| خاص آفرز اور اعلانات پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز (پاکستان کے اردو زبان میں سب سے بڑےفورمز) کی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات اور بعض خاص موقعوں پر منفرد طرز کی پیشکشیں اپ یہاںپر پائیںگے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | ظاہری انداز |
|
|
||||
|
||||
|
مناظر: 42968
|
||||
| 111 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | *ساجد* (03-04-09), abdulrehman303 (23-03-11), ALI-OAD (28-02-10), aqeel64 (13-09-10), asakpke (14-06-11), Aurangzeb Yousaf (20-04-09), Awais Aslam Mirza (30-04-11), Farrukh (09-05-10), GSM MAMA (24-04-09), J.S (26-07-09), JISOUTH (16-05-11), Miss Khan (24-09-11), monee3s (23-04-09), muhammad asif virani (02-08-09), mujahidsikhani (29-12-10), rabab (12-04-10), rana ammar mazhar (25-10-11), Real_Light (16-04-09), rizvidarulifta (18-01-11), sahj (30-07-09), sana goher (26-01-11), shafresha (29-03-09), skjatala (12-05-11), فیضان صديقی ,سندھ (24-02-10), فیصل ناصر (29-03-09), فخر بٹ (15-06-11), فرخ ظفر (22-11-10), کنعان (03-10-10), کاشف اکرم وارثی (08-09-11), گوہر (26-09-09), گلاب خان (07-10-09), گلز (14-06-10), پاکستانی (02-04-09), ھارون اعظم (06-11-09), یاہو (08-12-10), یاسر عمران مرزا (17-02-10), وجدان (27-07-09), نیلم خان (16-12-09), نورالدین (12-04-10), ناصحی (31-07-10), ناصر نعمان (07-08-10), نعیم۔ (21-03-10), میاں شاہد (30-03-09), مبشررضا (16-08-11), محمد یاسرعلی (14-01-10), محمد بلال (01-04-12), محمد عمران نیازی (24-11-09), محمد عاصم (11-05-10), محمدمبشرعلی (16-12-09), محمداسد (30-07-09), محمدخلیل (29-03-09), محمدعدنان (04-04-09), مرزا عامر (19-07-10), مسافر (28-07-09), مشال خان (09-04-09), مطھر (08-12-10), Wahid Mahmood (20-12-09), wajee (30-03-09), yashaka (14-05-09), Zullu230 (17-04-09), آصف رضا (28-11-11), اکرم (19-04-09), ایکسٹو (18-11-11), ایم آصف (22-11-11), ایس اے نقوی (31-03-09), اویسی (14-05-10), ام طلحہ (22-06-09), ام غزل (31-03-09), ابو عمار (04-12-09), ابوسعد (31-01-11), ابن آدم (07-05-09), ابن جلال (25-04-09), احمد نذیر (06-06-11), احمدنواز (22-07-10), اسد لطیف (02-04-09), بزم خیال (22-11-09), تانیہ رحمان ستارہ (31-05-09), جاویداسد (11-06-10), جبران جان (05-01-12), حیدر (05-10-10), حمیرا کنول (15-06-11), حسنین ایوب (27-10-10), حسان (16-05-09), خرم شہزاد خرم (18-04-09), دین محمد وطن پال (15-05-10), رفیع انجم (01-07-10), رانا امر (19-04-09), راجہ اکرام (18-04-09), راشد احمد (07-05-09), رضی (06-04-09), زبیرافتحار (26-08-11), سیپ (29-03-09), سحر (31-05-09), سعود (02-04-09), شھزادباجوہ (04-06-11), شیراز حسن (17-06-10), شمشاد احمد (13-10-10), شاہ جی 90 (31-05-09), ضرغام (05-04-09), طارق اقبال (20-09-09), طارق راحیل (06-04-09), عیشال فاطمہ (12-08-11), عامرشہزاد (23-10-09), عارف اقبال (24-01-10), عبدالقدوس (30-03-09), عبداللہ آدم (08-01-11), عبداللہ حیدر (28-06-09), عبدالسلام (26-02-11), عدنان دانی (29-11-09), عرفان مسلم (30-08-11), عروج (10-10-10) |
|
|
#871 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#872 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#873 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#874 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#875 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#876 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (02-06-10), اویسی (28-05-10) |
|
|
#877 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,087
کمائي: 19,170
شکریہ: 9,216
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#878 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (02-06-10), اویسی (29-05-10) |
|
|
#880 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#882 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستانی معیشت پرڈاکوئوں کاحملہ کیسے پسپا ہو
تحریر:عبدالہادی احمد آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال2008-09ء(زرداری دور)میں متعدد وفاقی وزارتوں اور محکموں میں323 ارب روپے سے زایدرقم خورد برد کر دی گئی۔ سب سے زیادہ کرپشن(116 ارب) فیڈرل بورڈآف ریونیو میں ہوئی اور سب سے کم 2.5 ارب دفاعی شعبے( پاکستان آرمی، پاکستان ایئرفورس اور پاکستان نیوی) میںہوئی جو کل لوٹی گئی رقم کا محض0.63 فی صد ہے ۔اس طرح ایف بی آر نے بدترین اور محکمہ دفاع نے بہترین بدعنوان ہونے کا ریکارڈ قائم کر دیا۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ غتر بود کیے گئے323 ارب میں سے 45 ارب روپوں کی وصولی کر کے رقم قومی خزانے میں جمع کرادی گئی ہے۔تاہم278 ارب روپے کا کچھ پتہ نہیں کہاں گئے۔ کسی بھی افسریاوزیرکے خلاف کوئی شہادت نہیں ملی کہ اس نے کتناخزانہ لوٹا اورکیسے لوٹا؟یعنی لوٹ مار ہوئ مگر لٹیروں کے ہاتھ صاف ہیں: دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ تم قتل کر و ہو ، کہ کر ا ما ت کرو ہو آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق مختلف اضلاع کے ناظمین نے307.7رب کے مجموعی بجٹ میں سے114.7 ارب روپے کی رقم خورد برد کی ہے، تاہم یہاں بھی معلوم نہیں ہو سکا، کس ناظم نے کتنی کرپشن کی ۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے نےنیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے مالی ریکارڈز میں ڈھائی ارب روپے کی کرپشن کی نشان دہی بھی کی ، مگر کسی خائن افسر یا اہل کار کانام نہیں لیا۔ اسی طرح پاکستان اسٹیل کے اندر 40ارب روپے کے نقصان اور کرپشن کے73 معاملات کی نشان دہی کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) میں ہونے والی جس لوٹ مار اور کرپشن کا ذکر کیا گیا ہے، یہ ادارہ اس سے کہیں زیادہ کرپشن کا شکار ہے۔ خدشہ یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ گزشتہ دو سال کے نقصانات ستر ارب روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ حالانکہ مئی 2008ءمیں جب موجودہ حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز میں اپنی من پسند انتظامیہ مقرر کی تھی، اس وقت اسٹیل ملز اکیس ارب روپے کا نفع ظاہر کر رہی تھی۔ ریلوے کو56 ار ب روپے کا خسارا بتایا جا رہا ہے اور ا س قومی ادارے کے خاتمے کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔ جنرل منیجر کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر260مسافر ٹرینوں میں سے120ٹرینیں مسلسل خسارے میں ہیں،ان میں سے سولہ بند کردی گئی ہیں، باقی104بھی بند کرنا پڑیں گی۔نئے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ خسارے میں چلنے والے اداروں پاکستان ریلوے‘ پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے کی نج کاری ضروری ہے۔ پریم یونین کے ایک عہدے دارکے مطابق56ارب روپے کا خسارا ریلوے کے10فیصد افسروں کی وجہ سے ہے ،لیکن کس کی مجال ہے ان سے کچھ پوچھ سکے۔ لیکن ڈریں یہ لوگ اس وقت سے جب لوگ ان مجرموں کو سڑکوں پر گھسیٹ کران سے حساب لے رہے ہوں گے۔ پاکستان میں جنرل ایوب خان نے روٹ پرمٹ اور لائسنس دے کر پاکستان کی سیاست میں کرپشن کی داغ بیل ڈالی تھی۔ جنرل یحییٰ خان‘ جنرل ضیاءالحق اورجنرل پرویزمشرف کرپشن کی نئی ایجادات کے موجد بنے،مگر وقت گزرنے کے ساتھ سول حکمران بھی پیچھے نہ رہے۔انہوںنے بھی فوجی حکمرانوں کے نقش قدم پر چل کر قوم کو خوب لوٹا۔ اب تو یوںلگتا ہے پاکستان کے تمام حکومتی اداروںپر افسروں اور حاکموں کی شکل میں ڈاکوءوں کا حملہ ہو گیا ہے،جنہوں نے کرپشن اتحاد قائم کر لیا ہے اور سب مل کر پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچارہے ہیں۔ کیسی عبرت ناک صورت حال ہے کہ آج وطن عزیز جوہری قوت ہونے کے باوجودعالمی برادری میں بدعنوان ترین ریاستوں میں شرمندگی سے سر جھکا ئے کھڑا نظر آتا ہے۔ کیا یہ انصاف نہیں ہو گا کہ ملک وقوم کے ان مٹھی بھردشمنوںکو سر عام پھانسیوں پر لٹکایا جائے جن کی وجہ سے یہ ساری بد نامی ہوئی ہے؟ پاکستان میں سیاست اب سب سے نفع بخش اور نقصان کے خطرے سے آزاد کاروبار بن چکاہے ۔ اس کاروبار میں ایک لاکھ کی سرمایہ کاری کر کے ایک ارب کمانے کے وسیع امکانات اورمواقع موجود ہیں۔ با اثرحکومتی طبقے کو ٹیکس چوری کرنے، کالے دھن کو چھپانے اور کرپشن کے ذریعے ملک و قوم کا لوٹا ہواقیمتی سرمایہ بیرون ملک بھیجنے کی نہ صرف آزادی ہے بلکہ یہ کام حکومتی سرپرستی میں متعلقہ سرکاری اداروں کی امداد سے انجام پاتا ہے۔کرپشن کے اس حمام کے سارے ننگے ایک دوسرے کی عریانی چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور احتساب بیورو سمیت کوئی ادارہ ان با اثر لوگوں سے ان کی دولت کا حساب طلب کر سکتا ہے نہ ان کے خلاف یہ ثابت کرنا آسان ہے کہ کس سیاست دان، جرنیل، وزیر، سرکاری افسر، جج، وکیل، ڈاکٹر یا انجینئر کے پاس کس قدر دولت اور اثاثے ہیں۔ یہ لوگ پر تعیش زندگی بسر کرنے، قیمتی گاڑیوں میں پھرنے اور کروڑوں روپے مالیت کے عالی شان محلات میں رہنے کے باوجود چند ہزار یا چند سو روپے ٹیکس ادا کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کے کسی افسر کی اتنی جرات نہیں کہ ان سے سوال کر سکے کہ کروڑوں کے گھروں، لاکھوں کی گاڑیوں کی ملکیت کے باوجود آپ اتنامعمولی ٹیکس کیوں ادا کرتے ہیں جبکہ آپ کے بچوں کی تعلیم پر اور علاج کے بہانے امریکہ، یورپ، دبئی، سنگا پور، ہانگ کانگ جا کر آپ کی عیاشی پر سالانہ کروڑوں خرچ ہوتے ہیں، ملک کے اندر اور بیرون ملک آپ کے قیمتی گھرموجود ہیں ،اس اللے تللے کے لیے مال کہاں سے آیا؟ آ پ کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ کیوں کہ پوچھ گچھ کرنے پر ایلیٹ کلاس برامناتی ہے ،اس کا استحقاق مجروح ہوتا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو قانون کے تحت ہر سال اپنے اثاثوں کی تفصیل الیکشن کمیشن کو فراہم کرنا ہوتی ہے۔ شاید چند ہی ارکان ایسے ہوں گے جنہوں نے پوری سچائی کے ساتھ گوشوارے پیش کیے ہوں،ورنہ2009ءمیں وزراءاور ارکان پارلیمنٹ نے جو گوشوارے جمع کرائے وہ بزبان خود اعلان کر رہے ہیں کہ سب جھوٹ کا پلنداہیں،مگر کس کی مجال ہےان کی گردن پکڑ سکے۔342 ارکان قومی اسمبلی میں بڑی تعداد ایسی ہے جن کے لندن، نیو یارک، دبئی اور دیگر ممالک میں عالی شان بنگلے، پر تعیش اپارٹمنٹس اور مہنگے ترین فلیٹس ہیں۔ اکثر نے یہ جائدادیں بھاری کرائے پر دے رکھی ہیں اور کچھ نے ان گھروںکو اپنے دوستوں اور رشتے دار وں کی عیاشی کے لیے وقف کر رکھا ہے جہاں وہ چھٹیاں گزارتے ہیں۔ ایسی جائدادیںبطور رشوت اعلیٰ بیورو کریسی کے استعمال میں بھی رہتی ہیںجو اس خدمت کے بدلے ان وزیروں، مشیروں اور منتخب نمائندوں کو غیر قانونی مراعات فراہم کرتے ہیں۔ ان جائدادوں کا تذکرہ کوئی بھی اپنے گواشواروں میںنہیں کرتا۔ بیرون ملک جائدادیںرکھنے والوں میں اس غریب ملک کے اپوزیشن رہنما بھی شامل ہیںکہ جو اقتدار سے علاحدگی کا تمام عرصہ بیرون ملک عالی شان محلات میں گزارتے ہیں ۔ پھر جیسے ہی حکومت ملنے کا امکان پیدا ہوتا ہے ملک و قوم کے درد میں وطن واپس آجاتے ہیں۔ فاقہ کشوں کے اس ملک میں ایلیٹ کلاس کے لوگ بھوکے ننگے اور مفلس عوام کی نمائندگی کرنے پارلیمنٹ ہاءوس آتے ہیں یا بھک منگے اور جاہل عوام کے ہجوم سے خطاب کرنے آتے ہیں توان کے نیچے کئی کئی کروڑ کی جدید بلٹ پروف اور پر تعیش گاڑیاں ہوتی ہیں۔ بہت سے ٹیکس چور ارکان کے اسلام آباد کے مہنگے ترین سیکٹرز ای سیون اور ای ایٹ، مارگلہ روڈ اور ناظم الدین روڈپر شان دار بنگلے ہیں۔ بعض نے یہ محلات لاکھوں روپے کرائے پر سفارت خانوں یا سفارتی عملے کو دے رکھے ہیں جن کا کرایہ ڈالرز، پائونڈز اور یورو زمیں ملتا ہے۔ اسلام آباد میںجتوئی ہائوس سے ملحق ایک موجودہ رکن اسمبلی، ایک سابق رکن اسمبلی اور ایک سینٹر کی ملکیت تین بنگلے ایسے ہیں جن میں سے ہر ایک کی مالیت پندرہ سے بیس کروڑ روپے ہے۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک سینیٹر کے گھر کی مالیت کم از کم دس کروڑ بتائی جاتی ہے، اس کے پورچ میں کھڑی گاڑیوں کی مالیت بھی دو کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ وہ غریب ملک جس پر اٹھاون ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے اور جس کے عوام کی بڑی تعداد روٹی کے چند نوالوں کو ترستی ہے،اس میں ایک ممبر اسمبلی نے اپنے جرمن شیفرڈنسل کے کتے کی دیکھ بھال کے لیے ماہانہ بیس ہزار روپے تنخواہ پر ملازم رکھا ہوا ہے۔ اس کے دو کتوں کے ماہانہ اخراجات40 ہزارہیں۔ یہ بنگلہ سینٹ اجلاس کے دوران آباد ہوتا ہے ورنہ ملازمین کے زیر استعمال رہتا ہے۔ قاف لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین نے اسلام آباد میں واقع اپنے گھر اور لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں واقع اپنے طویل و عریض گھر کی مالیت اصل سے کئی گنا کم ظاہر کی ہے۔ ان کے گوشواروں میں لندن، سپین، یونان، امریکہ، سنگا پور میں واقع کسی جائداد کا کوئی ذکر نہیں۔ قومی احتساب بیورو کی تحقیقات کے ریکارڈ میں موجود ہ ٍصدر آصف علی زرداری اور ان کی مرحومہ زوجہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے1993-94ءسے1996-97ءکے انکم ٹیکس گوشوارے بہت دلچسپ ہیں۔ ان گوشواروں کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے1992-93میں کل آمدنی صرف123108روپے دکھائی اور صرف2621 روپے ٹیکس ادا کیا۔ سابق وزیرا عظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے قومی اسمبلی کے حلقہ123 میں داخل کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیا ہے کہ ان کے بینک اکاءونٹس میں صرف5225روپے ہیں، انہوں نے2004 سے 2006ءتک کوئی انکم ٹیکس نہیں دیا۔وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کے حال ہی میں لندن میں خریدے گئے پرتعیش اپارٹمنٹ کے بڑے چرچے ہیں۔ اس اپارٹمنٹ کی آرائش کے لیے لاہور سے خصوصی طور پر قیمتی فرنیچر تیار کرا کے لندن بھجوایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان کے پاس صرف80لاکھ روپے تھے جو ان کے بھائی نے بطور قرض لے رکھے ہیں۔ جنوبی پنجاب سے جعلی ڈگری کی پہچان والے ر کن اسمبلی جمشید دستی کے پاس نہ ذاتی گھر ہے نہ کار ہے نہ بنک بیلنس ہے نہ کوئی اثاثہ ہے(نہ ڈگری ہے) ان کا واحد اکاءونٹ پارلیمنٹ ہاءوس میں واقع بنک میں ہے جہاں ان کی تنخواہ جمع کرائی جاتی ہے۔ نصرت بھٹو کی سابقہ اور آصف زرداری کی حالیہ سیکرٹری رخسانہ بنگش کے پاس کوئی کار نہیں ،بنک بیلنس محض بیس ہزار روپے ہے جبکہ جس گھر میں وہ رہتی ہیں اس کے فرنیچر اور دیگر سامان کی مالیت صرف13ہزار روپے ہے۔مگر یہ صرف وہ معلومات ہیں جوٹیکس چوری کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔ ان کھرب پتی ارکان پارلیمنٹ نے جس طرح خود کومالی طور پر کم تر ثابت کیا ہے اس سے ان کی ذہنی مفلسی کا اظہار ہوتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ جن لوگوں نے اپنے اثاثوں کی مالیت لاکھوں یا ہزاروں میں بتائی ہے ان کے اربوں کھربوں کے پلازے، عالی شان محلات، کار خانے، زرعی فارمز،گاڑیاں اور بنک بیلنس ہے، مگر وہ کمال ہوشیاری سے محکمہ انکم ٹیکس اور الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں۔ کیسا ظلم ہے کہ یہاں دو روٹیاں چوری کرنے والے کو اندر کر دیا جاتا ہے جب کہ اربوں کھربوں روپے کھا جانے والوں کوپروٹو کول دیا جاتا ہے۔ کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں کہ اس ملک کے وزیراعظم کادعویٰ ہے کہ اس کے پاس ذاتی گاڑی بھی نہیں،گزشتہ سال تک ان کے پاس ذاتی مکان بھی نہیں تھا۔ اب انہوں نے ملتان میں اپنی جائداد فروخت کر کے63 لاکھ روپے کا ایک مکان خریدا ہے۔وہ اسلام آباد اور ڈیفنس لاہور کے بنگلوں کا کوئی کوئی ذکر نہیں کرتے۔ ملتان میں آبائی جائداد کا بھی تذکرہ نہیں ،بے چارے غریب وز یر اعظم۔ وقت آگیا ہے ملک اور قوم پر قابض ان مٹھی بھر ہوس کے ماروں، چوروں اور ڈاکوئوں کو پکڑا جائے، ا ن پر مقدمات قائم کیے جائیں،ان بھوکوں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں جن کے پیٹ پورے پاکستا ن کو کھا کر بھی نہیں بھرے ،اب اس بھوک کودوزخ کی آگ ہی بجھا سکتی ہے۔اس بھوک نے اس ملک کے کروڑوں لوگوں کے گھروں کے چولھے بجھا رکھے ہیں۔یہ سفاک لوگ جنہوں نے اس پاک وطن کی پرامن فضائوں کوبد امنی کے حوالے کر رکھاہے۔ انہیں ان رونے والی مائوں کی آہوں سے ڈر نہیں لگتا جو عرش تک جارہی ہیں ،جن کے بچوں کے پاک لہو سے اس وطن کے در و دیوار رنگین ہیں۔ یہ کیسے ڈھیٹ مجرم ہیں کہ ڈ الر کے بدلے خود بھی کرائے کے قاتل بن گئے اور امریکا کے قاتل درندوں کو بھی اپنی بستیوں پر ڈرون حملے کرنے اور میزائل برسانے کی دعوت بھی دے رکھی ہے۔ نا پاک ڈلروں کی ہوس میںانہوں نے ہنستے بستے سوات،باجوڑ اور وزیرستان تباہ کر کے رکھ دیے،بے شمارشہر اجاڑے، لاتعداد قبرستان آباد کیے،اس امت کے ان گنت چاند ستارے خاک میں ملا دیے ۔ امریکی ان کی مدد کے بغیر اپنی آگ ہمارے گھر میں کبھی نہ لگا سکتے ، ہماری قوم کو ٹکڑوں اور فرقوں میںنہ بانٹ سکتے۔ یہ پاکستان ان ہی ڈاکوئوں کے گروہ کی سازش کی وجہ سے آج بھی اپنی حقیقی منز ل سے دور ہے۔ ان ظالموںنے پاکستان کے خواب کو شرمندئہ تعبیر نہ ہونے دیا اوراسے حقیقی پاکستان نہ بننے دیا۔ عدلیہ کی آزادی کے بعد پاکستان کے سترہ کروڑ عوام کی نظریں چیف جسٹس کو دیکھ رہی ہیں۔ اس سے پہلے این آر اوکی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں نے بھی 165ارب روپے کی بدعنوانیوں ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غبن کے کیس معاف کروا کر خطیر رقم ہضم کرلی اور خود کو پاک صاف کرلیا۔ ان میں تین سو اہم سیاست دان اور بیورو کریٹس شامل ہیں ۔ وزارت قانون نے چاروں صوبوںکے5700 افراد کی فہرست وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھجوائی تھی ۔ نیب کی فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ صرف 165 ارب روپے معاف کیے گئے ، رپورٹ کے مطابق صرف ایک شخص کے مقدمے میں5۔1 ارب ڈالریا126 ارب روپے کی رقم لوٹنے کا معاملہ بھی ہے جسے بیک جنبش قلم ختم کر دیا گیا۔ ایک اور کیس میں ایک بااثر سیاست دان کی بیوی 310ملین روپے کی بدعنوانی سے پاک صاف کردی گئی۔ اب سوال یہ ہے کیا عدالت عظمیٰ ان لٹیروں کو ان کے جرائم پر سزا دے سکتی ہے؟کیااین آر او سے استفادہ کرنے والوں کا احتساب ممکن ہو سکے گا؟کیاان تمام با اثرشخصیات کو سزا ملے گی یا ایک بار پھرچھ سو سے ایک ہزار ارب روپے لوٹنے والے ڈاکو معاف کردیے جائیں گے؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (04-06-10), محمد عاصم (07-06-10) |
|
|
#883 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#884 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,903
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#885 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,197
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, php, فورم, پوسٹ, پاک, ویب, قرآن, قرآن حکیم, نظر, مکمل, متعارف, معجزہ, اسلامی, بھائی, تحریر, تعلیم, تصویر, تصاویر, حکم, خصوصی, زندگی, شہر, عورت, غزل, صحافیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 2 (0 members and 2 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | |
|
|