واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > حقوق انسان



حقوق انسان حقوق انسان


اسلام میں اقلیتیوں کے حقوق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-08-11, 07:22 PM   #1
اسلام میں اقلیتیوں کے حقوق
iqbal jehangir iqbal jehangir آف لائن ہے 09-08-11, 07:22 PM

کسی بھی اقلیتی فرد کا قتل ایک عظیم سانحہ ہے اور یہ اسلامی شریعہ کے بالکل خلاف ہے۔ کسی بھی فرد کو یہ حق نہ ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ مین لے کر دوسسرے کو خود سزا دینا شروع کر دے ۔اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔
’’خبردار! جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) پر ظلم کیا یا اس کا حق غصب کیا یا اُس کو اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف دی یا اس کی رضا کے بغیر اس سے کوئی چیز لی تو بروز قیامت میں اس کی طرف سے (مسلمان کے خلاف) جھگڑوں گا۔‘‘
ابوداؤد، السنن، کتاب الخراج، باب في تعشير، 3 : 170، رقم : 3052
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اقلیتوں کے بارے مسلمانوں کو ہمیشہ متنبہ فرماتے تھے، چنانچہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاہدین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا :
من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة وان ريحها توجد من مسيرة اربعين عاما.
’’جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک پھیلی ہوئی ہے۔‘‘
1. بخاري، الصحيح، کتاب الجزيه، باب إثم من قتل، 3 : 1154، رقم : 2995
2. ابن ماجه، السنن، کتاب الديات، باب من قتل معاهدا2 : 896، رقم : 2686
3. ربيع، المسند، 1 : 367، رقم : 956

جو حقوق مسلمانوں کو حاصل ہیں وہی حقوق ذمیوں کو بھی حاصل ہوں گے، نیز جو واجبات مسلمانوں پر ہیں وہی واجبات ذمی پر بھی ہیں۔ ذمیوں کا خون مسلمانوں کے خون کی طرح محفوظ ہے اور ان کے مال ہمارے مال کی طرح محفوظ ہے۔(درمختار کتاب الجہاد)
امام ابو یوسف اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’کتاب الخراج‘‘ میں لکھتے ہیں کہ عہدِ نبوی اور خلافتِ راشدہ میں تعزیرات اور دیوانی قانون دونوں میں مسلمان اور غیر مسلم اقلیت کا درجہ مساوی تھا۔
ابو يوسف، کتاب الخراج : 187
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک دفعہ ایک مسلمان نے ایک غیر مسلم کو قتل کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قصاص کے طور پر اس مسلمان کے قتل کیے جانے کا حکم دیا اور فرمایا :
أنا أحق من أوفي بذمته.
’’غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت میرا سب سے اہم فرض ہے۔‘‘
اسلامی ریاست میں تعزیرات میں ذمی اور مسلمان کا درجہ مساوی ہے۔ جرائم کی جو سزا مسلمان کو دی جائے گی وہی ذمی کو بھی دی جائے گی۔ ذمی کا مال مسلمان چرائے یا مسلمان کا مال ذمی چرائے دونوں صورتوں میں سزا یکساں ہوگی۔
ابويوسف، کتاب الخراج : 108، 109
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام کے گورنر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو فرمان لکھا تھا اس میں منجملہ اور احکام کے ایک یہ بھی تھا کہ :
وامنع المسلمين من ظلمهم والإضراربهم واکل اموالهم إلا بحلها.
’’مسلمانوں کو ان پر ظلم کرنے اور انہیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طریقہ سے ان کے مال کھانے سے منع کرنا۔‘‘
ابويوسف، کتاب الخراج : 152
ذمیوں کے اموال اور املاک کی حفاظت بھی اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جوغیر مسلم اسلامی ریاست میں قیام پذیر ہوں اسلام نے ان کی جان، مال، عزت وآبرو اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دی ہے۔اور حکمرانوں کو پابند کیا ہے کہ ان کے ساتھ مسلمانوں کے مساوی سلوک کیا جائے۔ ان غیر مسلم رعایا(ذمیوں) کے بارے میں اسلامی تصوریہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی پناہ میں ہیں۔ا س بناء پر اسلامی قانون ہے کہ جو غیر مسلم، مسلمانوں کی ذمہ داری میں ہیں ان پر کوئی ظلم ہوتو اس کی مدافعت مسلمانوں پر ایسی ہی لازم ہے جیسی خود مسلمانوں پر ظلم ہوتو اس کا دفع کرنا ضروری ہے۔(مبسوط سرخسی:۱/۸۵)
قرآن مجید بلاشبہ انسانیت کا محافظ ہے یہی وہ کتاب حق ہے جو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے "اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا ہے کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین پر فساد مچانے والا ہو ، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا اور جو شخص کسی ایک شخص کی جان بچائے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔ (المائدہ5:32)
حضرت عمر نے غیر مسلموں کی جان ومال کو مسلمانوں کے جان ومال کے برابر قرار دیا‘ مسلمان اگر کسی ذمی کو قتل کرڈالتا تھا تو حضرت عمر فوراً اس کے بدلے میں مسلمان کو قتل کرادیتے تھے۔ مولانا شبلی نے روایت کی ہے کہ قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرہ کے ایک عیسائی کو مار ڈالا‘ حضرت عمر نے لکھ بھیجا کہ قاتل ‘ مقتول کے ورثاء کے حوالے کردیا جائے‘ چنانچہ وہ شخص مقتول کے وارث جس کا نام حسنین تھا‘ حوالہ کیا گیا اوراس نے اس کو قتل کر ڈالا۔ مال اور جائیداد کے متعلق حفاظت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی تھی کہ جس قدر زمینیں ان کے قبضے میں تھیں‘ اسی حیثیت سے بحال رکھی گئیں جس حیثیت سے فتح سے پہلے ان کے قبضے میں تھیں‘ یہاں تک کہ ان مسلمانوں کو ان زمینوں کا خریدنا بھی ناجائز قرار دیا گیا.
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :
دية اليهودي والنصراني والمجوسي مثل دية الحر المسلم.
’’یہودی، عیسائی اور مجوسی کی دیت آزاد مسلمان کی دیت کے برابر ہے۔‘‘
مندرجہ قران و حدیث اور حالات وواقعات کی روشنی میں یہ یقین سے کہا جاسکتاہے کہ غیر مسلموں کی جان‘ مال‘ عزت وآبرو اور مذہب کا اسی قدر استحفاظ کیا جانا چاہیے جس قدر مسلمان کی عزت وناموس کا۔ اسلام میں اقلیتوں کا تحفظ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

iqbal jehangir
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Lahore
مراسلات: 82
شکریہ: 95
24 مراسلہ میں 53 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 185
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے iqbal jehangir کا شکریہ ادا کیا
riaz ahmad (29-08-11), فیاض انصاری (13-03-12), حیدر (09-08-11)
جواب

Tags
ہے۔, فرض, قران, نبوی, مجید, مسلمان, مسلمانوں, آزادی, اللہ, اسلام, اسلامی, جیسی, حکم, حدیث, خون, خودکش, خلاف, دنیا, شام, شخص, شروع, طالبان, عیسائی, عزت, عظیم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:28 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger