| خاص آفرز اور اعلانات پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز (پاکستان کے اردو زبان میں سب سے بڑےفورمز) کی انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات اور بعض خاص موقعوں پر منفرد طرز کی پیشکشیں اپ یہاںپر پائیںگے۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 431
|
||||
| 14 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | J.S (07-02-11), Kamran_Tabasum (13-07-11), پاکستانی (07-02-11), ھارون اعظم (22-01-11), محمد عاصم (24-01-11), محمدعدنان (23-01-11), حیدر (13-02-11), خالد حسین (30-07-11), راجہ اکرام (23-01-11), سیپ (22-01-11), سحر (23-01-11), عائشہ صادق (28-01-11), عبداللہ آدم (23-01-11), عدنان دانی (23-01-11) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اچھی کاوش ہے ۔ کوشش کروں گا کہ کچھ لکھ سکوں
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,904
کمائي: 561,118
شکریہ: 25,573
10,451 مراسلہ میں 38,591 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی تحریر کا انتظار رہے گا ۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اس موضوع پر بہت کچھ لکھ سکتا ہوں میرا پسندیدہ موضوع ہے مگر آجکل وقت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
کاش کچھ لکھ سکوں ![]() ![]() ![]() ![]()
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,904
کمائي: 561,118
شکریہ: 25,573
10,451 مراسلہ میں 38,591 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی تحریروں کی منتظر ہوں ۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,064
کمائي: 1,047,224
شکریہ: 5,798
6,278 مراسلہ میں 15,255 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
کشمیر جنت نظیر میرے پیارےکشمیر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو میری اس پاک سر زمیں کا اٹوٹ انگ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تجھ میں بسنے والے میرے خوش رنگ بہن بھائی عرصہ دراز سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا دل لہو کے آنسو روتا ہے جب میں خبر نامے میں یہ دیکھتی ہوں کہ آج تیری اس جنت میں والے تجھ پر اپنی جان کا نذرانہ دے گئے، مجھے تجھ میں بسنے والی ماؤں کے دکھ کا خیال آتا ہے تو میرا جسم کپکپا اٹھتا ہے، جب خبر ملتی ہے کہ تیری زمین پر بہنوں اور بیٹیوں کی حرمت کو پامال کیا گیا ہے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے کشمیر میں جانتی ہوں کہ جنت نظیر میں ہر صبح طلوع ہونے والے سورج کا استقبال آزادی کے فلگ شگاف نعروں سے ہوتا ہے۔ آزادی کے پروانے یہ صدا لگاتے ہوئے بیدار ہوتے ہیں کہ ”کٹتے بھی چلو، بڑھتے چلو ہر روزہونے والی شہادتیں تیری تحریک آزادی کو مہمیز دے رہی ہیں۔ کہ منزل پر اب ڈیرے ڈالے جائیں گے جوانوں، بوڑھوں، بچوں اور شہداء کی ماﺅں کے صبر و استقامت، عزم و ولولہ، جوش و جذبہ، ہمت و شجاعت، قوت ارادی اور بہادری و دلاوری نے ہمالیہ کے کہساروں کو بھی مات دے دی ہے۔ آج تک ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد آذادی کے متوالوں نے جانوں کی قربانیاں پیش کی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آئندہ بھی لاکھوں قربانیاں دینے کے لئے تیار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر بھارتی تسلط کو قبول کرنے پرتیرا کوئی بھی باشندہ تیار نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آزادی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔یہ سب تیرے چاہنے والے ہیں ،تو ان کی شان ہے ہے، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوجی انتہا پسندی اور حکومتی دہشت گردی کے ذریعے بھارت تیری جنت میں اپنا قبرستان بنا رہا ہے، ہم سب کو پتہ ہے کہ جموں و کشمیر میں جو تحریک آزادی اس وقت جوبن پر ہے وہ درحقیقت گزشتہ تحریک کا تسلسل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ سمجھتے ہیں پہلے احتجاج تھا، پھر انتخاب اور عسکریت کا چلن بن گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر میرے کشمیر ایسا نہیں کہ ایک کامیاب نہ ہوئی تو دوسری اور پھر تیسری.... نہیں.... یہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کارشتہ ماضی سے نہیں کاٹاجاسکتا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے کشمیر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔توپوں کی گھن گرج میں آنکھ کھولنے والے بچے جب لڑکپن میں اپنی ماﺅں بہنوں کی بے عزتی اور ریپ جیسے مکروہ واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتےہیں تو غیرت ایمانی نے جوش مارتی ہے اوروہ سب کاموں کو خیر باد کہہ کر آزادی کی شمع کو بڑھ کر تھامنے کو جستجو میں مگن ہو جاتے ہیں میرے کشمیر تیری جنت میں رہنے والے۔ یہ وہ لوگ بہت با ہمت ہیں ، جو طرح طرح سے ستائے گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ا ور انہوں نے بندوق کی گولی لگنے سے اپنے پیاروں کو تڑپتے اور سنگینوں سے جسم کے ٹکڑے ہوتے دیکھا۔ میرے کشمیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں تیرے لیئے کچھ نہیں کر سکتی، میں کوئی مجاہدہ نہیں ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں تو ایک آذاد سر زمین کی باسی ہوں مگر میرے کشمیر مجھے تیرے اور تجھ میں بسنے والوں کے دکھ کا احساس ہے ، میں صرف اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر تیری آذادی کے لیئے دعا کر سکتی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے مایوس نہیں کرئے گا تجھے پنجہء اغیار سے چھڑائیں گے اک دن
میرے وطن تیری جنّت میں آئیں گے اک دن انشاء اللہ العزیز
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء * رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے سیپ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 07-02-11 | پاکستانی | کشمیر جنت نظیر | 150 |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,064
کمائي: 1,047,224
شکریہ: 5,798
6,278 مراسلہ میں 15,255 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
کشمیر کے بارے میں معلومات ریاست جموں و کشمیر حسین وادیوں ، دلفریت پہاڑی سلسلوں، سحر انگیز جھیلوں، مرغزاروں اور آبشاروں کی سر زمین ہے۔ دنیا کی اس خوبصورت ترین سر زمین جسے سیاح جنت ارضی کے نام سے پکارتے ہیں کی سرحدیں جنوب مغرب میں پاکستان ، شمال میں سابق روس اور جمہوریہ چین ، شمال مغرب میں افغانستان اور جنوب میں بھارت سے براہ راست ملتی ہیں۔ ریاست کے شمالی علاقوں کے مغرب میں پہاڑی سلسلے سطح مرتفع پامیر اور کوہ ہندوکش سے مربوط ہیں اور مشرق میں کوہ ہمالیہ سے ملتے ہیں۔ ریاست کے اندر کئی بلند ترین چوٹیاں ہیں۔ ان میں نانگا پربت کی اونچائی 26000 فٹ ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ 84 ہزار مربع میل ہے اور آبادی تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ ہے۔ یورپ امریکہ، مشرق وسطیٰ ، آسٹریلیا ، کینیڈا ، جنوبی افریقہ غرضیکہ پوری دنیا میں تقربیاً 13 لاکھ کشمیری آباد ہیں۔ صرف برطانیہ میں 7 لاکھ کشمیری آباد ہیں۔ بیرون ملک کشمیریوں کی اتنی بڑی تعداد پاکستانی معیشت اور پاکستان کے لیے زرمبادلہ حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آزاد کشمیر کا خطہ نصف صدی قبل مجاہدین کشمیر نے '' غازی ملت '' سردار محمد ابراہیم خان '' کی قیادت میں ایک منفرد اور ایمان افروز جدوجہد کے ذریعے آزاد کروایا تھا۔ اس خطہ پر 24 اکتوبر 1947 ء کو آزاد کشمیری حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ آزاد کشمیر کا رقبہ چھ ہزار مربع میل اور آبادی انتیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ شروع شروع میں حکومت آزاد کشمیر کے دفاتر خیموں اور کچی عمارتوں میں قائم کیے گئے تھے۔ کچھ عرصہ یہ دفاتر، پلندری جونجال ہل میں قائم رہے اور بعد ازاں انہیں بھارتی فضائیہ کے حملوں کی وجہ سے مظفر آباد منتقل کر دیا گیا۔ دارالخلافہ کا پلندری سے مظفر آباد منتقل کرنا، پونچھ کے سدھنوں کا مظفر آباد کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہی تھا۔ اگر سردار محمد ابراہیم خان چاہتے تو پونچھ کی کسی اور جگہ کو دارالخلافہ بنا دیتے مگر انہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ پوری کشمیری قوم کے لیڈر تھے۔ آزاد کشمیر میں پارلیمانی نظام حکومت ہے۔ صدر آزاد کشمیر آئینی سربراہ ہیں۔ جبکہ حکومت کے انتظامی سربراہ وزیراعظم ہیں۔ آزاد کشمیر کے صدر اور وزیراعظم کا انتخاب آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کرتی ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی کا ایوان اڑتالیس ارکان پر مشتمل ہے۔ ان میں اٹھائیس نشستیں آزاد کشمیر کے لیے بارہ نشستیں مہاجرین، جموں و کشمیر میں مقیم پاکستانیوں کے لیے مختص ہیں۔ چالیس نشستوں پر ممبران اسمبلی کا انتخاب بالغ رائے دہی کی بنیاد پر براہ راست ووٹوں سے کیا جاتا ہے۔ بقیہ آٹھ نشستوں کی تقسیم اس طرح ہے۔خواتین کے لیے پانچ نشستیں، ٹیکنو کریٹس کے لیے ایک نشست، علماء و مشائخ ایک نشست جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک نشست مختص ہے۔ آزاد کشمیر میں خواندگی کی شرح تناسب 91 فیصد ہے اور محکمہ تعلیم سب سے بڑا محکمہ ہے۔ یونیورسٹی آف آزاد کشمیر رقبہ کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔ پچھلے سال کے زلزلہ میں سب سے زیادہ سکول، کالج، یونیورسٹی ، اور اسپتال کی عمارتوں کا نقصان ہوا۔ زلزلے کے بعد پاکستان کے عوام نے کشمیریوں کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے کشمیری عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ پوری دنیا نے اور خصوصاً حکومت پاکستان اور پاک فوج نے کشمیری و پاکستانی زلزلہ ذدگان کی فوری مدد کر کے قربانی ار جان نثاری کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے دیر ھو گئی شرکت میں۔۔۔۔۔۔ اوہ ھو۔چچچچچچچچچ ۔
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,064
کمائي: 1,047,224
شکریہ: 5,798
6,278 مراسلہ میں 15,255 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
مجھے پوائنٹس دوووووووووووووووووووووووو وووووووووو |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
سیپ سسٹر آپ کو بلامقابلہ جیتنے پر مبارکباد
کشمیر کے بارے میں آپ کی تحریر اچھی تھی اور کشمیر کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا شکریہ "یونیورسٹی آف آزاد کشمیر رقبہ کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔" مجھے یہ انفارمیشن صحیح نہیں لگتی۔ اس یونیورسٹی کا رقبہ کتنا ہے؟
__________________
ناراضگی ظاہر کرنا دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے۔ |
|
|
|
| محمدعمر کا شکریہ ادا کیا گیا | خالد حسین (30-07-11) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
ذرا اس لنک پر دیکھیں
Stanford University - Wikipedia, the free encyclopedia کیمپس کی ہیڈنگ کے نیچے دیکھیں |
|
|
|
| محمدعمر کا شکریہ ادا کیا گیا | خالد حسین (30-07-11) |
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,904
کمائي: 561,118
شکریہ: 25,573
10,451 مراسلہ میں 38,591 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سیپ کو بلا مقابلہ فاتح قرار دیا جاتا ہے
بہت بہت مبارک ہو پوائنٹس ارسال کر دیئے گئے ہیں |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (13-07-11), خالد حسین (30-07-11) |
![]() |
| Tags |
| color, magenta, فیصلہ, پاک, یوم, والی, قبول, لنک, ناقابل, موضوع, مقابلہ, ماہ, معزز, اپنی, الفاظ, از, بھیجنے, تاریخ, تحریری, جائیں, جائے, جات, خیال, دیں, سال |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | |
|
|