واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حدیث‌قدسی



حدیث‌قدسی حدیث‌قدسی


اللہ کی رحمت اور اللہ کا غضب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-05-08, 05:35 PM   #1
اللہ کی رحمت اور اللہ کا غضب
میاں شاہد میاں شاہد آف لائن ہے 16-05-08, 05:35 PM

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمـَنِ الرَّحِيمِ
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''لَمَّاقَضَی اﷲ الْخَلْقَ،کَتَبَ فِیْ کِتَابِہ عَلیٰ نَفْسِہ،فَھُوَ مَوْضُوْعٌ عِنْدَہ:اِنَّ رَحْمَتِیْ تَغْلِبُ غَضَبِیْ''۔
رواہ مسلم (وکذلک البخاري والنسائي وابن ماجۃ)۔
ترجمہ : حضر ت ابو ہر یر ہ ر ضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فر ما یا ۔ '' جب اللہ تعا لیٰ نے کا ئنا ت کی تخلیق مکمل کرلی تو اپنی کتاب میں اپنے متعلق لکھ د یا جو کہ اس کے پا س موجو د ہے۔ـ''تحقیق میر ی رحمت میر ے غضب پر غا لب رہے گی۔'' (مسلم ،بخاری،نسا ئی ،ابن ما جہ)
تشریح: از مفتی عتیق الرحمٰن شہید
رحمت خدا وند ی کی وسعت کے مطا بق قرآن کریم میں آتا ہے۔ورحمتی وسعت کل شیئ۔(اور میر ی رحمت ہر چیز پر وسیع ہے )۔اور اس حدیث مبارک میں فرمان ہے :''میری رحمت میرے غضب پر غالب رہتی ہے''۔یعنی جب ایک طرف غضب کے تقاضےہوں اور دوسری طرف رحمت کے تقاضےہوں تو رحمت الٰہیہ کاپلڑا بھاری رہے گا۔لہٰذا اگر کوئی ایسا عمل سرزد ہوجائے جو غضب خداوندی کو دعوت دیتاہوتو فوراً ہی ایسا عمل انجام دے لینا چاہیے جو رحمت خداوندی کو کھینچنے والا ہو چنانچہ ا ﷲ کی رحمت کا پہلو اﷲ کے غضب وغصہ پر غالب آجائے گااوراس کی مغفرت کی راہہموار ہوجائے گی ۔آپ الفاظ ِحدیث میں غور کریں ! کس طرح مایوسیوں کے بادل چھٹتےہوئے اورامیدوں کی گھٹا چھاتی ہوئی نظر آتی ہے کہ اﷲ کی رحمت،غصہ پر غالب ہی رہتی ہے اوریہ بات لکھ کر اﷲ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔ گویا اس کی خلاف ورزی ہوہی نہیں سکتی ۔ان اﷲ لایخلف المیعاد (اﷲ تعالیٰ کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں کرتے)۔
ایک حدیث شریف میں آتاہے کہ اﷲ تعالیٰ نے رحمت کے سو(١٠٠) حصے کئے ہیں جن میں سے ننانوے(٩٩) حصے اپنے پاس رکھے کہ ان سے اپنی مخلوق پر رحم کریں گے اور ایک حصہ مخلوقات میں تقسیم کردیا ۔یہ اسی سوویں (١٠٠) حصے کی برکت ہے کہ مخلوقات باہمی طور پر محبت ومؤدت سے پیش آتی ہیں ۔ماں باپ اپنی اولاد کے لئے شفقت وپیار کے جذبات رکھتے ہیں۔جب ایک حصہ کا یہ کرشمہ ہے تو جس ذات کے پاس ننانوے (٩٩) حصے ہیں اس کے رحم وکرم اور عفوودرگزر کا کیاعالم ہوگا!!۔
تاریخی روایت ہے کہ حجاج بن یوسف کے انتقال کے وقت اس کی ماں بہت غمگین اور پریشان تھی ۔حجاج کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ بیٹا تمہارے لئے پریشان ہوں کہ تمہاراکیابنے گا؟اس نے کہا :'' اماں!اگر تمہیں جنت یادوزخ کااختیار مل جائے توتم مجھے کہاں ڈالوگی؟''اس نے کہا :''جنت میں !''۔حجاج کہنے لگا کہ جس اﷲ کے پاس میں جارہاہوں وہ تم سے بھی ننانوے (٩٩) درجے زیادہ رحیم ہے۔
اﷲ اپنی رحمتوں کے دامن میں جگہ نصیب فرمائے۔(آمین)
__________________

Last edited by میاں شاہد; 15-08-08 at 03:29 PM..

 
میاں شاہد's Avatar
میاں شاہد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 640
Reply With Quote
پرانا 16-05-08, 06:52 PM   #2
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,064
کمائي: 1,047,224
شکریہ: 5,798
6,278 مراسلہ میں 15,255 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: اللہ کی رحمت اور اللہ کا غضب

اسلام و علیکم ورحمۃاللہ وبرکاۃ
جزاک اللہ
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-05-08, 09:48 AM   #3
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,189
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اللہ کی رحمت اور اللہ کا غضب

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سیدہ ثوبیہ ناز مراسلہ دیکھیں
اسلام و علیکم ورحمۃاللہ وبرکاۃ
جزاک اللہ
وعلیکم السلام

اللہ آپ کو خوش رکھے
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-05-08, 03:26 PM   #4
Senior Member
 
مسٹر گرزلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,113
کمائي: 11,897
شکریہ: 152
334 مراسلہ میں 572 بارشکریہ ادا کیا گیا
مسٹر گرزلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اللہ کی رحمت اور اللہ کا غضب

بہت عمدہ۔لیکن میرے خیال میں یہ حدیث ، حدیث قدسی کے زمرے میں نہیں آتی۔جیسا کہ مفتی صاحب رحمہ اللہ کی تحریر میں ہے:
"حدیث قدسی احادیث طیبہ کی ایک خاص قسم ہے جو نبی کریم صلی اﷲعلیہ وسلم سے اس طرح روایت کی جاتی ہے کہ آپ صلی اﷲعلیہ وسلم اسے براہ راست اﷲ رب العزت کی طرف منسوب کرکے بیان فرماتے ہیں "
واللہ اعلم
مسٹر گرزلی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-05-08, 04:49 PM   #5
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,189
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اللہ کی رحمت اور اللہ کا غضب

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مسٹر گرزلی مراسلہ دیکھیں
بہت عمدہ۔لیکن میرے خیال میں یہ حدیث ، حدیث قدسی کے زمرے میں نہیں آتی۔جیسا کہ مفتی صاحب رحمہ اللہ کی تحریر میں ہے:
"حدیث قدسی احادیث طیبہ کی ایک خاص قسم ہے جو نبی کریم صلی اﷲعلیہ وسلم سے اس طرح روایت کی جاتی ہے کہ آپ صلی اﷲعلیہ وسلم اسے براہ راست اﷲ رب العزت کی طرف منسوب کرکے بیان فرماتے ہیں "
واللہ اعلم
مندرجہ ذیل جملہ میں لفظ ‌”میری“ اس بات کی دلیل ہے‌کہ یہ اللہ رب العزت نے اپنے بارے میں کہا ہے نہ کہ کسی اور نے اللہ کے بارے میں
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
”تحقیق میر ی رحمت میر ے غضب پر غا لب رہے گی۔“
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, green, قرآن, نظر, مکمل, محبت, اللہ, اسلام, تحریر, جواب, حدیث, خوش, خلاف, خدا


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:18 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger