| حجت حدیث حجت حدیث |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1208
|
||||
| 15 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا | asakpke (11-12-10), shafresha (08-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), فرخ ظفر (08-12-10), کنعان (10-12-10), ھارون اعظم (10-12-10), یاسر عمران مرزا (09-12-10), محمدخلیل (08-12-10), مرزا عامر (10-12-10), حیدر (08-12-10), رضی (11-12-10), شمشاد احمد (08-12-10), عامرشہزاد (14-12-10), عبداللہ آدم (12-12-10), عبداللہ حیدر (08-12-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عقل گواہی دیتی ہے کہ ایسا ضرور ہوا ہو گا اور تاریخ گواہی دیتی ہے کہ فی الواقع ایسا ہی ہوا ہے۔ آج حدیث کا جو علم دنیا میں موجود ہے وہ تقریباً دس ہزار صحابہ سے حاصل کیا گیا ہے۔ تابعین نے صرف ان کی احادیث ہی نہیں لی ہیں بلکہ ان سب صحابیوں کے حالات بھی بیان کر دیئے ہیں اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ کس نے حضور ﷺ کی کتنی صحبت پائی ہے یا کب اور کہاں آپ کو دیکھا ہے اور کن کن مواقع پر آپ کی خدمت میں حاضری دی ہے۔ فاضل جج تو یہ فرماتے ہیں کہ احادیث ابتدائی دور کے مسلمانوں کے ذہن میں دفن پڑی رہیں اور دو ڈھائی صدی بعد امام بخاری اور ان کے ہم عصروں نے انہیں کھود کر نکالا۔ لیکن تاریخ ہمارے سامنے جو نقشہ پیش کرتی ہے ، وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ صحابہ میں سے جن حضرات نے سب سے زیادہ روایات بیان کی ہیں، ان کی اور ان کے مرویات کی فہرست ملاحظہ ہو :
ابو ہریرہ ۔۔۔ متوفی 57 ھ ۔ تعداد احادیث 5374 (ان کے شاگردوں کی تعداد 800 کے لگ بھگ تھی اور ان کے بکثرت شاگردوں نے ان کی احادیث کو قلمبند کیا تھا۔) ابو سعید خدری، ۔۔متوفی 46 ھ ۔۔1170 جابر بن عبد اللہ، ۔۔۔متوفی 74 ھ ۔۔1540 انس بن مالک، ۔۔متوفی 93 ھ ۔۔1286 ام المومنین عائشہ صدیقہ، متوفیہ 59 ھ ۔2210 عبد اللہ بن عباس، ۔۔متوفی 68 ھ ۔۔1660 عبد اللہ بن عمر،۔۔متوفی 70 ھ ۔ 1630 عبد اللہ بن عمرو بن عاص، ۔۔متوفی 63 ھ ۔۔ 700 عبد اللہ بن مسعود ۔۔۔۔۔۔۔متوفی 32 ھ ۔۔ 848 کیا یہ اسی بات کا ثبوت ہے کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حالات کو اپنے سینوں میں دفن کر کے یونہی اپنے ساتھ دنیا سے لے گئے؟ دور صحابہ سے امام بخاری کے دور تک علم حدیث کی مسلسل تاریخ اس کے بعد ان تابعین کو دیکھۓ جنہوں نے صحابہ کرام سے سیرت پاک کا علم حاصل کیا اور بعد کی نسلوں تک اس کو منتقل کیا۔ ان کی تعداد کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ صرف طبقات ابن سعد میں چند مرکزی شہروں کے جن تابعین کے حالت ملتے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں : مدینہ ۔۔ 484 مکہ ۔۔ 131 کوفہ ۔ 413 بصرہ ۔ 164 ان میں سے جن اکابر تابعین نے حدیث کے علم کو حاصل کرنے، محفوظ کرنے اور آگے پہنچانے کا سب سے بڑھ کر کام کیا ہے، وہ یہ ہیں : نام ۔۔۔۔۔ پیدائش ۔۔۔۔۔۔۔ وفات سعید بن المسیب ۔۔۔ ۔۔ 14 ھ ۔۔ 93 ھ حسن بصری ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 21 ھ ۔۔ 