| خاص آفرز اور اعلانات پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز (پاکستان کے اردو زبان میں سب سے بڑےفورمز) کی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات اور بعض خاص موقعوں پر منفرد طرز کی پیشکشیں اپ یہاںپر پائیںگے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | ظاہری انداز |
| مندرجہ ذیل 12 صارفین نے ام غزل کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | shafresha (07-06-09), فیصل ناصر (06-06-09), موجو (11-06-09), مرزا محمد فاروق (01-07-09), ابن آدم (07-06-09), ابرارحسین (06-06-09), خرم شہزاد خرم (06-06-09), راجہ اکرام (27-06-09), رضی (06-06-09), زین خان (08-06-09), سحر (10-06-09), عدنان (08-06-09) |
| کمائي نے ام غزل کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 06-06-09 | رضی | gOOD aCTIVITY | 100 |
|
|
#46 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14
کمائي: 345
شکریہ: 3
5 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سبحان اللہ ماشااللہ بھائی اسی جذبے کی ضرورت ہے ہماری اس پیاری دھرتی کو اللہ ہم سب میں یہ جذبہ بیدار کریں ۔
|
|
|
|
|
|
#47 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
ہم نے پاکستان کو کیا دیا - جب بھی میں یہ بات سوچتا ہوں اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو اپنے دل و دماغ کو بالکل خالی پاتا ہوں کیونکہ ابھی تک میں خصوصا اپنی بات کروں گا کہ اس ملک کو کچھ بھی نہیں دے پایا جو کچھ دینے کا میرا حق ہے حالانکہ اس ملک نے مجھے کیا نہیں دیا ایک پہچان دی، ایک اچھا گھر، شناخت ، شان سے چلنے کا مان اور سب سے بڑی آزادی کی نعمت ملی ہے مجھے اس ملک سے ۔ لیکن میں نے ان سب نعمتوں کےبدلے میں اس کو کیا دیا بلکہ میں تو اس ملک کے خلاف سوچتا ہوں یعنی جس ملک نے مجھے پہچان، اچھا گھر، عزت کی روزی، شان سے اور عزت سے رہنے کا ڈھنگ اور آزادی دی ہے میں اس ملک کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں اور میری کوشش یہی ہے کہ مجھے جلد سے جلد کسی یورپی ملک کا ویزا ملے اور میں یہاں سے چلا جائوں ۔
کچھ ماہ پہلے کی بات ہے میرے ایک عزیز جو کہ کسی یورپی ملک میں ہوتے ہیں ان کا پاکستان آنا ہوا اور ان سے ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں پاکستان اور یورپی ممالک کا موازنہ شروع ہوگیا ۔ میرا کہنا تھا کہ ہمارے پاکستان میں کچھ بھی نہیں ہے یہ ملک رہنے کے قابل ہی نہیں ہے یہاں جتنی بھی محنت کرو سب فضول ہے میں بڑے جوش میں تقریر کررہا تھا اور میرے وہ عزیز بہت غور سے میری طرف دیکھ رہے تھے جب میںزرا سانس لینے کو رُکا تو وہ گویا ہوئے کہ تم بالکل نادان ہو، مجھے بہت ترس آتا ہے تمہارے جیسے لوگوں پہ پتہ نہیںتم لوگوں نے یورپ کو کیا سمجھ رکھا ہے بھائی میرے دور کے ڈھول ہمیشہ سُہانے ہوتے ہیں ۔تم کیا سمجھتے ہو کہ وہاں پہ پیسہ درختوں پہ اُگتا ہے کہ ہم لوگ گئے اور جتنا جی چاہا توڑ لائے ۔ اس نے کہا کہ تم لوگ خوش قسمت ہو کہ یہاں آزادی سے رہ رہے ہو اچھی جاب کرتے ہو ، اپنوں کے ساتھ وقت گزارتے ہو ہر کا م کرنے کی آزادی حاصل ہے تم لوگوں کو ۔ میں نے اس کو ملک کے موجودہ حالات کی طرف موڑا اور کہا کہ بھائی بتائو اتنا کچھ ہو رہا ہے اس ملک میں آئے دن کہیں نا کہیں خود کش دھماکہ ہورہا ہے ، اپنے اپنوں کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں ، غریب کی یہاں کوئی نہیں سنتا بس وہ حساب ہے کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس اس پر اس نے جواب دیا کہ جو کچھ بھی ہے گھر تو آخر اپنا ہے اور اپنا گھر اس وقت مصیبت میں ہے پریشانی میں ہے جو کہ ہمارے دشمن کی چال ہے تو کیا ہم ایسے میں اپنے گھر کو چھوڑ کر چلے جائیں۔ اور اگر تم یورپ کے کسی ملک میں چلے جاتے ہو تو کیا سمجھتے ہو کہ تمہیں وہاں پہ سکون مل جائے گا۔ بلکہ تمہارا وہاں رہنا مشکل ہوجائے گا وہ لوگ مسلمانوں کے خلاف ہیں اور مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں۔ قصہ مختصر کہ اس کے ساتھ کافی بات چیت ہوئی اس موضوع پہ اور بعد میں جب میںنے اس کی باتوں کے بارے میں سوچا اور اپنے بارے میں اپنے ملک کے بارے میں سوچا تو مارے ندامت کے میری آنکھوں سے اشک جاری ہوگئے کہ میں اس ملک کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں اس گھر کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں جس کو ہمارے بزرگان نے بےپناہ قربانیوں کے بعد حاصل کیا تھا تاکہ ہم یہاں آزادی سے رہ سکیں۔ یہ ملک یہ گھر جو کہ ہمارے بزرگان نے اپنی قیمتی جانیں دے کر حاصل کیا ہے اس امید کے ساتھ کہ ان کی آنے والی نسلیں یعنی کہ ہم لوگ اس ملک کو ترقی کی شاہراہ پہ گامزن کریں گے۔ لیکن ہم تو اپنے آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہیں تو اس ملک کے ساتھ کیا وفا کریں گے۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#48 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,731
کمائي: 22,344
ميرا موڈ:
شکریہ: 9,859
1,839 مراسلہ میں 4,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عدنان بھائی ایک اچھی کوشش پر 500 پوائنٹس آپکے۔
|
|
|
|
|
|
#49 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,731
کمائي: 22,344
ميرا موڈ:
شکریہ: 9,859
1,839 مراسلہ میں 4,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہد بھائی بہت ہی ذبردست کوشش پر 500 پوائنٹس ،
اور 100 میری طرف سے ۔۔۔۔ Last edited by ام غزل; 28-06-09 at 01:41 PM. |
|
|
|
|
|
#52 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,262
کمائي: 35,011
ميرا موڈ:
شکریہ: 193
991 مراسلہ میں 2,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام
اب آئے گا مزا ![]() ![]() ![]() عرصہ ھوگیا اس مقابلے کو شروع ھوئے کوئ کچھ لکھ ھی نہیں رھا تھا میں بھی سست ھوگئ تھی اب لوگ ائے ھیں مقابلے پہ اب میں بھی کچھ لکھونگی |
|
|
|
|
|
#53 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14
کمائي: 345
شکریہ: 3
5 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سب دوستو نے موضوع کی تعریف کی ہے لیکن کچھ اس سوچ میں ہیں کہ لکھیں گے کیا بھائی لکھنا تو وہی ہے جو دیا ہے۔یہ کوئی سرکاری مقابلہ تو نہیں۔ویسے بھی ہم نے اس وطن کو اتنا کچھ دیا ہے۔ اب تو یہ دھرتی ہمارے احسانات کے بوجھ تلے دب کر بے دم ہوتی جارہی ہے اور فریاد کررہی ہے بس بس کرو ورنہ میرا سینہ شق ہو جائے گا اس میں سے تھوڑا سا بھی لکھ دے تو بہت ہو گا۔
|
|
|
|
|
|
#55 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 43
مراسلات: 1,769
کمائي: 57,596
ميرا موڈ:
شکریہ: 974
1,425 مراسلہ میں 3,696 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم نے پاکستان کو کیا دیا ہے۔
محترم نا ظرین کرام بادی النظر میں دیکھا جا ئے تو ہمیں ایسا محسو س ہو تا ہے گو یا ہم اب تک اپنے وطن کو کچھ نہیں دے سکے۔ کیوں؟ اسلئے کہ جس پاکستان کا خواب ہمارے آبا ءو اجداد نے دیکھا تھا ۔ آج کا پا کستا ن ویسا نہیں ہے۔ قائد اعظم نے پا کستان کی پہلی قا نون سا ز اسمبلی سے خطاب کر تے ہوے فرما یا تھا ً"میں دیکھ رہا ہوں کہ پا کستان دنیا کی عظیم ترین قوم بنے گی" یہ خواب سچ کے قریب پہنچتے پہنچتے وقت تو لگے گا- مگر پورا ضرور ہو گا۔ یہ فخر کیا کم ہے ۔ کہ ہم دنیا کی آٹھ ایٹمی طا قتوں میں سے ایک ہیں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طا قت ہیں ہما رے 90 فی صد عوام اب بھی اپنے ملک سے بے پنا ہ محبت کرتے ہیں۔ مگر افسو س کہ ہم لیڈر شپ کے فقدان کی وجہ سے اپنی منزل تک نہیں پنیچ پا رہے۔ لیکن مایو س ہونا مسلمان کا کر دار نہیں۔ قدرت کا اصول ہے۔ اندھیر ے کے بعد روشنی نے آنا ہو تا ہے۔ وہ یورپ جو ہزاروں برس جہا لت میں گم رہا آج علم کا مر کز ہے۔ ہم کل تک علم ، دولت، عزت کے ما لک تھے ۔ آج خوار ہو رہے ہیں ۔ تو کیا اس خواری کے بعد بھی خواری ہے۔ نہیں۔ ہم آہستہ سہی مگر لگنے والی ٹھوکریں ہمیں راستہ چلنے کا سبق سکھا رہی ہیں۔ ہئم نے صر ف پا کستان کو ہی نہیں دیا بلکہ پوری دنیا کو بہت کچھ دیا ہے۔ کو ریا کی مثا ل لے لیں۔ ڈاکٹر محبوب ا لحق نے انہیں پا نچ سا لہ منصو بہ بنا کر دیا اور وہ ترقی کی راہ پر چل نکلا ۔ انگلینڈ کی مثا ل لیں۔ وہاں کا سکا لر شپ سسٹم کے مر ہون منت ہے۔؟ نا ظرین کرام ہم نے الحمد للہ اپنے وطن کو بہت کچھ دیا ہے اور دے رہے ہیں ۔ مگر اسکی پرجیکشن نہیں ہو رہی۔ کیوں۔ صر ف کچھ لوگ ہیں جنکی آوازیں اصل پا کستا نیوں کی آوازیں پر حا وی ہیں۔ تو یہ پروپیگنڈا ہو رہا ہے۔ کہ پا کستان ایک نا کام ریا ست ہے۔ یہا ں دہشت گرد بستے ہیں۔ یہاں مذہبی گروہ کی اجارہ داری ہے وغیرہ وغیرہ یہ درست نہیں ہم ہا ری ہوئی با زی جیتنے والے لو گ ہیں۔ ٹی 20 ورلڈ کپ اسکی زندہ مثا ل ہے۔ دنیا کے اندر ایسی مثال نہیں ملتی کہ 30 لاکھ لوگ اپنے ملک کے اندر بے گھر ہو گئے ہوں۔ مگر شما لی علاقوں کے لوگ بھوکے ، ننگے اپنے خیموں میں پاکستان کے نعرے لگا تے دکھا ئی دیتے ہیں۔ مجھے دنیا میں ایسی کو ئی مثا ل تو دیں۔ 65 کی جنگ میں مٹھی بھر فوج نے انڈیا جیسے بد مست ہا تھی کو اپنا تھو کا چا ٹنے پر مجبور کر دیا ۔ مجھے دنیا بھر سے ایسی کو ئی مثا ل تو دیں پا کستان کے ایک سپوت نے او لیول کا سینکڑوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ مجھے دنیا بھر سے ایسی کو ئی مثا ل تو دیں دوسروں ملکوں سے امدا د لیکر تنخواہیں ادا کر تے والے ایک ملک نے۔۔ ایٹمی دھما کہ کر دیا۔مجھے دنیا بھر سے ایسی کو ئی مثا ل تو دیں لوگ اٹھے اور انہوں نے ایک دن میں چیف جسٹس کو بحا ل کر وا دیا ۔ مجھے دنیا بھر سے ایسی کو ئی مثا ل تو دیں ہما رے ایک سپوت نے لاہور میں ایشیا کا سب سے بڑا کینسر ہسپتال بنا دیا ۔مجھے دنیا بھر سے ایسی کو ئی مثا ل تو دیں ہمارے ملک میں ایک خا ندان نے جمہوریت کی خا طر تین نسلیں قر بان کر دیں۔مجھے دنیا بھر سے ایسی کو ئی مثا ل تو دیں نا ظرین کرام ہم نے اپنے وطن کو بہت کچھ دیا ہے۔ مگر یہ کا فی نہیں۔ ہم اب تک ٹھوکریں اس لئے کھا رہے ہیں کہ ہم نے قو م بن کر نہیں سوچا۔ ہر کسی نے اپنی انفرادی حیثیت سے کا م کیا مگر ہم ایک منظم قوم کی شکل اختیا ر نہ کر سکے۔ اس لئے ہم اپنے اندر کو مخلص رہبر نہ تلاش کر سکے۔ ہم نے کھوٹے سکوں سے اپنی تقدیر وا بستہ کرلی۔ ہم ایک قوم کے بجا ئے انسا نوں کا ایک ہجو م بن گئے ہیں۔ ہمیں ضرورت ہے ایک اچھے رہبر کی۔ اور انشا ءاللہ میں ما یوس نہیں ہوں۔ ہم نے تکلیف کے بہت دن گذار لئے ہیں ۔ اب اللہ نے چا ہا تو آسا نیا ں ہما را مقدر بنیں۔ ہم نے اسی پا کستان میں جینا ہے۔ اسی سر زمین پہ مرنا۔ یہی مٹی ہما را سب کچھ ہے۔ میر ے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے میں جس مکان میں رہتا ہوں اسکو گھر کردے میری زمیں میر ا آخری حوالہ ہے سو میں رہوں نہ رہوں اسکو بارور کر دے |
|
|
|
|
|
#56 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
اب مجھے بتائیے کے آپ خود سے اختلاف کیئے جانے پر ناراض تو نہیںہوں گے؟ یہ اس لیئے کہہ رہا ہوں کیوں کے آپ کی تقریر/مضمون کے بعض مندرجات سے مجھے شدید اختلاف ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ سے اختلاف کرنے کی جرات کرنا چاہتا ہوں۔ |
|
|
|
|
|
|
#57 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 43
مراسلات: 1,769
کمائي: 57,596
ميرا موڈ:
شکریہ: 974
1,425 مراسلہ میں 3,696 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جو کا م پوچھ کر کیا جائے اسے جرات نہیں کہتے ۔۔۔ تعمیل کہتے۔
اور میں بھلا برا کیوں منا وں گا؟ ویسے بھی میں اس فورم کا شا ید سب سے کم علم ممبر ہوں۔ مجھے اپنی کم علمی کا احسا س ہے۔ مگر میں آپ لو گوں کے درمیا ن رہ کر سیکھنا چا ہتا ہوں۔ آپ ضرور اختلاف کریں ۔ مگر دلائل کیسا تھ۔ میں برا نہیں منا و ں گا۔ |
|
|
|
|
|
#58 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,262
کمائي: 35,011
ميرا موڈ:
شکریہ: 193
991 مراسلہ میں 2,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اج ہمارا موضوع بحث ھے ھم نےپاکستان کوکیا دیا - شاید اس موضوع پہ کبھی ھم نے سوچابھی نہیں ھوگا ھم اکثر گلہ کرتے نظر آتے ھیں آخر اس ملک نے ھمیں دیا کیا ھے ؟ اس ملک میں ھمارا کوئ مستقبل نہیں ۔۔ پاکستان کو برا بھلا کہہ کر یہاں سے ترقی یافتہ ممالک بھاگنے کا سوچتے ھیں ان ممالک کے گن گاتے ھیں ان ترقی یافتہ عظیم ممالک کی تعریف کرتے ھیں کیا کوئ ملک خود عظیم ھوتا ھے ؟؟ نہیں ----- کوئ بھی ملک خود عظیم نہیں ھوتا بلکہ کوئ بھی قوم اپنے ملک کو عظیم بناتی ھے اس ملک کے رھنے والے اپنے ملک کو عظیم بناتے ھیں
کیا ھم ایک قوم ھیں ؟؟ قوم کیا ھوتی ھے ؟؟ مختلف عقائد مختلف روایات مختلف سوچ مختلف زبانوں کے بولنے والے مختلف طبقات کے لوگ جو ایک ھی قطعہ زمین پہ رھتے ھیں ان کے عقائد اور زبان چاھے الگ ھوں ان کی راھیں ایک ھوتی ھیں ان کی پہچان ایک ھوتی ھے ان کے راستے ایک ھوتے ھیں ھم باسٹھ سال سے ایک ملک میں رہ رھے ھیں یہ ھماری بد قسمتی ھے کہ آج تک ھم ایک قوم نہیں بن سکے بکھرے ھوئے ھجوم کو ھم کیا قوم کہہ سکتے ھیں ؟؟ قدرت نے ھمیں ھر نعمت سے نوازا ھے پاکستان میں ھمیں بہتے دریا نظر آتے ھیں تو کہیں ٹھاٹھے مارتا ھوا سمندر کہیں نخلستان ھیں تو کہیں خوبصورت وادیاں ایک طرف صحرا ھیں تو ایک طرف بلندوبالا پہاڑی چوٹیاں ھیں نا ختم ھونے والے معدنی ذخائر ھیں زرخیز زمین ھے دنیا کا بہترین نہری نظام ھے یہاں ھر موسم ھے محنتی جفاکش لوگ ھیں پھر کیا وجہ ھے پاکستان کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کا وہ حق دار ھے ؟؟ اس کا قصور وار کون ھے ؟ میں ؟؟ آپ ؟؟ یا ھم سب ؟؟؟ ھمارا قصور یہ ھے کہ ھم اتنے سالوں میں اپنے ملک کو ایک مستحکم آئین نہیں دے سکے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ دیا ھے اس پہ عمل نہیں کیا اس کے معدنی ذخائر پہ جھگڑا کیا ھے ان سے مناسب فائدہ نہیں اٹھایا ملکی محبت پہ تقریریں کر کے انتخاب جیتے ھیں اپنے ملک کی محبت کوئ قربانی نہیں دی اپنی محنت و دیانت سے عالمی منڈیوں میں وہ جگہ نہیں بنائ جو ھم بنا سکتے تھے ھم نے غریب عوام کو صرف وقتی استعمال کی چیز سمجھا ان کو برابری کی سطح پہ لانے کے لیے کوئ اقدام نہیں کیے ھم نے بہت سی پالیسی بنائ مگر وہ کاغذی کاروائ تک محدود رھیں ھم نے بین الاقوامی سطح پر ملکی وقار کو بلند کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا جہاں اپنا فائدہ نظر آیا اپنے ضمیر کو سستے داموں بیچ دیا برسوں سے ملکی قیادت چند خاندانوں کسے ھاتھوں میں کھیلونا بنی ھوئ ھے جمہوریت کا نعرہ صرف انتخابات جیتنے کے لیے ھوتا ھے اس کے بعد آمر ھو یا کسی بھی جمہوری پارٹی کی حکومت ملکی حالات نہیں بدلتے ملکی ذخائر کو بے دردی سے استعمال کرتے ھیں بیچتے ھیں قرضے لیتے ھیں مگر اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کچھ نہیں کرتے ہمیں افسوس ھے ھم نے بحثیت ایک فرد ایک قوم اپنا فرض ادا نہیں کیا اگر آج پاکستان کی یہ حالت ھے تو اس کے زمہ دار ھم سب ھیں پاکستانی ھونے کا جو فخر پہلے ھوتا تھا اب وہ معدوم ھوتا جا رھا ھے اگر میں یہ سوچوں میں نے پاکستان کو کیا دیا تو مجھے لگتا ھے میں خالی ھاتھ ھوں مگر میرا دل پاکستان کی محبت سے بھرا ھوا ھے مجھے یاد ھے میں چار پانچ سال کی تھی 14 اگست قریب تھی ھم جھنڈیاں لے کر آئے تھے ایک بچے نے اس پر بے خیالی میں پاؤں رکھا دادی جان نے سختی سے سے ڈانٹا یہ ھمارے ملک کا جھنڈا اس بے حرمتی ھوتی ھے اس پہ پاؤں نہیں رکھتے اس سن سے میرے دل میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا پاکستان کا جھنڈا ایسے محترم ھے جیسے قرآن ۔۔۔ میں جب بھی کبھی پاکستانی جھنڈے کا کوئ ٹکرا نیچے گرا ھوا دیکھتی تھی تو بھاگ کر چوم کر اٹھاتی تھی میں آج بھی حیران ھوتی ھوں پاکستان کے لیے میرے دل میں محبت عقل اور شعور کےزمانے سے بہت پہلے سے ھے میں آٹھویں کلاس میں تھی بارہ یا تیرہ برس کی عمر ھوگی میں اپنی امی کے ساتھ عید کے کپڑے لینے گئ امی نے اچھا ریشمی کپڑا دیکھانے کو کہا دکاندار نے کپڑے دیکھاتے ھوئے کہا ھمارے پاس اچھی کوالٹی کا سب باھر کا کپڑا ھوتا کوئ بھی پاکستانی کپڑا نہیں میں اس دکاندار سے لڑ پڑی تھی آپ پاکستانی ھیں پاکستان میں رھتے ھیں یہ کوئ قابل فخر بات نہیں کے آپ کے پاس کوئ پاکستانی کپڑا نہیں ھے تو دکاندار مجھے حیرت سے دیکھنے لگا تو امی نے کہا یہ ایسی ھی ھے پاکستان سے دوری نے محبت کو اور بڑھایا ھے پاکستان کے حالات خراب ھوئے تو پہلی بار میں نے قلم اٹھایا پاکستان کی محبت میں اور عوام کے حق کے لیے ---مجھے اپنے پاکستانی ھونے پہ فخر ھے یہاں اکثر لوگ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ پاکستان کے حالات کے بارے میں پوچھتے ھیں تو میرا جواب یہی ھوتا ھے ھر قوم پہ اتارچڑھاؤ کا دور اتا ھے اچھے اور برے لوگ بھی ھر قوم میں ھوتے ھیں پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رھا ھے پاکستانی بہت بہادر ھیں وہ ان حالات پہ قابو پا لیں گے میرے یقین کو دیکھ کر لوگ مذید سوال نہین کرتے پاکستان میں دوغریب بچوں کی پڑھائ کی زمہ داری میں نے لی ھے میری خواہش ھے سب کے لیے تو میں کچھ نہیں کر سکتی مگر ایک اسکول ایسا بناؤں جہاں غریب بچوں کو تعلیم مفت ملے اگر ھر صاحبِ حثیت ایک بچے کی زمہ داری لے لے اور ھم لوگ اپنی مصنوعات کی حوصلہ آفزائ کریں تو چند سال میں پاکستان کے حالات بدل سکتے ھیں ھم سب پاکستان سے محبت کرتے ھیں حالات کی دھول میں جذبے مدھم ھو جاتے ھیں ان کو صرف اجاگر کرنے کی ضرورت ھے اپنی محبت ثابت کرنے کی ضرورت ھے چاھے وہ دو لفظ بول کر ھی ھو ----- ھم اگر پاکستان کو کچھ نہیں دے سکتے محبت تو دے سکتے ھیں نا ؟؟؟؟ اے میرے وطن میں ان گلیوں کوکیسے بھول جاؤں جہاں میرا بچپن گزرا جس کی مٹی کی خوشبو نے مجھے جینا سیکھایا جس کی مہکتی بہاروں نے مجھے زندگی دی لاشعور میں کہیں میری روح کے ساتھ محبت کا اک رشتہ جوڑا ھوا ھے ایسا اٹوٹ رشتہ جو ھزار فاصلوں کے بڑھ جانے سے بھی کم نہیں ھوتا میرے وطن تیری بے سکون گلیوں سے میرے دل کا قرار وابستہ ھے میری ھر خوشی میری زندگی تجھ سے وابستہ ھے یہ میری دیوانگی ھے یا محبت کی انتہا میری آنکھوں میں تیرا حسن ٹھہر گیا ھے کوئ بھی نظارا ھو کوئ بھی دیس مجھے کچھ بھی تیری گلیوں سے حسین نہیں لگتا تو مجھے سارے جہاں سے پیارا ھے |
|
|
|
|
|
#59 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,262
کمائي: 35,011
ميرا موڈ:
شکریہ: 193
991 مراسلہ میں 2,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دس دن پہلےابو کی آنکھ کا اپریشن ھوا تھا تین دن ھسپتال میں گزرے گھر آنے کے بعد فون کالز کا نا ختم ھونے والاسلسلہ کوئ نہ کوئ واقف کار ابو کے دوست حال پوچھنے آتے رھے آج میں فون آف کر دیا تقریری مقابلےکا آخری دن تھا لکھنا پتا نہیں کیا تھا لکھا کیا ھے خیر میں نے وعدہ کیا تھا میں ضرور کچھ لکھونگی وہ وعدہ پورا کیا ھے
دعا کریں آج کوئ مہمان نا آئے میں نے ابھی کھلےآسمان تھے کی قسط بھی لکھنی ھے |
|
|
|
|
|
#60 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 43
مراسلات: 1,769
کمائي: 57,596
ميرا موڈ:
شکریہ: 974
1,425 مراسلہ میں 3,696 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے بہت اچھی کوشش کی ہے۔
اللہ آپ کے ابو کو صحت یا ب رکھے۔ آمین |
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| color, پہچان, پوسٹ, پاکستان, وفا, قواعد, موجودہ, انعام, بگ بینگ, بھائی, تحریر, جواب, جلد, خون, خوش, خلاف, دھماکہ, دل, شناخت, ضوابط, عزیز, عزت, غزل, صفحہ, صاحبہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| گیم مقابلہ | عبدالقدوس | خاص آفرز اور اعلانات | 10 | 10-08-08 10:33 AM |
| (طرحی مقابلہ ) اقبال ڈے کے حوالے سے مقابلہ شاعری 20 نومبر تک | خرم شہزاد خرم | شاعروں کی بیٹھک | 0 | 01-11-07 12:48 PM |
| تحریری مقابلہ | عدنان | نئے تخلیق کار | 6 | 05-06-07 08:23 PM |