واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > حفیظ جالندھری



حفیظ جالندھری حفیظ جالندھری


شاہنامہ اسلام

اس موضوع کے 1 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 438 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-04-08, 09:48 AM   #1
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: الکمونیا
مراسلات: 9,610
کمائي: 115,642
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,421
3,760 مراسلہ میں 7,472 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default شاہنامہ اسلام

شاہنامہ اسلام

میاں شاہد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے میاں شاہد کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
راجہ صاحب (25-07-08), رضی (30-05-09)
پرانا 29-05-09, 03:53 PM   #2
Senior Member
 
راجہ صاحب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,701
کمائي: 34,608
ميرا موڈ:
شکریہ: 162
705 مراسلہ میں 1,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حضرت اسمٰعیل علیہ اسلام کی ولادت
ماں بیٹے کی ہجرت

جنابِ ہاجرہ تھیں زوجہ ثانی پیمبر کی
ملا فرزند اسمٰعیل انہیں خوبی مقدر کی

ہوا سارا کو رشک اس امر سے دل میں ملال آیا
نکل جائے یہاں‌ سے ہاجرہ بس یہ خیال آیا

میشت کو ادھر کچھ اور ہی منظور خاطر تھا
کہ نور احمدی بچے کی پیشانی سے ظاہر تھا

ہوا ارشاد دونوں کو عرب کی سمت لے جاؤ
خدا کے آسرے پر وادی بطحا میں چھوڑ آؤ

خدا کے حکم سے مرسل نے جب رخت سفر باندھا
جناب ہاجرہ نے دوش پر لخت جگر باندھا

پیمبر اپنا بیٹا اور بیوی ہمعناں لے کر
چلا سوئے عرب پیری میں بختِ نوجواں لے کر

خدا کا قافلہ جو مشتمل تھا تین جانوں پر
معزز جس کو ہونا تھا زمینوں آسمانوں پر

چلا جاتا تھا اس تپتے ہوئے صحرا کے سینے پر
جہاں دیتا ہے انساں موت کو ترجیح جینے پر

وہ صحرا جس کا سینہ آتشیں کرنوں کی بستی ہے
وہ مٹی جو سدا پانی کی صورت کو ترستی ہے

وہ صحرا جس کی وسعت دیکھنے سے ہول آتا ہے
وہ نقشہ جس کی صورت سے فلک بھی کانپ جاتا ہے

جہاں اک اک قدم پر سو طرح جانوں پر آفت تھی
یہ چھوٹی سی جماعت بس وہیں گرم مسافت تھی

پیمبر زوجہ و فرزند یوں‌ قطع سفر کرتے
خدا کے حکم پر لبیک کہتے اور دکھ بھرتے

بالآخر چلتے چلتے آخری منزل پر آ ٹھہرے
پئے آرام زیر دامن کوہ صفا ٹھہرے

یہ وادی جس میں وحشت بھی قدم دھرتی تھی ڈر ڈر کے
جہاں پھرتے تھے آوارہ تھپیڑے باد صر صر کے

یہ وادی جو بظاہر ساری دنیا سے نرالی تھی
یہی اک روز دین حق کا مرکز بننے والی تھی

یہ وادی جس میں سبزہ تھا نہ پانی تھانہ سایا تھا
اسے آباد کردینے کو ابراہیم آیا تھا

یہیں ننھے سے اسمٰعیل کو لاکر بسانا تھا
یہیں پر نور سجدوں سے خدا کا گھر بسانا تھا

تشریح
حضرت سارا کے اولاد نا تھی آپ نے اپنی خوشی اور تمنا سے ہاجرہ کا عقد اپنے شوہر ابراہیم علیہ السلام سے کیا ۔ حضرت ہاجرہ کے بطن سے اسمٰعیل علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ اب حضرت سارا پیغمبر علیہ السلام کی بیوی ہونے کے باوجود عورت بھی تھیں ۔ آپ کو رشک آیا اور یہ رشک اسمٰعیل علیہ السلام اور ہاجرہ کے دیس نکالے جانے کا سبب بنا ۔ لیکن دراصل دنیا کے لئے خیروبرکت کا باعث بنا ( مصنف )
راجہ صاحب آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (30-05-09)
جواب

Bookmarks

Tags
color, com, poetry, قدم, موت, اسلام, حکم, دیس, دل, سفر, شاہنامہ اسلام, عورت, عقد, صحرا


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اسلام خلیل اسلامی نظریہ حیات 3 09-10-07 01:41 PM
اسلام علیکم مولا جٹ دیس ہوئے پردیس 1 05-08-07 06:41 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:39 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger