واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


کیا کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف ہے ؟!

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-09-11, 03:05 PM   #1
کیا کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف ہے ؟!
رفیق طاہر رفیق طاہر آف لائن ہے 10-09-11, 03:05 PM

منکرین قرآن وحدیث کی جانب کی طرف سے احادیث صحیحہ کو رد کرنے کے لیے کے عموما یہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ بعض صحیح احادیث قرآن کے خلاف ہیں , جن میں سے انکے زعم کے مطابق کچھ متفق علیہ احادیث جو صحت کے اعلى ترین معیار پر ہیں وہ بھی قرآن کے خلاف ہیں ۔
حالانکہ ایسا قطعا نہیں , کبھی بھی کوئی صحیح حدیث قرآن کے خلاف نہیں ہوتی کیونکہ حدیث بھی وحی الہی اور کتاب اللہ ہی ہے , جسطرح قرآن وحی الہی اور کتاب اللہ ہے , اور وحی الہی میں تضاد وتناقض قطعا نہیں ہوتا ہے ۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ لوگوں کی کوتاہ فہمی کی بناء پر ظاہرا انہیں دو احادیث یا احادیث و آیات یا دو آیات کے مابین تناقض و تضاد معلوم ہو ۔ یعنی وہ تناقض اور تضاد بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے عقل وفہم میں پیدا ہوتا ہے حقیقتا ان دو آیات یا احادیث یا آیت وحدیث صحیح کے مابین تضاد نہیں ہوتا ۔
مثلا اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :
إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ [القصص : 56]
آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے , اور لیکن اللہ تعالى جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت یافتگان کو بخوبی جانتا ہے ۔
اور دوسری جگہ اللہ کا یہ فرمان بھی ہے :
وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ [الشورى : 52]
اور آپ یقینا صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتے ہیں ۔
ان دونوں آیات کو پڑھنے سے بادی النظر میں تعارض و تناقض اور تضاد معلوم ہوتا ہے کہ ایک آیت میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کو کہا جا رہا ہے کہ آپ ہدایت نہیں دے سکتے اور دوسرے آیت میں کہا جارہا ہے کہ آپ ہدایت دیتے ہیں !
لیکن حقیقتا ان میں تضاد یا تعارض یا تناقض نہیں , ایک آیات ایکدوسرے کے مخالف نہیں !
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیات ایکدوسرے کے خلاف کیوں نہیں ہیں , اس کا جواب ہم إن شاء اللہ ضرور دیں گے , لیکن پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ جو لوگ احادیث اور قرآن کے مابین تعارض و تناقض و تضاد کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ احادیث صحیحہ قرآن کے خلاف ہیں یا مخالف قرآن ہیں , در حقیقت ان احادیث کا معاملہ بھی قرآن کے ساتھ اسی طرح کا ہوتا ہے جسطرح کا ان دو آیات کا ہے ۔ یعنی حقیقی مفہوم ومعنى کو نہ سمجھنے کی وجہ سے جسطرح یہ دو آیات آپس میں ٹکراتی ہوئی نظر آتی ہیں اسی طرح ان آیات یا احادیث یا دونوں ہی کے حقیقی مفہوم ومعنى کو نہ سمجھنے کی وجہ سے وہ آیات واحادیث آپس میں ٹکراتی معلوم ہوتی ہیں ۔ لیکن جب ان آیات یا احادیث پر گہری نظر ڈالی جائے اور قرآن کا بغور مطالعہ کر لیا جائے تو ان احادیث کا قرآن کے ساتھ تعارض خود ہی ختم ہو جاتا ہے ۔
__________________
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر
جامعہ دار الحدیث محمدیہ
عام خاص باغ ملتان

رفیق طاہر
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 4973
17 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (20-09-11), کاشف اکرم وارثی (12-09-11), ھارون اعظم (12-09-11), ملک اظہر (23-09-11), ملک زوالفقار (11-10-11), مرزا عامر (16-09-11), آبی ٹوکول (10-09-11), ابن آدم (23-09-11), احمد نذیر (10-09-11), حیدر (10-09-11), حیدر Rehan (12-09-11), حسن قادری (11-09-11), راجہ اکرام (02-10-11), سیفی خان (10-09-11), سائل (16-09-11), شھزادباجوہ (23-09-11), عبداللہ آدم (14-09-11)
پرانا 11-09-11, 04:40 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default یہ صحیح حدیث قرآن کے خلاف ہے!

یہ صحیح حدیث قرآن کے خلاف ہے!

صحیح بخاری (Sahih Bukhari)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَمْ يَتَکَلَّمْ حَتَّی يَفْرُغَ مِنْهُ فَأَخَذْتُ عَلَيْهِ يَوْمًا فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ حَتَّی انْتَهَی إِلَی مَکَانٍ قَالَ تَدْرِي فِيمَ أُنْزِلَتْ قُلْتُ لَا قَالَ أُنْزِلَتْ فِي کَذَا وَکَذَا ثُمَّ مَضَی وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ قَالَ يَأْتِيهَا فِي ۔۔۔
رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ

اسحق، نضر، عبد ﷲ بن عون، نافع، مولیٰ ابن عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی ﷲ عنہ قرآن کی تلاوت کے درمیان کسی سے بات نہ کرتے تھے ایک دن میں ان کے پاس گیا تو وہ سورہ بقرہ پڑھ رہے تھے جب اس آیت پر پہنچے ﴿ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ﴾ تو فرمایا تم کو معلوم ہے کہ یہ آیت کس وقت اتری؟ میں نے لا علمی کا اظہار کیا، تو آپ نے وجہ نزول بیان کی اور پھر تلاوت میں مصروف ہو گئے (دوسری سند) عبدالصمد، عبدالوارث، ایوب، نافع سے، وہ حضرت ابن عمر رضی ﷲ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ﴿ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ﴾ سے مطلب یہ ہے کہ مرد عورت سے (دبر میں) جماع کرے۔

یہی حدیث یحیی ، قطان، عبیدﷲ، نافع، ابن عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔

Whenever Ibn 'Umar recited the Qur'an, he would not speak to anyone till he had finished his recitation. Once I held the Qur'an and he recited Surat-al-Baqara from his memory and then stopped at a certain Verse and said, "Do you know in what connection this Verse was revealed? " I replied, "No." He said, "It was revealed in such-and-such connection." Ibn 'Umar then resumed his recitation. Nafi added regarding the Verse:--"So go to your tilth when or how you will" Ibn 'Umar said, "It means one should approach his wife in . ." (Dash, Dash, Dash).

تفسير الطبري (Tafseer Tabari)
3468 - حدثني أبو قلابة قال: ثنا عبد الصمد، قال: ثني أبي، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر: {فأتوا حرثكم أني شئتم} قال: في الدبر

…..ایوب، نافع سے، وہ حضرت ابن عمر رضی ﷲ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ﴿ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ﴾ سے مطلب یہ ہے کہ مرد عورت سے دبر میں جماع کرے۔

It was narrated by Abu Kilaba, narrated by Abdel Samad, who said that it was narrated by his father who narrated from Ayub, narrated from Nafi’, narrated by Ibn Umar who said that (Sura 2:223), ‘Your wives are as a tilth unto you: so approach your tilth when or how you will’ means (الدُّبُر فِي) in anus.

ایک طرف تو امام بخاری نے بخاری میں وطی فی دبرالزوج (Anal Sex) کی اجازت کے بارے میں ادھوری ذو معنی موقوف حدیث لکھی اور بخاری میں ممانعت والی کوئی بھی مرفوع حدیث نہ لکھی اور امام ترمذی نے ترمذی میں لکھا کہ امام بخاری نے ممانعت والی مرفوع حدیث کو سند کی رو سے ضعیف قرار دیا ہے۔ امام طبری و السيوطي اور دیگر نے امام بخاری کی ادھوری ذو معنی موقوف حدیث کو مکمل لکھا ۔

Imam Bukhari writes in Sahih Bukhari an incomplete Hadith which allowed Anal Sex according to Imam Muhammad ibn Jarir al-Tabari, Jalaludeen Sayuti and others. Imam Bukhari did not write any Hadith prohibiting Anal Sex & Imam Tirmidhi first writes in Sunan al-Tirmidhi, a Hadith prohibiting Anal Sex and then told that this Hadith is weak according to Imam Bukhari!
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
پرانا 11-09-11, 05:08 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا صاحب ہر جگہ محض کاپی پیسٹ سے کام چلا رہے ہیں آپ۔
مجھے لگتا ہے کہ آپ پر یہ الزام ٹھیک ہے کہ آپ کے پاس کہنے کو کُچھ نہیں۔
حیدر آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (20-09-11), پاکستانی (12-09-11), نبیل خان (17-09-11), عبدالقدوس (11-09-11), عبداللہ آدم (14-09-11)
پرانا 11-09-11, 05:20 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
رانا صاحب ہر جگہ محض کاپی پیسٹ سے کام چلا رہے ہیں آپ۔
مجھے لگتا ہے کہ آپ پر یہ الزام ٹھیک ہے کہ آپ کے پاس کہنے کو کُچھ نہیں۔

یہ کتاب میں نے لکھی ہے اسی سے حوالہ دیا ہے چیک کرلیں۔


Preservation of Hadith Salute to the Courage of Imam Tabari & Tirmidhi : rana ammar mazhar : Free Download & Streaming : Internet Archive
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (11-09-11), فاروق سرورخان (12-09-11), پاکستانی (12-09-11), نورالدین (16-09-11), حیدر (12-09-11)
پرانا 11-09-11, 09:24 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا عمار مظہر صاحب !
میں اصولی سا بندہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ کوئی بھی بحث کی جائے تو اصولی طریقہ سے , لہذا اس بحث کو شروع کرنے سے قبل ہم کچھ اصولی باتیں سمجھ لیں ۔
یاد رہے کہ آپکی پیش کردہ روایات "حدیث نبوی" نہیں ہیں !
اور
ہماری بحث کا عنوان " حدیث نبوی " ہے ۔
کیونکہ
صحابہ کے اقوال و افعال و تقریرات وحی الہی نہیں لہذا وہ حجت بھی نہیں , اور انہیں موقوفات یا خبر یا اثر کے ناموں سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
بہر حال ہم پہلے "اصولی " باتوں کی طرف آتے ہیں ۔
لہذا سب سے پہلے یہ واضح فرما دیں کہ آنجناب کے نزدیک " خلاف ہونے اور نہ ہونے " سے کیا مراد ہے ؟
میں سمجھتا ہوں کہ خلاف ہونا یا تعارض ہونا یا تناقض ہونا اسے کہتے ہیں کہ ایک جگہ ایک چیز کی نفی کی جارہی ہو تو دوسری جگہ اسی چیز کا اثبات کیا جائے ۔
اگر آپ کے نزدیک بھی تناقض کے یہی معنى ہیں تو بہت خوب اور بہتر , اور اگر آپ تناقض یا تعارض یا خلاف ہونے سے کچھ اور مراد لیتے ہیں تو وہ واضح فرما دیں اور اس پر کوئی دلیل بھی ارشاد فرما دیں , تاکہ یہ بنیادی بات حل ہونے کے بعد ہم اگلے نکتہ پر توجہ مرکوز کریں ۔
رفیق طاہر آف لائن ہے  
10 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (12-09-11), کنعان (20-09-11), ملک اظہر (23-09-11), ملک زوالفقار (11-10-11), آبی ٹوکول (11-09-11), احمد نذیر (12-09-11), حیدر (12-09-11), رضی (12-09-11), عبداللہ ناصر (19-09-11), عبداللہ آدم (15-09-11)
پرانا 12-09-11, 08:15 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,615
کمائي: 31,180
شکریہ: 7,118
2,944 مراسلہ میں 8,724 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رفیق طاہر مراسلہ دیکھیں
رانا عمار مظہر صاحب !

یاد رہے کہ آپکی پیش کردہ روایات "حدیث نبوی" نہیں ہیں !
اور
1۔ ہماری بحث کا عنوان " حدیث نبوی " ہے ۔
2۔ میں سمجھتا ہوں کہ خلاف ہونا یا تعارض ہونا یا تناقض ہونا اسے کہتے ہیں کہ ایک جگہ ایک چیز کی نفی کی جارہی ہو تو دوسری جگہ اسی چیز کا اثبات کیا جائے ۔
برادر محترم، رفیق طاہر، سلام،

آپ نےحدیث نبوی کے بارے میں لکھا ہے کہ ہر صحیح حدیث نبوی قابل قبول ہے۔ سر آنکھوں‌پر۔ ساتھ ہی ساتھ رانا عمار مظہر صاحب کی پیش کردہ بخاری کی روایت کو آپ نے "حدیث نبوی "‌ ماننے سے انکار کردیا۔۔۔ شکریہ۔

کیا ہم یہ طے سکتے ہیں‌کہ کتب روایات سے "حدیث نبوی" کے علاوہ جو کچھ ہے وہ محض روایات ہیں ؟ یہ روایات کسی طور حدیث نبوی قرآر نہیں‌ پاتی ہیں‌؟ مزید یہ کہ ان کا ماننا کسی کے ایمان لانے کے لئے ضروری نہیں ہے ؟

بہت شکریہ

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-09-11), پاکستانی (12-09-11), بلال الراعی (12-09-11), حیدر (12-09-11)
پرانا 12-09-11, 03:36 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
رانا عمار مظہر صاحب !
میں اصولی سا بندہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ کوئی بھی بحث کی جائے تو اصولی طریقہ سے , لہذا اس بحث کو شروع کرنے سے قبل ہم کچھ اصولی باتیں سمجھ لیں ۔
ماشا اللہ۔ بہت اچھی بات کی ہے۔۔۔مستقبل کے مسائل سے بچنے کے لیے۔
ساتھ میں ہی اگر ایک اور اصول بھی طے کر لیں کہ "تناقض کا فیصلہ کس طرح کیا جائے گا؟"

مثلا دیتا ہوں کہ ہو سکتا ہے ایک حدیث آپ کے نزدیک موافق قرآن ہے جبکہ میرے نزدیک وہ مخالف قرآن ہے۔ تو اس بات کا فیصلہ کیسے ہو۔۔۔کہ کس کی بات درست ہے۔

مثلاً ایک مرتبہ ایک حدیث پر اعتراض آیا کہ یہ مخالف قرآن ہے۔ یعنی فطرت کے خلاف ہے۔ میں بات کر رہا ہوں " اونٹنی کے پیشاب پینے والی حدیث کی"۔ اب ایک صاحب اس کو عین موافق قرآن کہہ رہے تھے ، جبکہ دوسرے صاحب کا استدلال تھا کہ یہ قران کے مخالف ہے۔ ایک صاحب نے درمیانی راہ پیش کی کہ بھائیو اس کو بطور اضطراری حالت کے کیوں نہیں لیتے۔ یعنی مجبوری میں انٹنی کا پیشاب پینا جائز ہے اور اس طرح یہ مخالف قرآن بھی نہیں رہتی کیونکہ قرآن خود اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مجبوری میں ناجائز امر کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ بغاوت کا ارادہ نہ ہو۔

چناچہ ایسا بھی کُچھ ہونا چاہیے کہ دو متضاد باتیں ہو رہی ہوں اور فیصلہ نہ ہو رہا ہو ۔۔۔۔تو پھر کیا کیا جائے؟
حیدر آن لائن ہے  
8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
asakpke (11-10-11), فاروق سرورخان (12-09-11), پاکستانی (12-09-11), ام احمد (13-09-11), احمد نذیر (12-09-11), رضی (13-09-11), شھزادباجوہ (12-09-11), عبداللہ ناصر (19-09-11)
پرانا 12-09-11, 03:41 PM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
رانا عمار مظہر صاحب !
میں اصولی سا بندہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ کوئی بھی بحث کی جائے تو اصولی طریقہ سے , لہذا اس بحث کو شروع کرنے سے قبل ہم کچھ اصولی باتیں سمجھ لیں ۔
ماشا اللہ۔ بہت اچھی بات کی ہے۔۔۔مستقبل کے مسائل سے بچنے کے لیے۔
ساتھ میں ہی اگر ایک اور اصول بھی طے کر لیں کہ "تناقض کا فیصلہ کس طرح کیا جائے گا؟"

مثلا دیتا ہوں کہ ہو سکتا ہے ایک حدیث آپ کے نزدیک موافق قرآن ہے جبکہ میرے نزدیک وہ مخالف قرآن ہے۔ تو اس بات کا فیصلہ کیسے ہو۔۔۔کہ کس کی بات درست ہے۔

مثلاً ایک مرتبہ ایک حدیث پر اعتراض آیا کہ یہ مخالف قرآن ہے۔ یعنی فطرت کے خلاف ہے۔ میں بات کر رہا ہوں " اونٹنی کے پیشاب پینے والی حدیث کی"۔ اب ایک صاحب اس کو عین موافق قرآن کہہ رہے تھے ، جبکہ دوسرے صاحب کا استدلال تھا کہ یہ قران کے مخالف ہے۔ ایک صاحب نے درمیانی راہ پیش کی کہ بھائیو اس کو بطور اضطراری حالت کے کیوں نہیں لیتے۔ یعنی مجبوری میں انٹنی کا پیشاب پینا جائز ہے اور اس طرح یہ مخالف قرآن بھی نہیں رہتی کیونکہ قرآن خود اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مجبوری میں ناجائز امر کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ بغاوت کا ارادہ نہ ہو۔

چناچہ ایسا بھی کُچھ ہونا چاہیے کہ دو متضاد باتیں ہو رہی ہوں اور فیصلہ نہ ہو رہا ہو ۔۔۔۔تو پھر کیا کیا جائے؟
حیدر آن لائن ہے  
پرانا 12-09-11, 07:20 PM   #9
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محترم فاروق سرور خاں صاحب !
آپکے سوال کا جواب میرے سابقہ مراسلہ میں موجود ہے کہ
موقوفات وحی الہی نہیں لہذا وہ دین میں حجت نہیں ۔
محترم حیدر صاحب !
اسی مسئلہ کو ہی تو ہم حل کرنے لگے ہیں اور چند سوالوں کے بعد اس مسئلہ کا حل خود ہی ایجاد ہو جائے گا ۔ إن شاء اللہ
کیونکہ جب تضاد و تناقض کا تعین ہو جائے گا تو کوئی غیر متناقض نصوص کو متناقض نہیں کہے گا ۔
اسی لیے میں نے ابتدائی مراسلہ میں دو ایسی آیات تحریر کی ہیں جو بظاہر متعارض و متناقض معلوم ہو رہی ہیں , لیکن ہر مؤمن کا ایمان ہے کہ اللہ کی کلام میں اختلاف نہیں ہے ۔ تو پھر سوال کہ یہ کیوں متعارض معلوم ہوتی ہیں کا جواب معلوم کرنے سے پہلے تعارض وتناقض و تضاد کی تعریف کا تعین ضروری ہے ۔ جب یہ بات متعین ہو جائے گی تو یہ دونوں آیات ہرگز متعارض معلوم نہ ہونگی !
لہذا ضروری ہے کہ پہلے یہ سمجھ لیا جائے کہ تعارض و تناقض کسے کہتے ہیں ؟
رفیق طاہر آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (20-09-11), ام احمد (13-09-11), حیدر (13-09-11), عبداللہ ناصر (19-09-11)
پرانا 12-09-11, 08:30 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default وقال الحافظ ابن حجر في ذلك : منكر لا يصح من وجه كما صرح بذلك البخاري والبزار والنسائي وغير واحد "

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رفیق طاہر مراسلہ دیکھیں
محترم فاروق سرور خاں صاحب !
آپکے سوال کا جواب میرے سابقہ مراسلہ میں موجود ہے کہ
موقوفات وحی الہی نہیں لہذا وہ دین میں حجت نہیں ۔

اینل سیکس (Anal sex) کی ممانعت کے بارے میں تمام مرفوع احادیث ضعیف ہیں! اور اجازت کے بارے میں موقوف احادیث صحیح ہیں!


Tafsir Durre Mansor J1 Told That All 20 Ahadith
(احادیث مرفوع)
Prohibiting Anal Sex Are Weak

Arabic text is as:


قال الحافظ : في جميع الأحاديث المرفوعة في هذا الباب وعدتها نحو عشرين حديثا كلها ضعيفة لا يصح منها
شيء والموقوف منها هو الصحيح
وقال الحافظ ابن حجر في ذلك : منكر لا يصح من وجه كما صرح بذلك البخاري والبزار والنسائي وغير واحد "


اب بتاو؟؟؟
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (13-09-11), حیدر (13-09-11)
پرانا 12-09-11, 08:45 PM   #11
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,181
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا صاحب آپ ڈائیریکٹ آخری اسٹیپ پر قدم رکھ لیتے ؟
پہلے کچھ باتوں کا خلاصہ تو ہونے دیں

ابھی تو اصول و قواعد و ضوابط ہی طے نہیں ہوئے اور آپ نے بم پھوڑ دیا
آپ کو اپنی بات کہنے کا پورا موقع ملے گا
ایک ایک پوائنٹ کو لے کر چلیں تو بات ہم جاہلوں کی سمجھ میں بھی آجائے شاید
ورنہ ابھی ایک تھریڈ میں 15 دن کی کارستانیوں کے بعد نتیجہ " ایک دوسرے کو جاہل " کے خطاب پر منطبق ہوا

امید ہے میری عرضداشت پر غور کریں گے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (13-09-11), حیدر (13-09-11), رضی (13-09-11), عبداللہ ناصر (19-09-11), عبداللہ آدم (15-09-11)
پرانا 12-09-11, 08:45 PM   #12
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,181
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا صاحب آپ ڈائیریکٹ آخری اسٹیپ پر قدم رکھ لیتے ؟
پہلے کچھ باتوں کا خلاصہ تو ہونے دیں

ابھی تو اصول و قواعد و ضوابط ہی طے نہیں ہوئے اور آپ نے بم پھوڑ دیا
آپ کو اپنی بات کہنے کا پورا موقع ملے گا
ایک ایک پوائنٹ کو لے کر چلیں تو بات ہم جاہلوں کی سمجھ میں بھی آجائے شاید
ورنہ ابھی ایک تھریڈ میں 15 دن کی کارستانیوں کے بعد نتیجہ " ایک دوسرے کو جاہل " کے خطاب پر منطبق ہوا

امید ہے میری عرضداشت پر غور کریں گے
فیصل ناصر آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (13-09-11), حیدر (13-09-11)
پرانا 12-09-11, 10:02 PM   #13
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رانا صاحب !
امید ہے کہ آپ فیصل ناصر صاحب کی باتوں پر کان دھریں گے ۔
وطی فی الدبر کی ممانعت میں صحیح احادیث مرفوعا بھی ہیں اور ابن حجر نے فتح الباری میں اسکی طرف اشارہ بھی کیا ہے ۔
لیکن فی الحال ہم جزئیات پر بات نہیں کرنا چاہتے
پہلے اصول طے کرنا چاہتے ہیں , جب اصول طے ہو جائیں گے تو پھر إن شاء اللہ ان تمام تر جزئیات پر خوب کھل کر بات ہوگی ۔
پہلے تضاد وتناقض و تعارض کا معنى متعین کرنا ہے اور پھر اگلا کام ۔ إن شاء اللہ تعالى ۔
وگرنہ پہلی پوسٹ میں میں نے بھی قرآن کریم کی دو آیات پیش کی ہیں , جو کہ ظاہرا آپس میں ٹکراتی ہیں , اگر ظاہر تناقض و تعارض کی وجہ سے احادیث کو رد کرنا ہے تو پھر ان آیات کو بھی رد کرو جو آپس میں ٹکراتی ہیں , مشتے از خراوارے میں نے ایک مثال پیش کی ہے , مثالیں اسکے علاوہ اور بھی ہیں
لیکن جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا یہ تعارض ظاہری ہے حقیقی نہیں , اسی طرح احادیث میں بھی تعارض ظاہری ہوتا ہے حقیقی نہیں ۔
اسی لیے
اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حقیقی تعارض و تناقض کیا ہوتا ہے ؟
لہذا پہلے اس بات کی طرف توجہ مبذول فرمائیں ۔ شکریہ
رفیق طاہر آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (20-09-11), ھارون اعظم (12-09-11), احمد نذیر (14-09-11), حیدر (13-09-11), عبداللہ ناصر (19-09-11), عبداللہ آدم (15-09-11)
پرانا 12-09-11, 10:28 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
رانا صاحب آپ ڈائیریکٹ آخری اسٹیپ پر قدم رکھ لیتے ؟
پہلے کچھ باتوں کا خلاصہ تو ہونے دیں

امید ہے میری عرضداشت پر غور کریں گے
ٹھیک ہے غور کریں گےــــــــــــــــــ
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
حیدر (13-09-11), رفیق طاہر (12-09-11)
پرانا 12-09-11, 10:42 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default وطی فی الدبر کی ممانعت اور اجازت والی احادیث میں حقیقی تعارض و تناقض کیا ہوتا ہے ؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رفیق طاہر مراسلہ دیکھیں
رانا صاحب !
امید ہے کہ آپ فیصل ناصر صاحب کی باتوں پر کان دھریں گے ۔
وطی فی الدبر کی ممانعت میں صحیح احادیث مرفوعا بھی ہیں اور ابن حجر نے فتح الباری میں اسکی طرف اشارہ بھی کیا ہے ۔
اسی طرح احادیث میں بھی تعارض ظاہری ہوتا ہے حقیقی نہیں ۔
اسی لیے
اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حقیقی تعارض و تناقض کیا ہوتا ہے ؟
لہذا پہلے اس بات کی طرف توجہ مبذول فرمائیں ۔ شکریہ
وطی فی الدبر کی ممانعت اور اجازت والی احادیث میں بھی تعارض ظاہری ہوتا ہے حقیقی نہیں!
وطی فی الدبر کی ممانعت اور اجازت والی احادیث میں حقیقی تعارض و تناقض کیا ہوتا ہے ؟

Last edited by rana ammar mazhar; 12-09-11 at 11:15 PM.
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (13-09-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
ہوتا, کوئی, کتاب, کرتے, پہلے, وسلم, قرآن, مطابق, معلوم, معاملہ, آیات, الہی, اللہ, جواب, جائے, حدیث, خود, خلاف, دیں, دے, سوال, عقل, صحیح, صحت, صراط


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:17 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger