شیخ المشائخ حضرت حاجی امداداللہ مہا جر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
(1 ): مسائل ضروی عقائد حاصل کریں ۔
(2 ): رذائل کو دور کریں حرص،غصہ،جھوٹ،غیبت،بخل ،حسد،ریا،کینہ۔
(3 ): یہ اخلاق پیداکریں ۔صبر،شکر،قناعت،توکل،رضا،ش رع،کا پابند رہیں ۔
(4 ): کسی وقت یاد الٰہی سے غافل نہ ہو۔
(5) خلاف شرع فقراء سے بچے
(6) اپنے کو سب سے کمتر جانے بات نرمی سے کریں ۔
(7) سکوت اور خلوت کو رکہیں
(

نہ اتنا کھائیں کہ کسل ہو اورنہ اتنا کم کھائیں کہ عبادت میں ضعف ہو جائے
(9) فکرو فاقہ سے تنگ دل نہ ہو اپنے اخلاق سے پیش آئے ۔
(10) خطاء قصور سے در گزر کریں ۔
(11) کسی کی غیبت اور عیب جوئی نہ کریں ۔بلکہ عیب پوشی کریں۔ اپنے عیوب پیش نظر رکھے ،کم ہنسیں ،زیادہ روئیں ،عذاب الٰہی اور اسکی بے نیا زی سے لرزاں رہے ۔
(12) موت کا ہر وقت خیال رکھے ۔روزانہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے۔
(13) غیر شرعی مجا لس میں مت جائیں ۔
(14) رسوم جہالت سے بچیں
(15) نیک اعمال پر غرور نہ کریں ۔
(16)غرباء ،مساکین اور علماء صالحین کی محبت رکھیے
یہ بزرگوں کے اقوال اور آج کل کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ جو اھل اسلام ہیں ان میں یہ تمام خوبیاں پائی جانیں چاہیں ۔اگریہ امتیاز ختم ہو جائے تو ظاہری طور پر مسلمان اور غیر مسلم میں فرق نمایاں نہیں ہوتا افسوس کہ اس وقت جتنی خرابیاںغیر مسلموں میں تھیں ہمنے انکو خوبی سمجھ کر اپنالیا اور انہوں نے مسلما نوں کی تمام خوبیوں کو حقیقت میں خوبیاں سمجھ کر اپنایا تو کل جو ہما رے اخلاق کی مثالیں دیتے تھے آج ہم اُنکی مثالیں دیتے ہیں اور وہ ھماری بد دیانتیوں کو بیان کرتے اور لکھتے ہیں ۔۔۔
کاش کہ مسلما ن حقیت میں مسلمان بن جائیں