110 ھ ابن سیرین ۔۔۔ ۔۔۔ 33 ھ ۔۔ 110 ھ عروہ بن زبیر ۔۔۔ ۔۔ 22 ھ ۔۔ 94 ھ (انہوں نے سیرت رسول پر پہلی کتاب لکھی)۔ علی بن حسین (زین العابدین) ۔۔۔ 38 ھ ۔۔94 ھ مجاہد ۔۔۔ ۔۔۔ 21 ھ ۔۔104 ھ قاسم بن محمد بن ابی بکر ۔ 37 ھ ۔۔ 106 ھ شریح (حضرت عمر کے زمانے میں قاضی مقرر ہوئے) ۔۔ 37 ھ ۔۔ 78 ھ مسروق (حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مدینہ آئے) ۔۔۔۔ 37 ھ ۔۔ 63 ھ اسود بن یزید ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 37 ھ ۔۔ 75 ھ مکحول ۔۔۔ ۔۔۔ 37 ھ ۔۔۔ 112 ھ رجاء بن حیوہ ۔۔۔ ۔۔ 37 ھ ۔۔ 103 ھ ہمام بن منبہ ۔۔۔ ۔۔۔ 40 ھ ۔۔ 131 ھ (انہوں نے احادیث کا ایک مجموعہ مرتب کیا جو صحیفۂ ہمام بن منبہ کے نام سے آج بھی موجود ہے اور شائع ہو چکا ہے)۔ سالم بن عبد اللہ بن عمر ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ 106 ھ نافع مولیٰ عبد اللہ بن عمر ۔۔۔ ۔۔۔۔ 117 ھ سعید بن جبیر ۔۔۔ ۔۔ 45 ھ ۔ 95 ھ سلیمان الاعمش ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 61 ھ ۔ 148 ھ ایوب المستحتیاتی ۔۔۔ ۔۔۔۔ 66 ھ ۔ 131 ھ محمد بن المنکدر ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 54 ھ ۔ 130 ھ ابن شہاب زہری ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ 58 ھ ۔ 124 ھ (انہوں نے حدیث کا بہت بڑا تحریری ذخیرہ چھوڑا) سلیمان بن یسار ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ 34 ھ ۔ 107 ھ عکرمہ مولیٰ ابن عباس ۔۔۔ ۔ 22 ھ ۔ 105 ھ عطا بن ابی رباح ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ 27 ھ ۔ 115 ھ قتادہ بن وعامہ ۔۔۔ ۔۔ 61 ھ ۔ 117 ھ عامر الشعبی ۔۔۔ ۔۔ 17 ھ ۔ 104 ھ علقمہ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ 62 ھ (یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں جوان تھے مگر حضور ﷺ سے ملے نہیں۔) ابراہیم النخعی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 46 ھ ۔ 96 ھ زید بن ابی حبیب ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 53 ھ ۔ 128 ھ ان حضرات کی تواریخ پیدائش و وفات پر ایک نگاہ ڈالنے سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ ان لوگوں نے صحابہ کے عہد کا بہت بڑا حصہ دیکھا ہے۔ ان میں سے بیشتر وہ تھے جنہوں نے صحابہ کے گھروں میں اور صحابیات کی گودوں میں پرورش پائی ہے اور بعض وہ تھے جن کی عمر کسی نہ کسی صحابی کی خدمت میں بسر ہوئی ہے۔ ان کے حالات پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے ایک ایک شخص نے بکثرت صحابہ سے مل کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حالات معلوم کیے ہیں اور آپ ﷺ کے ارشادات اور فیصلوں کے متعلق وسیع واقفیت بہم پہنچائی ہے۔ اسی وجہ سے روایت حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ انہی لوگوں سے بعد کی نسلوں کو پہنچا ہے۔ تاوقتیکہ کوئی شخص یہ فرض نہ کر لے کہ پہلی صدی ہجری کے تمام مسلمان منافق تھے، اس بات کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا کہ ان لوگوں نے گھر بیٹھے حدیثیں گھڑ لی ہوں گی اور پھر بھی پوری امت نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا ہو گا اور ان کو اپنے اکابر علما میں شمار کیا ہو گا۔ اس کے بعد اصاغر تابعین اور تبع تابعین کا وہ گروہ ہمارے سامنے آتا ہے جو ہزارہا کی تعداد میں تمام دنیائے اسلام میں پھیلا ہوا تھا۔ ان لوگوں نے بہت بڑے پیمانے پر تابعین سے احادیث لیں اور دور دور کے سفر کر کے ایک ایک علاقے کے صحابہ اور ان کے شاگردوں کا علم جمع کیا، ان کی چند نمایاں شخصیتیں یہ ہیں : نام ۔۔۔۔۔ پیدائش ۔۔۔ وفات جعفر بن محمد بن علی (جعفر الصادق) ۔ 80 ھ ۔۔ 148 ھ ابو حنیفہ النعمان (امام اعظم) ۔۔ 80 ھ ۔۔ 150 ھ شعبہ بن الحجاج ۔۔۔ 83 ھ ۔۔ 160 ھ لیث بن سعد ۔۔۔۔۔۔۔ 93 ھ ۔۔ 165 ھ ربیعہ الرائے (استاذ امام مالک) ۔۔؟؟۔۔ 136 ھ سعید بن عروبہ ۔۔۔۔۔۔؟؟ ۔۔ 156 ھ مسعر بن کدام ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ ۔۔۔ 126 ھ عبد الرحمٰن بن قاسم بن محمد بن ابی بکر ۔۔ 97 ھ ۔۔ 161 ھ حماد بن زید ۔۔۔ 98 ھ ۔۔ 179 ھ |
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا | shafresha (08-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), فرخ ظفر (08-12-10), کنعان (10-12-10), مرزا عامر (10-12-10), حیدر (08-12-10), حسنین ایوب (09-12-10), شمشاد احمد (08-12-10), طاھر (08-12-10), عامرشہزاد (14-12-10), عبداللہ آدم (12-12-10), عبداللہ حیدر (08-12-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دوسری صدی ہجری کے جامعین حدیث
یہی دور تھا جس میں حدیث کے مجموعے لکھنے اور مرتب کرنے کا کام باقاعدگی کے ساتھ شروع ہوا۔ اس زمانے میں جن لوگوں نے احادیث کے مجموعے مرتب کیے، وہ حسب ذیل ہیں : نام پیدائش وفات کارنامہ ربیع بن صبیح 160ھ انہوں نے ایک ایک فقہی عنوان پر الگ الگ رسائل مرتب کیے سعید بن عروبہ 156ھ ۔۔۔ ایضاً ۔۔۔ موسیٰ بن عقبہ 141ھ انہوں نے بنی صلی اللہ علیہ و سلم کے غزوات کی تاریخ مرتب کی امام مالک 93ھ 179ھ انہوں نے احکام شرعی کے متعلق احادیث و آثار کو جمع کیا ابن جریج 80ھ 180ھ --- ایضا ً--- امام اوزاعی 88ھ 186ھ --- ایضاً --- سفیان ثوری 97ھ 161ھ --- ایضاً --- حماد بن سلمہ بن دینار 176ھ --- ایضاً --- امام ابو یوسف 113ھ 183ھ --- ایضاً --- امام محمد 131ھ 189ھ --- ایضاً --- محمد بن اسحاق 151ھ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت پاک مرتب کی۔ ابن سعد 168ھ 220ھ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ و تابعین کے حالات جمع کیے عبید اللہ بن موسیٰ العبسی 213ھ انہوں نے ایک ایک صحابی کی روایات الگ الگ جمع کیں۔ مسدو بن مسرحد البصری 218ھ --- ایضا --- اسد بن موسی 212ھ --- ایضا --- نعیم بن حماد الخراعی 218ھ --- ایضا --- امام احمد بن حنبل 164ھ 241ھ --- ایضا --- اسحاق بن راہویہ 161ھ 230ھ --- ایضا --- عثمان بن ابی شیبہ 156ھ 231ھ --- ایضا --- ابوبکر بن ابی شیبہ 159ھ 235ھ انہوں نے فقہی ابواب اور صحابہؓ کی جداگانہ مرویات دونوں کے لحاظ سے احادیث جمع کیں۔ ان میں سے امام مالک، امام ابو یوسف، امام محمد، محمد بن اسحاق، ابن سعد، امام احمد بن حنبل اور ابوبکر ابن ابی شیبہ کی کتابیں آج تک موجود ہیں اور شائع ہو چکی ہیں۔ نیز موسیٰ بن عقبہ کی کتاب المغازی کا ایک حصہ بھی شائع ہو چکا ہے اور جن حضرات کی کتابیں آج نہیں ملتیں وہ بھی حقیقت میں ضائع نہیں ہوئی ہیں بلکہ انکا پورا مواد بخاری و مسلم اور ان کے ہم عصروں نے اور ان کے بعد آنے والوں نے اپنی کتابوں میں شامل کر لیا ہے۔ اس لیے لوگ ان سے بے نیاز ہوتے چلے گئے۔ امام بخاری کے دور تک علم حدیث کی اس مسلسل تاریخ کو دیکھنے کے بعد کوئی شخص فاضل جج کے ان ارشادات کو آخر کیا وزن دے سکتا ہے، کہ "احادیث نہ یاد کی گئیں نہ محفوظ کی گئیں بلکہ وہ ان لوگوں کے ذہنوں میں چھپی پڑی رہیں جو اتفاقاً کبھی دوسروں کے سامنے ان کا ذکر کر کے مر گئے یہاں تک کہ ان کی وفات کے چند سو برس بعد ان کو جمع اور مرتب کیا گیا۔" اور یہ کہ "بعد میں پہلی مرتبہ رسول اللہ کے تقریباً ایک سو برس بعد احادیث کو جمع کیا گیا مگر ان کا ریکارڈ اب محفوظ نہیں ہے۔" اس موقع پر ہم یہ عرض کرنے کے لیے مجبور ہیں کہ ہائی کورٹ جیسی بلند پایہ عدالت کے ججوں کو علمی مسائل پر اظہار خیال کرنے میں اس سے زیادہ محتاط اور باخبر ہونا چاہیے۔ |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا | shafresha (08-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), فرخ ظفر (08-12-10), کنعان (10-12-10), مرزا عامر (10-12-10), حیدر (08-12-10), طاھر (08-12-10), عامرشہزاد (14-12-10), عبداللہ آدم (12-12-10), عبداللہ حیدر (08-12-10) |
|
|
#4 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اللہ تمام علمائے حق کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے ۔ آمین |
|
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (08-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), کنعان (10-12-10), ھارون اعظم (10-12-10), نورالدین (13-12-10), مرزا عامر (10-12-10), احمد بلال (10-12-10), رضی (10-12-10), شمشاد احمد (08-12-10), طاھر (08-12-10), عامرشہزاد (14-12-10), عبداللہ حیدر (08-12-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
طلحہ بھائي اللہ تعالي آپ كو بہترين بدلہ اپني شان كےمطابق عطا فرمائے۔۔۔۔ آمين۔۔۔۔
اورآپ كياس كاوش سے يقينا بہت سے مسلمانوں كا بھلا ہو گا اورانہيں اپني نبي صلي اللہ عليہ والہ وسلم كي تعليمات سے آگاہي حاصل ہو گي۔۔۔۔۔۔۔۔ ليكن جن كا كوا سفيد ہے ان كو تشفي نہ ہو گي۔ البتہ ان كے لئے دعاء خير كي تمام احباب سےگذارش ہےكہ وہ چند لمحات كے لئے اپنےكوےكو ايك طرف ركھ كر دوسروںكي معروضات پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور فرمائيں۔۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم،
شکریہ طلحہ۔ آپ نے اچھا اور بروقت انتخاب کیا ہے۔ اللھم اھد قلوبنا و سدد السنتنا۔ اللھم انا نعوذبک من الفتن ما ظھر منھا و ما بطن |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (09-12-10), فیصل ناصر (09-12-10), ھارون اعظم (10-12-10), مرزا عامر (10-12-10), احمد بلال (10-12-10), حیدر (09-12-10), طلحہ (10-12-10), عبداللہ آدم (12-12-10) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,181
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
طلحہ بھائي اللہ تعالي آپ كو بہترين بدلہ اپني شان كےمطابق عطا فرمائے۔۔۔۔ آمين۔۔۔۔
اقتباس:
چاہے آپ کسی کو دل کے کتنے بھی قریب سمجھتے ہو ابھی کسی تھریڈ میں آپ کہہ رہے تھے کسی کا مسلک چھیڑو نہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس لئے ميرے انداز سے اگر آپ كو كچھ ايسا ويسا محسوس ہوتا ہے باوجود اس كے ميں نے كسي كا نام نہيں ليا۔۔۔۔ تو ميں آپ كے محسوسات پر اثر انداز نہيں ہو سكتا اور نہ ان كو تبديل كر سكتا ہوں۔۔۔ اس كے لئے بھائي آپ كو خود ہي كچھ رياضت كرنا ہو گي۔۔۔ باقي انكار حديث كا نظريہ مسلك نہيں ہدم اسلام كي ايك تحريك ہے جوروپ بدل بدل كر ہردور ميں نكل پڑتي ہے۔۔۔ اب كل آپ اگر يہ كہيں كہ جي شمشاد صاحب آپ تو كہتے ہيں كہ كسي كے مسلك كو چھيڑو نہيں تو ختم نبوت پر آپ كے كمنٹس قادياني مسلك كو چھيڑنا ہيں۔۔۔۔ تو ميں اسي طرح آپ سے معذرت كر كے كنارہ كش ہو جاؤں گا جيسا كہ۔۔۔۔۔ توہين رسالت كے ايك دھاگے ميں ہو گيا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ا ور ہاں كسي مسلك كو چھيڑنے كا مجھے شوق ہے۔۔۔۔۔ يہي وجہ ہے كہ آپ نے مجھے اہل سنت والجماعت كے كسي بھي فروعي اختلافي مسائل ميں الجھتے ہوئے نہيں ديكھا ہو گا۔۔۔۔ سوائے تقليد كے ايك موضوع پر آپ سے بات شروع ہوئي تھي اور جب تك اچھے انداز ميں چلتي رہي تو اس ميں شامل رہا۔۔۔۔۔ ليكن جب اس ميں آپ كے نظريہ كے حامل حضرات تشريف لے آئے جو دوسرے كے مسلك كو چھيڑنا اپنے مسلك كي حقانيت كي دليل سمجھتے تھےتو ميں سائڈ مار گيا۔۔۔۔۔۔۔۔ كاش آپ كو اس قسم كي نصائح فاروق صاحب اينڈ كو كے الہامي كلام پر بھي ياد آ جايا كريں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شكريہ۔ |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (09-12-10), فیصل ناصر (10-12-10), ھارون اعظم (10-12-10), مرزا عامر (10-12-10), احمد بلال (10-12-10), حیدر (09-12-10), عبداللہ آدم (11-12-10), عبداللہ حیدر (09-12-10) |
|
|
#9 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,502
کمائي: 118,635
شکریہ: 13,510
4,907 مراسلہ میں 16,697 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
--------- |
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ شکریہ۔ شکر ہے کسی کو تو یہ باتیں سمجھ آئیں۔
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا | shafresha (11-12-10), فیصل ناصر (10-12-10), کنعان (11-12-10), مرزا عامر (10-12-10), عبداللہ آدم (12-12-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مقام: Attock City, Pakistan
مراسلات: 197
کمائي: 4,908
شکریہ: 777
143 مراسلہ میں 350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی تحریر ہے۔
کچھ تاریخیں غلط نظر آ رہی ہیں ان کو درست کر لیں۔ مثلا نام ۔۔۔۔۔ پیدائش ۔۔۔۔۔۔۔ وفات سعید بن المسیب ۔۔۔ ۔۔ 14 ھ ۔۔ 93 ھ میں 14 کی بجائے 41 اور 93 کی بجائے 39 نظر آ رہا ہے اسی طرح باقی جگوں پر بھی ہے۔
__________________
عامر شہزاد asakpke.com اردو بلاگ asakpke-urdu.blogspot.com انگریزی بلاگ asakpke.blogspot.com |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے asakpke کا شکریہ ادا کیا | shafresha (11-12-10), مرزا عامر (11-12-10), طلحہ (12-12-10), عبداللہ آدم (11-12-10), غیاث (14-12-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کچھ محفوظ حدیث کے بارے میں یہاں بھی کچھ لھا گیا ہے۔
احادیث کا دفاع چند مثالیں |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آ گئے وہ جن کا انتظار تھا۔
بقول ضرار اب تم دیسی اور ولایتی مولوی لڑتے رہو۔ میں اب تمہارا تماشا دیکھوں گا۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جی بھائی ڈھائی سو برس تک منظر عام پر رہیں اور اس کے بعد اچانک ان کی تعداد 600،000 سے تجاوز کر گئی ۔ پھر اسے نئے سرے سے لکھا گیا۔ چنگیز خان نے تمام کتابوں کو دریا سپرد کردیا پھر نئے سرے سے ترتیب دیا گیا اور ہمارے سامنے آیا ظن۔
عراق اور شام میں پھیلی الف لیلیٰ کی داستانیں حضرت موسیٰ کے دلچسپ و عجیب قصے ، حضرت عیسیٰ کی میناروں پر لینڈنگ ، عورت منحوس ، کتے بندر اور عورت میں کوئی فرق نہیں ، پیشاب کی برکات ، جنت سے نکلوانے مین عورت کا ہاتھ یعنی تبدیل شدہ توریت اور انجیل کے قصے اور ہاں تبد یل شدہ انجیل کا حدیث کے نام پر ایک اور قصہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ۔ ہندووں کو پنڈتوں نے، یہودیوں کو رباعیوں نے ، عیسائیوں کو پادریوں نے اور مسلمانوں کو ملاوں نے مروادیا ۔ آج جس کتاب بخاری کو قران سے افضل سمجا جاتا ہے وہ اپنی اصل حالت میں بھی موجود نہیں ۔ مصروفیت کی وجہ سے ملتے ہیں چند روز بعد انشاءاللہ اور ہاں ذرا آیئے تو سہی یہاں بھی احادیث کا دفاع چند مثالیں
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| فاضل, ڈھائی, نکتہ, مودودی, ملاحظہ, آئینی, ابو, احادیث, ارشاد, اصل, بڑا, برس, تحریری, ثبوت, جج, حیثیت, ذرا, رسول, زہری, سید, سو, سنت, عقل, عمرو, عائشہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| رعنائیِ نگاہ کو قالب میں ڈھالیے | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 2 | 15-01-11 01:21 PM |
| سقوط ڈھاکہ کے چند سر بستہ راز: امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی تحریروں میں | حیدر | 1971 اور مشرقی پاکستان | 23 | 14-02-10 05:10 AM |
| آگہی کی لذت - اِس نظر کی موج میں آنے والا ہر پل اپنے اوپر ناز کرتا ہے از الطاف گوہر | گوہر | تاریخ اور فلسفہ | 0 | 30-07-09 10:07 PM |
| ورڈپریس کی اردو پوشاکیں؟ | اکرم | اردو پریس (http://wordpress.pk) | 0 | 30-06-09 12:55 PM |
| ورڈپریس ڈاٹ کوم / ورڈپریس ڈاٹ آرجی / ورڈپریس ڈاٹ پی کے ؟ ان تینوں میں کیافرق ہے | عبیداللہ عبید | اردو پریس (http://wordpress.pk) | 10 | 14-06-09 07:44 PM |