايک مريضہ آئي جس کي عمر تقريباً 9سال تھي اور اسے حيض آرہے تھے۔ تو مجھے اس روايت کي سچائي اور حقانيت پر يقين آگيا ''۔(ARYپر ڈاکٹر شاہد مسعود کے ساتھ ايک نشست( علاوہ ازيں روزنامہ جنگ کراچي ميں 16اپريل 1986ء کوايک خبر مع تصويرکے شائع ہوئي تھي جس ميں ايک نو سال کي بچي جس کا نام (ايلينس) تھا اور جو برازيل کي رہنے والي تھي بيس دن کي بچي کي ماں تھي۔ (روزنامہ آغاز ميں يکم اکتوبر 1997کوايک خبر چھپي کہ (ملتان کے قريب ايک گاؤں ميں)ايک آٹھ سالہ لڑکي حاملہ ہوگئي ہے اور ڈاکٹروں نے اس خدشہ کا اعلان کيا ہے کہ وہ زچکي کے دوران ہلاک ہوجائے.پھر 9دسمبر 1997کو اسي اخبار ميں دوسري خبر چھپي کہ ''ملتان (آغاز نيوز) ايک آٹھ سالہ پاکستاني لڑکي نے ايک بچہ کو جنم ديا ہے. ڈاکٹروں نے گزشتہ روز بتايا ہے کہ بچہ صحت مند ہے ۔) قرآن ميں اللہ رب العالمين نے نوح عليہ السلام کي طويل العمري کا ذکر فرمايا ہے کہ :
فَلَبِثَ فِيْہِمْ أَلْفَ سَنَة ِلَّا خَمْسِيْنَ عَاماً (سورة العنکبوت ۔آيت 14)
''نوح اپني قوم ميں ساڑھے نو سو سال ٹھہرے ''
يہ بات بھي ناقابل اعتبار اور عقل کے خلاف نظر آتي ہے تو اس کا آپ کيا جواب ديں گے ؟ پس جو جواب آپ ديں گے وہي جواب اس حديث کا بھي سمجھ ليں ۔
فماکان جوابکم فھوجوابنا فللہ الحمد
تحریر: محمد حسین میمن حفظہ اللہ ۔
مزید دلائل اور دلائل پر مبنی ویڈو کا مشاہدہ کرنے کے لیے یہاں تشریف لائیں :
http://www.deenekhalis.net/play.php?catsmktba=756