واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حدیث‌قدسی



حدیث‌قدسی حدیث‌قدسی


پانچ صفات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-02-11, 07:47 PM   #1
پانچ صفات
زارا زارا آف لائن ہے 11-02-11, 07:47 PM

عن انس بن مالک قال:سمعت رسول الله (ص) فی بعض خطبہ ومواعظہ رحم الله امراءً قدم خیراً ،وانفق قصداً ،وقال صدقاً،وملک دواعی شہوتہ ولم تملکہ،وعسیٰ امر نفسہ فلم تلمکہ [1]

ترجمہ :

انس ابن مالک نے روایت کی ہے کہ میں نے رسول الله (ص)کے کچھ خطبوں ونصیحتوں میں سنا کہ آپ نے فرمایا:” الله اس پر رحمت نازل کرے جو خیر کو آگے بھیجے ، الله کی راہ میں متوسط طور پر خرچ کرے ،سچ بولے ،شہوتوں پر قابو رکھے اور ان کا قیدی نہ بنے ،نفس کے حکم کو نہ مانے تاکہ نفس اس پر حاکم نہ بن سکے۔

حدیث کی تشریح :

پیغمبر اکرم (ص) اس حدیث میں اس انسان کو رحمت کی بشارت دے رہے ہیں جس میںیہ پانچ صفات پائے جاتے ہیں :

۱ )” قدم خیراً“جو خیر کو آگے بھیجتا ہے ،یعنی وہ اس امید میں نہیں رہتا کہ دوسرے اس کے لئے کوئی نیکی بھیجیں،بلکہ وہ پہلے ہی اپنے لئے نیکیوں کو ذخیرہ کرتا ہے اور آخرت کا گھر آباد کرتا ہے ۔

۲ )” انفق قصداً“متوسط طور پر الله کی راہ میں خرچ کرتاہے ۔ اس کے یہاں افراط و تفریط نہیں پائی جاتی بلکہ وہ الله کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے وسطی راہ کو چنتا ہے ۔نہ اتنا زیادہ خرچ کرتا ہے کہ خود کنگال ہو جائے اور نہ اتنا کنجوس ہوتا ہے کہ اپنے مال میں سے دوسرے کو کچھ نہ دے ”ولا تجعل یدک مغلولةالیٰ عنقک ولا تبسطہا کل البسط فتقعد ملوماًمحسوراً “ [2]

اپنے ہاتھوں کو اپنی گردن پر نہ باندھو(الله کی راہ میں خرچ کرنے سے نہ رکو) اور اپنے ہاتھوں کو حد سے زیادہ بھی نہ کھولو کہ کہیں کنگال ہو جانے کی وجہ سے تمھاری مذمت نہ ہونے لگے۔

ایک دوسرے مقام پر فرمایا:والذین اذاانفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذالک قواماً [3] وہ جب الله کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ ہی کمی،بلکہ ان دونوں کے بیچ اعتدال قائم کرتے ہیں ۔

۳ ) ” وقال صدقاً “سچ بولتاہے اس کی زبان جھوٹ سے گندی نہیںہوتی ۔

اوپر بیان کی گئیں تینوں صفات پسندیدہ ہیں مگر چوتھی اور پانچویں صفت کی زیادہ تاکیدکی گئی ہے ۔

۴،۵ ) ” وملک دواعی شہوتہ ولم تملکہ ،وعصیٰ امر نفسہ فلم تملکہ“وہ اپنے شہوانی جذبات پر قابو رکھتا ہے اور ان کو اپنے اوپر حاکم نہیں بننے دیتا ۔کیونکہ وہ اپنے نفس کے حکم کی پیروی نہیں کرتا اس لئے اس کا نفس اس پر حاکم نہیں ہوتا ۔ اہم بات یہ ہے کہ انسان کو اپنے نفس کے ہاتھوں اسیر نہیںہونا چاہئے، بلکہ اپنے نفس کو قیدی بنا کر اس کی لگام اپنے ہاتھوںمیں رکھنی چاہئے ۔اور انسان کی تمام اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ نفس پر حاکم ہو اس کا اسیر نہ ہو جیسے ،جب وہ غصے میں ہوتاہے تو اس کی زبان اس کے اختیار میں رہتی ہے یا نہیں؟یا جب اس کے سینے میں حسد کی آگ بڑھکتی ہے تو کیا وہ اس کو ایمان کی طاقت سے خاموش کرسکتا ہے؟خلاصہ یہ ہے کہ انسان ایک ایسے دو راہے پر کھڑاہے جہاں سے ایک راستہ الله اور جنت کی طرف جاتاہے او ردوسرا راستہ جس کی بہت سی شاخیں ہیں جہنم کی طرف جاتاہے۔ البتہ اس بات کا کہنا آسان ہے مگر اس پر عمل کرنا بہت دشوار ہے کبھی کبھی ارباب سیر و سلوک (عرفانی افراد)کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ” اس انسان نے بہت کام کیا ہے “یعنی اس نے اپنے نفس سے بہت کشتی لڑی ہے اور بار بار گرنے اور اٹھنے کے نتیجہ میں یہ اپنے نفس پر مسلط ہو گیا ہے اور اسے اپنے قبضہ میں کرلیا ہے ۔

نفس پر تسلط قائم کرنے کے لئے ریاض کی ضرورت ہے ،قرآن کے مفہوم اور اہل بیت کی روایات سے آشنا ہونے کی ضرورت ہے۔انسان کو چاہئے کہ ہر روزقرآن ،تفسیر وروایات کو پڑھے اور ان کو اچھی طرح ذہن نشین کر کے ان سے طاقت حاصل کرے ۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ”ہم جانتے ہیں کہ یہ کام برہے مگر پتہ نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب ہم اس کام کے قریب پہونچتے ہیں تو ہم اپنے اوپر کنٹرول نہیں کرپاتے “مملوک ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ جانتا ہے مگر کر نہیں سکتا ،کیونکہ خود مالک نہیں ہے ۔ ان کی مثا ل ایسی ہی ہے جیسے کسی تیزرفتار گاڑی کا ڈارئیور گاڑی کے اچانک کسی ڈھلان پر چلے جانے کے بعدکہے کہ اب گاڑی میرے اختیارسے باہر ہوگئی ہے اور وہ کسی پہاڑ سے ٹکرا کر کھائی میں گر کر تباہ ہو جائے ۔یا کسی ایسے انسان کی مانند جس کی رفتار پہاڑ کے ڈھلان پر آنے کے بعد بے اختیار تیز ہو جائے، اگرکوئی چیز اس کے سامنے نہ آئے تو وہ بہت تیزی سے نیچے کی طرف آئے گاجب تک کوئی چیز اسے روک نہ لے،لیکن اگر وہ پہاڑی کے دامن تک ایسے ہی پہونچ جائے تو نیچے پہونچ کر اس کی رفتار کم ہو جائے گی اور وہ رک جائےگا ، بس نفس بھی اسی طرح ہے۔ یہ کتنی دردناک بات ہے کہ انسان جانتا ہو مگر کر نہ سکتاہو۔اگر انسان نہ جاننے کی بنا-- پرکوئی گناہ کرے تو شاید اس کے لئے جواب دہ نہ ہو ۔

یہ سب ہمارے لئے تنبیہ ہے کہ ہم اپنے کاموں کی طرف متوجہ ہوں اور اپنے نیک کاموںکو آگے بھیجیں ۔لیکن اگر ہم نے کوئی برا کام انجام دیا اور اس کی توبہ کئے بغیر اس دنیا سے چلے گئے تو ہمیں اس کے عذاب کو بھی برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ انسان کی تکلیف مرنے کے بعد ختم ہو جاتی ہے اورپھر نہ وہ توبہ کرسکتاہے اور نہ ہی کوئی نیک عمل انجام دے سکتا ہے۔
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,853
شکریہ: 1,154
6,267 مراسلہ میں 14,145 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 434
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (13-03-11), محمدمبشرعلی (13-03-11), مرزا عامر (13-03-11), تبتیلا انجم (25-10-11)
پرانا 11-02-11, 10:53 PM   #2
Senior Member
 
محمدمبشرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: اسلام آباد
عمر: 23
مراسلات: 1,442
کمائي: 21,471
شکریہ: 2,638
1,001 مراسلہ میں 2,160 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدمبشرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدمبشرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ خیر

سرورق کے لئے اپلائی کیا جائے۔ ۔ ۔
محمدمبشرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدمبشرعلی کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (13-03-11)
پرانا 12-02-11, 07:51 AM   #3
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,181
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ
بہت اچھی شئیرنگ ہے
شکریہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-03-11, 06:16 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 398
کمائي: 9,504
شکریہ: 1,248
330 مراسلہ میں 1,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیراً

بہت اچھا لگا پڑھ کے۔۔۔

اللہ تعالٰی لمحے کے لئے بھی نہ ھمیں ھمارے نفس کے حوالے کرے اور ھمیں تقویٰ اور پرہیزگاری عطا کرے آمین رب العالمین۔۔
__________________
رب میرا اللہ، دین میرا اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی ھیں۔۔۔!!
shafirajput آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-03-11, 02:12 PM   #5
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,853
کمائي: 278,075
شکریہ: 1,154
6,267 مراسلہ میں 14,145 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ سب کا بہت بہت شُکریہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فلم, کنگال, کنٹرول, گھر, پہلے, پسندیدہ, قدم, لوگ, اہل بیت, اہمیت, ایمان, انسان, بے, جھوٹ, جواب, جانے, حکم, خود, دنیا, راستہ, طور, عذاب, غصے, صفات, صفت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:23 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger