| خاص آفرز اور اعلانات پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز (پاکستان کے اردو زبان میں سب سے بڑےفورمز) کی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات اور بعض خاص موقعوں پر منفرد طرز کی پیشکشیں اپ یہاںپر پائیںگے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | ظاہری انداز |
|
|
||||
|
||||
|
مناظر: 42968
|
||||
| 111 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | *ساجد* (03-04-09), abdulrehman303 (23-03-11), ALI-OAD (28-02-10), aqeel64 (13-09-10), asakpke (14-06-11), Aurangzeb Yousaf (20-04-09), Awais Aslam Mirza (30-04-11), Farrukh (09-05-10), GSM MAMA (24-04-09), J.S (26-07-09), JISOUTH (16-05-11), Miss Khan (24-09-11), monee3s (23-04-09), muhammad asif virani (02-08-09), mujahidsikhani (29-12-10), rabab (12-04-10), rana ammar mazhar (25-10-11), Real_Light (16-04-09), rizvidarulifta (18-01-11), sahj (30-07-09), sana goher (26-01-11), shafresha (29-03-09), skjatala (12-05-11), فیضان صديقی ,سندھ (24-02-10), فیصل ناصر (29-03-09), فخر بٹ (15-06-11), فرخ ظفر (22-11-10), کنعان (03-10-10), کاشف اکرم وارثی (08-09-11), گوہر (26-09-09), گلاب خان (07-10-09), گلز (14-06-10), پاکستانی (02-04-09), ھارون اعظم (06-11-09), یاہو (08-12-10), یاسر عمران مرزا (17-02-10), وجدان (27-07-09), نیلم خان (16-12-09), نورالدین (12-04-10), ناصحی (31-07-10), ناصر نعمان (07-08-10), نعیم۔ (21-03-10), میاں شاہد (30-03-09), مبشررضا (16-08-11), محمد یاسرعلی (14-01-10), محمد بلال (01-04-12), محمد عمران نیازی (24-11-09), محمد عاصم (11-05-10), محمدمبشرعلی (16-12-09), محمداسد (30-07-09), محمدخلیل (29-03-09), محمدعدنان (04-04-09), مرزا عامر (19-07-10), مسافر (28-07-09), مشال خان (09-04-09), مطھر (08-12-10), Wahid Mahmood (20-12-09), wajee (30-03-09), yashaka (14-05-09), Zullu230 (17-04-09), آصف رضا (28-11-11), اکرم (19-04-09), ایکسٹو (18-11-11), ایم آصف (22-11-11), ایس اے نقوی (31-03-09), اویسی (14-05-10), ام طلحہ (22-06-09), ام غزل (31-03-09), ابو عمار (04-12-09), ابوسعد (31-01-11), ابن آدم (07-05-09), ابن جلال (25-04-09), احمد نذیر (06-06-11), احمدنواز (22-07-10), اسد لطیف (02-04-09), بزم خیال (22-11-09), تانیہ رحمان ستارہ (31-05-09), جاویداسد (11-06-10), جبران جان (05-01-12), حیدر (05-10-10), حمیرا کنول (15-06-11), حسنین ایوب (27-10-10), حسان (16-05-09), خرم شہزاد خرم (18-04-09), دین محمد وطن پال (15-05-10), رفیع انجم (01-07-10), رانا امر (19-04-09), راجہ اکرام (18-04-09), راشد احمد (07-05-09), رضی (06-04-09), زبیرافتحار (26-08-11), سیپ (29-03-09), سحر (31-05-09), سعود (02-04-09), شھزادباجوہ (04-06-11), شیراز حسن (17-06-10), شمشاد احمد (13-10-10), شاہ جی 90 (31-05-09), ضرغام (05-04-09), طارق اقبال (20-09-09), طارق راحیل (06-04-09), عیشال فاطمہ (12-08-11), عامرشہزاد (23-10-09), عارف اقبال (24-01-10), عبدالقدوس (30-03-09), عبداللہ آدم (08-01-11), عبداللہ حیدر (28-06-09), عبدالسلام (26-02-11), عدنان دانی (29-11-09), عرفان مسلم (30-08-11), عروج (10-10-10) |
|
|
#1336 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 612
کمائي: 11,116
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-12-11), حیدر (03-05-12) |
|
|
#1337 |
|
Member
اجنبی
|
|
|
|
|
| خلیل جبران آفریدی کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (01-01-12) |
|
|
#1338 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#1339 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#1340 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-01-12), حیدر (03-05-12) |
|
|
#1341 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: Pakistan
عمر: 24
مراسلات: 188
کمائي: 5,199
شکریہ: 159
117 مراسلہ میں 349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سید محمد عابد کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-01-12), حیدر (29-04-12) |
|
|
#1342 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2011
مقام: اللہ عزوجل کی زمین پر
مراسلات: 231
کمائي: 3,465
شکریہ: 1,302
153 مراسلہ میں 329 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے آصف رضا کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (17-01-12), حیدر (03-05-12) |
|
|
#1344 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
|
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (25-01-12) |
|
|
#1345 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: Pakistan
عمر: 24
مراسلات: 188
کمائي: 5,199
شکریہ: 159
117 مراسلہ میں 349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| سید محمد عابد کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (25-01-12) |
|
|
#1346 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: Pakistan
عمر: 24
مراسلات: 188
کمائي: 5,199
شکریہ: 159
117 مراسلہ میں 349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| سید محمد عابد کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (25-01-12) |
|
|
#1347 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: Pakistan
عمر: 24
مراسلات: 188
کمائي: 5,199
شکریہ: 159
117 مراسلہ میں 349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| سید محمد عابد کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (30-01-12) |
|
|
#1348 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان اسلامی نظام کےنفاذسےہی بچ سکتاہے
امریکہ کی جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ بن کر پاکستان نے کیا کمایا؟ حقیر بھیک میں چند ارب ڈالرجو زیادہ تر کرپٹ حکمرانوں کی جیبوںمیں گئے جب کہ اس صلیبی جنگ نے پاکستان کو ستر ارب ڈالرکا نقصان پہنچایا ۔اس عرصے میں امریکی سرپرستی میں مشرف، زرداری اور گیلانی جیسے بر سر اقتدار لوگ ملک کے تمام اہم ترین اداروں کو تباہی کے کنارے پہنچا تے رہے جو امریکی ایجنڈے کے عین مطابق تھا۔یہ امریکی غلام آج بھی اللہ کے عذاب کی طرح قوم پر مسلط ہیں اور ملک کی بقا اور آزادی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔امریکہ نے ان کی مدد سے پاکستان کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیااور اس کی معاشی کمر توڑ ڈالی۔اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دس برس کے بعد تو امریکی غلامی کا جوا اتار پھینکا جاتا،لیکن اس کے برعکس مائیک مولن کو خط لکھا گیا اور اس سے درخواست کی گئی کہ امریکہ پاکستان میں مداخلت کرے۔یہ مبینہ خط فوج اور ملک کی آزادی کے خلاف بہت بڑی سازش اورپاکستان پر امریکی مارشل لالگانے کی کھلی دعوت ہے۔گویاامریکہ کو فوج کے خلاف امداد کے لیے بلانے کی کسرہی باقی رہ گئی تھی ،حالانکہ ہمارے تمام داخلی اور خارجی مسائل امریکہ ہی کے پیدا کردہ ہیں۔ یہ امریکہ ہی تو ہے جس نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیاہے۔بد قسمتی سے کسی کو پاکستان کی بربادی سے کوئی پریشانی نہیں۔حکمران تو اسی خدمت پر مامور ہیں،پاکستان کو جتنا نقصان پہنچے گا ان کو اتنے ہی زیادہ ڈالر ملیں گے۔دوسری طرف پاکستانی قوم ہے جو نظریاتی خلفشار میں مبتلا کر دی گئی ہے۔ہمارے اہل علم و دانش ہیں،جن کی چھوٹی چھوٹی آرزوئیں ہیں،وہ ملک وقوم کے بجائے ذاتی مفادات کے لیے سوچتے ہیں۔ہمارامیڈیاہے جوثانیہ مرزا کی شادی جیسی لغویات پر کئی کئی دن لوگوں کو مشغول رکھتا ہے۔اسی طرح ٹوٹی بکھری قوم ہے جس کوکچھ معلوم نہیں کہ اس کی جان مہنگائی ،بیروزگاری ،کرپشن اور قومی اداروں کی بدترین کارکردگی کی وجہ سے سولی پر کیوں لٹکی ہوئی ہے۔قوم اس حقیقت سے بے خبربھی ہےاور لاتعلق بھی کہ یہ حکمران پاکستان کے بجائے امریکی مفادات کے محافظ کیوں بن گئے ہیں۔ان کوپاکستان کے عوام نے مینڈیٹ دیا تھاتوانہوں نے امریکی مینڈیٹ کیوں کر حاصل کر لیا۔قومیں جب رہزنوں کے ہاتھوں لٹتی ہیں توان کی ھالت زار کیا ہوتی ہے۔ورنہ ایک اندھا بھی دیکھ سکتا ہے کہ یہ کون ہے جوچاہتا ہے پاکستان تباہ ہو؟امریکہ کے بغیر کون ہے جس کی آرزو ہےپاکستان کمزور ہو،بلوچستان اور وزیرستان میں بغاوت ہو،پاکستان کی معیشت تباہ ہو،اس کی فوج برباد ہو،اس کا ایٹمی پروگرام ختم ہو جائے اورآخر کار وہ بطور ریاست ختم ہو جائے یااس خطے میں امریکی سٹریٹجک پارٹنر( بھارت کے)کی ایک کٹھ پتلی کے طور پر باقی رہے؟ کیا ہمیں نظر نہیں آتا کہ پاکستان کے اداروں کو ایک منصوبے کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے؟ ذرا یہ تصویر تو دیکھیں: سٹیل ملز 2000 ءسے2007ءتک منافع بخش ادارہ تھا،پیپلز پارٹی کے دور میں اس کی پیداوار 82صد سے گر کر 15فی صد تک آگئی ۔ پانچ برس کے عرصے میں پاکستان کی یہ لائف لائن 104 ارب کے خسارے سے دوچارہو چکی ہے اور اسے دیوالیہ ہونے سے بچانا ممکن نظر نہیں آتا۔پی آئی اے میں بے رحمی سے جیالے بھرتی کیے گئے ہیں۔یہ دنیا کی منفرد فضائی کمپنی ہے جس میں صرف ایک جہاز کو چلانے کے لیے497 افراد کا عملہ بھرتی کیا گیاہے ۔وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے سینٹ کو بتایا کہ اس ادارے کے صرف155ملازمین ماہانہ تنخواہوں کی مد میں آٹھ کروڑ سے زیادہ وصول کر رہے ہیں۔2008ءکے ایک سال میں پی آئی اے کو38ارب کا نقصان اٹھانا پڑا اور رواں سال میں اسے ریکارڈ خسارے کی توقع ہے۔بجلی کے رینٹل پاور پراجیکٹس میں مبینہ کرپشن کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ملکی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک وفاقی وزیر نے عدالت میں اپنی حکومت کے خلاف کرپشن کی چارج شیٹ پیش کی ہے ۔رینٹل منصوبوں سے بجلی کی قیمت 42روپے فی یونٹ ہونے پرچیف جسٹس نے کہا کہ " بجلی جب اس قیمت پر ملے گی تو صنعتیں بند اور لوگ خود کشیاں نہیں کریں گے تو کیا کریں گے۔“بالائی سطح پر نوسر بازی کا یہ عالم ہے کہ وزیر اعظم نے18اکتوبر2011ءکو دیامر بھاشا ڈیم کا دوسری بارافتتاح کیاہے، ساڑھے پانچ سال قبل ( اپریل2006ءمیں)فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اس کا افتتاح کردیا تھا۔اس وقت سے اب تک بھاشا ڈیم کی لاگت میں تقریباً سات ارب ڈالر کا اضافہ ہوچکا ہے۔این آر او کے ذریعے امریکا کے مسلط کردہ حکمرانوں نے صرف چار برسوں میں توانائی کے بحران کو اپنی انتہا تک پہنچادیا ہے۔ ریلوے کے پاس ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن دینے کے لیے رقم نہیں بچی۔ تنخواہ اور پنشن کی عدم ادائیگی کو انتظامیہ کی نا اہلی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے ، ریلوے میں موجود مفاد پرست گروپوں کی باہمی لڑائی کے باعث ادارہ تباہی کے کنارے پہنچ چکا ہے۔ ادارے میں کرپشن کا یہ حال ہے کہ پنشنروں سے بھی پانچ پانچ سو روپے رشوت لی جا رہی ہے۔ریلوے افسروں کی نس نس میں کرپشن ہے۔10روپے کے بلب کی قیمت400 درج کی جاتی ہے۔اس وقت 362انجن اور102ٹرینیں ناقابل استعمال پڑی ہیں ۔کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اعلان کیا ہے کہ اس مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اسے03ء2 ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے جو گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران7ء1ارب روپے کے خسارے سےتقریبا 25 فی صد زیادہ ہے۔ سندھ میں کوئلے کے185ارب ٹن (دنیا کے ساتویں سب سے بڑے ذخائر ) موجود ہیں،اس سے سستی بجلی کے منصوبے بنائے گئے مگر پرویز مشرف اور موجودہ حکومت نے اس میں کوئی ذاتی فائدہ نہ پاکر اس طرف توجہ نہیں دی ۔ اگر موجودہ حکومت نے ہی2008ءمیں کوئلے سے توانائی حاصل کرنے کے منصوبے پر عمل در آمد شروع کردیا ہوتا تو آج کئی ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے تکمیل کے قریب ہوتے۔اگر یہ حکومت ڈیمز کی تعمیر ،کوئلے ،ہوا اور سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں مجرمانہ غفلت،، کا مظاہرہ نہ کرتی تو آج پاکستان تیل کی درآمد پر13ارب ڈالر سالانہ خرچ کرنے کے بجائے توانائی برآمد کر رہا ہوتا۔ ایک محتاط جائزے کے مطابق پاکستان میں سالانہ3100ارب یا 30کھرب سے زیادہ رقم خیانت یعنی کرپشن کی نذر ہو جاتی ہے۔اگر یہ رقم بچائی جاسکے تو ملک اور اس کے پسے ہوئے عوام کی قسمت بدل جائے۔ماہرین معاشیات کاکہنا ہے کہ ملک کو کرپشن کی مد میں سالانہ 1200رب (بارہ کھرب)روپے سے محروم ہونا پڑتا ہے جب کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے مختلف ٹیکس وصول نہ ہونے یا ٹیکس چوری کرنے کی وجہ سے سالانہ 1900 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ورلڈ بنک اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق ملک کے ترقیاتی بجٹ کا40 فی صد حصہ(2810 ارب روپے) بے ضابطگیوں اور کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے فاسق و فاجر حکمران اورعیش پرست امراءو مترفین 65برس سے اس ملک پر اپنی بداعمالی اورسیاہ کاری کے ساتھ کسی عذاب کی طرح چھائےہوئےہیں۔ملک پر بدامنی،قتل وغارت گری، لوٹ مار،مہنگائی، کرپشن، لوڈشیڈنگ،ڈرون حملے اورصلیبی یلغار ان ہی ظالم امریکی غلاموں کی وجہ سے ہے۔ملک کی باگ ڈور شروع دن سے ان ہی سیاہ کاروں کے ہاتھوں میں ہے۔ایک بدبخت جاتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔اسی کانتیجہ ہے کہ ملک زلزلوں، طوفانی بارشوں اورسیلابوں سمیت مختلف مصائب کے گرداب میں بری طرح پھنسا ہوا ہے اور دن بدن پھنستا چلا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ معاف کرنے والاہے۔ اُس کی رحمت بے پایاں ہے وہ انسانوں کو ان کے سارے گناہوں کی سزا فورا نہیں دیتا ،بلکہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی جزوی سزادیتا ہے تاکہ وہ ڈرجائیں اور گناہوں کو ترک کرکے واپس اللہ کی طرف پلٹ آئیں،جب سرکشی حدسے تجاوز کرنے لگے تو پھرسزا دی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اپنا یہ قانون اس طرح بیان فرماتا ہے :"خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزّہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔"(الروم:۳۴)تاہم وہ پھر بھی باز نہیں آتے توچھوٹے بڑے عذابوں کے ذریعے انہیں مزید تنبیہ کی جاتی ہے۔سورئہ انعام میں ایسے عذابوں کی مختلف صورتیں بیان ہوئی ہیں:"کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کردے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کردے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوادے۔"(الانعام؛65) اس طرح ہم جن انفرادی اور اجتماعی عذابوں کا آج شکارہیں،وہ سب کچھ ہمار اپنا کیا دھراہے۔ ہم ان ہی کڑوے بیجوں کا پھل کھانے پرمجبور ہیں جوہم نے بوئے تھے۔ہم نے اس ملک کو جواسلام کا کلمہ بلند کرنے اورکفر کی بات پست کرنے کے لیے بنایا گیا تھا،اسلام واہل اسلام سے دشمنی اور امریکہ وعالم کفرکی غلامی کے لیے وقف کردیا ۔پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اورجوقدرتی آفات ومصائب اس پر نازل ہورہی ہیں،وہ سب اس کے فساق وفجارکے کرتوتوں اورسرکشی کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے پاکستان پر ظلم نہیں کیاپاکستانیوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیاہے۔"بلاشبہ اللہ کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا۔" (النساء:40)دوسری جگہ ارشاد فرمایا:"اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جائواور ایمان لے آئو، اور اللہ قدر شناس ،خوب جاننے والا ہے۔" (النساء:147) اللہ تعالیٰ کا یہ ابدی قانون ہے کہ وہ قوموں اور افرادپرعذاب ٹال بھی دیتاہے، ان کو معاف بھی کر دیتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے ظلم سے باز آجائیں اوراپنی بداعمالیوں پرسچے دل کے ساتھ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے نیک اعمال کرنے لگیں۔حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی مثال ہمارے سامنے ہے،جس پر آنے والا عذاب توبہ سے ٹل گیا تھا،لیکن اگرہم پاکستان میں کبھی بھی اسلام کا عملی نفاذ نہ ہونے دیں ،اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں امریکہ،اقوام متحدہ اوریورپی یونین کے کفریہ قوانین جاری رکھ کر پاکستانی عوام پر یہودونصاریٰ کی بالادستی برقراررکھیں ،کفارکے مشن کی تکمیل میں ممد و معاون بنے رہیں، مسلمانوں کو ملیامیٹ کرنے کے لیے بالواسطہ اور بلاواسطہ خدمات انجام دیں اورمسلمانوں کا خون بہتا دیکھ کرلطف اندوزہوں ، تو پھر کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کرکے ہم پر اپنی رحمتوں کی بارش فرمائے گا۔ہمارے چال بازحکمران اور ان کے چیلے پاکستانی عوام کوبیوقوف بناکر ان کی ہمدردیاں توحاصل کرسکتے ہیں،لیکن وہ اللہ رب العزت کو کبھی دھوکا نہیں دے سکتے اور نہ ڈرامے رچا کر عذابوں اور مصیبتوں کوٹال سکتے ہیں۔گناہوں اور جرائم پر اصرار کی وجہ سے کی معافی نہیں ملتی ،اللہ تعالیٰ کاعذاب اور سزا آتی ہے۔اس کا یہ ابدی قانون اورسنت ہے کہ وہ ایسی قوم کی حالت کو تبدیل نہیں کرتا جسے خود اپنی حالت تبدیل کرنے کی فکر نہ ہو۔بے شک وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا،لیکن جب پکڑتا ہے تو مجرموں کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے: "تیرا ربّ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ وہ ان کے کرتوتوں پرانہیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا، مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔ یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کر دیا اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا"۔(الکہف:58-59) اب تک جوآفات اور چھوٹے چھوٹے عذاب آچکے ہیں،ہمیں ان ہی سے سبق سیکھ کراسلام میں پورے کا پورا داخل ہوجانا چاہیے ،تاکہ دنیا وآخرت کی کامیابی اورفلاح پا سکیں۔ ہمیں اللہ کا وعدہ اور وقت مقرر ہ پوراہونے سے پہلے ہی باز آ جانا چاہیے۔ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان کو ایٹم بم اورفوج نہیں بچاسکتی،پاکستان کوصرف اللہ بچا سکتا ہے ۔اور اللہ ا سی صورت میں بچائے گا جب ہم موجودہ امریکی غلام حکمرانوں کو معزول کر کے ان لوگوں کو اقتدار میں لائیں جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے والے اور اسلام کا نظام نافذ کرنے والے ہوں،اسلام کودل وجان سے قبول کرکے اس کے ہر حکم پر عمل پیرا ہوں۔ اگراس مرتبہ بھی عوام نے اسلام کو پس پشت ڈال کر کفرکی بالادستی پر راضی رہنے والوں کو پسند کیا،ایک بار پھر امریکی غلاموں کوووٹ دے دیے،توآئندہ اللہ تعالیٰ کو بھی ہماری پروا نہیں ہو گی اورہم تباہی سے بچیں گے نہ پاکستان کو بچاپائیں گے: "تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اَور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو۔ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو، جو انہیں کی گئی تھی، بھلادیا تو ہم نے ہر طرح کی خوش حالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ ربّ العا لمین کے لیے کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی“۔(الانعام:42-44) |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (30-01-12), آصف رضا (02-02-12) |
|
|
#1349 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2011
مراسلات: 173
کمائي: 2,435
شکریہ: 75
70 مراسلہ میں 122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| muhammadasfand کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (03-02-12) |
![]() |
| Tags |
| color, php, فورم, پوسٹ, پاک, ویب, قرآن, قرآن حکیم, نظر, مکمل, متعارف, معجزہ, اسلامی, بھائی, تحریر, تعلیم, تصویر, تصاویر, حکم, خصوصی, زندگی, شہر, عورت, غزل, صحافیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 5 (0 members and 5 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | |
|
|