::::::: بچوں کے نام رکھنے کا حکم اور ادب :::::::
بسم اللہ و الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ الذی لا ینطق عن الھویٰ ان ھو اِلّا وحیٌ یوحیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ہمارے ہاں واقع ہونے والے معاشرتی بگاڑ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم عموماً اپنی اولاد کے نام چنتے ہوئے صرف الفاظ کی ظاہری خوبصورتی کی طرف توجہ کرتے ہیں ، یا ماں یا باپ یا نئے بچے بچی کے بھائی بہنوں کے ناموں کے ساتھ قافیہ ملانے کی طرف توجہ کرتے ہیں ، اور اگر کچھ توجہ دین داری کی طرف ہو تو ایسے الفاظ ناموں کے طور پر استعمال کرتے ہیں جو ہمیں قران پاک میں ملتے ہوں یا کسی مقدس مقام کا نام ہو ،
نام اختیار کرتے ہوئے ہمیں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا چاہیے :::
::::::: (1) کسی انسان کا نام اختیار کرنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اس بات کا خیال کرنا ہی چاہیے کہ جو لفظ بطور نام اختیار کیا جا رہا ہے وہ انسان کے لیے نام ہو سکتا ہے کہ نہیں ،
::::::: (2) اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ نام کا معنیٰ اور مفہوم اچھا اور خوش کن ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایسے نام تبدیل فرما دیتے تھے جن کا معنی اور مفہوم اچھا یا خوش کن نہیں ،
::::::: (3) اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ دینی طور پر اس نام کا استعمال درست ہے یا نہیں ، یعنی کہیں ایسا نام ہو جسے رکھنے سے منع کیا گیا ہو ، یا ایسے الفاظ میں نہ ہو جنہیں بطور نام رکھنے سے منع کیا گیا ہو ،
اور ایسے نام نہ ہوں جن میں تزکیہءِ نفس یعنی نام والے کی ذات کی بڑائی اور صفائی کا اظہار پایا جاتا ہو ، مثلاً ، مومن ، مسلم ،عظیم ، ایمن، ایمان، پاکیزہ ، اذکیٰ، ذکی ،ذکیہ ، ازکیٰ ، زکی ، زکیہ، وغیر،کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی نشانیاں بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (((((
الَّذِينَ يَجتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإِثمِ وَالفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ المَغفِرَةِ هُوَ أَعلَمُ بِكُم إِذ أَنشَأَكُم مِّنَ الأَرضِ وَإِذ أَنتُم أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُم فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُم هُوَ أَعلَمُ بِمَنِ اتَّقَى :::
وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے دور رہتے ہیں سوائے (کبھی ) کسی چھوٹی برائی ( کا شکار ہو جانے) کے (تو ایسی صورت میں ان کے یہ خوشخبری ہے کہ ) بے شک آپ کا رب بڑی وسیع بخشش والا ہے اور وہ تُم لوگوں کو جانتا ہے اس وقت سے جب اس نے تُم لوگوں کو زمین سے نکالا اور اسوقت سے (بھی) جب تُم لگو اپنی ماؤں کے پیٹوں میں اندھیر تھے لہذا تُم لوگ اپنی جانوں کی صفائی (والی باتیں) مت کیا کرو اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے کہ کون تقویٰ والا ہے )))))) سورت النجم / آیت 32 ،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بھی اس پر عمل فرمایا ہے ، جیسا کہ محمد بن عَمرو بن عطاء رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام """ برّہ """ رکھا تو مجھے زینب بنت ابی سَلمیٰ رضی اللہ عنھا نے کہا کہ (((((
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے ))))) میرا نام بھی """ برّہ """ رکھا گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا (((((
لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ الله أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ :::
اپنے طور پر اپنی جانوں کی صفائی کا دعویٰ مت کرو اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے کہ تُم لوگوں میں کون نیکو کار ہے ))))) عرض کیا گیا """
تو ہم کیا نام رکھیں ؟ """ اِرشاد فرمایا (((((
سَمُّوهَا زَيْنَبَ :::
اس لڑکی کا نام زینب رکھو ))))) صحیح مُسلم / حدیث 2142/ کتاب الآداب / باب 3 ،
::::::: (4) یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہم نام اختیار کرتے ہوئے
سب سے پہلے ایسے نام اختیار کریں جن میں اللہ کی بندگی کی نسبت نمایاں ہو ، مثلا عبداللہ ، عبدالرحمان ، عبدالباری ، عبدالکریم ، عبدالرحیم وغیرہ ، مؤنث کے نام کے لیے """ عبد یعنی بندہ """ کی جگہ """ أمۃ یعنی بندی """ استعمال ہو گا ، مثلاً أمۃُ اللہ یعنی اللہ کی بندی ، أمۃُ الرحمان یعنی اللہ کی بندی وغیرہ ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فرمان ہے (((((
إِنَّ أَحَبَّ أَسمَائِكُم إلى اللَّهِ عبدُ اللَّهِ وَعَبدُ الرحمن :::
بے شک تم لوگوں کے ناموں میں سے اللہ کو سب سے زیادہ پسند نام عبداللہ اور عبدالرحمان ہیں ))))) صحیح مُسلم / حدیث 2132/ کتاب الآداب / باب اول ،
::::::: (5) انبیاء علیھم السلام کے ناموں میں سے نام چنا جائے ،
::::::: (6) صحابہ اور صحابیات رضی اللہ عنہم اجمعین کے ناموں میں سے چنا جائے ،کہ وہ انبیاء اور رسولوں علیہم السلام کے بعد اللہ کے محبوب ترین بندے ہیں ، اور ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بعد بہترین نمونہ ہیں ،
لہذا ہمیں صحابہ اور صحابیات رضی اللہ عنہم اجمعین کے ناموں کو اپنے معاشرے میں رائج کرنا چاہیے تا کہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو اپنے ان عظیم المرتبہ ، اللہ کے محبوب بندوں اور اللہ کے حقیقی ولیوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سچے عملی محبان کی پہچان رہیں ،
اور وہ یعنی صحابہ اور صحابیات رضی اللہ عنہم ہمارے آئیڈیلز ہوں ،
ہمارے دلوں میں ان کی طرح اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے مُحبت ہو اور ہمیں ان کی طرح اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے محبت حاصل کرنے کا شوق ہو ،
نام کے معاملے میں منفرد نام اختیار کرنے کے معاشرے میں انفرادیت کا شوق پورا کرنے والوں کے لیے بھی اس باغ نبوت میں بہت ہی خوبصورت خوبصورت سے پھول ہیں ،
صحابہ اور صحابیات رضی اللہ عنہم کے ناموں کو اختیار کرنے میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہمیں ان ناموں کے معنوں کے بارے میں کچھ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ اگر یہ نام مناسب نہ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم انہیں تبدیل فرما دیتے ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے نام رکھنے کے آداب سیکھنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم ایسے ناموں کو تبدیل کر دیتے یا تبدیل کرنے کا حکم دیتے ،
میں بات کو زیادہ طویل نہیں کرنا چاہتا ، ایک بہن اور ایک بھائی کی طرف سے نام رکھنے کے بارے میں کچھ پوچھا گیا تھا ، اس کے جواب میں یہ معلومات لکھنا ضروری سمجھا ، ان دونوں کا سوال بچیوں کے نام کے بارے میں تھا ، لہذا ان کے سوال کے پیش نظر ذیل میں صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں کچھ خوبصورت ناموں کی فہرست پیش خدمت ہے ،
اور اس کا آغاز صحابیات رضی اللہ عنہن میں سے سب سے افضل اور بلند مقام والی خواتین ہماری ماؤں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پاکیزہ بیگمات رضی اللہ عنہن ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بیٹیوںرضی اللہ عنہن کے ناموں سے کرتا ہوں :::
خدیجہ
عائشہ
حفصہ
زینب
ماریہ
جویریہ
میمونہ
زینب
سودہ
صفیہ
فاطمہ
رُقیہ
سَلمیٰ
لیلیٰ
نسیبہ
جمیلہ
فکیھہ
الربیع
أسماء
عاتکہ
خولہ
اُمیمہ
سفانہ
النّوار
ارویٰ
خنساء
سُمیہ
حُمنہ
حسانہ
حسنہ
برکہ
کبشہ
سُفانہ
شفاء
شیماء
خلیدہ
سھلہ
خُمیصاء
لُبابہ
تماضر
رملہ
سلافہ
رفیدہ
ز ُنیرہ
حوّا
کُبیشہ
سارہ
رُباب
مُعاذہ
فریعہ
دُرّہ
اُمامہ
حَرمَلہ
ریطہ
امید ہے یہ نام کفایت کریں گے ، ان شاء اللہ ، و السلام علیکم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ بصورت پی ڈی ایف """
یہاں""" سے نازل کیا جا سکتا ہے ۔