واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


پہلا قدم:"کتب احادیث کے مخطوطات سے متعلق تحقیق"

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-12-10, 10:04 PM   #1
پہلا قدم:"کتب احادیث کے مخطوطات سے متعلق تحقیق"
حیدر حیدر آن لائن ہے 19-12-10, 10:04 PM

اس سے قبل کہ آپ اس تھریڈ میں موجود موضوع پڑھیں یا کسی قسم کا مراسلہ بھیجیں بہتر ہو گا کہ میری مندرجہ ذیل گزارشات پر توجہ کر لیں تاکہ ہم اس تحقیق کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکیں

باوجود اس کے کہ میں جمہوری انداز کو پسند کرتا ہوں لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ کہیں کہیں آمریت بھی ضروری ہے۔ ویسے تو پورا فورم کھُلا پڑا ہے جس کا جہاں جی چاہے پوسٹنگ کر سکتا ہے۔ لیکن چونکہ احادیث والےیہ تھریڈز میری طرف سے شروع ہو رہے ہیں اس لیے میں چند اصول و ضوابط واضح کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں تاکہ ہماری یہ تحقیق کسی منطقی انجام تک پہنچ سکے۔ کیونکہ میرا ذاتی ارادہ ہے کہ اس ایک موضؤع میں سموئے ہوئے تین موضوعات پر اس فورم میں پیش کی جانے والی مثبت تحاریر لکھنے والوں کے نام کے ہمراہ پرنٹ کروا کر فی سبیل اللہ تقسیم بھی کیا جائے گا۔ تاہم جب اللہ نے مجھے اس معاملے میں مالی توفیق دی۔ چناچہ لکھتے وقت محتاط رہیے گا کہ یہ شائع ہونے کے بعد تبدیل نہیں ہو سکے گا۔

اس تھریڈ کے اصول و ضوابط:
1: ایک تھریڈ میں جو موضوع ہو گا صرف اُسی پر بات ہو گی۔ اگر کسی کے ذہن میں اُس موضوع کو پڑھتے ہوئے کوئی غیر متعلقہ سوال ذہن میں آ جائے تو اس مقصد کے لیے وہ الگ سے تھریڈ بنا سکتا ہے۔ کیونکہ میں ہر غیر متعلق سوال کو تھریڈ میں سے ڈیلیٹ کروا دوں گا۔

2:ایک دوسرے کی ذاتیات پر مبنی جملے یا الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔ اس سے نہ صرف استعمال کرنے والے کے بارے میں مثبت خیال منتشر ہو جاتے ہیں بلکہ جب میں ان الفاظ کو ایڈٹ کرواؤں گا تو مجھے بھئ افسوس اور دکھ ہوگا۔

3:ایک دوسرے کے بزرگان یا پسند نا پسند پر کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ اگر کسی بزرگ پر کوئی جملہ کہا جائے گا تو وہ فوراً حذف کر دیا جائے گا۔تاہم تحقیقی مراسلہ میں کسی بزرگ پر جو بھی تنقید کی جائے گی اس کا ثبوت دینا خود تنقید کرنے والے کے ذمہ ہو گا۔ مثلاَ اگر کوئی کہتا ہے کہ فلانا محدث جھوٹا تھا تو یہ ثابت کرنا الزام لگانے والے کی ہی ذمہ داری ہو گی۔ تاہم کوشش کی جائے کہ الفاظ کے چُناو میں احتیاط برتی جائے ۔ ورنہ سخت جملے کے کسی متبادل نرم جملے کے لیے کسی بھی صاحب زبان کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

4: ایک دوسرے کی تائید یا انکار تو کیا جا سکتا ہے، ایک دوسرے کی سپورٹ یا یاد دہانی کے لیے بھی لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن کوئی بھی غیر متعلق بات نہ کی جائے کہ جس سے موضؤع کے بھٹکنے کا اندیشہ ہو جائے۔

5: کسی اور تھریڈ کا حوالہ یا ماضی کا حوالہ نہیں دیا جائے گا۔

6: ایک دوسرے کو قائل کرنے کے لیے دلیل کا استعمال تو کیا جا سکتا ہے یا خاموشی اختیار کی جا سکتی ہے لیکن طنزیہ انداز میں نصیحتیں یا قرآنی آیات وغیرہ پیش نہیں کی جا سکتیں

7: ان موضوعات پر پہلے سے کی گئی تحقیق کو بھی پیش کیا جا سکتا ہے لیکن اپنے الفاظ میں۔ کیونکہ کاپی پیسٹ کرنے سے وہ لوگ شدید متاثر ہوتے ہیں جو خود محنت کر رہے ہوتے ہیں

8:مکمل مراسلہ کا اقتباس کرنے کے بجائے محض اسی حصہ کا اقتباس کیا جائے جس کا جواب دینا ہو

9:اپنا جواب تفصیلی لکھیں۔ گول مول جوابات یا فضول جملہ جات ڈیلیٹ کر دئیے جائیں گے

10:محض اردو اور عربی کی اجازت ہے۔ کسی تیسری زبان میں اپنا موقف یا موقف کے اضافی حصے پیش مت کئیے جائیں۔ ورنہ ڈیلیٹ کر دئیے جائیں گے۔یا مکمل مراسلہ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس متنازعہ ترین موضوع کا تنازعہ ختم/کم کر کے ہم اسلام اور فورم کی تھوڑی سی خدمت کر جائیں؟ اگر ہاں تو اس موضوع کی تحقیق میں مصروف افراد کی عملی مدد کیجیے۔ خواہ آپ کسی بھی نقطہ نظر کے ہوں۔

شکریہ

Last edited by حیدر; 13-03-12 at 05:37 PM..

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 8634
Reply With Quote
16 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (09-04-11), shafresha (19-12-10), skjatala (16-05-11), فیصل ناصر (19-12-10), ھارون اعظم (19-12-10), نورالدین (23-12-10), موجو (14-03-12), منتظمین (19-12-10), محمد عاصم (19-04-11), مرزا عامر (26-12-10), ابو عبداللہ (10-02-11), احمد بلال (20-12-10), رضی (31-08-11), سحر (20-12-10), شمشاد احمد (20-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
پرانا 19-12-10, 10:07 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

موضوع: "کتب احادیث کے مخطوطات سے متعلق تحقیق"

وضاحت:کیا فی زمانہ موجود احادیث کی کتب میں فرق ہے؟ کیا مختلف ممالک میں پائی جانے والی احادیث کی کتب میں پائی جانے والی احادیث میں فرق ہے؟ اس پر جامع تنقید

طریقہ کار:موضوع کا یہ حصہ چونکہ موجودہ زمانہ سے تعلق رکھتا ہے اس لیے اسکو ماضی میں جا کر حل کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل سٹیپ لیے جا سکتے ہیں
1: احادیث کا کتنا پرانا مخطوطہ میسر ہے؟ اور کہاں
2:کیا مختلف ممالک اور مختلف معیاری پبلشرز کی طرف سے شائع کردہ کتب احادیث میں کوئی فرق موجود ہے۔ ۔ ۔جیسا کہ الزام لگایا جاتا ہے؟ کیا الزام لگانے والوں نے محض سُنی سُنائی بات دوہرا دی ہے یا پھر خود بھی تحقیق کر کے دیکھا ہے؟ کیا سابقہ دو سال کی تاریخ میں سے کہ جب سے پرنٹنگ کا آغآز ہو چُکا ہے ایشیا میں ۔ ۔ ۔ کتب احدیث کی مثال پیش کی جائے جن میں فرق پایا گیا ہے۔ تاہم یہ فرق عربی متن میں ہونا چاہیے نہ کہ ترجمہ میں۔ دستیاب کتب کے ریفرنس۔

اگر ہم اپنی مندرجہ بالا بحث کو سمیٹنے میں کامیاب ہو گئے تو ایک بات واضح ہو جائے گی کہ احادیث کا مقام کیا ہے؟ یعنی "مُلا" کی انگلیوں میں موجود الفاظ کہ وہ جب چاہیں جدھر گھُما دیں ۔ ۔ ۔ یا کہ ایک مینارہ نور ۔ ۔ ۔ جو ہر وقت رہنمائی کے لیے تیار ہے

جاری ہے

Last edited by حیدر; 19-12-10 at 10:27 PM.
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (19-12-10), فیصل ناصر (19-12-10), نورالدین (23-12-10), ننھا بچہ (01-09-11), ابو عبداللہ (10-02-11), احمد بلال (20-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (20-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
کمائي نے حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
20-12-10 عبداللہ آدم ؟ یعنی "مُلا" کی انگلیوں میں موجود الفاظ کہ وہ جب چاہیں جدھر گھُما دیں ۔ ۔ ۔ یا کہ ایک مینارہ نور ۔ ۔ ۔ جو ہر وقت رہنمائی کے لیے تیار ہے 0
پرانا 19-12-10, 10:08 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس موضوع کی مزید وضاحت (نئے آنے والوں کے لیے)

ہم یہاں علمی نسخے جمع کرنے نہیں آئے۔ ہمارا اس تھریڈ میں گفتگو کرنے کا مقصد محض اتنا ہے کہ ہم اکثر تھریڈز میں ایسے الزامات سنتے ہیں کہ ہر ملک کی کتب احادیث میں احادیث مختلف ہوتی ہیں۔ چناچہ اس تھریڈ کا موضوع صرف اتنا ہے کہ آپ نے ثابت کرنا ہے بذریعہ دلیل کہ یہ دیکھیں ان ان کتب کی احادیث میں فرق ہے (محض عربی متن۔اردو متن قابل قبول نہیں)۔ جبکہ اگر کوئی بھائی چاہیں گے تو وہ اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے۔
اس مقصد کے لیے مستند ویب سائٹس، کتب کی سکین کاپیز، یا زبانی دلائل دئیے جا سکتے ہیں
جبکہ اس تھریڈ میں احادیث سے متعلق اس موضوع کے علاوہ کسی اور موضوع پر بات نہیں کی جانی۔ محض یہی موضوع ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (19-12-10), فیصل ناصر (20-12-10), نورالدین (23-12-10), ابو عبداللہ (10-02-11), احمد بلال (20-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (20-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
پرانا 19-12-10, 10:12 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس موضوع پر بات کرنے کے مقصد کی مزید وضاحت:

میرا دونوں فریقین سے ایک سوال ہے

وہ فریق جو بخاری و مسلم کو قرآن کے بعد صحیح ترین کتاب مانتا ہے اُس سے سوال ہے کہ ان کتابوں کا پرانا ترین نسخہ کتنا پرانا میسر ہے؟کیا وہ کسی لائبریری میں ہے؟ کیونکہ قرآن شریف کا مصحف عثمانی کے بارے میں سُنا تھا کہ کسی لائبریری میں محفوظ ہے اس لیے ہم تو وہاں سے دیکھ کر قرآن کے محفوظ ہونے کا اعتبار کر سکتے ہیں


خاص کر ایسے احباب سے سوال ہے جو احادیث پر اکثر شک کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
وہ فریق جو احادیث پر شک کا اظہار کرتا رہتا ہے ۔ تو اس سلسلے میں یہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی کتاب محفوظ نہ کی گئی ہو تو ہر چند سال یا چند پرنٹس بعد اسکے متن میں فرق پڑ جاتا ہے۔مثلاً بائیبل کے بارے میں ۔ ۔ ۔ ۔ کہیں پڑھا تھا کہ ہر اشاعت میں اُس میں فرق پڑ جاتا ہے۔ چناچہ اگر چند مختلف سال کی بائیبل اُٹھا کر غور سے پڑھ لی جائے تو ان مین اکثر تضادات پائے جاتے ہیں۔
اس لیے کیا وہ لوگ ایسے ثبوت مہیا کر سکتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ بخاری اور مسلم کے عربی متن میں فرق پڑ گیا ہو؟ کہ ایک ملک کی بخاری میں کُچھ اور عربی ہو جبکہ کسی اور ملک کی بخاری میں کوئی اور عربی متن۔ یا چند سال قبل بخاری میں فلانی حدیث تھی اب اسکو تبدیل کر کے یہ کر دیا گیا ہے ۔ میں عربی متن کی بات کر رہا ہوں۔ ترجمہ شُدہ کی نہیں۔ کیونکہ معذرت کے ساتھ میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ قرآن کے نام پر ایسی بھی آیات منسوب کی جاتی ہیں اردو میں جن کا یا جنکے مفہوم سے ملتی جُلتے آیات کا اُس سورت تو کُجا ۔ ۔ ۔ پورے قرآن میں وجود نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ جو اتنے تیقن سے احادیث پر اعتراضات کرتے ہیں ، مجھے ایسئے ثبوت مہیا کیجیے جس سے آپکے دلائل کی مضبوطی کا اندازہ کیا جا سکے۔(ثبوت پیش کرنا الزام لگانے والے ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے)
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (19-12-10), نورالدین (23-12-10), ابوسعد (23-12-10), احمد بلال (20-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (20-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
پرانا 19-12-10, 10:16 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس سلسلے میں فاروق سرور خان کی گزارشات:

انکا مراسلہ ویسے تو تفصیلی تھا۔ لیکن انکے مراسلے میں کئی پوائینٹس اس تھریڈ سے متعلق نہیں ہیں۔ اس لیے میں انکے مراسلہ کے مخصوص حصے یہاں پیش کر رہا ہوں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سلام علیکم۔

چند سوالات میرے بھی ہیں۔ چونکہ برادران علمی نسخہ جمع کررہے ہیں۔ تو اس جمع کرنے میں اگر ان سوالات کے جوابات بھی مل جائیں تو بہت ہی عنایت ہوگی۔

یہ سائیٹ سعودی عرب کے وزارۃ الشؤون الاسلامیہ والاوقاف والدعوۃ والارشاد کی حکومتی سطح کی سائیٹ‌ہے۔ اس سائیٹ پر موجود روایات کی تعداد اور ترتیب، دہلی، بیروت اور کراچی سے شائع ہوئی کتب کے مطابق کیوں نہیں ہے؟ ---- چونکہ ان کتب کے سب نسخوں میں روایات کی تعداد مختلف ہے ۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں‌کہ جو روایات زائید ہیں ان کے متن دوسری کتب میں پائے ہی نہیں‌جاتے ۔۔ اسلام کی اتنی اہم کتب اور ان میں تعداد اور ترتیب میں اتنا فرق کیوں؟ کیا زائید روایات ڈالی گئی ہیں یا پھر غائب روایات نکالی گئی ہیں؟ اس نکالنے ڈالنے کی کیا وجہ ہے؟؟؟؟


کسی بھی کتاب کی حفاظت کا بنیادی اصول ہے کہ اس کے مندرجات میں الفاظ کی جملوں کی اور متن کی تعداد، ترتیب ، متن بذات خود وقت کے ساتھ ساتھ یکساں رہے۔۔۔۔ اس اصول سے رو گرانی کیوں‌ہوئی، فلسفہ نہیں‌بلکہ واضح اور ٹو دی پوائنٹ وجہ بتائیے۔۔۔
سعودی عرب :
یہاں صحیح بخاری میں روایات کی تعداد 7124
عرض صفحة الكتاب - الحديث - موقع الإسلام

خود دیکھ لیجئے۔

اور یہاں پر روایات کی تعداد دیکھئے : بیروت ، لبنان
Hadith Collection
صرف 2602 روایات، لبنانی اسلام ، سعودی اسلام اور ہندی اسلام کا نمایا ں فرق۔ ہندوستانی کتب میں لکھا ہے کہ چھ لاکھ روایات جناب امام بخاری صاحب کو پیش کی گئی تھیں۔ لبنانی کتب میں‌لکھا ہے کہ 3 لاکھ روایات کا امام بخاری صاحب نے تجزیہ کیا۔۔۔۔۔


ہندوستان: Read Complete Sahih Bukhari Ahadith in URDU :: Quranurdu.com
اور جناب یہاں پر دیکھئے: تعدا د 7563
http://download3.quranurdu.com/Hadit...Volume%208.pdf

7563 اور 7124 میں 439 روایات کا فرق ہے۔۔۔

عربی اور اردو کے اس نسخے کی تین جلدیں ہیں اور تعداد لگ بھگ لبنانی ہے۔ 2407
Sahih Bukhari, Sahih Muslim, Sunan Abu Dawood, Sunan Nisai, Sunan Ibn Maja Hadith Collection
http://download3.quranurdu.com/Ahadi...khari_Vol3.pdf

لگتا یہ ہے کہ جس کی جو مرضی میں‌آتا ہے صحیح‌ بخاری کے نام سے طباعت کرکے کام چلا لیتا ہے

یہ تھا مراسلہ تعداد کے بارے میں 4 کتب کی گواہیاں۔
۔ اگلا مراسلہ دیکھئے ترتیب کے بارے میں۔ انشاء اللہ


والسلام
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (19-12-10), نورالدین (23-12-10), بلال الراعی (12-10-11), رضی (31-08-11)
پرانا 19-12-10, 10:19 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میزبان کی حیثیت سے اس مراسلہ پر میرا تبصرہ کُچھ یوں تھا

اقتباس:
اس تھریڈ کے سوالات مندرجہ ذیل ہیں۔باقی سوالات بعد میں آنے والے موضوعات سے متعلق ہیں اس لیے انکے جوابات نہ دئیے جائیں

سوال:
سعودی عرب کی حکومتی سائٹ پر موجود روایات اور باقی ممالک میں موجود روایات میں فرق ہے۔ کیوں؟(فاروق سرور خان)
وضاحت:
۔ یہ سائیٹ سعودی عرب کے وزارۃ الشؤون الاسلامیہ والاوقاف والدعوۃ والارشاد کی حکومتی سطح کی سائیٹ‌ہے۔ اس سائیٹ پر موجود روایات کی تعداد اور ترتیب، دہلی، بیروت اور کراچی سے شائع ہوئی کتب کے مطابق کیوں نہیں ہے؟ ---- چونکہ ان کتب کے سب نسخوں میں روایات کی تعداد مختلف ہے ۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں‌کہ جو روایات زائید ہیں ان کے متن دوسری کتب میں پائے ہی نہیں‌جاتے ۔۔ اسلام کی اتنی اہم کتب اور ان میں تعداد اور ترتیب میں اتنا فرق کیوں؟ کیا زائید روایات ڈالی گئی ہیں یا پھر غائب روایات نکالی گئی ہیں؟ اس نکالنے ڈالنے کی کیا وجہ ہے؟؟؟؟ (فاروق سرور خان)

نوٹ: ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ یہ یہ فرق پائے جاتے ہیں ۔ اس مقصد کے لیے ایک لنک تو فراہم کیا گیا ہے جبکہ اس لنک سے مختلف ہونے کا ثبوت دینا بھی انہی کی ذمہ داری ہے۔
کیا آپ کوئی مثال دے سکتے ہیں کہ کراچی میں یا کسی اور شہر میں پرنٹ ہونے والی مستند پبلشرز کی کتب میں ان ان روایات کا فرق ہے؟ یا یہ محض الزام ہے؟کیا آپ پرنٹ کاپیز کے سکین مہیا کر سکتے ہیں؟ (بدرالزمان)


دستیاب ثبوت:
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سعودی عرب :
یہاں صحیح بخاری میں روایات کی تعداد 7124
عرض صفحة الكتاب - الحديث - موقع الإسلام

خود دیکھ لیجئے۔

اور یہاں پر روایات کی تعداد دیکھئے : بیروت ، لبنان
Hadith Collection
صرف 2602 روایات، لبنانی اسلام ، سعودی اسلام اور ہندی اسلام کا نمایا ں فرق۔ ہندوستانی کتب میں لکھا ہے کہ چھ لاکھ روایات جناب امام بخاری صاحب کو پیش کی گئی تھیں۔ لبنانی کتب میں‌لکھا ہے کہ 3 لاکھ روایات کا امام بخاری صاحب نے تجزیہ کیا۔۔۔۔۔


ہندوستان: Read Complete Sahih Bukhari Ahadith in URDU :: Quranurdu.com
اور جناب یہاں پر دیکھئے: تعدا د 7563
http://download3.quranurdu.com/Hadit...Volume%208.pdf

7563 اور 7124 میں 439 روایات کا فرق ہے۔۔۔

عربی اور اردو کے اس نسخے کی تین جلدیں ہیں اور تعداد لگ بھگ لبنانی ہے۔ 2407
Sahih Bukhari, Sahih Muslim, Sunan Abu Dawood, Sunan Nisai, Sunan Ibn Maja Hadith Collection
http://download3.quranurdu.com/Ahadi...khari_Vol3.pdf

لگتا یہ ہے کہ جس کی جو مرضی میں‌آتا ہے صحیح‌ بخاری کے نام سے طباعت کرکے کام چلا لیتا ہے

یہ تھا مراسلہ تعداد کے بارے میں 4 کتب کی گواہیاں۔


والسلام

نوٹ:
میرے نزدیک مندرجہ بالا ثبوت کافی نہیں ہیں۔ کیونکہ ان میں حکومتی سائٹ کا تقابل عام ویب سائٹس سے کیا جا رہا ہے۔جبکہ انٹرنیٹ پر پایا جانے والا بیشتر اسلامی مواد نا قابل اعتبار ہے۔ کیونکہ میں نے کئی قرآن بھی مختلف پڑھے ہیں۔ یہود کی سازشوں سے کون واقف نہیں۔ (بدرالزمان)


تاہم دوسرے محققین اس سوال پر اپنی تحقیق پیش کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (19-12-10), نورالدین (23-12-10), ابوسعد (23-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (21-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
پرانا 19-12-10, 10:24 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تمام احباب سے درخؤاست ہے کہ موضوع کا مقصد سمجھنے کے بعد اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔ ہو سکتا ہے آپکا اس موضوع پر کوئی سادہ سا جملہ کسی کے لیے ہدایت کا سبب بن جائے اور آپ کے لیے آخرت میں نجات کا۔

تاہم فاروق سرور خان سے ایک گزارش ہے کہ

"وہ اپنے دئیے ہوئے لنکس میں موجود "فرق" کو چند مثالوں کی مدد سے لکھ کر بیان کر دیں تاکہ ہم جیسے عام مسلمانوں کے لیے آسانی ہو۔ شکریہ"
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (19-12-10), فیصل ناصر (20-12-10), نورالدین (23-12-10), احمد بلال (20-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (21-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
پرانا 19-12-10, 10:54 PM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصل بھائی یا متعلقہ ناظم سے درخواست ہے کہ بشمول اس تھریڈ کے احادیث سے متعلق نئے تخلیق شدہ تھریڈز کو چپکا دیں اگر مزاج پر گراں نہ گزرے تو
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-12-10), فیصل ناصر (20-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (21-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
پرانا 19-12-10, 10:56 PM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

غیاث بھائی کا موضوع سے متعلق مراسلہ جو سابقہ تھریڈ میں موجود تھا

اقتباس:
السلام علیکم ۔
پاکستانی،بیروتی،عربی یا انڈین نسخوںمیں تعدادروایات کافرق بعض جگہ ہوسکتاہے۔ اسکی وجہ راویوں کافرق ہوسکتاہے۔یعنی متداول نسخوں میں بھی انکےراویوں کےفرق کیوجہ سےتعداد کافرق آسکتاہے۔ اور اسی طرح دورحاضرکےفتنوں میں سےایک فتنہ امہات الکتب یعنی اصل مصادرکتب میں تحقیق و تخریج کےنام پر یہ ظلم ہو رہاہےکہ کتب اصلیہ میں سےاصل متن بدل کراپنی من مانی تحریفات کیجارہی ہیں ۔بعض بدبخت احادیث کےمتن بھی بدلا رہےہیں۔اسی طرح کتب تفاسیرکیساتھ بھی یہ ظلم ہورہا ہے۔

تحریفات کے علاوہ بھی کچھ وجوہات ہیں جو نیچےبیان کررہا ہوں۔
1۔کتاب کیضحامت زیادہ ہوتی ہےلہذاوہ احادیث جومکررآتی ہیں انکوحوالوں کیساتھ بیان کردیا جاتاہے۔یااس بارےمیں اہل علم آگاہ ہوتےہیں۔
2۔اسی طرح کتب کے تراجم میں بھی مکررات کی تعدادنکال دیجاتی ہے۔اسلیےتراجم میں احادیث کم ہوتی ہیں۔تاکہ عام صارف پراضافی جلدوں کابوجھ نہ بنے۔جبکہ علماءکیلیے اصل مکمل نسخےموجودہوتےہیں۔
3۔بعض لوگ اپنےمفاد کیلیےاحادیث کوصحیح و ضعیف کے گروپوں میں تقسیم کرکے بھی احادیث میں کمی بیشی کررہےہیں۔جوحدیث اپنےعقیدے کےخلاف ہواسےضعیف قرار دینےکی روش چل نکلی ہے۔اورجب ضعیف کہ دیا توپھراسکو موضوع کیطرح رد کردیا جاتا ہے۔
کتب تفاسیر میں تبدیلیوں کی ایک مثال تفسیرابن کثیرہے۔مارکیٹ میں اسکےدوطرح کے نسخے دستیاب ہیں۔اسکی وضاحت کیلیےآپ قدیمی کتب خانہ کراچی شائع کردہ نیانسخہ جسکے شروع میں مشتہر کیطرف سےلکھی گئی تمہیدکے پہلےپیراگراف سے لگایاجاسکتاہے۔
اصل عربی عبارت کامفہوم لکھ رہا ہوں کیوں کہ میرےسامنے کتاب نہیں ہے۔اسی طرح سکینرکی سہولت نہ ہونے کیوجہ سےاصل صفحہ سکین کر کے نہیں لگا سکتا۔
بعض میں اگرکسی دوست کواصل عبارت مل جائےتونئے مراسلے میں لگا دیں۔
"نصحناھذاالکتاب ببعض اخوت الافاضل لاعادۃ النظرلطبعتنا"
ترجمہ:
ہم نے اس کتاب کواپنےبعض فاضل دوستوں کی مددسےاپنی مرضی کیمطابق تصحیح کروایا۔
یہ بیان کرنیکی وجہ یہ کہ ایک مرتبہ ایک عالم دوست کےپاس بیٹھ کرتفسیرضیاءالقرآن دیکھ رہےتھےاسمیں سماع موتی یعنی مردوں کےسننے پرتفسیرابن کثیر کاحوالہ دیا
مگر مذکورہ بالاکمپنی کے شائع کردہ نسخےکی تیسری جلدمیں سورہ روم کی آیت 51،52 کی تفسیرمیں حوالہ نہ ملا۔پھراسکی پہلی جلد میں مذکورہ بالا عبارت دیکھ کر حقیقت واضح ہوگئی۔اسکے بعدمکتبہ حقانیہ پشاور کانسخہ دیکھاتو بالکل درست حوالہ تھا۔

یہ تحریفات عام ہو رہی ہیں۔پاکستانی نسخوں میں بھی اور عربی نسخوں میں بھی۔
فاروق بھائی سے میری درخواست ہے کہ احادیث سےمت بھاگیں۔بلکہ احادیث کے دفاع کیلیے کام کریں تاکہ فرامین نبوی محفوظ رہیں اور رہتی دنیا تک دین اسلام قابل عمل ہو۔اگر اللہ تعالی نےآپ کوعقل شعور اور وسائل دیے ہیں تو خدمت حدیث کے نام پر ہونے والی تحریفات کیخلاف کام کریں۔اوراس کی تعلیم حاصل کریں۔پرانے نسخوں کا موازنہ کرلیں جہاں ڈنڈی ہو گی پتہ چل جائیگا۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-12-10), کنعان (19-12-10), نورالدین (23-12-10), ابوسعد (23-12-10), احمد بلال (20-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (21-12-10)
پرانا 19-12-10, 11:02 PM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

غیاث صاحب کی رائے میں فاروق صاحب کے پیش کردہ اعتراض یعنی کتب میں موجود روایات کی تعداد میں

ایک ہی قسم کی کتب احادیث میں موجود احادیث کی تعداد کے فرق کی بنیادی وجہ بار بار دوہرائی جانے والی احادیث کو ایک بار پیش کیا جانا، احادیث کو صحیح یا ضعیف کے گروپس میں تقسیم کر کے محض متعلقہ احادیث کا پیش کیا جانا، ہے تاکہ عام صارف پر بوجھ نہ بنے جبکہ علما کے پاس کتب مکمل حالت میں ہی پائی جاتی ہیں۔

جبکہ متن میں بھی فرق ڈالنے کی کوششیں کی جاتی ہیں ۔ جسکی انہوں نے چند امثال بھی پیش کیں۔

جی باقی احباب کی کیا رائے ہے؟
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-12-10), فیصل ناصر (20-12-10), نورالدین (23-12-10), احمد بلال (20-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (21-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10), غیاث (19-12-10)
پرانا 19-12-10, 11:33 PM   #11
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
بدر بھائی!‌کیا ایسا نہیں‌ہو سکتا کہ آپ اس تھریڈ‌کو ہوسٹ‌کریں اور ایک مسئلے کی وضاحت ختم ہونے کے بعد اگلا سوال کیا جائے؟ میرا مشورہ ہے کہ آپ مندرجہ بالا مراسلات میں‌پیش کیے گئے سوالوں کو ایک ایک کر کے سامنے لائیں، جسے نیا سوال کرنا ہو وہ آپ کو ذپ کر دے، پھر آپ مناسب موقع پر اسے پیش کر دیں۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-12-10), فیصل ناصر (20-12-10), کنعان (20-12-10), نورالدین (23-12-10), ننھا بچہ (01-09-11), حیدر (20-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (21-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
پرانا 19-12-10, 11:39 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا، بدر بھائی ، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کی اس کاوش کو سب قارئین کے لیے دین دنیا اور آخرت کی خیر والا بنا دے ،
آپ کا کہنا بجا ہے ، فاروق خان صاحب نے جن فروقات کا ذکر کیا ہے اگر اس کو الگ الگ کر کے مثالوں کے ساتھ واضح طو ر پر بیان فرما دیں تو ان شاء اللہ بات سمجھنے سمجھانے میں بہت آسانی رہے گی ،
میری کوشش رہے گی کہ میں ان شاء اللہ اگلے دس بارہ دن بعد اس تھریڈ کو باقاعدہ وقت دیا کروں ، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ یہاں زیر بحث لائے جانے والے موضوع کو میرے لیے بھی بہت کچھ سیکھنے کا ذریعہ بنائے گا ،
فی الحال ایک دو گذارشات شامل کرنا چاہتا ہوں کہ ایک ہی کتاب کے مختلف ایڈیشنز میں احادیث کی ترقیم (نمبرنگ) یا عناوین کی ترقیم کے فرق کا بڑا سبب ناشرین کا اپنا تصرف ہوتا ہے ، جس کا احادیث کے اصل متون پر کوئی منفی اثر نہیں ہوتا ،
مثال کے طور پر دیکھیے ، میرے پاس صحیح البخاری کے دو نسخے ہیں ان میں ایک میں صحیح البخاری کی پہلی ہی """کتاب بدء الوحی""" کی سات احادیث کو اسی ایک ہی کتاب میں کسی باب کی ترقیم کے بغیر رکھا گیا ہے ،
دوسرا نسخے میں اسی """ کتاب بدء الوحی """ کی ان سات احادیث کو چھ ابواب میں تقسیم کر کے ہر باب کو بھی ایک رقم (نمبر) دے کر چھاپا گیا ہے ، حدیث رقم ۳ اور ۴ کو ایک باب میں جمع کیا گیا ہے کہ دونوں ہی میں ایک موضوع کے بارے میں اطلاع ہے ، لہذا ناشر اور اس کے پاس موجود صاحب علم لوگوں نے ان دونوں احادیث کو ایک باب میں جمع کرنا مناسب خیال کیا ہوگا ،
انہی دو نسخوں کا تقابل کرتے چلیے تو احادیث کی ترقیم میں پہلا فرق """ کتاب الوضوء/باب ۱۳ """ میں آن پڑا ہے ، وہ یوں کہ اول الذکر نسخے میں دو روایات ایک ہی رقم کے تحت مکتوب ہیں ، اور موخرالذکر نسخے میں دونوں کو الگ الگ رقم دے دی گئی ہے ، لیکن متون و اسناد میں کوئی فرق نہیں،
اس قسم کے فروقات کے ساتھ چلتے چلتے دونوں کتابوں میں آخری آخری روایت کی ارقام بالترتیب 7124 اور 7563 ہیں ،
اب اس تبدیلی سے بظاہر تو دو نسخوں میں ایسا فرق پڑ گیا جو شکوک کے ظہور کے لیے کافی ہے کہ دیکھیے صاحب ان کتابوں پر اعتماد کیسا کہ ایک کتاب میں تو باب ہیں ہی نہیں اور دوسری میں باب ہیں ، ایک کتاب میں حدثیوں کی تعداد اتنی ہے اور دوسری میں اتنی ، جبکہ اگر ایک ایک روایت کا موازنہ کیا جائے تو یہ حقیقت نظر آتی ہے کہ ترقیم کے اس فرق سے کتاب کے اصل مواد یعنی حدیث شریف اور اسناد میں کوئی فرق نہیں ،
یہ مثالں وضاحت کے آغاز کے طور پر پیش کی ہیں ، مزید بات چیت ان شاء اللہ مثالوں کے سامنے آنے پر کرنا ہی ان شاء اللہ بہتر رہے گی ، اور ان شاء اللہ دس پندرہ دن بعد ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-12-10), کنعان (20-12-10), نورالدین (23-12-10), موجو (14-03-12), ابو عبداللہ (11-02-11), ابوسعد (23-12-10), حیدر (20-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (21-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
پرانا 20-12-10, 12:08 AM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
بدر بھائی!‌کیا ایسا نہیں‌ہو سکتا کہ آپ اس تھریڈ‌کو ہوسٹ‌کریں اور ایک مسئلے کی وضاحت ختم ہونے کے بعد اگلا سوال کیا جائے؟ میرا مشورہ ہے کہ آپ مندرجہ بالا مراسلات میں‌پیش کیے گئے سوالوں کو ایک ایک کر کے سامنے لائیں، جسے نیا سوال کرنا ہو وہ آپ کو ذپ کر دے، پھر آپ مناسب موقع پر اسے پیش کر دیں۔
جی بہتر ہے۔ انشا اللہ میں بھی کوشش کروں گا کہ ہر ایک دو گھنٹے بعد اس تھریڈ میں وزٹ کر لیا کروں۔ اس کو بُک مارک کر لیتا ہوں
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (21-12-10)
پرانا 20-12-10, 12:17 AM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پہلا سوال خود میری طرف سے تھا اور ہے۔

یہ سوال مراسلہ نمبر 4 میں وضاحت کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔

یعنی اس میں عبد اللہ بھائی آپ سے، عادل سہیل بھائی سے اور جو احادیث میں کسی قسم کی تبدیلی کا انکار کرتے ہیں ان سے یہ سوال ہے کہ "ان کتابوں کا پرانا ترین نسخہ کتنا پرانا میسر ہے؟کیا وہ کسی لائبریری میں ہے؟ "
عبداللہ بھائی نے سابقہ تھریڈ میں جواب تو دیا تھا لیکن وہ تشفی بخش نہیں تھا۔ مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔


جبکہ چچا فاروق سرور ، بھائی نوشاد، بھائی عامر اور ان احباب سے کہ جو ان کتب میں موجود کئی احادیث کو خلاف قرآن مانتے ہیں اُن سے سوال ہے کہ "کیا آپ لوگ ایسے ثبوت مہیا کر سکتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ بخاری اور مسلم کے عربی متن میں فرق پڑ گیا ہو؟ کہ ایک ملک کی بخاری میں کُچھ اور عربی ہو جبکہ کسی اور ملک کی بخاری میں کوئی اور عربی متن۔؟"
چچا فاروق سرور نے مراسلہ نمبر 5 میں چند ثبوت تو دئیے ہیں لیکن وہ اتنے بڑے الزام کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ براہ مہربانی اپنے موقف کو مزید دلائل اور امثال سے واضح کیجیے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-12-10), نورالدین (23-12-10), موجو (14-03-12), ابو عبداللہ (11-02-11), ابوسعد (23-12-10), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (21-12-10)
پرانا 20-12-10, 12:18 AM   #15
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں‌شاید اپنا مدعا نہیں‌سمجھا پایا۔ تمام سوالات اور مراسلات یہاں‌ پوسٹ نہ کریں، اس کے لیے سابقہ تھریڈ کافی ہے، وہاں کیے گئے سوالات کو آپ ایک ایک کر کے یہاں‌ پیش کریں، اس پر سیر حاصل گفتگو ہو جائے تو اگلا سوال کر دیں۔ سٹیپ بائی سٹیپ چلنے میں‌ سب کو آسانی ہو گی۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-12-10), کنعان (20-12-10), نورالدین (23-12-10), موجو (14-03-12), رضی (31-08-11), شمشاد احمد (21-12-10), عبداللہ آدم (20-12-10)
جواب

Tags
color, quot, فورم, ہے۔, کوشش, گئی, پسند, یا, وقت, قدم, قرآنی, لوگ, نام, نظر, مقصد, اللہ, الزام, انداز, اسلام, توجہ, ثبوت, خدمت, شروع, ضوابط, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ََِِ"" اپنا وزن کم کریں "" مژگان فیشن اور بیوٹی ٹپس 29 01-01-12 02:34 AM
انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" Hashims Search Engines 8 02-09-11 03:24 PM
اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 17 23-02-11 07:37 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
تعمیر نوِ حرمین شریفین "عظیم منصوبے" shafresha متفرقات 12 14-05-10 02:09 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:17 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger