واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حدیث‌قدسی



حدیث‌قدسی حدیث‌قدسی


صحیح بخاری جلددوئم (ترجمہ مولاناوحیدالزمان صاحب)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-10-09, 11:25 AM   #1
صحیح بخاری جلددوئم (ترجمہ مولاناوحیدالزمان صاحب)
جاویداقبال جاویداقبال آف لائن ہے 01-10-09, 11:25 AM

جلددوم۔گیارہواں پارہ
باب نمبر1۔لوگوں سے زبانی شرط کرنا۔
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا،کہاہم کوہشام بن یوسف نے خبردی،ان سے ابن جریح نے بیان کیاکہامجھ کویعلی بن مسلم اورعمروبن دینارنے خبردی ان دونوں نے سعیدبن جبیرسے روایت کی اوران میں ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتاہے،ابن جریح نے کہامجھ سے یہ حدیث یعلیٰ اورعمروکے سوااوروں نے بھی بیان کی وہ سعیدبن جبیر(رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہاہم عبداللہ بن عباس کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے کہامجھ سے ابی بن کعب نے بیان کیاکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم )نے فرمایاخضرسے جوجاکرملے تھے وہ موسیٰ پیغمبر(علیہ السلام)تھے،پھراخیرتک حدیث بیان کی خضرنے (موسیٰ سے)کہامیں نے نہیں تھاتم میرے ساتھ نہیں ٹھہرسکتے اورموسیٰ (علیہ السلام) نے پہلاسوال توبھول کرکیاتھااوربیچ کاسوال شرط کے طورپر،اورتیسراجان بوجھ کر،موسیٰ(علیہ السلام)نے (خضرسے)کہابُھول چوک پرمیری گرفت نہ کرونہ میراکام مشکل بناؤ،دونوں کوایک لڑکاملاخضرنے اس کومارڈالاپھرآگے چلے توایک دیواردیکھی جوٹوٹنے کو تھی۔خضرنے اس کوسیدھاکردیا،ابن عباس نے یوں پڑھاہے ان کے آگے ایک بادشاہ تھا۔
باب نمبر2:باب ولاء میں شرط لگانا۔
ہم سے اسمعٰیل نے بیان کیاکہاہم سے امام مالک نے،انہوںنے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے باپ سے،انہوں نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہم) سے انہوں نے کہابریرہ(رضی اللہ عنہم) میرے پاس آئی اورکہنے لگی میں نے اپنے مالکوں سے نواوقیہ (چاندی)پرکتابت کی ہے۔ہرسال ایک اوقیہ دیناٹھہراہے تومیری مددکرو،حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہم)نے کہااگرتیرے مالک پسندکریں تومیں نواوقیہ ان کوایک دم گن دیتی ہوں اورتیری ولاء میں لوںگی،بریرہ (رضی اللہ عنہم) اپنے مالکوں کے پاس گئی اوران سے کہاانہوں نے نہ مانا،آخروہ ان کے پاس سے لوٹ آئی،اس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے اس نے کہامیں نے اپنے مالکوں سے تمہاراپیغام بیان کیاہے وہ نہیں سنتے،کہتے ہیں ہم ولاء ہم لیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ سن لیااورحضرت عائشہ(رضی اللہ عنہم) نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ساراقصہ بیان کیا،آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاتوبریرہ (رضی اللہ عنہم) کوخریدلے اورولاء کی شرط انہی کے لیے کرلے(کہ تم ہی لینا)ولاء تواسی کوملے گی جوآزادکرے گا،حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہم) نے ایساہی کیا۔پھرآنحضر ت صلی اللہ علیہ والہ وسلم (خطبہ سنانے کو)لوگوں میں کھڑے اللہ کی تعریف اوراس کی خوبی بیان کی پھرفرمایابعضے آدمیوں کوکیاہوگیاہے (کچھ جنون تونہیں ہے)وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیںجن کااللہ کی کتاب میں پتہ نہیں ہے۔جوشرط اللہ کی کتاب میں نہ ہووہ لغوہے،اگرایسی سوشرطیں ہوں اللہ کاجوحکم ہے وہی عمل کے زیادہ لائق ہے اوراللہ ہی کی شرط پکی ہے اورولاء اسی کوملے گی جوآزادکرے۔
َباب نمبر3: اگرز مین کامالک مزارعت میں یہ شرط لگائے کہ جب چاہے کاشتکارکوبے دخل کردے۔
ہم سے ابواحمد(مراربن حمویہ)نے بیان کیاکہاہم سے محمدبن یحییٰ ابوعسٰان کنانی نے کہاہم کوامام مالک نے خبردی انہوںنے نافع سے انہوں نے ابن عمرسے جب خیبرکے یہودیوں نے عبداللہ بن عمرکے ہاتھ پاؤں مروڑدیے(ٹیڑھے کردیے)توحضرعمر(رضی اللہ عنہ)خطبہ پڑھنے کوکھڑے ہوئے‘کہنے لگے آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے خیبرکے یہودیوں سے بٹائی کامعاملہ کیاتھااورفرمایاتھاجب تک پرودگارتم کویہاں تک رکھے گاہم بھی تم کوقائم رکھیں گے۔اورعبداللہ بن عمراپنامال وہاں لینے گیاتویہودیوں نے رات کواس پرحملہ کیا۔اس کے ہاتھ پاؤں مروڑڈالے تم ہی سمجھوخیبرکے یہودیوں کے سواہماراکون دشمن ہے۔وہی ہمارے دشمن ہیں‘ان ہی پرہماراگمان ہے میں ان کاوہاں نے نکال دینامناسب سمجھتاہوں حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے یہ قصدکرلیاتوابوحقیق یہودی کاایک لڑکاان کے آیا،کہنے لگااے امیرالمؤمنین تم کونکالتے ہواورمحمد(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے توہم کووہاں ٹھہرایاتھااورہم سے بٹائی کامعاملہ کیاتھااورشرط کرلی تھی (کہ تم یہیں رہنا)حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے کہاکیاتوسمجھتاہے کہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کافرمانابدل گیا،آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے تجھ سے فرمایاتھااس وقت تیراکیاحال ہوناہے جب توخیبرسے نکالاجائے گا۔راتوں رات تجھ کوتیری اونٹنی لیے پھرے گی۔وہ کہنے لگا،یہ توابوالقاسم نے دل لگی سے کہاتھا،حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے کہاارے خداکے دشمن توجھوٹاہے آخرحضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے یہودیوں کووہاں سے نکال دیااورپیداوارمیں جوان کاحصہ تھااس کی قیمت ان کودلوادی کچھ نقدسامان دیااونٹ پالان رسیاں وغیرہ اس حدیث کوحمادبن سلمہ نے بھی عبیداللہ سے روایت کیا،میں سمجھتاہوں انہوں نے فافع سے انہوں نے ابن عمرسے انہوں نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)سے مختصرطورپر۔
باب نمبر4: جہادمیں شرطیں لگانااورکافروں کے ساتھ صلح کرنے میں اورشرطوں کالکھنا۔
ہم سے سے عبداللہ بن محمدمسندی نے بیان کیا،کہامجھ سے عبدالرزاق نے بیان کیاکہاہم کومعمرنے خبردی کہامجھ کوزہری نے کہامجھ کوعروہ بن زبیرنے انہوں نے مسوربن مخرمہ اورمردان سے ان دونوں میں ہرایک دوسرے کی روایت کوسچ بتلاتاہے ۔ان دونوںنے کہاآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) جب حدیبیہ کی صلح ہوئی اس زمانہ میں(مکہ کی طرف)نکلے ابھی رستے میں ہی تھے کہ آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاخالدبن ولید قریش کے (دوسو)سوارلیے ہوئے غمیم میں ہے یہ قریش کامقدمۃ الجیش (ہراول گارڈ)ہے توتم داہنی طرف کارستہ لو(تاکہ خالدکوخبرنہ ہواورتم مکہ کے قریب پہنچ جاؤ)توخداکی قسم خالدکوان کی خبرہی نہیں ہوئی یہانتک کہ اس کے سواروں نے گردکی سیاہی دیکھی،خالددوڑاقریش کوڈارنے کے لئے اورآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) بھی چلے جب اس گھاٹی پرپہنچے جہاں سے مکہ پراترتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی اونٹنی بیٹھ گئی لوگ حل حل کہنے لگے،لیکن وہ نہ ہلی،لوگ کہنے لگے قصوااڑگئی،قصوااڑگئی۔آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاقصوانہیں اڑی اوراس کی عادت بھی اڑنے کی نہ تھی،مگرجس (خدا)نے اصحاب الفیل کوروکاتھا،اسی نے قصواکوروک دیاپھرفامایاقسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مکہ والے مجھ سے کوئی ایسی بات چاہیںجس میں اللہ کے حرم کی بڑائی ہوتومیں اس کومنظورکروں گا۔پھرآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے اس کوڈانٹاوہ اٹھ کھڑی ہوئی۔آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) مکہ والوں کی طرف مڑگئے اورحدیبیہ کے پرلے کنارے ایک گڑھے پراترے جس میں پانی کم تھالوگ تھوڑاتھوڑاپانی اس میں سے لیتے تھے۔انہوں نے پانی کوٹھہرنے ہی نہیں دیاسب کھینچ ڈالااورآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے پیاس کاشکوہ ہواآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے اپنی ترکش میں سے ایک تیرنکالااورفرمایااس کواس گڑھے میں گاڑدو۔قسم خداکی (تیرگاڑتے ہی)اس کاپانی بڑے زورسے جوش مارنے لگااوران کے لوٹنے تک یہی حال رہاخیرلوگ اس حال میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم خزاعہ کے کئی آدمیوں کولیئے ہوئے آن پہنچا۔وہ تہامہ والوں میں آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کاخیرخواہ محرم رازتھاکہنے لگامیں نے کعب بنی لوئی اورعامربن لوئی کوچھوڑاوہ حدیبیہ کے بہت پانی والے چشموں پراترے ہیں ان کے ساتھ بچے والی اونٹنیاں ہیں(یابال بچے ہیں)وہ آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے لڑنااورمکہ سے آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کوروکناچاہیت ہیں۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاہم کوروکناچاہتے ہیں۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاہم توکسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں صرف عمرے کی نیت سے آئے ہیں اورقریش کے لوگ لڑتے لڑتے تھک گئے ہیں،ان کوبہت نقصان پہنچاہے اگران کی خوشی ہے تومیں ایک مدت مقررکرکے ان سے صلح کرتاہوں وہ دوسرے لوگوں کے معاملہ میں دخل نہ دیں اگردوسرے لوگ مجھ پرغالب ہوئے توان کی مرادبرآئی اگرمیں غالب ہواتوان کی خوشی چاہیں تواس دین میں شریک ہوجائیں جس میں لوگ شریک ہوئے (یعنی کہ مسلمان ہوجائیں)نہیں تو(چندروز)ان کوآرام توملے گا۔اگروہ یہ بات نہ مانیں توقسم خداکی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تواس دین پران سے لڑوں گایہاں تک کہ میری گردن جائے اوراللہ ضروراپنے دین کوپوراکرے گا۔بدیل نے یہ سن کرکہامیں آپ(صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) کاپیغام ان کوپہنچاتاہوں وہ قریش کے کافروں کے پاس گئے اورکہنے لگے میں اس شخص کے(آنحضرت (صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) کے)پاس سے آتاہوں انہوں نے ایک بات کہی ہے کہوتوتم سے کہوں ان کے جاہل بے وقوف کہنے لگے ہم کوکوئی ضرورت ان کی بات سننے کی نہیںہے جوعقل والے تھے کہنے لگے بھلابتلاؤتوکیابات سن کرآئے۔بدیل نے بیان کیاجوآنحضرت(صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) نے فرمایاتھا۔وہ ان کوسنادیااتنے میں عروہ بن مسعودتقفی کھڑاہوا،کہنے لگا،میری قوم کے لوگوکیاتم مجھ پرباپ کی طرح شفقت نہیں رکھتے،انہوں نے کہاکہ بے شک رکھتے ہیںعروہ نے کہاکیامیں بیٹے کی طرح تمہاراخیرخواہ نہیں ہوں۔انہوںنے کہاکیوں نہیںہے عروہ نے کہاتم مجھ پرکوئی شبہ رکھتے ہوانہوں نے کہانہیں،عروہ نے کہاتم کومعلوم نہیں میںنے عکاظ والوں کوتمہاری مددکے لیئے کہاتھاجب وہ یہ نہ کرسکے تومیں اپنے بال بچے جن لوگوں نے میراکہناسناان کولے کرتمہارے پاس آگیاانہوں نے کہابے شک عروہ نے کہااس شخص یعنی بدیل نے تمہاری بہتری کی بات کہی ہے۔مجھ کومحمد(صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) کے پاس جانے دو،قریش نے کہااچھاجاؤعروہ آیااورآنحضرت(صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) سے باتیں کرنے لگا۔آپ (صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) نے اس سے بھی وہی گفتگوکی جوبدیل سے کی تھی۔عروہ یہ سن کرکہنے لگامحمد(صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) بتلاؤتواگرتم نے اپنی قوم کوتباہ کردیا(توکون سی اچھی بات ہوئی)تم نے کسی عرب کے شخص کوسناہے تم سے پہلے جس نے اپنی قوم کوتباہ کیاہواورجوکہیں دوسری بات ہوئی(یعنی قریش غالب ہوئے)تومیں قسم خداکی تمہارے ساتھیوں کے منہ دیکھتاہوںیہ پنجمیل لوگ یہی کریں گے تم کوچھوڑکرچل دیں گے یہ سن کرابوبکرصدیقَرضی اللہ عنہ)(کوغصہ آیاانہوں نے کہا)نے کہاابے جالات کاٹنہ چاٹ کیاہم حضرت کوچھوڑکربھاگ جائیں گے عروہ نے پوچھایہ کون ہے؟لوگوں نے کہایہ ابوبکر(رضی اللہ عنہ)ہیں عروہ نے کہااگرتمہارامجھ پراحسان نہ ہوتاجس کامیں نے بدلہ نہیں کیاہے تومیں تم کوجواب دیتا،خیرپھرعروہ باتیں کرنے لگااورجب بات کرتاتوآنحضرت(صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) کی مبارک ڈاڑھی تھام لیتا۔اس وقت مغیرہ بن شعبہ تلوارلئے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) کے پاس سرپرکھڑے تھے۔ان کے سرپرخودتھا۔جب عروہ اپناہاتھ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) کی ڈاڑھی (مبارک)کی طرف بڑھاتاتومغیرہ تلوارکی کوتھی اس کے ہاتھ پرمارتے اورکہتے اپناہاتھ آپ (صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) کی ڈاڑھی سے الگ رکھ۔آخرعروہ نے اوپرسراٹھاکردیکھااورپوچھا یہ کون شخص ہے لوگوں نے کہامغیرہ بن شعبہ ہیں۔عروہ نے کہاارے دغابازکیامیں نے تیری دغابازی کی سزاسے تجھ کونہیں بچایا۔ہوایہ تھاکہ مغیرہ جاہلیت کے زمانے میں کافروں کی ایک قوم کے پاس رہتے تھے۔پھران کوقتل کرکے ان کامال لوٹ کرچلے آئے۔اورمسلمان ہوگئے۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم) نے فرمایامیں تیراسلام توقبول کرتاہوں لیکن جومال تولایاہے اس سے مجھ کوغرص نہیں(کیونکہ وہ دغابازی سے ہاتھ آیاہے۔میں نہیں لے سکتا)خیرپھرعروہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے اصحاب کودونوں آنکھوں سے گھورنے لگا۔راوی نے کہاخداکی قسم آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے جب کھنکارااوربلغم نکالا،توآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے اصحاب (رضوان اللہ)میںکسی نے بھی اپنے ہاتھ پرلے لیااوراپنے منہ اوربدن پرمل لیا(بطورتبرک کے)اورجب آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے وضوکیاتوآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے وضوکاپانی لینے کے لیے قریب تھاکہ لڑمریں اورجب آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے بات کی تواپنی آوازیں پست کرلیں اورادب سے آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کوگھورکرنہیں دیکھتے تھے خیرعروہ اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹ گیااورکہنے لگامیں توبادشاہوں کے پاس جاچکاہوں اورروم اورایران اورحبش کے بادشاہ پاس بھی خداکی قسم میں نے نہیں دیکھاکہ کسی بادشاہ کے لوگ اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی تعظیم ان کے اصحاب (رضوان اللہ)کرتے ہیں۔اگرانہوں نے تھوکاتوکوئی اپنے ہاتھ میں لیتاہے اوراپنے منہ پراوربدن پرمل لیتاہے۔اورجب وہ کوئی حکم دیتاہے تولپکتے ہوئے فوراًان کاحکم بجالاتے ہیں اورجب وضوکرتے ہیں تووضوکے پانی کے لیئے قریب ہوتاہے لڑمریں گے جب وہ بات کرتے ہیںیہ اپنی آوازیں دھیمی کرلیتے ہیں ادب اورتعظیم سے ان کوگھورکرنہیں دیکھتے محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے جوبات کہی ہے وہ تمہارے فائدے کی ہے اس کومان لوبنی کنانہ کاایک شخص بولامجھے ان کے پاس جانے دولوگوں نے کہااچھاجاجب وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اورآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے اصحاب(رضوان اللہ)کے پاس آیاتوآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) بول اٹھے یہ شخص جوآرہاہے ان لوگوں میں سے ہے جوبیت اللہ کی قربانی کی عظمت کرتے ہیں توقربانی کے جانوراس سامنے کردووہ جانوراس کے سامنے لائے گئے اورصحابہ (رضوان اللہ)نے لبیک پکارتے ہوئے اس کااستقبال کیاجب اس نے یہ حال دیکھاتوکہہ اٹھاسبحان اللہ ان لوگوں کوکعبے سے روکنامناسب نہیں اورقوم والوں کے پاس لوٹ گیابولااونٹوں کے گلے میں نے ہارپڑے کوہان چرے دیکھامیں بیت اللہ سے ان کاروکنامناسب نہیں جانتاپھران میں مکرزبن حفص ایک شخص تھاوہ اٹھاوہ کہنے لگامجھ کوجانے دولوگوںنے کہااچھاجاوہ جب آیاتوآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایایہ توبدکارشخص ہے خیروہ آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) باتیں کرنے لگااس کے بات کرنے میں سہیل بن عمرونامی ایک اورشخص قریش کی طرف آن پہنچامعمرنے کہامجھ کوایوب نے خبردی انہوں نے عکرمہ سے کہ جب سہیل بن عمروآیا،آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے (فال نیک کے طورپر)فرمایااب تمہاراکام سہل ہوگیا(بن گیا)معمرنے کہازہری نے کہاسہیل کہنے لگااچھالائیے ہمارے اورتمہارے درمیان ایک صلح نامہ لکھاجائے آپ نے منشی کوبلایااورفرمایالکھ بسم اللہ الرحمن الرحیم،سہیل کہنے لگارحمن میں نہیں جانتاکون ہے لیکن عرب کے دستورکے موافق (شروع میں)باسمک اللہم لکھوائیے جیسے پہلے آپ ہی لکھوایاکرتے تھے مسلمان (لوگوں کوضدآئی وہ)کہنے لگے ہم توقسم خداکی بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھوائیں گے۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے(منشی)سے فرمایاباسمک اللہم ہی لکھ پھریوں لکھوایا،یہ وہ صلح نامہ ہے جس پرمحمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اللہ کے رسول،اتنالکھواناتھاکہ سہیل بولاخداکی قسم اگرہم کو یقین ہوتاکہ آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ہیں توآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کوکعبے سے کبھی نہ روکتے نہ آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے لڑتے یوں لکھوائیے جس پرمحمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) عبداللہ کے بیٹے یہ سن کرآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاخداکی قسم میں اللہ کارسول ہوں اگرتم مجھ کوجھٹلاتے ہوخیرمحمدبن عبداللہ ہی لکھو،زہری نے کہاآپ نے مجھ سے جھگڑانہ کیاوہ اس وجہ سے کہ آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) پہلے فرماچکے تھے قریش مجھ سے کوئی ایسی بات چاہیں گے جس سے اللہ کے ادب والی چیزوں کی تعظیم ہوتومیں بے تامل منظورکروںگاخیرآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے آگے یہ لکھوایامحمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) عبداللہ کے بیٹے نے اس پرصلح کی کہ تم لوگ ہم کوبیت اللہ میں جانے دوگے ،ہم وہاں طواف کریں گے۔سہیل نے کہا(یہ نہیں ہوسکتا)اگرہم تم کوابھی جانے دیں توسارے عربوں میں یہ چرچاہوجائے گاہم دب گئے لیکن تم سال آئندہ آؤ(حج کرو)خیرپھرلکھناشروع ہواتوسہیل نے کہایہ شرط لکھو،ہم میں سے اگرکوئی شخص گوتمہارے دین پرہوتمہارے پاس آجائے توتم اس کوہمارے پاس پھیردوگے مسلمانوں نے کہاسبحان اللہ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ وہ مسلمان ہوکرآئے،اورمشرکوں کے حوالے کردیاجائے۔لوگ یہی باتیں کررہے تھے،اتنے میں سہیل بن عمروکابیٹاابوجندل پاؤں میں بیڑیاں پہنے ہوئے آہستہ آہستہ چلتاہواآیاوہ مکہ کے نشیب کی طرف سے نکل بھاگاتھااس نے اپنے تئیں مسلمانوں پرڈال دیا(ان کی پناہ چاہی)سہیل نے کہامحمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) یہ پہلاشخص ہے جوشرط کے موافق تم کوپھیردیناچاہیئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاابھی توصلح نامہ پورالکھاہی نہیں گیا۔(ابھی اس شرط پرعمل کیسے ہوسکتاہے)سہیل نے کہاتوپھرصلح ہی نہیں کرنے کاکبھی نہیں کرنے کا۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایااچھاخاص ابوجندل کی پروانگی دے۔سہیل نے کہامیں کبھی نہیں دینے کا،آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایانہیں دے وہ بولانہیں دیتا،مکرزبولااچھامیں پروانگی دیتاہوں (لیکن اس کی بات نہ چلی)آخرابوجندل کہنے لگا(یہ کیاغضب ہے)میں مسلمان ہوکرآیاہوں،اورکافروں کے حوالے کیاجاتاہوں۔دیکھومجھ پرکیاکیاسختیاں ہوئی ہیں۔اوراس کواللہ کی راہ میں سخت تکلیف دی گئی تھی۔حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)بن خطاب کہتے ہیں یہ حال دیکھ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس آیامیں نے کہاکیاآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اللہ کے سچے پیغمبرنہیں ہیں آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاکیوں نہیں،میں نے کہاکیاہم حق پراورہمارے دشمن ناحق پرنہیں ہیں،آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایابے شک،میں نے کہاتوپھرہم اپنے دین کوکیوں ذلیل کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایامیں اللہ کارسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ہوںاورمیں اس کی نافرمانی نہیں کرتا،وہ میری مددکرے گامیںنے کہاآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) فرماتے تھے کہ ہم کعبے پاس پہنچیں گے اورطواف کریں گے۔آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایابے شک مگرمیںنے یہ کب کہاتھاکہ اسی سال یہ ہوگامیں نے کہاحقیقت میں آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے یہ تونہیں فرمایاتھاآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاتوتم کعبے کے پاس (ایک دن ضرور)پہنچوگیاس کاطواف کروگے۔حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے کہاپھرمیں حضرت ابوبکر(رضی اللہ عنہ)کے پاس آیااورمیںنے کہاکیایہ اللہ کے سچے پیغمبرنہیںہیں،انہوںنے کہابے شک ہیں میں نے کہاکیاہم حق پراورہمارے دشمن ناحق پرنہیں ہیں انہوں نے کہاکیوں نہیں ہیں میں نے کہاپھرہم اپنے دین کوکیوں ذلیل کریں۔ابوبکر(رضی اللہ عنہ)نے کہابھلے آدمی وہ اللہ کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ہیں اس کے حکم کے خلاف نہیں کرتے،اللہ ان کامددگارہے جوآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) حکم دیں بجالاکیونکہ خداکی قسم آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) حق پرہیں میں نے کہامیں نے کہاکیاآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ہم سے یہ نہیں فرماتے تھے کہ ہم خانہ کعبہ کے پاس پہنچیں گے طواف کریں گے ،ابوبکر(رضی اللہ عنہ)نے کہابیشک لیکن آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے یہ کہاتھاکہ اسی سال ہوگامیںنے کہانہیں یہ تونہیں کہاتھاانہوںنے کہاتوایک دن تم کعبے کے پاس پہنچوگے،طواف کروگے،زہری نے کہاحضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے کہایہ جوبے ادبی کی میں نے گفتگوکی اس گناہ کواتارنے کے لیئے میں نے کئی نیک عمل کیئے۔خیرجب صلح نامہ لکھ کرپوراہواتوآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے اپنے اصحاب (رضوان اللہ)سے فرمایااٹھواونٹوں کی نحرکرو، سرمنڈواؤ۔کوئی یہ سن کرنہ اٹھایہاں تک کے تین بارآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے یہی فرمایا۔جب کوئی نہ اٹھاتوآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) بی بی سلمہ(رضی اللہ عنہم)کے پاس گئے۔اوران لوگوں کی شکایت کی ،ام سلمہ(رضی اللہ عنہم)نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کیاآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) چاہتے ہیں کہ لوگ ایساکریں۔توایساکیجیئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کسی سے کچھ نہ کہیئے،اٹھ کراپنے اونٹوں کونحرکرڈالیئے اورحجام کوبلواکرحجامت بنوایئے،آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اٹھے اورکسی سے بات نہیں کی ،اپنے اونٹوں کونحرکیااوراصلاح سازکوبلاکرسرمنڈایا،جب لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کوایساکرتے دیکھاسب اٹھے اورنحرکیااورایک دوسرے کاسرنڈنے لگے،قریب تھاکہ ہجوم کی وجہ سے ایک دوسرے کوہلاک کریںخیراس کے بعدچندمسلمان عورتیں آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوئیں،اللہ نے (سورۃ ممتحنہ)کی یہ آیت اتاری،مسلمانوں جب مسلمان عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں توان کی جانچواخیرآیت بعصم الکوٰفرتک،حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے اس دن اپنی دومشرک عورتوں کوطلاق دے دی۔ان میں سے ایک سے معاویہ بن ابی سفیان نے نکاح کرلیااوردوسری سے صفوان بن امیہ نے۔پھرآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) مدینہ کولوٹ گئے۔اس کے بعد(مکہ سے)ایک شخص ابوبصیرنامی مسلمان ہوکرآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس آیاوہ قریشی،قریش کے لوگوںنے اس کوواپس بلانے کے لیئے دوآدمیوں کوبھیجا،اورکہنے لگے جوعہدہم میں اورآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) میں ہے اس کے موافق عمل کیجیئے۔آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے ابوبصیرکوان دوشخصوں کے ساتھ کردیاوہ اس کولے کرنکلے ،جب ذوالحلیفہ میں پہنچے توایک درخت کے تلے ٹھہرکرکھجوریں جوان کے ساتھ تھیں کھانے لگے،ابوبصیرنے ان دونوں میں سے ایک سے کہاقسم خداکی تیری تلواربہت عمدہ معلوم ہوتی ہے۔اس نے سونت کرکہابے شک عمدہ ہے،میں اس کوآزماچکاہوں۔ابوبصیرنے کہاذرامجھے دیکھنے دو۔اس نے دے دی۔ابوبصیرنے اس کومارکرٹھنڈاکردیا۔اس کاساتھی ڈرکے مارے بھاگا۔مدینہ پہنچامسجدمیں بھاگتاہواآیا۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے اس کودیکھ کرفرمایا یہ ڈراہوامعلوم ہوتاہے۔جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس پہنچاتوکہنے لگا،قسم خدکی میراساتھی ماراگیا۔اورمیں بھی نہیں بچوں گا۔اتنے میں ابوبصیربھی آپہنچا۔اورکہنے لگایارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کاعہداللہ نے پوراکردیا۔آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے مجھے پھیردیا۔مگراللہ نے مجھ کوان سے نجات دلوائی۔یہ سن کرآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایامادربختالڑائی بھڑکاناچاہتاہے۔اگرکوئی اس کی مددکرے۔یہ سنتے ہی ابوبصیرسمجھ گیاکہ آپ پھراس کولوٹادیں گے۔اورسیدھانکل کرسمندرکے کنارے پہنچا۔ابوجندل بھی مکہ سے بھاگ کرابونصیرسے آن کرمل گیا۔اب جوقریش کاآدمی مسلمان ہوکرنکلتا،وہ ابوبصیرکے پاس چلاجاتا،یہاںتک کہ یہ شروع کیاکہ قریش کاجوقافلہ شام کے ملک کوآجاتااس کورستے میں وہ روکتے اورلوٹ مارکرتے،آخرقریش نے (مجبورہوکر)آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کوبھیجاکہ آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) ابوبصیرکوبلابھیجیں اوراب سے جوشخص مسلمان ہوکرآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس آئے اس کوامن ہے (آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) واپس نہ دیجئے)خیرآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے ابوبصیرکوبلالیااس وقت اللہ تعالی نے(سورۃ فتح کی)یہ آیت اتاری وہی خداہے جس نے عین مکہ کے بیچابیچ تم کوان پرفتح دے کران کے (کافروں کے)ہاتھ تم سے روک دیے اورتمہارے ہاتھ ان سے اخیرآیت حمیۃ الجاہلیۃ تک حمیۃالجاہلیۃ(بات کے بیچ نادانی کی ہٹ)وہ یہ تھی کہ انہوںنے آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کونبوت کونہ مانااوربسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھنے دی اورمسلمانوں کوکعبے میںجانے سے روک دیااورعقیل نے نہ لکھنے دی اورمسلمانوں کوکعبے میں جانے سے روک دیااورعقیل نے زہری سے روایت کی عروہ نے کہامجھ سے حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہم)نے بیان کیاکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) جوعورتیں مسلمان ہوکرآتی تھیں ان کوجانچتے تھے(ان کاامتحان لیتے تھے)زہری نے کہااورہم کویہ حدیث پہنچی جب اللہ تعالی نے یہ حکم اتاراکہ کافروں کی بیبیاں جوہجرت کرکے مسلمانوں پاس آجائیں تومسلمان کافروں کووہ خرچہ پھیردیں جوانہوں نے ان بیبیوں پرکیاہے اوریہ حکم بھی کیاہے کہ مسلمان کافرعورتوں کونکاح میں نہ رکھیں توحضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے اپنی دوجورؤوں یعنی قریبہ بنت ابی امیہ اوربنت جرول کوطلاق دے دی،پھرمعاویہ نے قریبہ سے نکاح کرلیااورابوجہم نے بیت جرول سے ،اس کے بعدایساہواکہ کافروں نے اس خرچہ کے اداکرنے سے انکارکیاجومسلمانوں نے اپنی عورتوں پرکیاتھاتب اللہ تعالی نے(سورت ممتحنہ کی)یہ آیت اتاری،اگرتمہاری کچھ عورتیں کافروں کے پاس چلی جائیں اورتم کوکافران کاخرچہ نہ دیں ،تمہاری باری آن پہنچے تواس کاتدارک یہ ہے کہ کافروں کی جوعورتیں مسلمان ہوکرہجرت کریں اوران سے کوئی مسلمان نکاح کرے توان کامہران عورتوں کونہ دے بلکہ وہ مہران مسلمانوں کودیاجائے جن کی عورتیں کافروں کے پاس بھاگ گئی ہوں،اورہم تونہیں جانتے کہ کوئی عورت ایمان لانے اورہجرت کرنے کے بعدمرتدہوگئی ہو۔اورزہری نے کہاہم کویہ حدیث پہنچی کہ ابوبصیربن اسیدثقفی مسلمان ہوکرمدت صلح کے اندرآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس آگیا۔اس وقت اخنس بن شریق نے (مکہ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) )کولکھاکہ ابوبصیرکوآپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) بھیج دیجئیے پھریہی حدیث بیان کی اخیرتک۔
باب نمبر5: قرض میں شرط لگانا۔
اورلیث نے کہامجھ سے جعفربن ربیعہ نے بیان کیا،انہوںنے عبدالرحمن بن ہرمزسے انہوںنے
ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے،انہوںنے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے ایک شخص کاذکرکیا(بنی اسرائیل میں)اس نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے شخص سے ہزاراشرفیاں قرض مانگیں اس نے ایک مدت مقررکرکے اس کودیں اورعبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہ)اورعطاء بن ابی رباح نے کہااگرقرض میں مدت کرے تویہ جائزہے۔
باب نمبر6: باب مکاتب کابیان اورشرطیں اللہ کی کتاب کے مخالف ہیں ان کاجائزنہ ہونا۔
اورجابربن عبداللہ نے کہا،مکاتب غلام لونڈی اوران کے مالکوں میں جوشرطیں ہوں۔وہ معتبرہوں گی اورعبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہ)یاحضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے کہاجوشرط اللہ کی کتاب کے خلاف ہووہ باطل ہے اگرسوبارشرط لگائے،امام بخاری نے کہایہ قول دونوں سے مروی ہے عبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہ )اورعمر(رضی اللہ عنہ)سے۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیاکہاہم سے سفیان بن عینیہ نے انہوںنے یحییٰ بن سعیدانصاری سے انہوں نے عمرہ سے انہوں نے عائشہ (رضی اللہ عنہم)سے انہوں نے کہابریرہ(رضی اللہ عہنم)ان کے پاس آئی اپنی کتابت میں مددچاہنے کو،انہوں نے کہااگرتوچاہتی ہے تومیںتیری کتابت کاروپیہ دیئے دیتی ہوں لیکن تیری ولاء میں لوں گی خیرجب آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)تشریف لائے توانہوں نے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے اس کاتذکرہ کیا،آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاتوخریدلے اورآزادکردے۔ولاء اس کوملے گی جوآزادکرے ،اس کے بعدآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)منبرپرکھڑے ہوئے اورفرمایالوگوں کوکیاہوگیاہے ایسی ایسی شرطیں لگاتے ہیں جواللہ کی کتاب میں نہیں ہیں جوشخص ایسی شرط لگائے جواللہ کی کتاب میں نہیں ہے تواس سے کچھ فائد ہ نہ اٹھائے کااگرچہ سوباروہ شرط لگائے۔
باب نمبر7: اقرارمیں شرط لگانایااستثناء کرناجائزہے۔
اوران شرطوں کابیان جولوگوں میں عموماً جاری ہے (معاملات وغیرہ میں)اوراگرکوئی یوں کہے مجھ پرفلانے کے سودرہم نکلتے ہیں مگرایک یادوتوننانویں یااٹھانویں درہم دیناہوں گے۔
نمبر8:اورعبداللہ بن عوف نے ابن سیرین سے نقل کیاایک اونٹ والے سے کہاتواپنے اونٹ لاکرباندھ دے اگرمیں فلاں دن تک تیرے ساتھ سفرنہ کروں توتجھ کوسودرہم دوں گاپھراس دن تک نہ نکلاتوشریح قاضی نے یہ حکم دیاکہ جس نے خوشی سے کوئی شرط اپنے اوپرلگائی نہ زورزبردستی سے تووہ اس کوپوری کرناہوگی اورایوب سختیانی نے ابن سیرین سے نقل کیاایک شخص نے اناج بیچااورخریدارنے یہ اقرارکیااگرمیں بدھ تک تیرے پاس نہ آؤں (اپنامال قیمت دے کرنہ لے جاؤں) توبیع باقی نہ رہے گی،پھروہ بدھ تک نہ آیاشریح قاضی نے خریدارکے خلاف فیصلہ کیااورکہاتونے اپنے وعدہ خلاف کیا۔
نمبر9:وقف میں شرط لگانے کابیان
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیاکہاہم کوشعیب نے خبردی کہاہم سے ابوالزنادنے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایااللہ کے ننانویں ایک کم سونام ہیں،جوکوئی ان کویادکرلے،وہ بہشت میں جائے گا۔
باب نمبر8:وقف میں شرط لگانے کابیان
ہم سے قیتبہ بن سعیدنے بیان کیاکہاہم سے محمدبن عبداللہ انصاری نے کہاہم سے عبداللہ بن عون نے کہامجھ کونافع نے خبردی انہوں نے عبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہ)سے کہ حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)کوخیبرمیں ایک زمین ملی،وہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)سے مشورہ کرنے آئے (کہ اس زمین کوکیاکروں)اورکہنے لگے یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) میں نے خیبرمیں ایک زمین پائی، جس سے بڑھ کرعمدہ مال میں نے کبھی نہیں پایاتوآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاتواگرچاہے تواصل زمین وقف کردے اس کی آمدنی خیرات ہوتی رہے۔راوی نے کہاتوحضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے اسے وقف کردیااس شرط پرکہ وہ زمین نہ بیع ہوسکے گی نہ ہبہ نہ کسی کوترکے میں ملے گی۔جوآمدنی ہووہ محتاجوں اورناطے والوں اورغلام لونڈیوں کے چھڑانے اوراللہ کی راہ یعنی مجاہدین کی خدمت اورمسافروں اورمہانوں میں خرچ کی جائے اورجوکوئی اس زمین کامتولی ہووہ اتناکرسکتاہے کہ دستورموافق اس کی آمدنی میں سے کھائے اورکھلائے مگردولت نہ جوڑے،ابن عوف نے کہامیں نے یہ حدیث ابن سیرین سے بیان کی انہوں نے غیرمتمول کایہ معنی ہے کہ اپنے لیئے دولت نہ اکٹھاکرے۔

جاویداقبال
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 69
شکریہ: 41
37 مراسلہ میں 190 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 127
Reply With Quote
جاویداقبال کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 05-10-09, 11:12 AM   #2
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 69
کمائي: 3,274
شکریہ: 41
37 مراسلہ میں 190 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کتاب ۔ وصیتوں کے بیان میں
شروع اللہ کے نام سے جوبہت مہربان ہے رحم والا۔
باب نمبر9: وصیت کے بیان میں
اورآنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاہے مردکی وصیت اس کے پاس لکھی رہنی چاہیئے،اوراللہ تعالی نے (سورہ بقرمیں)فرمایاجب تم میں کوئی مرنے لگے اورمال (یابہت مال)چھوڑجانے والاہوتومال باپ ناطے والوں کے لیئے دستورکے موافق وصیت کرناتم پرفرض ہے پرہیزگاروںکوایساکرناضرورہ ے،پھرجوشخص وصیت سنے پیچھے اس کوبدل ڈالے تواس گناہ انہیں پرہوگاجوبدل ڈالیں ،بیشک اللہ (سب کچھ)سنتاجانتاہے اورجس کویہ ڈرہوجائے کہ موصی نے طرفداری یاحق تلفی کی پھروہ موصیٰ لہ اوروارثوں میں میل کرادے(وصیت میں کمی کرکے)تواس پرکچھ گناہ نہ ہوگا،بیشک اللہ بخشنے والامہربانی ہے،جنفاًکے معنے ایک طرف جھک جانا،اسی سے ہے متجانف،یعنی جھکنے والا۔
11۔ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیاکہاہم سے امام مالک (رحمۃ اللہ)نے خبردی انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہ)سے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاکسی مسلمان کوجس کے پاس وصیت کے لائق کچھ مال ہویہ مناسب نہیں کہ دوراتیں اس طرح گذارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس نہ لکھی نہ رکھی ہو۔امام مالک (رحمۃ اللہ )کے ساتھ اس حدیث کومحمدبن مسلم نے بھی عمروبن دینارسے،انہوں نے ابن عمر(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے روایت کیاہے۔
12۔ہم سے ابراہیم بن حارث نے بیان کیاکہاہم سے یحییٰ بن ابی بکیرنے کہاہم سے زہیربن معاویہ نے کہاہم سے ابواسحاق عمروبن عبداللہ نے انہوں نے عمروبن حارث سے جوآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے سالے یعنی ام المؤمنین جویریہ بنت حارث کے بھائی تھے انہوں نے کہاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے وفات کے وقت نہ روپیہ چھوڑانہ اشرفی نہ غلام نہ لونڈی اورنہ کوئی چیزایک نقرہ خچر(دلدل)چھوڑااورہتھیار،او رکچھ زمین جس کوآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) وقف کرگئے تھے۔
13۔ہم سے خلابن یحییٰ نے بیان کیاکہاہم سے امام مالک (رحمۃ اللہ )نے کہاہم سے طلحہ بن مصرف نے کہامیں نے عبداللہ بن ابی اوتیٰسے پوچھاکیاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے کوئی وصیت کی تھی انہو ں نے کہانہیں(مال وغیرہ کی کوئی خاص وصیت نہیں کی)میں نے کہاپھرلوگوں پروصیت کیسے فرض ہوئی یاان کووصیت کاحکم کیسے دیاگیاہے عبداللہ نے کہاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے یہ وصیت کی کہ اللہ کی کتاب پرچلتے رہنا۔
14۔ہم سے عمروبن زرارہ نے بیان کیاکہاہم کواسمٰعیل بن علیہ نے خبردی انہوں نے عبداللہ بن عون سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے اسودبن یزیدسے انہوں نے کہالوگوں نے حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہم)سے یہ ذکرکیاحضرت علی(رضی اللہ عنہ)آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کے وصی تھی انہوں نے کہاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ان کوکب وصی بنایامیں توآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کواپنے سینے یاگودسے ٹکائے تھی آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے طشت منگوایااسی وقت میری گودمیں ٹھٹھرگئے میں نہیں سمجھی کہ آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) گذرگئے توآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے علی (رضی اللہ عنہ)کوکب وصی بنایا۔
باب نمبر10:اگراپنے وارثوںکے لئے مال دولت چھوڑجائے تویہ بہترہے اس سے کہ انکونادارچھوڑے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔
15۔ہم سے ابونعیم نے بیان کیا،کہاہم سے سفیان بن عینیہ نے انہوں نے سعدبن ابراہیم سے انہوں نے عامربن سعدسے انہوں نے سعدبن ابی وقاص(رضی اللہ عنہ)سے ،انہوں نے کہاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)(حجۃ الوداع میں)مجھ کوپوچھنے کوآئے میں مکہ میں تھاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)اس کوبراسمجھتے تھے کوئی آدمی وہاں مرے جہاں سے وہ ہجرت کرچکاہوآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایااللہ عفراء کے بیٹے پررحم کرے(سعدبن خولہ پر)میں کہایارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کیامیں اپنے سارے مال کی وصیت کردوں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایانہیں میں نے کہاآدھے مال کی آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایانہیںمیں نے کہاتہائی مال کی آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاہاں تہائی اورتہائی بہت ہے اگرتواپنے وارثوں کوکھاتاپیتاچھوڑجائے تویہ اس سے اچھاہے کہ ان کومحتاج چھوڑجائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔بات یہ ہے کہ تواللہ کے لیئے جوخرچ کرے وہ خیرات ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جوتواپنی جوروکے منہ میں ڈالے اورعجب نہیں کہ اللہ تجھ کوعمردے اورتیرے سبب سے بعضوں کوفائدہ پہنچائے بعضوں کونقصان پہنچائے ان دنوں سعدکی کوئی اولادنہ تھی،ایک بیٹی تھی۔
باب نمبر :11تہائی مال کی وصیت کرنے کابیان۔
اورامام حسن بصری نے کہاذمی کافرکی بھی وصیت تہائی مال سے زیادہ نافذنہ ہوگی اوراللہ تعالی نے سورہ مائدہ میںفرمایاجواللہ تعالی نے اتارااس کے موافق ان کا(یعنی کافروں کا)فیصلہ کر۔
-16ہم سے قتیبہ بن سعیدنے بیان کیاکہاہم سے سفیان بن عینیہ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابن عباس(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے کہااگرلوگ تہائی سے بھی کم چوتھائی کی وصیت کیاکریں توبہترہے،آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاتہائی کی وصیت کر،اورتہائی بہت ہے یابڑاحصہ ہے۔
-17ہم سے محمدبن عبدالرحیم نے بیان کیاکہاہم سے زکریابن عدی نے کہاہم سے مرواں بن معاویہ نے انہوں نے ہاشم بن ہاشم سے انہوں نے عامربن سعدسے انہوں نے اپنے باپ ابی (وقاص رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے کہامیں (اتفاق سے مکہ میں)بیمارہوگیاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)میرے پوچھنے کوتشریف لائے میں نے عرض کیایارسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اللہ سے دعافرمائیے وہ مجھے الٹے پاؤں نہ پھرائے (مکہ میں نہ مارے)آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاشایداللہ یہ بلاتجھ پرٹال دے اورتیری وجہ سے لوگوں کوکچھ فائدہ پہنچائے میں نے کہامیں وصیت کرناچاہتاہوں ایک بیٹی کے سوااورکوئی مجھ کواولادنہیں ہے میں آدھے مال کی وصیت کروں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاآدھابہت ہے۔میں کہاتوتہائی کی کروں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاہاں تہائی کی کراورتہائی بھی بہت یابڑاحصہ ہے‘سعدنے کہا(اس حدیث کے بموجب)لوگ تہائی مال کی وصیت کرنے لگے۔
باب نمبر12:باب وصیت کرنیوالااپنے وصی سے یوں کہہ سکتاہے میری اولادکاخیال رکھیؤاوروصی دعویٰ کرسکتاہے۔
-18ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیاانہوں نے امام مالک(رحمۃ اللہ)سے انہوںنے ابن شہاب سے انہوںنے عروہ بن زبیرسے،انہوںنے حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہم)سے جوآنحصرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کی بی بی تھیں۔انہوںنے کہاعقبہ بن ابی وقاص نے (مرتے وقت)اپنے بھائی سعدبن ابی وقاص کویہ وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی نے جولڑکاجناہے وہ میراہیاس کوتولے لیجیؤ۔جس سال مکہ فتح ہواسعدنے اس بچے کولے لیااورکہنے لگے یہ میرابھیتجاہے میرا بھائی وصیت کرگیاتھاکہ اس کولے لینااسوقت عبدبن زمعہ کھڑاہوااورکہنے لگا(واہ واہ اچھی ٹھہری)یہ تومیرابھائی ہے میرے باپ کی لونڈی نے اس کوجناہے خیردونوں چلتے ہوئے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے پاس پہنچے سعدنے عرض کیایارسول اللہ یہ میرابھیتجاہے میرابھائی اس کے لیئے وصیت کرگیاہے عبدبن زمعہ نے کہاوہ میرابھائی ہے میرے باپ کی لونڈی نے جناہے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاعبدبن زمعہ یہ بچہ تیراہے جس کی عورت ہواسی کوبچہ ملتاہے اوربدکارکے لئے پتھروں کی سزاہے بعدان کے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ (رضی اللہ عنہم)کویہ حکم دیاکہ اس بچے سے پردہ کیاکر‘کیونکہ اس کی صورت عقبہ سے ملتی ہے اس نے مرنے تک بھی حضرت سودہ کونہیں دیکھا۔
باب نمبر13: باب اگربیماراپنے سرسے ایسااشارہ کرے جوصاف سمجھ میں آجائے تواس پرحکم دیاجائے گا!
-19ہم سے حسان بن ابی عبادنے بیان کیاکہاہم سے حمام سے ‘انہوں نے قتادہ(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے انس(رضی اللہ عنہ)سے ایک یہودی نے ایک انصاری لڑکی کادوپتھروں سے سرکچیل ڈالا۔لوگوں نے اس لڑکی سے پوچھا(جومررہی تھی)تجھے کس نے مارافلاں نے فلاں نے‘جب اس یہودی کانام لیاتو اس نے سرسے اشارہ کیا۔پھراس یہودی کوپکڑلائے اس نے اقرارکیا۔آپ نے حکم دیا‘اس کابھی سرپتھرسے کچلاگیا۔
باب نمبر14: وارث کے لیئے وصیت کرنادرست نہیں۔
-20ہم سے محمدبن یوسف فریابی نے بیان کیاانہوں نے ورقاء سے انہوں نے ابن ابی بخیح سے انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے انہوں نے ابن عباس(رضی اللہ عنہ) سے کہا(شروع اسلام میں مال تواولادکاحق ہوتااورماں باپ کے لیئے وصیت کی جاتی پھراللہ نے جوچاہامنسوخ کردیا،اورمردکوعورت کادہراحصہ دلایااورماں باپ کوہرایک کاچھٹاحصہ اورجوردکوآٹھواں اورچوتھا،خاوندکوآدھایاچوت ھا۔
باب نمبر15: باب ۔ مرتے وقت خیرات کرناچنداں افضل نہیں ہے۔(جیسے صحت میں افضل ہے)
-21ہم سے محمدبن علاء نے بیان کیاکہاہم سے ابواسامہ(رضی اللہ عنہ)نے انہوں نے سفیان ثوری سے انہوں نے عمارہ بن قعقاع سے انہوں نے ابوزرعہ سے انہوں نے ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے کہاایک شخص(نامعلوم)آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کے پاس آیاکہنے لگایارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کونسی خیرات افضل ہے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاوہ جوتوبھلاچنگاہوکرمال کی خواہش تونگری کاامیدمحتاجی کاڈررکھ کرکرے اوراتنی دیرمت لگاکہ حلق میں دم آجائے(مرنے لگے)اسوقت یوں کہے فلانے کواتنادینافلانے کواتنادینا،اب توفلانے کاہوہی گیا(توتودنیاسے چلا)
باب نمبر16: باب ۔اللہ تعالیٰ کا(سورۃ النساء میں)یہ فرماناکہ وصیت اورقرضے کی اداکے بعدحصے بٹیں گے۔
اورمنقول ہے کہ شریح قاضی اورعمربن عبدالعزیزاورطاؤس اورعطاء اورعبدالرحمن بن اذینہ ان لوگوں نے بیماری میںقرض کااقراردرست رکھاہے اورامام حسن بصری نے کہاسب سے زیادہ آدمی کواس وقت سچاسمجھناچاہیئے جب دنیامیں اس کاآخری دن اورآخرت میں پہلادن ہواورابراہیم نخعی اورحکم بن عتیبہ نے کہااگربیماروارث سے یوں کہے کہ میرااس پرکوئی قرضہ نہیں تویہ ابراء صحیح ہوگا۔اوررافع بن خدیج (صحابی)نے یہ وصیت کی کہ ان کی جورووفزاری کے دروازے میں جومال بندہے وہ نہ کھولاجائے۔اورامام بصری نے کہااگرکوئی مرتے وقت اپنے غلام سے کہے میں تجھ کوآزادکرچکاتھاتوجائزہے۔
اورشعبی نے کہااگرعورت مرتے وقت یوں کہے کہ میراخاوندمجھ کومہردے چکاہے اورمیں لے چکی ہوں توجائزہوگااوربعضے لوگ(حنفیہ)کہتے ہیں بیمارکااقرارکسی وارت کے لئے دوسرے وارثوں کی بدگمانی کی وجہ سے صحیح نہ ہوگا۔پھریہی لوگ کہتے ہیںکہ امانت اوربضاعت اورمضاربت کااگربیماراقرارکرے توصحیح ہے حالانکہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاتم بدگمانی سے بچے رہوبدگمانی بڑاجھوٹ ہے اورمسلمانوں (دوسرے وارثوں کاحق)مارلینادرست نہیںکیونکہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاہے منافق کی نشانی یہ ہے کہ امانت میں خیانت کرے۔اوراللہ تعالی نے (سورہ نساء میں)فرمایااللہ تعالی تم کویہ حکم دیتاہے کہ جس کی امانت ہے اس کوپہنچادو۔اس میں وارث یاغیروارث کی کوئی خصوصیت نہیں ہے اسی مضمون میں عبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہ)سے مرفوع حدیث ہے۔
-22ہم سے سلیمان بن داؤدابوالربیع نے بیان کیاکہاہم سے اسماعیل بن جعفرنے کہاہم سے نافع بن مالک بن ابی عامرابوسہیل نے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایامنافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کہے توجھوٹ اورجب اس کے پاس امانت رکھیں توخیانت کرے اورجب وعدہ کرے توخلاف۔
باب نمبر17: باب اللہ تعالی کے (سورۃ النساء میں)یہ فرمانے کی تفسیرکہ حصوں کی تقسیم وصیت اوردین کے بعدہوگی۔
اورمنقول ہے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے دین کووصیت پرمقدم کرنے کاحکم دیااوراسی صورت میں یہ فرمانے کی اللہ تم کوحکم دیتاہے کہ امانتیں امانت والوں کوپہنچاؤتوامانت(قرض)کااداک رنانفل وصیت کے پوراکرنے سے زیادہ ضروری ہے اورآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاکہ صدقہ وہی عمدہ ہے جس کے بعدآدمی مالداررہے اورابن عباس (رضی اللہ عنہ)نے کہاغلام بغیراپنے مالک کی اجازت کے وصیت نہیں کرسکتااورآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاغلام اپنے مالک کے مال کانگہبان ہے۔
-23ہم سے محمدبن یوسف بیکندی نے بیان کیاکہاہم کوامام اذراعی (رحمۃ اللہ)نے خبردی انہوںنے زہری سے انہوں نے سعیدبن مسیب اورعروہ بن زبیرسے کہ حکیم بن حزام(صحابی مشہور)نے بیان کیامیںنے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)سے مانگاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے مجھ کودیاپھرمانگاپھرآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے دیاپھرفرمانے لگے حکیم یہ دنیاکاروپیہ پیسہ دیکھنے میں خوشنمااورمزے میں شیریں ہے لیکن جواسکوسیرچشمی سے لے اس کوبرکت ہوتی ہے اورجوکوئی جان لڑاکرحرص کے ساتھ اس کولے اس کوبرکت نہ ہوگی،اس کی مثال ایسی ہے جوکھاتاہے لیکن سیرنہیں ہوتااوراوپروالا(دینے والا)ہاتھ نیچے والے(لینے والے)ہاتھ سے بہتر ہے حکیم نے عرض کیا،یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)اس کی جس نے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کوسچاپیغمبرکرکے بھیجا،میں توآج سے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے بعدکسی سے کوئی چیزنہیں لینے کامرنے تک(پھرحکیم کایہ حال رہا)کہ ابوبکرصدیق(رضی اللہ عنہ)ان کاسالیانہ وظیفہ دینے کے لیئے ان کوبلاتے وہ اس کولینے سے انکارکرتے حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے بھی اپنی خلافت میں ان کوبلایاان کاوظیفہ دینے کے لیئے لیکن انہوں نے انکارکیاحضرت عمر(رضی اللہ عنہ)کہنے لگے مسلمانو(تم گواہ رہنا)میں حکیم کواس کاحق جولوٹ کے مال میں اللہ نے رکھاہے دیتاہوں۔وہ نہیں لیتا،غرض حکیم نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے بعدپھرکسی شخص سے کوئی چیزقبول نہیں کی۔(اپناوظیفہ بھی بیت المال سے نہ لیا۔)یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی۔اللہ تعالیٰ ان پررحم کرے۔
-24ہم سے بشیربن محمدنے بیان کیاکہاہم کوعبداللہ بن مبارک نے خبردی کہاہم کویونس نے انہوں نے زہری سے انہوں نے کہامجھ کوسالم نے خبردی انہوں نے عبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہ)سے انہوں نے کہامیں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)سے سناآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) فرماتے تھے تم میں سے ہرکوئی نگہبان ہے۔اوراپنی رعیت سے پوچھاجائے گا۔حاکم بھی نگہبان ہے اوراپنی رعیت سے پوچھاجائے گااورعورت اپنے خاوندکے گھرکی نگہبان ہے اپنی رعیت سے پوچھی جائیگی اورغلام اپنے صاحب کے مال کانگہبان ہے اوراپنی رعیت سے پوچھاجائے گا۔ابن عمر(رضی اللہ عنہ)نے کہامیں سمجھتاہوں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے یہ بھی فرمایاکہ مرداپنے باپ کے مال کانگہبان ہے۔ اوراپنی رعیت سے پوچھاجائے گا۔
باب نمبر18:باب اگرکسی نے اپنے عزیزوں پرکوئی چیزوقف کی یان کے لئے وصیت کی توکیاحکم ہے عزیزوں سے کون لوگ مرادہوں گے۔
اورثابت نے انس(رضی اللہ عنہ)سے روایت کیاآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ابوطلحہ سے فرمایاتویہ باغ اپنے محتاج عزیزوں کودے ڈال،انہوں نے حسان اورابی بن کعب کودے دیا(جوابوطلحہ کے چچاکی اولادتھے)اورمحمدبن عبداللہ انصاری نے کہامجھ سے میرے باپ نے بیان کیا،انہوں نے ثمامہ سے انہوں نے انس(رضی اللہ عنہ)سے ثابت کی طرح روائت کی اس میں یوں ہے اپنے قرابت کے محتاجوں کودے۔انس (رضی اللہ عنہ)نے کہاتوابوطلحہ نے وہ باغ حسان اورابی بن کعب کودے دیاوہ مجھ سے زیادہ ابوطلحہ کے قریبی رشتہ دارتھے،اورحسان اورابی کی قرابت ابوطلحہ سے یوں تھی کہ ابوطلحہ کانام زیدہے۔ورہ سہیل کے بیٹے وہ اسودکے وہ حرام کے وہ عمربن زیادمناۃ بن عدی بن عمروبن مالک بن نجارکے اورحسان ثابت کے بیٹے وہ منذرکے وہ حرام کے،تودونوں حرام میں جاکرمل جاتے ہیں جوتیسراداداہے توحرام بن عمربن مناۃ بن عدی بن عمروبن مالک بن نجار حسان اورابوطلحہ کوملادیتاہے اورابی بن کعب چھٹی پشت ہیں یعنی عمروبن مالک میں ابوطلحہ سے ملتے ہیں ابی کعب کے بیٹے وہ قیس کے وہ عبیدکے وہ زیدکے وہ معاویہ کے وہ عمروبن مالک بن نجارکے توعمروبن مالک حسان اورابوطلحہ اورابی تینو ں کوملادیتاہے اوربعضوں نے (امام ابوحنیفہ یوسف،امام ابوحنفیہ رحمۃ اللہ کے شاگردنے)کہا،عزیزوں کے لیئے وصیت کرے توجتنے مسلمان باپ داداگذرے ہیں،وہ سب داخل ہوں گے۔
-25ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیاکہاہم کوامام مالک (رحمۃ اللہ)نے خبردی انہوںنے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے کہاانس(رضی اللہ عنہ)سے سناانہوں نے کہا(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ابوطلحہ سے فرمایا(جب انہوںنے اپناباغ بیرحاء اللہ کی رہ میں دیناچاہا)میں مناسب سمجھتاہوں تویہ باغ اپنے عزیزوں اورچچاکے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔اورابن عباس(رضی اللہ عنہ)نے کہاجب (سورہ شعراء کی)یہ آیت اتری،اوراپنے قریب کے ناطے والوں کو(خداکے عذاب سے)ڈراتوآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) قریش کے خاندان بنی فہربن عدی کوپکارنے لگے (ان کوڈرایا)اورابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)نے کہاجب یہ آیت اتری وانذرعشیرتک الاقربین آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایااے قریش کے لوگو!اللہ سے ڈرو۔
باب نمبر۱۹: باب:کیاعزیزوں میں عورتیں اوربچے بھی داخل ہوں گے!
-26 ہم سے ابوالیمان نے بیان کیاکہاہم کوشعیب نے خبردی انہوںنے زہری سے کہامجھ سعیدبن مسیب اورابومسلمہ بن عبدالرحمن نے خبردی کہ ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)نے کہاجب سورہ شعراء کی یہ آیت اللہ تعالی نے اتاری ،اوراپنے نزدیک کے ناطے والوں کواللہ کاعذاب سے ڈراتوآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے یہ فرمایاکہ قریش کے لوگو!یاایساہی کوئی اورکلمہ تم لوگ اپنی اپنی جانوں کو(نیک اعمال کے بدل)مول لے لو(بچالو)میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا(یعنی اس کی مرضی کے خلاف میں کچھ نہیں کرسکنے کا)عبدمناف کے بیٹومیں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا،صفیہ میری پھوپھی میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آنے کا۔فاطمہ(رضی اللہ عنہم)بیٹاتوچاہے جومیرامال مانگ لے لیکن اللہ کے سامنے میں تیرے کچھ کام نہیں آنے کا،ابوالایمان کے ساتھ اس حدیث کواصبغ نے بھی عبداللہ بن وہب سے،انہوں نے یونس سے،انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا۔
باب نمبر20: باب:کیاوقف کرنیوالاوقفی چیزسے کچھ فائدہ اٹھاسکتاہے۔
اورحضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے وقف میں یہ شرط لگائی کہ جو اس کااہتمام کرے وہ اس میں سے کھاسکتاہے اورکبھی خودکرنے والابھی مہتمم ہوتاہے۔کبھی دوسراشخص اسی طرح شخص یااونٹ یااورکوئی چیز اللہ کی راہ میں وقف کردے تواس سے فائدہ اٹھاسکتاہے جیسے دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں گوایسی شرط نہ کرے۔
27: ہم سے قتیبہ بن سعیدنے بیان کیا،کہاہم سے ابوعوانہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انس (رضی اللہ عنہ)سے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ایک شخص کو(جس کانام معلوم نہیںہوا)دیکھاوہ ایک قربانی کااونٹ ہانک رہاتھا(پیدل چل رہاتھا)فرمایااس پرسوارہوجااس نے عرض کی یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)وہ قربانی کااونٹ ہے آپ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے تیسری یاچوتھی باریوں فرمایاارے کم بخت سوارہوجا۔
28: ہم سے اسمعیٰل بن ابی اویس نے بیان کیاکہاہم سے امام مالک (رحمۃاللہ)نے انہوں نے ابوالزنادسے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ایک شخص کودیکھا،جوقربانی کااونٹ ہانکے جارہاتھاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایااس پرسوارہوجاوہ کہنے لگایارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)یہ قربانی کاجانور(وقفی)ہے آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے دوسری یاتیسری بارفرمایاکم بخت سوارہوجا۔
باب 21: اگروقف کرنے والامال وقف کو(اپنے ہی قبضے میں رکھے)دوسرے کے حوالے نہ کرے توجائزہے۔
کیونکہ حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)نے کہاجوشخص وقف کامتولی ہووہ اس میں سے کھاسکتاہے اوریہ تخصیص نہیں کی کہ عمر(رضی اللہ عنہ)خودولی ہوں یااورکوئی،اورآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے ابوطلحہ سے فرمایامیں مناسب سمجھتاہوں تویہ باغ اپنے رشتہ داروں کودیدے،انہوں نے کہابہت خوب اورعزیزوں اورچچازادبھائیوں کوبانٹ دیا۔
باب 22:اگرکسی شخص نے یوں کہامیرا گھراللہ کی راہ میں صدقہ ہے۔اورفقیروں وغیرہ کاذکرنہیں کیا،تووقف جائزہوا۔اب اس کواختیارہے ناطے والوں کودے یاجن کوچاہے۔
کیونکہ جب ابوطلحہ (رضی اللہ عنہ)نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)سے عرض کیامیرابہت پیارامال بیرحاہے (ایک باغ)اوروہ اللہ کے لیے صدقہ ہے توآنحضرت(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے اس کوجائزرکھااوربعضے لوگ(شافعیہ)یہ کہتے ہیں وقف جب تک درست نہ ہوگاجب تک یہ بیان نہ کرے کن پروقف کرتاہوں اورپہلاقول زیادہ صحیح ہے۔
باب 23:باب اگرکوئی یوں کہے میری زمین یاباغ میری ماں کی طرف سے صدقہ ہے توجائزہوگا۔گویہ بیان نہ کرے کہ کن لوگوں پرصدقہ ہے۔
29:ہم سے محمدبن سلام نے بیان کیاکہاہم کومخلدبن یزیدنے خبردی،کہاہم کوابن جریح نے کہامجھ کویعلی بن مسلم نے ،انہوںنے عکرمہ سے سناوہ کہتے تھے ہمیں ابن عباس (رضی اللہ عنہ)نے خبردی کہ سعدبن عبادہ کی ماں مرگئی (عمرہ بنت مسعود ۔رضی اللہ عنہم)وہ اس وقت موجودنہ تھے۔جب آئے توانہوں نے کہایارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)میری ماں گذرگئیں میں مرتے وقت موجودنہ تھااگرمیں ان کی طرف کچھ خیرات کروں توان کوثواب پہنچے گاآپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے فرمایاہاں،سعدنے کہامیں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کوگواہ کرتاہوں میراباغ مخراب ان کی طرف صدقہ ہے۔
باب24:اگرکسی نے اپنی کوئی چیزیالونڈی غلام یاجانورصدقہ یاوقف کردیاتوجائزہے۔
:30ہم سے یحییٰ بن بکیرنے بیان کیاہم سے لیث نے انہوںنے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے کہامجھ کوعبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب نے خبردی ان کے باپ عبداللہ بن کعب نے بیان کیامیں نے کعب بن مالک سے سناوہ کہتے تھے یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نے جومیری توبہ قبول کی اس کی خوشی میں سارامال اللہ اوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی راہ میں صدقہ دیتاہوں آپ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے فرمایاتواپنامال اپنے پاس بھی رہنے دے یہ تیرے حق میں بہترہوگامیں نے عرض کی بہت خوب میں خیبرمین اپناحصہ رہنے دیتاہوں۔
جاویداقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-10-09, 02:02 PM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 69
کمائي: 3,274
شکریہ: 41
37 مراسلہ میں 190 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

یہ دوبارہ بھیجاگیاتھاتومیں نےیہ ڈیلیٹ کردیاہے۔

والسلام
جاویداقبال

Last edited by جاویداقبال; 05-10-09 at 08:44 PM.
جاویداقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
مکہ, ایمان, اللہ, بچوں, جاہل, حل, حدیث, خلاف, رات, زمانہ, سہل, شخص, عائشہ, عادت, عباس, عبداللہ, عبدالرحمن, عبدالرزاق, عرب, عرض, عظمت, غلام, صلح, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:22 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger