| حدیثقدسی حدیثقدسی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 127
|
||||
| جاویداقبال کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (04-10-09) |
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 69
کمائي: 3,274
شکریہ: 41
37 مراسلہ میں 190 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کتاب ۔ وصیتوں کے بیان میں
شروع اللہ کے نام سے جوبہت مہربان ہے رحم والا۔ باب نمبر9: وصیت کے بیان میں اورآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاہے مردکی وصیت اس کے پاس لکھی رہنی چاہیئے،اوراللہ تعالی نے (سورہ بقرمیں)فرمایاجب تم میں کوئی مرنے لگے اورمال (یابہت مال)چھوڑجانے والاہوتومال باپ ناطے والوں کے لیئے دستورکے موافق وصیت کرناتم پرفرض ہے پرہیزگاروںکوایساکرناضرورہ ے،پھرجوشخص وصیت سنے پیچھے اس کوبدل ڈالے تواس گناہ انہیں پرہوگاجوبدل ڈالیں ،بیشک اللہ (سب کچھ)سنتاجانتاہے اورجس کویہ ڈرہوجائے کہ موصی نے طرفداری یاحق تلفی کی پھروہ موصیٰ لہ اوروارثوں میں میل کرادے(وصیت میں کمی کرکے)تواس پرکچھ گناہ نہ ہوگا،بیشک اللہ بخشنے والامہربانی ہے،جنفاًکے معنے ایک طرف جھک جانا،اسی سے ہے متجانف،یعنی جھکنے والا۔ 11۔ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیاکہاہم سے امام مالک (رحمۃ اللہ)نے خبردی انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہ)سے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاکسی مسلمان کوجس کے پاس وصیت کے لائق کچھ مال ہویہ مناسب نہیں کہ دوراتیں اس طرح گذارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس نہ لکھی نہ رکھی ہو۔امام مالک (رحمۃ اللہ )کے ساتھ اس حدیث کومحمدبن مسلم نے بھی عمروبن دینارسے،انہوں نے ابن عمر(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے روایت کیاہے۔ 12۔ہم سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیاکہاہم سے یحییٰ بن ابی بکیرنے کہاہم سے زہیربن معاویہ نے کہاہم سے ابواسحاق عمروبن عبداللہ نے انہوں نے عمروبن حارث سے جوآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے سالے یعنی ام المؤمنین جویریہ بنت حارث کے بھائی تھے انہوں نے کہاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے وفات کے وقت نہ روپیہ چھوڑانہ اشرفی نہ غلام نہ لونڈی اورنہ کوئی چیزایک نقرہ خچر(دلدل)چھوڑااورہتھیار،او رکچھ زمین جس کوآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) وقف کرگئے تھے۔ 13۔ہم سے خلابن یحییٰ نے بیان کیاکہاہم سے امام مالک (رحمۃ اللہ )نے کہاہم سے طلحہ بن مصرف نے کہامیں نے عبداللہ بن ابی اوتیٰسے پوچھاکیاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے کوئی وصیت کی تھی انہو ں نے کہانہیں(مال وغیرہ کی کوئی خاص وصیت نہیں کی)میں نے کہاپھرلوگوں پروصیت کیسے فرض ہوئی یاان کووصیت کاحکم کیسے دیاگیاہے عبداللہ نے کہاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے یہ وصیت کی کہ اللہ کی کتاب پرچلتے رہنا۔ 14۔ہم سے عمروبن زرارہ نے بیان کیاکہاہم کواسمٰعیل بن علیہ نے خبردی انہوں نے عبداللہ بن عون سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے اسودبن یزیدسے انہوں نے کہالوگوں نے حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہم)سے یہ ذکرکیاحضرت علی(رضی اللہ عنہ)آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کے وصی تھی انہوں نے کہاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ان کوکب وصی بنایامیں توآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کواپنے سینے یاگودسے ٹکائے تھی آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے طشت منگوایااسی وقت میری گودمیں ٹھٹھرگئے میں نہیں سمجھی کہ آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) گذرگئے توآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے علی (رضی اللہ عنہ)کوکب وصی بنایا۔ باب نمبر10:اگراپنے وارثوںکے لئے مال دولت چھوڑجائے تویہ بہترہے اس سے کہ انکونادارچھوڑے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ 15۔ہم سے ابونعیم نے بیان کیا،کہاہم سے سفیان بن عینیہ نے انہوں نے سعدبن ابراہیم سے انہوں نے عامربن سعدسے انہوں نے سعدبن ابی وقاص(رضی اللہ عنہ)سے ،انہوں نے کہاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)(حجۃ الوداع میں)مجھ کوپوچھنے کوآئے میں مکہ میں تھاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)اس کوبراسمجھتے تھے کوئی آدمی وہاں مرے جہاں سے وہ ہجرت کرچکاہوآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایااللہ عفراء کے بیٹے پررحم کرے(سعدبن خولہ پر)میں کہایارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کیامیں اپنے سارے مال کی وصیت کردوں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایانہیں میں نے کہاآدھے مال کی آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایانہیںمیں نے کہاتہائی مال کی آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاہاں تہائی اورتہائی بہت ہے اگرتواپنے وارثوں کوکھاتاپیتاچھوڑجائے تویہ اس سے اچھاہے کہ ان کومحتاج چھوڑجائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔بات یہ ہے کہ تواللہ کے لیئے جوخرچ کرے وہ خیرات ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جوتواپنی جوروکے منہ میں ڈالے اورعجب نہیں کہ اللہ تجھ کوعمردے اورتیرے سبب سے بعضوں کوفائدہ پہنچائے بعضوں کونقصان پہنچائے ان دنوں سعدکی کوئی اولادنہ تھی،ایک بیٹی تھی۔ باب نمبر :11تہائی مال کی وصیت کرنے کابیان۔ اورامام حسن بصری نے کہاذمی کافرکی بھی وصیت تہائی مال سے زیادہ نافذنہ ہوگی اوراللہ تعالی نے سورہ مائدہ میںفرمایاجواللہ تعالی نے اتارااس کے موافق ان کا(یعنی کافروں کا)فیصلہ کر۔ -16ہم سے قتیبہ بن سعیدنے بیان کیاکہاہم سے سفیان بن عینیہ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابن عباس(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے کہااگرلوگ تہائی سے بھی کم چوتھائی کی وصیت کیاکریں توبہترہے،آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاتہائی کی وصیت کر،اورتہائی بہت ہے یابڑاحصہ ہے۔ -17ہم سے محمدبن عبدالرحیم نے بیان کیاکہاہم سے زکریابن عدی نے کہاہم سے مرواں بن معاویہ نے انہوں نے ہاشم بن ہاشم سے انہوں نے عامربن سعدسے انہوں نے اپنے باپ ابی (وقاص رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے کہامیں (اتفاق سے مکہ میں)بیمارہوگیاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)میرے پوچھنے کوتشریف لائے میں نے عرض کیایارسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اللہ سے دعافرمائیے وہ مجھے الٹے پاؤں نہ پھرائے (مکہ میں نہ مارے)آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاشایداللہ یہ بلاتجھ پرٹال دے اورتیری وجہ سے لوگوں کوکچھ فائدہ پہنچائے میں نے کہامیں وصیت کرناچاہتاہوں ایک بیٹی کے سوااورکوئی مجھ کواولادنہیں ہے میں آدھے مال کی وصیت کروں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاآدھابہت ہے۔میں کہاتوتہائی کی کروں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاہاں تہائی کی کراورتہائی بھی بہت یابڑاحصہ ہے‘سعدنے کہا(اس حدیث کے بموجب)لوگ تہائی مال کی وصیت کرنے لگے۔ باب نمبر12:باب وصیت کرنیوالااپنے وصی سے یوں کہہ سکتاہے میری اولادکاخیال رکھیؤاوروصی دعویٰ کرسکتاہے۔ -18ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیاانہوں نے امام مالک(رحمۃ اللہ)سے انہوںنے ابن شہاب سے انہوںنے عروہ بن زبیرسے،انہوںنے حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہم)سے جوآنحصرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کی بی بی تھیں۔انہوںنے کہاعقبہ بن ابی وقاص نے (مرتے وقت)اپنے بھائی سعدبن ابی وقاص کویہ وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی نے جولڑکاجناہے وہ میراہیاس کوتولے لیجیؤ۔جس سال مکہ فتح ہواسعدنے اس بچے کولے لیااورکہنے لگے یہ میرابھیتجاہے میرا بھائی وصیت کرگیاتھاکہ اس کولے لینااسوقت عبدبن زمعہ کھڑاہوااورکہنے لگا(واہ واہ اچھی ٹھہری)یہ تومیرابھائی ہے میرے باپ کی لونڈی نے اس کوجناہے خیردونوں چلتے ہوئے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس پہنچے سعدنے عرض کیایارسول اللہ یہ میرابھیتجاہے میرابھائی اس کے لیئے وصیت کرگیاہے عبدبن زمعہ نے کہاوہ میرابھائی ہے میرے باپ کی لونڈی نے جناہے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاعبدبن زمعہ یہ بچہ تیراہے جس کی عورت ہواسی کوبچہ ملتاہے اوربدکارکے لئے پتھروں کی سزاہے بعدان کے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ (رضی اللہ عنہم)کویہ حکم دیاکہ اس بچے سے پردہ کیاکر‘کیونکہ اس کی صورت عقبہ سے ملتی ہے اس نے مرنے تک بھی حضرت سودہ کونہیں دیکھا۔ باب نمبر13: باب اگربیماراپنے سرسے ایسااشارہ کرے جوصاف سمجھ میں آجائے تواس پرحکم دیاجائے گا! -19ہم سے حسان بن ابی عبادنے بیان کیاکہاہم سے حمام سے ‘انہوں نے قتادہ(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے انس(رضی اللہ عنہ)سے ایک یہودی نے ایک انصاری لڑکی کادوپتھروں سے سرکچیل ڈالا۔لوگوں نے اس لڑکی سے پوچھا(جومررہی تھی)تجھے کس نے مارافلاں نے فلاں نے‘جب اس یہودی کانام لیاتو اس نے سرسے اشارہ کیا۔پھراس یہودی کوپکڑلائے اس نے اقرارکیا۔آپ نے حکم دیا‘اس کابھی سرپتھرسے کچلاگیا۔ باب نمبر14: وارث کے لیئے وصیت کرنادرست نہیں۔ -20ہم سے محمدبن یوسف فریابی نے بیان کیاانہوں نے ورقاء سے انہوں نے ابن ابی بخیح سے انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے انہوں نے ابن عباس(رضی اللہ عنہ) سے کہا(شروع اسلام میں مال تواولادکاحق ہوتااورماں باپ کے لیئے وصیت کی جاتی پھراللہ نے جوچاہامنسوخ کردیا،اورمردکوعورت کادہراحصہ دلایااورماں باپ کوہرایک کاچھٹاحصہ اورجوردکوآٹھواں اورچوتھا،خاوندکوآدھایاچوت ھا۔ باب نمبر15: باب ۔ مرتے وقت خیرات کرناچنداں افضل نہیں ہے۔(جیسے صحت میں افضل ہے) -21ہم سے محمدبن علاء نے بیان کیاکہاہم سے ابواسامہ(رضی اللہ عنہ)نے انہوں نے سفیان ثوری سے انہوں نے عمارہ بن قعقاع سے انہوں نے ابوزرعہ سے انہوں نے ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے کہاایک شخص(نامعلوم)آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کے پاس آیاکہنے لگایارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کونسی خیرات افضل ہے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاوہ جوتوبھلاچنگاہوکرمال کی خواہش تونگری کاامیدمحتاجی کاڈررکھ کرکرے اوراتنی دیرمت لگاکہ حلق میں دم آجائے(مرنے لگے)اسوقت یوں کہے فلانے کواتنادینافلانے کواتنادینا،اب توفلانے کاہوہی گیا(توتودنیاسے چلا) باب نمبر16: باب ۔اللہ تعالیٰ کا(سورۃ النساء میں)یہ فرماناکہ وصیت اورقرضے کی اداکے بعدحصے بٹیں گے۔ اورمنقول ہے کہ شریح قاضی اورعمربن عبدالعزیزاورطاؤس اورعطاء اورعبدالرحمن بن اذینہ ان لوگوں نے بیماری میںقرض کااقراردرست رکھاہے اورامام حسن بصری نے کہاسب سے زیادہ آدمی کواس وقت سچاسمجھناچاہیئے جب دنیامیں اس کاآخری دن اورآخرت میں پہلادن ہواورابراہیم نخعی اورحکم بن عتیبہ نے کہااگربیماروارث سے یوں کہے کہ میرااس پرکوئی قرضہ نہیں تویہ ابراء صحیح ہوگا۔اوررافع بن خدیج (صحابی)نے یہ وصیت کی کہ ان کی جورووفزاری کے دروازے میں جومال بندہے وہ نہ کھولاجائے۔اورامام بصری نے کہااگرکوئی مرتے وقت اپنے غلام سے کہے میں تجھ کوآزادکرچکاتھاتوجائزہے۔ اورشعبی نے کہااگرعورت مرتے وقت یوں کہے کہ میراخاوندمجھ کومہردے چکاہے اورمیں لے چکی ہوں توجائزہوگااوربعضے لوگ(حنفیہ)کہتے ہیں بیمارکااقرارکسی وارت کے لئے دوسرے وارثوں کی بدگمانی کی وجہ سے صحیح نہ ہوگا۔پھریہی لوگ کہتے ہیںکہ امانت اوربضاعت اورمضاربت کااگربیماراقرارکرے توصحیح ہے حالانکہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاتم بدگمانی سے بچے رہوبدگمانی بڑاجھوٹ ہے اورمسلمانوں (دوسرے وارثوں کاحق)مارلینادرست نہیںکیونکہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاہے منافق کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرے۔اوراللہ تعالی نے (سورہ نساء میں)فرمایااللہ تعالی تم کویہ حکم دیتاہے کہ جس کی امانت ہے اس کوپہنچادو۔اس میں وارث یاغیروارث کی کوئی خصوصیت نہیں ہے اسی مضمون میں عبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہ)سے مرفوع حدیث ہے۔ -22ہم سے سلیمان بن داؤدابوالربیع نے بیان کیاکہاہم سے اسماعیل بن جعفرنے کہاہم سے نافع بن مالک بن ابی عامرابوسہیل نے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایامنافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کہے توجھوٹ اورجب اس کے پاس امانت رکھیں توخیانت کرے اورجب وعدہ کرے توخلاف۔ باب نمبر17: باب اللہ تعالی کے (سورۃ النساء میں)یہ فرمانے کی تفسیرکہ حصوں کی تقسیم وصیت اوردین کے بعدہوگی۔ اورمنقول ہے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے دین کووصیت پرمقدم کرنے کاحکم دیااوراسی صورت میں یہ فرمانے کی اللہ تم کوحکم دیتاہے کہ امانتیں امانت والوں کوپہنچاؤتوامانت(قرض)کااداک رنانفل وصیت کے پوراکرنے سے زیادہ ضروری ہے اورآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاکہ صدقہ وہی عمدہ ہے جس کے بعدآدمی مالداررہے اورابن عباس (رضی اللہ عنہ)نے کہاغلام بغیراپنے مالک کی اجازت کے وصیت نہیں کرسکتااورآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاغلام اپنے مالک کے مال کانگہبان ہے۔ -23ہم سے محمدبن یوسف بیکندی نے بیان کیاکہاہم کوامام اذراعی (رحمۃ اللہ)نے خبردی انہوںنے زہری سے انہوں نے سعیدبن مسیب اورعروہ بن زبیرسے کہ حکیم بن حزام(صحابی مشہور)نے بیان کیامیںنے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)سے مانگاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے مجھ کودیاپھرمانگاپھرآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے دیاپھرفرمانے لگے حکیم یہ دنیاکاروپیہ پیسہ دیکھنے میں خوشنمااورمزے میں شیریں ہے لیکن جواسکوسیرچشمی سے لے اس کوبرکت ہوتی ہے اورجوکوئی جان لڑاکرحرص کے ساتھ اس کولے اس کوبرکت نہ ہوگی،اس کی مثال ایسی ہے جوکھاتاہے لیکن سیرنہیں ہوتااوراوپروالا(دینے والا)ہاتھ نیچے والے(لینے والے)ہاتھ سے بہتر ہے حکیم نے عرض کیا،یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)اس کی جس نے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کوسچاپیغمبرکرکے بھیجا،میں توآج سے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے بعدکسی سے کوئی چیزنہیں لینے کامرنے تک(پھرحکیم کایہ حال رہا)کہ ابوبکرصدیق(رضی اللہ عنہ)ان کاسالیانہ وظیفہ دینے کے لیئے ان کوبلاتے وہ اس کولینے سے انکارکرتے حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے بھی اپنی خلافت میں ان کوبلایاان کاوظیفہ دینے کے لیئے لیکن انہوں نے انکارکیاحضرت عمر(رضی اللہ عنہ)کہنے لگے مسلمانو(تم گواہ رہنا)میں حکیم کواس کاحق جولوٹ کے مال میں اللہ نے رکھاہے دیتاہوں۔وہ نہیں لیتا،غرض حکیم نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے بعدپھرکسی شخص سے کوئی چیزقبول نہیں کی۔(اپناوظیفہ بھی بیت المال سے نہ لیا۔)یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی۔اللہ تعالیٰ ان پررحم کرے۔ -24ہم سے بشیربن محمدنے بیان کیاکہاہم کوعبداللہ بن مبارک نے خبردی کہاہم کویونس نے انہوں نے زہری سے انہوں نے کہامجھ کوسالم نے خبردی انہوں نے عبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے کہامیں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)سے سناآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) فرماتے تھے تم میں سے ہرکوئی نگہبان ہے۔اوراپنی رعیت سے پوچھاجائے گا۔حاکم بھی نگہبان ہے اوراپنی رعیت سے پوچھاجائے گااورعورت اپنے خاوندکے گھرکی نگہبان ہے اپنی رعیت سے پوچھی جائیگی اورغلام اپنے صاحب کے مال کانگہبان ہے اوراپنی رعیت سے پوچھاجائے گا۔ابن عمر(رضی اللہ عنہ)نے کہامیں سمجھتاہوں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے یہ بھی فرمایاکہ مرداپنے باپ کے مال کانگہبان ہے۔ اوراپنی رعیت سے پوچھاجائے گا۔ باب نمبر18:باب اگرکسی نے اپنے عزیزوں پرکوئی چیزوقف کی یان کے لئے وصیت کی توکیاحکم ہے عزیزوں سے کون لوگ مرادہوں گے۔ اورثابت نے انس(رضی اللہ عنہ)سے روایت کیاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ابوطلحہ سے فرمایاتویہ باغ اپنے محتاج عزیزوں کودے ڈال،انہوں نے حسان اورابی بن کعب کودے دیا(جوابوطلحہ کے چچاکی اولادتھے)اورمحمدبن عبداللہ انصاری نے کہامجھ سے میرے باپ نے بیان کیا،انہوں نے ثمامہ سے انہوں نے انس(رضی اللہ عنہ)سے ثابت کی طرح روائت کی اس میں یوں ہے اپنے قرابت کے محتاجوں کودے۔انس (رضی اللہ عنہ)نے کہاتوابوطلحہ نے وہ باغ حسان اورابی بن کعب کودے دیاوہ مجھ سے زیادہ ابوطلحہ کے قریبی رشتہ دارتھے،اورحسان اورابی کی قرابت ابوطلحہ سے یوں تھی کہ ابوطلحہ کانام زیدہے۔ورہ سہیل کے بیٹے وہ اسودکے وہ حرام کے وہ عمربن زیادمناۃ بن عدی بن عمروبن مالک بن نجارکے اورحسان ثابت کے بیٹے وہ منذرکے وہ حرام کے،تودونوں حرام میں جاکرمل جاتے ہیں جوتیسراداداہے توحرام بن عمربن مناۃ بن عدی بن عمروبن مالک بن نجار حسان اورابوطلحہ کوملادیتاہے اورابی بن کعب چھٹی پشت ہیں یعنی عمروبن مالک میں ابوطلحہ سے ملتے ہیں ابی کعب کے بیٹے وہ قیس کے وہ عبیدکے وہ زیدکے وہ معاویہ کے وہ عمروبن مالک بن نجارکے توعمروبن مالک حسان اورابوطلحہ اورابی تینو ں کوملادیتاہے اوربعضوں نے (امام ابوحنیفہ یوسف،امام ابوحنفیہ رحمۃ اللہ کے شاگردنے)کہا،عزیزوں کے لیئے وصیت کرے توجتنے مسلمان باپ داداگذرے ہیں،وہ سب داخل ہوں گے۔ -25ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیاکہاہم کوامام مالک (رحمۃ اللہ)نے خبردی انہوںنے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے کہاانس(رضی اللہ عنہ)سے سناانہوں نے کہا(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ابوطلحہ سے فرمایا(جب انہوںنے اپناباغ بیرحاء اللہ کی رہ میں دیناچاہا)میں مناسب سمجھتاہوں تویہ باغ اپنے عزیزوں اورچچاکے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔اورابن عباس(رضی اللہ عنہ)نے کہاجب (سورہ شعراء کی)یہ آیت اتری،اوراپنے قریب کے ناطے والوں کو(خداکے عذاب سے)ڈراتوآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) قریش کے خاندان بنی فہربن عدی کوپکارنے لگے (ان کوڈرایا)اورابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)نے کہاجب یہ آیت اتری وانذرعشیرتک الاقربین آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایااے قریش کے لوگو!اللہ سے ڈرو۔ باب نمبر۱۹: باب:کیاعزیزوں میں عورتیں اوربچے بھی داخل ہوں گے! -26 ہم سے ابوالیمان نے بیان کیاکہاہم کوشعیب نے خبردی انہوںنے زہری سے کہامجھ سعیدبن مسیب اورابومسلمہ بن عبدالرحمن نے خبردی کہ ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)نے کہاجب سورہ شعراء کی یہ آیت اللہ تعالی نے اتاری ،اوراپنے نزدیک کے ناطے والوں کواللہ کاعذاب سے ڈراتوآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے یہ فرمایاکہ قریش کے لوگو!یاایساہی کوئی اورکلمہ تم لوگ اپنی اپنی جانوں کو(نیک اعمال کے بدل)مول لے لو(بچالو)میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا(یعنی اس کی مرضی کے خلاف میں کچھ نہیں کرسکنے کا)عبدمناف کے بیٹومیں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا،صفیہ میری پھوپھی میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا۔فاطمہ(رضی اللہ عنہم)بیٹاتوچاہے جومیرامال مانگ لے لیکن اللہ کے سامنے میں تیرے کچھ کام نہیں آنے کا،ابوالایمان کے ساتھ اس حدیث کواصبغ نے بھی عبداللہ بن وہب سے،انہوں نے یونس سے،انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا۔ باب نمبر20: باب:کیاوقف کرنیوالاوقفی چیزسے کچھ فائدہ اٹھاسکتاہے۔ اورحضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے وقف میں یہ شرط لگائی کہ جو اس کااہتمام کرے وہ اس میں سے کھاسکتاہے اورکبھی خودکرنے والابھی مہتمم ہوتاہے۔کبھی دوسراشخص اسی طرح شخص یااونٹ یااورکوئی چیز اللہ کی راہ میں وقف کردے تواس سے فائدہ اٹھاسکتاہے جیسے دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں گوایسی شرط نہ کرے۔ 27: ہم سے قتیبہ بن سعیدنے بیان کیا،کہاہم سے ابوعوانہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انس (رضی اللہ عنہ)سے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ایک شخص کو(جس کانام معلوم نہیںہوا)دیکھاوہ ایک قربانی کااونٹ ہانک رہاتھا(پیدل چل رہاتھا)فرمایااس پرسوارہوجااس نے عرض کی یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)وہ قربانی کااونٹ ہے آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے تیسری یاچوتھی باریوں فرمایاارے کم بخت سوارہوجا۔ 28: ہم سے اسمعیٰل بن ابی اویس نے بیان کیاکہاہم سے امام مالک (رحمۃاللہ)نے انہوں نے ابوالزنادسے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ایک شخص کودیکھا،جوقربانی کااونٹ ہانکے جارہاتھاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایااس پرسوارہوجاوہ کہنے لگایارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)یہ قربانی کاجانور(وقفی)ہے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے دوسری یاتیسری بارفرمایاکم بخت سوارہوجا۔ باب 21: اگروقف کرنے والامال وقف کو(اپنے ہی قبضے میں رکھے)دوسرے کے حوالے نہ کرے توجائزہے۔ کیونکہ حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے کہاجوشخص وقف کامتولی ہووہ اس میں سے کھاسکتاہے اوریہ تخصیص نہیں کی کہ عمر(رضی اللہ عنہ)خودولی ہوں یااورکوئی،اورآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ابوطلحہ سے فرمایامیں مناسب سمجھتاہوں تویہ باغ اپنے رشتہ داروں کودیدے،انہوں نے کہابہت خوب اورعزیزوں اورچچازادبھائیوں کوبانٹ دیا۔ باب 22:اگرکسی شخص نے یوں کہامیرا گھراللہ کی راہ میں صدقہ ہے۔اورفقیروں وغیرہ کاذکرنہیں کیا،تووقف جائزہوا۔اب اس کواختیارہے ناطے والوں کودے یاجن کوچاہے۔ کیونکہ جب ابوطلحہ (رضی اللہ عنہ)نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)سے عرض کیامیرابہت پیارامال بیرحاہے (ایک باغ)اوروہ اللہ کے لیے صدقہ ہے توآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے اس کوجائزرکھااوربعضے لوگ(شافعیہ)یہ کہتے ہیں وقف جب تک درست نہ ہوگاجب تک یہ بیان نہ کرے کن پروقف کرتاہوں اورپہلاقول زیادہ صحیح ہے۔ باب 23:باب اگرکوئی یوں کہے میری زمین یاباغ میری ماں کی طرف سے صدقہ ہے توجائزہوگا۔گویہ بیان نہ کرے کہ کن لوگوں پرصدقہ ہے۔ 29:ہم سے محمدبن سلام نے بیان کیاکہاہم کومخلدبن یزیدنے خبردی،کہاہم کوابن جریح نے کہامجھ کویعلی بن مسلم نے ،انہوںنے عکرمہ سے سناوہ کہتے تھے ہمیں ابن عباس (رضی اللہ عنہ)نے خبردی کہ سعدبن عبادہ کی ماں مرگئی (عمرہ بنت مسعود ۔رضی اللہ عنہم)وہ اس وقت موجودنہ تھے۔جب آئے توانہوں نے کہایارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)میری ماں گذرگئیں میں مرتے وقت موجودنہ تھااگرمیں ان کی طرف کچھ خیرات کروں توان کوثواب پہنچے گاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاہاں،سعدنے کہامیں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کوگواہ کرتاہوں میراباغ مخراب ان کی طرف صدقہ ہے۔ باب24:اگرکسی نے اپنی کوئی چیزیالونڈی غلام یاجانورصدقہ یاوقف کردیاتوجائزہے۔ :30ہم سے یحییٰ بن بکیرنے بیان کیاہم سے لیث نے انہوںنے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے کہامجھ کوعبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب نے خبردی ان کے باپ عبداللہ بن کعب نے بیان کیامیں نے کعب بن مالک سے سناوہ کہتے تھے یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے جومیری توبہ قبول کی اس کی خوشی میں سارامال اللہ اوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی راہ میں صدقہ دیتاہوں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاتواپنامال اپنے پاس بھی رہنے دے یہ تیرے حق میں بہترہوگامیں نے عرض کی بہت خوب میں خیبرمین اپناحصہ رہنے دیتاہوں۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 69
کمائي: 3,274
شکریہ: 41
37 مراسلہ میں 190 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
یہ دوبارہ بھیجاگیاتھاتومیں نےیہ ڈیلیٹ کردیاہے۔ والسلام جاویداقبال Last edited by جاویداقبال; 05-10-09 at 08:44 PM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| مکہ, ایمان, اللہ, بچوں, جاہل, حل, حدیث, خلاف, رات, زمانہ, سہل, شخص, عائشہ, عادت, عباس, عبداللہ, عبدالرحمن, عبدالرزاق, عرب, عرض, عظمت, غلام, صلح, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|