واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > خاندانی زندگی



خاندانی زندگی خاندانی زندگی


اولاد کو نصیحت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-06-11, 09:20 PM   #1
اولاد کو نصیحت
ابن جمال ابن جمال آف لائن ہے 14-06-11, 09:20 PM

انسان کو فطری طورپر اپنی اولاد سے سب سے زیادہ محبت ہوتی ہے اورکیوں نہ ہو وہ اس بدن کا ایک حصہ ہے۔وہ اس کے جسم کا ایک ٹکراہے۔انسان اپنی اولاد کیلئے ہی ہرقسم کے دکھ ،درد تکلیف مصیبت جھیلتاہے اورچاہتاہے کہ وہ اپنے بیٹوں بیٹیوں کو ساری دنیا کی خوشیاں فراہم کرے۔کبھی انہیں غم کی پرچھائیں چھوکربھی نہ جائے ۔
لیکن عمومایہ ساری محبت اور محبت کے مظاہردنیاوی عیش وعشرت کی فراہمی تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کرے اسے شہر کے سب سے ممتاز اسکول میں داخلہ دلانے کی کوشش کرتے ہیں ہمیشہ تعلیمی اخراجات کوہنسی خوشی برداشت کرتے ہیں۔تعلیم ختم ہونے کے بعد اس کیلئے اچھے روزگار کی تلاش میں جٹ جاتے ہیں اورپھرروزگار ملنے کے بعد کوشش ہوتی ہے کہ وہ کس طرح ترقی کے مراحل طے کرے ۔
لیکن اس محبت میں ہم وہ چیز بھول جاتے ہیں جو سب سے زیادہ ضروری ہے بطور ایک مسلم کے۔ہمارایہ فرض بنتاہے کہ ہم اپنی اولادکو دین وایمان پر ثابت قدم رہنے کی تاکید کریں۔ قرآن وسنت پر عمل کرنے کی وصیت کریں اوراسے ایک اچھاسچااورپکامسلمان بننے کی ترغیب دیں اوراس کے سامنے خود بھی ایک اچھے مسلمان کا نمونہ پیش کریں۔
قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وساطت سے ہم سبھی کوحکم دیاہے کہ اپنے اولاد کی دینی نگرانی ہماری ذمہ داری ہے۔ارشاد خداوندی ہے۔ قواانفسکم واھلیکم ناراًخودبھی جہنم سے بچواوراپنے اہل وعیال کوبھی جہنم کا ایندھن ہونے سے بچانے کی کوشش کرو۔حدیث پاک میں اسی معنی کوکھول کربیان کیاگیاہے۔ کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ۔تم میں سے ہرایک نگراں ہے اوراس سے اس کے زیرنگرانی جولوگ ہیں اس کے بارے میں سوال ہوگا۔خاوند سے اپنی بیوی کے بارے میں سوال ہوگا۔ باپ سے اپنی اولاد کے بارے میں ماں سے اپنی اولاد کے بارے میں سوال ہوگا۔بھائی سے بہن کے بارے میں سوال ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام اورخدا کے برگزیدہ بندے ہردور میں اپنے اولاد کودین وایمان پر ثابت قدم رہنے اوراللہ کے دین پر استقامت کے ساتھ عمل کرنے کی تاکید نصیحت اوروصیت کرتے آئے ہیں۔
حضرت یعقوب کا وقت آخر ہے اس وقت وہ اپنی ساری اولاد کو جمع کرتے ہیں اور اس سے کچھ سوال کرتے ہیں اورکچھ وصیت کرتے ہیں یہ وصیت مال وجائیداد اوردھن ودولت کے بارے میں نہیں بلکہ ایمان واعمال کے بارے میں تھا۔ قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس واقعہ کو بیان فرمایاہے۔
وَوَصَّىٰ بِہَآ إِبۡرَٲهِـۧمُ بَنِيهِ وَيَعۡقُوبُ يَـٰبَنِىَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰ لَكُمُ ٱلدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ (١٣٢) أَمۡ كُنتُمۡ شُہَدَآءَ إِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوبَ ٱلۡمَوۡتُ إِذۡ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعۡبُدُونَ مِنۢ بَعۡدِى قَالُواْ نَعۡبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ ءَابَآٮِٕكَ إِبۡرَٲهِـۧمَ وَإِسۡمَـٰعِيلَ وَإِسۡحَـٰقَ إِلَـٰهً۬ا وَٲحِدً۬ا وَنَحۡنُ لَهُ ۥ مُسۡلِمُونَ (١٣٣ البقرہ)اور اسی کا حکم کر گئے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹوں کو اور (اسیطرح) یعقوب بھی میرے بیٹو اللہ تعالیٰ نے اس دین (اسلام) کو تمھارے لیے منتخب رمایا ہے سو تم بجز اسلام کے اور کسی حالت پر جان مت دینا۔ کیا تم خود (اس وقت) موجود تھے جس وقت یعقوب کا آخری وقت آیا (اور) جس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ تم لوگ میرے ( مرنے کے) بعد کِس چیز کی پرستش کرو گے انہوں نے (ہالاتفاق) جواب دیا کہ ہم اس کی پرستش کریں گے جس کی آپ اور آپ کے بزرگ (حضرات) ابراہیم و اسمٰعیل واسحٰٰق پرستش کرتے آئےہیں یعنی وہی معبود جو وحدہ لاشریک ہے اور ہم اس کی اطاعت پر (قائم) رہیں گے۔
اپنے بیٹی کو دین اسلام پر قائم رہنے اوراعمال صالحہ کی تاکید حضرت لقمان نے بھی اپنے بیٹے کو کی تھی۔ بلکہ سورہ لقمان اس حیثیت سے پورے قرآن میں ممتاز ہے کہ اس میں ایک دردمند والد کانمونہ ہے جواپنے بیٹے کو دین وایمان پر قائم رہنے کی تاکید کرتاہے اوراس کو دین کے اہم اصول بتاتاہے کہ اس پر چل کر وہ اپنی دینی اوردنیاوی دونوں قسم کی زندگی کو خوشگوار بنالے گا۔ قرآن پاک میں اللہ نے اس واقعہ کوبھی ذکرکیاہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے۔
{يا بني أقم الصلاة وأمر بالمعروف وانه عن المنكر واصبر على ما أصابك إن ذلك من عزم الأمور* ولا تصعر خدك للناس ولا تمش في الأرض مرحاً إن الله لا يحب كل مختالٍ فخور* واقصد في مشيك واغضض من صوتك إن أنكر الأصوات لصوت الحمير} [لقمان:17-19].بیٹا نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت واقع ہو اس پر صبر کیا کر یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر اور زمین پر اِترا کر مت چل بے شک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتے۔اور اپنی رفتار میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز کو پست کر بے شک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی آوازہے۔
علماء اسلام کی اس فن پر تصنیفات
اسلامی تاریخ میں بھی ہردور میں اس کا عمل جاری وساری رہا۔ بدقسمتی سے بعد کے ادوار میں وصیت کا مفہوم بدل گیااورعمومی طورپر یہ سمجھاجانے لگاکہ وصیت سے مراد مال ومتاع اورجائیداد کی تقسیم کے بارے میں صاحب مال کافیصلہ ہے۔جب کہ وصیت ہرقسم کے امور کو جامع ہے۔
حافظ ابوالولید باجی مشہور محدث ہیں اشبیلیہ اندلس سے آپ کا تعلق ہےآپ نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے ایک کتابچہ لکھاجس کانام الوصیہ یاالنصیحۃ لولدیہ ہے یہ وصیت دوحصوں پرمشتمل ہے ایک میں دین وایمان کے اصول اوراعمال صالحہ کے امور بیان ہوئے ہیں رذائل اعمال سے بچنے کی تاکید ہے ۔علم اورعلم نافع کی تحصیل پر زور اورمنطق وفلسفہ سے دوررہنے کیلئے کہاگیاہے۔دوسرے حصہ میں کچھ ذاتی اورخاندانی امور کی تاکید ہے کہ دونوں بھائی باہم الفت اورمحبت سے رہیں۔ ایک دوسرے کی غمگساری کریں۔ مصیبت پر ایک دوسرے کے کام آئیں۔ رشتہ داروں سے حسن سلوک کریں اورمال ومتاع کے پیچھے نہ پڑیں۔ بادشاہوں سے دور رہین اوراگراس فتنہ میں مبتلاہوہی جائیں تونیک لوگوں کا اسوہ اختیار کریں۔ فتنہ اوربغاوت سے دور رہیں۔بادشاہ کے احکام کی اطاعت کریں اورخلاصہ کلام اطاعت الہی اورجماعت مسلمین کی معیت کو لازم پکڑیں۔
ان کے بعد ایک اسی قسم کا وصیت نامہ حضرت امام غزالی کابھی ہے۔امام غزالی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے۔ان سے ایک ان کے طالب علم نے سوال کیاتھا۔کہ علم توحاصل کرلیالیکن علم نافع کیاہے اور وہ کون سا علم ہے جس کو ہم اپنی زندگی میں لازم پکریں۔ اس پر انہوں نے اختصار اورجامعیت کے ساتھ چند اوراق میں اس کو نصیحت لکھی ہے۔مبالغہ نہ ہوگااگرکہاجائے کہ احیاء العلوم کا وہ خلاصہ بن گیاہے۔اس رسالہ کانام ایھاالولد ہے۔
اس کے بعد حافظ ابن جوزی کا نام آتاہے۔جنہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو بڑی دلسوزی اورخیرخواہی کے ساتھ نصیحت کی ہے اوراپنے تجربات بتائے ہیں۔ اس کا نام لفتۃ الکبد فی نصیحۃ الولد ہے۔
ہم نے اولاًحافظ ابوالولید باجی کی کتاب النصیحۃ لولدیہ کا ترجمہ کیاہے۔(دعاکریں کہ خدابقیہ دونوں کتابوں کے ترجمہ کی بھی توفیق ارزانی کرے)

Last edited by محمدخلیل; 15-06-11 at 11:05 AM.. وجہ: font size

 
ابن جمال's Avatar
ابن جمال
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 822
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (14-06-11), فخر بٹ (15-06-11), کنعان (15-06-11), عروج (09-09-11), غلام مجتبی جان (14-06-11)
پرانا 14-06-11, 09:22 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حافظ ابوالولید باجی کا اسم گرامی گرامی سلیمان ہے اوران کے والد کانام خلف ہے۔وہ اندلس کے شہر بطلیوس کے رہنے والے تھے ۔ان کے داداوہاں سے ہجرت کرے اشبیلیہ کے قریب ایک شہر باجہ منتقل ہوگئے تھے اسی نسبت سے ان کو باجی کہاجاتاہے۔
ولادت : 403ہجری میں ہوئی۔
تعلیم :ابوالولید باجی نے یونس بن مغیث ،مکی بن ابی طالب ،محمد بن اسماعیل، ابوبکر محمد بن حسن بن عبدالوارث سے کسب فیض کیا۔ اس کے بعد 26سال کی عمر میں حج کیلئے روانہ ہوئے ۔مشرق کے اس سفر میں انہوں نے حافظ ابوذر سے کسب فیض کیاتقریبا3سال تک وہ ان کے ساتھ رہے اوران سے علم حدیث،کلام اورفقہ کاعلم حاصل کیا۔ پھر دمشق گئے اور وہاں ابوقاسم عبدالرحمن بن الطبیز،حسن بن سمسار ،حسن بن محمد بن جمیع اورمحمدبن عوف المزنی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔
بعد ازاں بغداد گئے اوروہاں کے شیوخ حدیث وفقہ سے کسب فیض کیا۔ اس میں ابوطالب محمد بن محمد بن غیلان،عبدالعزیز بن علی الازجی، محمد بن علی الصوری الحافظ کے نام نمایاں ہیں۔اس کے بعد موصول گئے اوروہاں خصوصی طورپر امام ابوبکر باقلانی سے علم کلام اورعلم حدیث سے مستفید ہوئے۔ اسی سفر میں انہوں نے مشہور شافعی فقیہ قاضی ابوالطیب طبری،مشہور حنفی فقیہہ ابوعبداللہ الصمیر اورمشہور مالکی محدث ابوالفضل بن عمروس مالک سے اخذ فیض کیا۔
13سال کے بعد وہ اندلس واپس گئے اوراندلس کو اپنے علم سے منور کردیا۔ اندلس میں ان سے بے شمار افراد نے علم حاصل کیا ۔فقہ مالکی میں ان کی کتابیں بہت وقیع نگاہوں سے دیکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے موطا کی احادیث کی کئی شرحیں لکھی ہیں جس میں المنتقیٰ قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ الایماء نامی کتاب پانچ جلدوں میں لکھی۔ مدونہ کے مسائل کااختصار کیا۔ان کی ایک کتاب جرح وتعدیل کے موضوع پر بھی ہے۔ایک کتاب علم کلام میں التسدید الی معرفۃ التوحید لکھی ۔ایک کتاب بزرگوں کے واقعات میں سنن الصالحین وسنن العابدین کے نام سے لکھی۔اس کے علاوہ اوربھی ان کی کتابیں ہیں۔ اختصارکی غرض سے ہم ان کو ترک کرتے ہیں۔
انتقال:474ہجری میں 19رجب کو آپ کاانتقال ہوا۔(حافظ ابوالولید کے متعلق پوری تفصیلات کیلئے سیر اعلام النبلاء کی جانب رجوع کیجئے)

Last edited by محمدخلیل; 15-06-11 at 11:05 AM.
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (14-06-11), فخر بٹ (15-06-11), کنعان (15-06-11), عروج (09-09-11), غلام مجتبی جان (14-06-11)
پرانا 14-06-11, 09:37 PM   #3
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حافظ ابولوالید الباجی مشہور محدث مالکی فقیہہ رضی اللہ عنہ ورحمتہ کہتے ہیں
مقدمہ
اے میرے بیٹو،اللہ تمہارے ہدایت دے اورتوفیق دے اورتمہاری حفاظت کرے اورتمہیں دنیااورآخرت کی کی بھلائی سے نوازے اوران دونوں کے مصیبتوں سے اپنی رحمت سے بچائے۔اب جب کہ تم اس حد کوپہنچ چکے ہو جس میں فرائض کی ادائیگی اورشریعت کے احکام پر عمل آوری لازم ہوجاتی ہے اورتم دونوں ذہنی شعور کے لحاظ سے اس حد کو پہنچ چکے ہو جو نصیحت کو سمجھ سکتاہے اورجس کی تعلیم اورعلم کی فکر کی جاسکتی ہےتومجھ پر لازم ہے کہ میں تم دونوں کو کچھ وصیت کروں اوراپنی خیرخواہی ظاہر کروں۔اس کاباعث یہ ہے کہ موت کاوقت معین نہیں اورنہ یہ امید ہے کہ میں تمہاری بذات خود تعلیم وتربیت کرسکوں گا۔
اگراللہ نے مہلت دی تواس نصیحت کوعمل میں لاؤں گا اورتمہاری تعلیم،خیرخواہی،نیک اراہ بتانا اورنیک باتیں سمجھانا یہ سب بذات خود میں کروں گا۔تمام ترتوفیق اللہ کی ذات سے ہی متوقع ہے اسی پر میرابھروسہ ہے اوراسی پربھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرناچاہئے اوراسی کے قبضہ قدرت میں تمہارے دل اورتمہاری پیشانیاں ہیں۔
اوراگرموت نے جلدی کی جس کامجھے گمان ہے تویہ نصیحت جس کو میں تمہارے لئے چھوڑے جارہاہوں اوراس میں تم دونوں کیلئے اپنی خیرخواہی کا اظہار کررہاہوں "اگرتم نے اس پر عمل کیاتو سلف صالح کے طریقہ پر قائم رہوگے اوردنیاوآخرت کی بھلائی سے حصہ پائوگے اورمیں تمہاری دنیااوردین کو خدا کے سپرد کررہاہوں اوراسی سے تم دونوں کے معاش اور معاد یعنی مال اور مآل کی حفاظت کا خواستگار ہوں اوراسی کے سپرد تمہارے تمام احوال کررہا ہوں اورتم دونوں کے بارے میں وہی میرابھروسہ ہے اور و ہ بہترین کام بنانے والاہے۔
بیٹے کیلئے باپ سے زیادہ خیرخواہ کوئی اورنہیں ہوسکتا۔
تم دونوں جان لو کہ تمہارامجھ سے زیادہ نہ کوئی خیرخواہ ہے اورنہ کوئی تمہارے حال پر مجھ سے زیادہ مہربان ہے اوردنیامیں تمہارے علاوہ کوئی دوسراشخص ایسانہیں ہے کہ جس کو میں خود ترجیح دیئے جانے سے خوش ہوئوں ۔دین اوردنیا کے معاملہ میں تم مجھ سے جتنازیادہ بہتر ہوسکو مجھ کو اتنی ہی خوشی ہوگی۔
والد کی نصیحت کی پیروی ضروری ہے
اورتم کم سے کم اتناتوکرہی سکتے ہو کہ میری بات کی جانب توجہ دو اورمیری نصیحت کودامن دل سے باندھو اورمیری بات اوراس کے اندرپوشیدہ خیرخواہی کو سمجھو اوریہ یقین رکھوکہ میں تمہیں کسی بھلائی سے نہ روکنے والاہو ں اورنہ کسی برائی کاتم دونوں سے مطالبہ کرنے والوں ہوں۔تم دونوں کو میں جس راستہ پر چلنے کی نصیحت ووصیت کررہاہوں اس عمل کرناا اوراورجن اخلاق واوصاف کی تاکید کررہاہوں اس کو اپنی زندگی میں لانا۔
خاندانی احوال
تم دونوں جان لو کہ ہم لوگ ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہو جو شروع سے نیکی،دیانت داری،عفت وپرہیزگار ی میں ممتاز رہاہے۔ہم بنی ایوب بن وارث سے تعلق رکھتے ہیں ۔ہمارے جد (جدامجد بھی ہوسکتے ہیں)سعد تھے پھر ان کی اولاد میں سلیمان،خلف عبدالرحمن اوراحمد ہوئے۔
ان سب میں (بنوسعد میں)صلاح،تدین،ورع،عبادت گزاری میں تمہارے داداخلف سب سے بڑھے ہوئے تھے اوراسی کے ساتھ دنیاوی اعتبار سے بھی اللہ نے ان کو بہت نوازاتھاباوجوداس کے وہ دنیاوی مال ودولت کی فکر نہیں کرتے تھے ۔پھر اس کے بعدآخرمین تویہ حال ہواکہ انہوں نے دنیاسے اپنی توجہ ہٹ کر مکمل طورپر گوشہ نشیں ہوکر عبادت میں لگ گئے یہاں تک کہ خداسے جاملے۔
پھر تمہارے داداخلف کی اولاد میں سے تمہارے چچا علی،عمر،محمد،ابراہیم اورمیں ہوں۔تمہارے چچا میں سے کوئی بھی ایسانہیں ہے جو حج،جہاد،اورنیکی وعفت وپرہیزگاری میں مشہور نہ ہو ۔سبھی نے اسی حال اورحالت میں خالق حقیقی سے ملاقات کی۔
اب میرے زندگی کی شمع بھی بجھنے والی ہے اورمیں بھی ان سے ملنے والاہو اوریہ خاندانی سلسلہ اب تم تک پہنچ رہاہے توان پیش رئووں کے طریقہ (صلاح،عفاف،پرہیزگاری،حج وجہاد)کے علاوہ کوئی دوسراراستہ اختیار نہ کرنا اوران کے اخلاق واوصاف کو چھوڑ کر دوسرے اخلاق واوصاف کو نہ اپنانا۔اگرتم نیکی کے کاموں میں ان سے آگے بڑھ سکو توایساضرورکرنالیکن کم سے کم ان سے پیچھے نہ رہنا(یعنی سپوت بننے کی کوشش کرنا،کم سے کم پوت بننااورکپوت توبالکل نہ بننا۔دراصل یہ تینوں ہندی کے الفاظ ہیں،ہندی میں سپوت اس کو کہاجاتاہے جواپنے خاندان کی عزت ترقی اورخوشحالی کو آگے بڑھائے اوراس معاملہ میں اپنے والد اورداداد کو بھی پیچھے چھوڑدے،پوت اس کو کہاجاتاہے جونسلابعد نسل چلے آرہے ورثہ کوباقی رکھے اگراپنے والد اورخاندان کے دیگر افراد سے آگے نہ بڑھ سکے۔کپوت نالائق اولاد اورجانشیں کوکہاجاتاہے جوپوراخاندانی ورثہ بربادکردیتاہے۔)
پہلی وصیت ۔اللہ پرایمان
میری تم دونوں کو پہلی نصیحت وہی ہے جس کی نصیحت حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اورحضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹوں کو کی تھی۔ يا بني إن الله اصطفى لكم الدين فلا تموتن إلا وأنتم مسلمون} [ البقرة: 132].اے میرے بیٹو اللہ نے تمہارے لئے دین(اسلام کو پسند کیاہے پس تمہاری موت اسلام کی حالت میں ہی آئے۔
اورمیں تم دونوں کو ان کاموں سے روکتاہوں کرتاہوں جس سے حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو روکاتھا۔
اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا بیشک شرک بڑاظلم ہے (لقمان:13)اوراس بارےمیں تم دونوں کو تاکید کرتاہوں اورتمہیں دوبارہ یہ بات پوری قوت اورطاقت سے کہتاہوں اوراس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارارشتہ (باپ بیٹا کا)بہت قریبی ہے۔ اس دین کو پکڑے رہناجس کے ذریعہ اللہ نے ہم پر اپنافضل کیاہے تواس دین سے دنیا کی کوئی چیز تمہارے قدم نہ بہکادے۔اوراس کی خاطرجان کی قربانی بھی دینے پڑے تواس سے دریغ نہ کرنا ۔دنیاکیاچیز ہے۔اگردنیا سے جانے کے بعد ہمیشہ کیلئے جہنم میں رہنے کا حکم صادر ہوگیاتودنیاوی مال ومتاع کا کیافائدہ اوراگرہمیشہ کیلئے جنت ملی تودنیا کی تکلیف اورمصیبت سے کیانقصان !
{ومن يبتغ غير الإسلام ديناً فلن يقبل منه وهو في الآخرة من الخاسرين} [آل عمران: 85].اور جو شخص اسلام کے سوا کِسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ اس سے مقبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا۔
مومنوں کیلئے جنت کی امید
اگرتم دونوں کی موت اس دین پر ہوتی ہے جس کو اللہ نے اپنے بندوں کیلئے منتخب کیاہے اورپسند کیاہے اوراس کے علاوہ دین ومذہب کو حرام قراردیاہے تومیں امید کرتاہوں کہ ہم قیامت میں ایسی جگہ ملیں گے جہاں نہ فرقت وجدائی کاخوف ہوگا اورنہ کسی نعمت کے زوال کااندیشہ۔اوراللہ جانتاہے کہ مجھے تم دونوں کے بارے میں اس سلسلے میں کتناشوق اورکتنی امید ہے اوراللہ یہ بھی جانتاہے کہ میں اس سے کتناخائف ہوں کہ کہیں تم دنوں میں سے کسی کا پاؤں راہ راست سے ڈگمگانہ جائے یاوہ کسی فتنہ میں مبتلانہ ہوجائے اوراس فتنہ کی وجہ سے وہ اللہ کی ناراضگی کا مستحق ہوکر جہنم کا ایندھن نہ بن جائے ۔(اگرایساہوا)توایسے لوگ نہ اپنے مومن آباء سے مل سکیں گے اورنہ ان کے نیک باپ دادا ان کو قیامت کے دن کوئی فائدہ پہنچاسکیں گے۔
يَـٰٓأَيُّہَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡ وَٱخۡشَوۡاْ يَوۡمً۬ا لَّا يَجۡزِى وَالِدٌ عَن وَلَدِهِۦ وَلَا مَوۡلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِۦ شَيۡـًٔا‌ۚ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقٌّ۬‌ۖ فَلَا تَغُرَّنَّڪُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّڪُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ۔(لقمان 33)اے لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ مطالبہ ادا کر سکے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی ہے کہ وہ اپنے باپ کی طرف سے ذرا بھی مطالبہ ادا کرے یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے سو تم کودنیوی زندگانی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ تم کو دھوکہ باز شیطان اللہ سے دھوکے میں ڈالے۔
وصیت کی اقسام

میری وصیت تم دونوں کیلئے دو قسم کی ہے۔اولاتومیں تمہیں شریعت کے اوامر اورجن احکام کی معرفت ضروری ہے اس کے بارے مٰیں بتاؤں گا اوراسی میں ضروری امور پر تنبیہ کروں گا ۔دوسری قسم تمہارے دنیاوی معاملات سے متعلق ہوگی
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (14-06-11), فخر بٹ (15-06-11), کنعان (15-06-11), عروج (09-09-11), غلام مجتبی جان (14-06-11)
پرانا 14-06-11, 09:44 PM   #4
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ارکان ایمان کی تصدیق
اللہ عزوجل،ملائکہ،اللہ کی نازل کردہ کتابیں اوراس کے رسولوں پر ایمان لانا ،اس کی نازل کردہ شریعت کی تصدیق کرنا ہے۔اگراس میں کچھ خلل ہوا تو کوئی بھی عمل فائدہ پہنچانے والانہیں ہے اوراللہ تبارک وتعالیٰ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنا۔
قرآن یاد کرنا اوراس پرعمل کرنا
قران کریم کو یاد کرنا اس کی تلاوت کرنا،اورقرآن کریم کی آیات کے معانی میں تفکر کرنا۔اللہ نے اپنی کتاب میں جن کاموں کے کرنے کا حکم دیاہے اسے بجالانااورجن چیزوں سے روکاہے اس سے رک جانا۔
کتاب وسنت کو مضبوطی سے پکڑنا
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ رسول اللہ نے فرمایامیں تمہارے درمیان دوایسی چیزیں چھوڑے جارہاہوں کہ جب تک تم ان کو مضبوطی سے پکڑے رہوگے گمراہ نہ ہوگےایک اللہ تبارک وتعالیٰ کی نازل کردہ کتاب اوردوسرے میری سنت ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رہنا۔ (رواه مالك في الموطأ 2/899، والحاكم في المستدرك 1/93.)
رسول اللہﷺ کی اطاعت اورمحبت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری خیرخواہی کی ،آپ مومنین کے ساتھ انتہائی شفیق ومہربان تھے اورہمیشہ ان کی بھلائی کے خواہاں تھے لہذا تم دونوںآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات پر عمل کرو۔ آپ کے احکام کی تعمیل کرو اوراپنے دل میں ان کی محبت کو جاگزیں کرو اورجوکچھ احکام الہی وہ لے کر آئے ہیں اس پر صدق دل سےراضی رہو،اورآپ کے طریقوں کی پیروی کرو اورآپ کے حکم کی اطاعت کرو اورآپ کی سنتوں کو جاننے کی کوشش کرو ،کیونکہ آپ کی محبت خیر اوربھلائی کی طرف لے جانے والی اورہلاکت وشر سے بچانے والی ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہھم اجمعین کی محبت
اوراپنے دلوں میں صحابہ کرام کی محبت جاگزیں کرلو اورآئمہ طاہرین حضرت ابوبکر ،حضرت عمر ،حضرت عثماناورعلی رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فضیلت کے قائل رہو (اللہ ان کی محبت ہمارے لئے فائدہ مند بنائے)اورصحابہ کرام کے درمیان جو اختلافات واقع ہوئے ان کی بہتر تاویل کو تم دونوں اپنے لئے لازم کرلو،اوران کے اختلافات کے بارے میں جوکچھ منقول ہے اس کے بارے میں نیک اعتقاد رکھو۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔تم میرے صحابہ کو گالیاں نہ دین اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔اگرتم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تووہ صحابہ کرام کے ایک مد یااس کے نصف کے قریب خرچ کرنے کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ (رواہ البخاري (3673)، ومسلم (2540، و2541)
توجو خدا کی راہ احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرکے بھی صحابہ کرام کے آدھے مد کو نہ پہنچ سکے (جوناممکن ہے )توان کے فضائل کاکیسے (دوسروں)سے موازنہ کیاجاسکتاہے یاکوئی اس کی گہرائی کوکیسے پاسکتاہے۔اورصورت حال یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام راہ خدامیں کثرت سے خرچ کرتے تھے۔
علماء کی عزت اوران کی اقتداء کرنا
صحابہ کرام کے بعد تابعین اوران کے بعد دوسرے ائمہ اورعلماء کو دوسروں پر افضل جانو،(اللہ ان پر حم کرے)ان کی تعظیم کرو ان کی اقتداء کر واوران کی طرح زندگی گزارنے کی کوشش کرو اوران کے نقش قدم کی پیروی کرو۔ان کے اقوال کو یاد کرو اوریہ اعتقاد رکھو کہ جوکچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے۔
قیام نماز
نماز قائم کرناکیونکہ وہ دین کا اورشریعت کا ستون ہے۔اورملت حنیفیہ میں اس کی سب سے زیادہ تاکید وارد ہوئی ہے۔ اس کی پاکی اورطہارت کا خیال رکھنا،نماز کے اوقات کی فکر کرنا،اورنماز میں قرات کو مکمل طورپر کرنا۔اس کاخیال رکھنا کہ رکوع اورسجدہ پورے طورہوں پر۔نماز میں ہمیشہ خشوع کی کیفیت رہے اوراس کی جانب توجہ رہے ۔ا سکے علاوہ جماعت اورمساجد کے جو دوسرے آداب ہیں ان کا خیال رکھنا کیونکہ یہ مومنین کا شعار اوربزرگوں کا طریقہ اورمتقیوں کا طرز عمل ہے۔
زکوٰۃ اداکرنا
پھر اس کے مال کے زکوٰۃ کی ادائیگی کا درجہ ہے۔ اس کو وقت سے موخر نہ کیاجائے۔اورنہ اس کی ادائیگی میں بخل سے کام لیاجائے اورنہ مال کے تھوڑنے ہونے سے زکوٰۃ کی ادائیگی میں غفلت برتی جائے۔(یعنی اگرشرعی طورپر نصاب کے لائق مال نہ ہو توبھی احتیاطاً زکوٰۃ نکالنی چاہئے)۔زکوٰۃ مال کابہترین حصہ ہو اورمکمل وزن کے ساتھ ہو۔اللہ تبارک وتعالیٰ تمام کریموں میں سب سے زیادہ کریم ہیں تواس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کیلئے جو مال نکالاجارہاہے وہ خوش دلی کے ساتھ اورمال کابہترین حصہ ہو۔۔اس کا یقین رکھاجائے زکوٰۃ کی ادائیگی سے مال میں برکت ہوتی ہے اوربقیہ مال کی پاکی وصفائی کا ذریعہ بنتی ہے۔ زکوٰۃ اس کے مستحقین کو بغیر کسی جھجک کے دیناچاہئے اورا س میں خواہشات کی پیروی نہیں کرنی چاہئے۔(خواہشات کی پیروی سے مراد یہ ہے کہ جس سے آپ کو کسی قسم کا فائدہ پہنچ سکے زکوٰۃ اسی کو دیں۔مثال کے طورپر ایک عورت آپ کے گھر کام کرتی ہے آپ اس کو مزید زیر بار کرنے کیلئے زکوٰۃ اسی کو دیتے ہیں جب کہ آپ کے علم میں پاس پڑوس میں کوئی اورزیادہ ضرورت مند موجود ہوتاہے سوایسانہیں کرناچاہئے۔)
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (16-06-11), فخر بٹ (15-06-11), کنعان (15-06-11), عروج (09-09-11), غلام مجتبی جان (14-06-11)
پرانا 15-06-11, 12:22 AM   #5
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رمضان کے روزے
پھر رمضان کے روزے ہیں وہ رازداری کی عبادت (کسی کو پتہ نہیں چلتاکہ کون شخص روزہ سے ہے )اوراپنے رب کی اطاعت ہے۔اوردوران روزہ زبان کی حفاظت کاخیال رکھاجائے اورنیک اعمال زیادہ سے زیادہ انجام دیئے جائیں۔کسی شرعی غلطی اورپھسلن کے ارتکاب سے بچنے کی کوشش کی جائے۔رمضان کے رات اوردن کی نگرانی رکھی جائے اوررمضان کے آنے کے بعد اس کے روزے اورقیام کا خیال رکھاجائے اوراس میں اعتکاف مسنون ہے۔
حج بیت اللہ اورعمرہ
پھر اللہ کے گھرکی زیارت اس کیلئے جو اس کی استطاعت رکھے، فرض اورواجب ہے اوراس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیاگیاہے ''مقبول حج کابدلہ اللہ کے نزدیک صرف جنت ہے۔(رواہ البخاری 1773،مسلم 1349)
اللہ کے راستے میں جہاد
پھر اللہ کے راستے میں جہاد کا مرتبہ ہے۔ اگرتم دونوں جہاد میں شریک ہونے کی قدرت ہو توضرور شریک ہونا ورنہ کم سے کم مجاہدین کی مدد توکرناہی چاہئے۔
یہ اسلام کے فرائض کے ستون ہیں اورایمان کے ارکان ہیں۔ تم دونوں اس کی حفاظت کرنا اوراس کی جانب سبقت کرنا(اگرایساکیا)توتم دونوں خیر کثیر کو جمع کرلوگے اوربڑے اجر کوپانے میں کامیاب ہوجاؤگے اوران فرائض میں اللہ کے حقوق کو ضائع نہ کر نانہیں تو تم گھاٹااٹھانے والوں میں ہوگے اوران لوگوں میں جووقت گزرنے کے بعد اشک ندامت بہاتے ہیں۔
تم دونوں جان لو کہ ان فرائض کی ادائیگی اوراس کے بجائے لانے میں اللہ کی توفیق کے ساتھ جو چیز مدد گار ہوگی وہ علم ہے کیونکہ علم ہی اصل بھلائی ہے اوراسی کے ذریعہ نیکیوں تک پہنچاجاسکتاہے۔تم دونوں علم طلب کرنا کیونکہ علم اپنے حامل کیلئے مالداری ہے اورعزت ووقار کا سبب ہے ۔وہ اس کے(دنیاوی فوائد کے ساتھ ساتھ) آخرت کی نیکیوں کے حصول کابھی ذریعہ ہے کیونکہ علم کے بعد ہی انسان شبہات سے بچ سکتاہے اوراس کی عبادات صحیح ہوسکتی ہے۔بہت سارے (نیک)اعمال کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کا عمل ان کو اپنے رب سے دور کررہاہے اوروہ جس کو نیکی سمجھ کر انجام دے رہے ہیں وہ ان کے نامہ اعمال میں گناہوں کے طورپر درج کیاجارہاہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے۔(قل هل ننبئكم بالأخسرين أعمالا* الذين ضل سعيهم في الحيوة الدنيا وهو يحسبون أنهم يحسنون صنعاً ۔الكهف: 103-104)کیاہم تمہیں بتائیں کہ عمل کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوششیں دنیاوی زندگی کی تگ ودو میں ہی رہیں اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھاکررہے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کایہ بھی ارشاد ہے۔{قل هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون إنما يتذكر أولوا الألباب} [الزمر: 9]کیااہل علم اوربے علم برابر ہوسکتے ہیں بے شک صرف اہل عقل ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔(الزمر9)اللہ تبارک وتعالیٰ کایہ بھی ارشاد ہے ۔{إنما يخشى الله من عباده العلماء} [ فاطر:28]اللہ سے ڈرنے والے تو صرف علماء ہی ہیں۔(فاطر2اوراسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے ۔{يرفع الله الذين آمنوا منكم والذين أوتوا العلم درجات} [ المجادلة:11].تم میں سے جن لوگ ایمان لائے اورجن کو علم دیاگیااللہ ان کے درجات بڑھاتاہے۔(المجادلہ11)
علم کے فضائل
علم کے ذریعہ انسان خوش بختی کو حاصل کرتاہے اور عالم کا حاصل کرنے والاعزت اورمرتبہ سے محروم نہیں ہوتا۔ قلیل علم بھی نفع دیتاہے اورکثیر علم مرتبہ اوردرجہ بڑھاتاہے۔علم ایک ایساخزانہ ہے جو ہرحال میں محفوظ رہتاہے اورخرچ کرنے سے بڑھتاہے۔ اسے زبردستی لوٹ نہیں سکتا اوروہ ایسامال ہے جس پر چوروں اورڈاکہ زنی کرنے والوں کا خطرہ نہیں ہے۔
تم دونوں حصول علم کی کوشش کرو اوراس سلسلے میں محنت ومشقت کو خندہ پیشانی سے برداشت کرو اوراسباق کو سینے میں محفوظ کرنے کیلئے راتوں کو جاگنا اوردن کو کڑی محنت کرناپڑے تو اس سے دریغ نہ کرو اورعلم کو قید کرنے (لکھنے) کی عادت ڈالواورپھر اس میں غوروفکر اوراس کو سمجھنے کی کوشش کرو۔
اہل علم کے بلند رجات
لوگوں کے جتنے طبقات ہیں یاجتنے ہنراورپیشہ والے لوگ ہیں سب پرایک نظرڈالو اوردیکھو کہ کیاان میں سے کسی کی بھی قدر ومنزلت علماء کے برابرہوتی ہے اوران میں سے کون فقہاء سے افضل شمار کیاجاتاہے ۔فقہاء کے محتاج امیرو غریب،شریف وذلیل سبھی ہیں اوردنیا کے معاملات ہوں یادینی احکام ،سبھی میں شرعی معلومات کی خاطر انہی کی جانب رجوع کیاجاتاہے اوراس کے علاوہ دیگر معاملات اورخریدوفروخت اوردوسرے امور میں بھی ان کی ضرورت پڑتی ہے اوردین ودنیا کے جتنے معاملات ہیں چاہے وہ نماز،زکوٰۃ روزہ اورحلال وحرام کے قبیل سے ہو سب میں ان کی ہی جانب رجوع کیاجاتاہے اسی کے ساتھ علماء دینی لغزشوں سے بچے رہتے ہیں اورتمام لوگوں کے نزدیک انہیں قابل احترام سمجھاجاتاہے۔
علم ایک ایسی سلطنت ہے جس سے کبھی علاحدگی اورمعزولی کی نوبت پیش نہیں آتی اورایک ایسالباس ہے جسے کبھی اتارانہیں جاسکتا جب کہ اس کے برعکس تمام بادشاہوں اوروالیان مملکت کا یہ حال ہوتاہے کہ جب تک وہ حکمراں رہتے ہیں تب تک وہ معززرہتے ہیں اورجہاں حکومت گئی اس کی تمام عزت اوراحترام ختم ہوجاتاہے ۔اس میں استثناء صرف صاحبان علم کاہی ہے کہ وہ جہاں کہیں اورجس حال میں ہوں، ان کی عزت ہوتی ہے اورپوری دنیامیں ان کاشہرہ ہوتاہے اورمرنے کے بعد بھی مدتوں تک ان کانام زندہ رہتاہے۔
تمام علوم میں شرعی علم افضل ہے
علوم میں سب سے افضل شریعت کا ہے اوریہ فضیلت اس کیلئے ہے جو قران کو عمدہ طورپر تجوید کے ساتھ پڑھ سکتاہے رسول پاک کی احادیث کو یاد کرتاہے پھر اس میں صحیح اورضعیف کی تمیز حاصل کرتاہے پھر اصول فقہ پڑھتاہے اورکتاب وسنت میں غوروفکر کرتاہے پھر فقہاء کے کلام کو پڑھتاہے اوران سے جومسائل منقول ہیں ان میں غوروفکر کرتاہے اوردلائل وبراہین پر توجہ دیتاہے یہ کسی کیلئے بھی انتہائی اورعلم کاآخری مقام ہے۔
دین میں سمجھ
جو اس سے قاصر ہوتواسے چاہئے کہ قرآن کریم کے حفظ اوراحادیث کی روایت کے بعد امام مالک کے مذہب پر مسائل کو جانے ۔امام مالک کے مذہب کو ہم نے اس لئے خا ص کیاہے کہ کیونکہ وہ وہ حدیث اورفقہ دونوں میں امام ہیں اوران کی طرح بکثرت مسائل کے جواب دینے میں اورمذہب کی وسعت میں سوائے امام ابوحنیفہ اورامام شافعی کےدیگر ائمہ شریک نہیں ہیں ۔اوران دونوں میں سے کسی کو حدیث میں امامت کا مرتبہ توکیامتوسط درجہ بھی حاصل نہیں ہے۔
نوٹ:یہ واضح رہے کہ علامہ ابوالولید باجی فقہ مالکی سے نسبت رکھتے تھے لہذا اس بارے میں لگتاہے کہ انہوں نے یہ جملے امام مالک سے فرط عقیدت میں کہے ہیں ۔ورنہ امام ابوحنیفہ اورامام شافعی دونوں فقہ وحدیث دونوں کے امام ہیں جیساکہ حافظ ذہبی کی تذکرۃ الحفاظ اوردیگر علماء محدثین کی کتابوں سے ظاہر ہے۔

Last edited by ابن جمال; 15-06-11 at 10:50 AM.
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (16-06-11), فخر بٹ (15-06-11), کنعان (15-06-11), عروج (09-09-11)
پرانا 15-06-11, 12:25 AM   #6
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

منطق اورفلسفہ پرھنے سے اجتناب
اورخبردار تم دونوں منطق اورفلاسفہ کے کلام نہ پڑھنا کیونکہ وہ کفر الحاد پر مبنی ہے اورشریعت سے دور لے جانے والی ہے۔
منطق کی کتابیں شرعی علوم پر مہارت کے بعد پڑھنامناسب ہے
میں تم دونوں کو تاکید کرتاہوں کہ جب تک تم علماء کے کلام کو اتنانہ سمجھ لو کہ جس سے تمہیں منطق اورفلسفہ کے بگاڑ اورخامیوں کاپتہ چل جائے اس وقت تک ان دونوں کو ہاتھ نہ لگانا۔کہیں ایسانہ ہو کہ اس کی وجہ سے تمہارے دل میں کوئی شبہ پیداہوجائے اور وہ تم اس کو دور کرنے پر قادر نہ ہو ۔یہی وجہ ہے کہ متقدمین اورمتاخرین علماء میں سے ایک بڑی تعداد نے ان لوگوں کیلئے منطق اورفلسفہ کے پڑھنے کو براسمجھاہے جو کہ شرعی علوم میں مہارت نہیں رکھتے ۔ان کے بھی عوام کو روکنے کی وجہ وہی ہے جس کا میں نے ذکر کیاہے۔
اگر میں جانتا کہ تم دونوں شرعی علوم میں مہارت حاصل کرلوگے اورصحیح وغیر صحیح کی تمیز اوردلائل میں غوروفکر کی قوت حاصل کرلوگے تو میں دونوں کو منطق اورفلسفہ کے پڑھنے کی ترغیب دیتا اوراس کے مطالعہ کا حکم دیتا تاکہ تمہیں بھی معلوم ہوجائے کہ فلاسفہ اورمناطقہ کی باتیں کتنی کمزور اوران کی تحقیقات کیسی بودی ہوتی ہیں اوروہ کس خام شبہات سے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں وہ خود کو بہت عقل مند سمجھتے ہیں حالانکہ عقل کے اعتبار سے وہ عام لوگوں سے بھی گئے گزرے ہوتے ہیں ۔مناطقہ اورفلاسفہ کی تعظیم وہی لوگ کرتے ہیں جو صحیح اورغلط کی تمیز نہیں کرسکتے۔مناطقہ وفلاسفہ کا طریق کار یہ ہے کہ جب کوئی ان کی خام تحقیقات اوربودی وکمزورشبہات پر مطلع ہوجاتاہے تووہ اس سے بحث سے گریز کرتے ہیں اوریہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے علم کو چھپارہے ہیں حالانکہ وہ اس طورپر صرف اپنی جہالت کو چھپارہے ہوتے ہیں ۔
میں نے بذات خود بغداد میں مناطقہ اورفلاسفہ کو دیکھاہے کہ لوگ ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اوران کی کوئی قدر نہ تھی ۔لڑکے بالے ان سے مناظر کرتے پھرتے تھے ۔منطق اورفلسفہ والوں کی ذلت وخواری کیلئے اتناہی کافی ہے کہ اس علم کاحامل دنیا میں حقیر اورآخرت میں راندہ درگاہ ہے ۔ہمارے شہر کے لوگ جو مناطقہ اورفلاسفہ کی اس قدر تعظیم کرتے ہیں تواس کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ ان کی خامیوں سے واقف نہیں ہیں اورنہ وہ منطق وفلسفہ کی کمزوریوں سے آگاہ ہیں۔
امربالمعروف اورنہی عن المنکر
تم دونوں اس بات کواپنے اوپر لازم کرلو کہ دوسرے لوگوں کو نیک امور کی تاکید کرو اورخود بھی ان پر عمل کرو اورلوگوں کو برائیوں سے منع کراورخود بھی برائیوں کے ارتکاب سے اجتناب کرو۔
بادشاہ وسلطان کی اللہ کی معصیت کے علاوہ میں طاعت کرو
تم دونوں حاکم کی اطاعت کرو جب تک وہ کسی معصیت اوربرائی کا حکم نہ دے ۔اگروہ ایساکرے تواس کی اطاعت سے باز آجاؤ اوراس کے علاوہ امور میں اس کی پوری اطاعت کرو۔
سچائی کو لازم پکڑو اورجھوٹ سے پرہیزکرو
تم دونوں ہمیشہ سچ بولو کیونکہ وہ کردار کی زینت ہے اورخبردار جھوٹ سے اجتناب کرنا کیونکہ وہ کردار پر ایک دھبہ ہے اورجو شخص صدق وسچائی میں مشہور ہوجاتاہے توہرجگہ اس کا نام عزت سے لیاجاتاہے اورجو شخص جھوٹ میں مشہور ہوجاتاہے تولوگ اس سے تعلقات ترک کردیتے ہیں اوراس کی برائی کی جاتی ہے اورجھوٹے شخص کی یہ سزا کیاکم ہے کہ لوگ اس کے سچ کا بھی اعتبار نہ کریں ۔اللہ تعالیٰ نے جس کسی کا کذب کے ساتھ تذکرہ کیاہے تواس کی مذمت ہی کی ہے اوراللہ نے جس کا صدق کے ساتھ ذکر کیاہے اس کی تعریف کی ہے ۔
امانت کی ادائیگی
تم دونوں امانت کی ادائیگی میں پوری ایمانداری برتنا اورخبردار خیانت کا ارتکاب نہ کرنا۔امانت کو حق دار تک پہنچانا اور جو تمہارے ساتھ خیانت کا برتاؤ کرے اس کے ساتھ خیانت مت کرنااورعہد کی پابندی کرنا کیونکہ عہد کے بارے میں سوال کیاجائے گا۔
وزن برابر اورپوراتولنا
وزن کو پوراتولنا کیونکہ اس میں کمی خدا کی ناراضگی کا موجب ہے اس سے صرف مال میں ہی کمی نہیں ہوتی ہے(بے برکتی سے) بلکہ انسان کا دین اورکرداربھی کم ہوجاتاہے۔
ناحق خون بہانے میں کسی کا ساتھ نہ دینا
تم دونوں کسی کا خون ناحق بہانے میں لفظی یاعملی طورپر کسی کی مدد نہ کر کیونکہ انسان اس وقت تک اللہ کی جانب سے کشادگی میں رہتاہے جب تک کہ اس کے ہاتھ کسی مسلم کے خون سے رنگے نہ ہوں ۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے ۔(ومن يقتل مؤمناً متعمداً فجزاؤه جهنم خالداً فيها وغضب الله عليه ولعنه وأعد له عذاباً عظيماً۔ النساء: 93)جوشخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تواس کی سزا ہمیشہ ہمیش کی جہنم ہے اوراس پر اللہ کا غضب اوراس کی لعنت ہے اوراس کیلئے عذاب عظیم ہے۔(النسائ93)
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (16-06-11), فخر بٹ (15-06-11), کنعان (15-06-11), عروج (09-09-11)
پرانا 15-06-11, 12:30 AM   #7
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زناکے قریب نہ جانا
زناسے پرہیز شریفوں کے اخلاق میں سے ہے اوراس کا ارتکاب دنیا میں باعث شرمندگی اورآخرب میں عذاب الہی کاموجب ہے۔{ولا تقربوا الزنى إنه كان فاحشةً وساء سبيلا} [الإسراء:32]. اور زنا کے پاس بھی مت پھٹکو بلاشبہ وہ بڑی بے حیائی کی بات ہے اور بری راہ ہے۔(الاسراء32)
شراب سے پرہیز
خبردار!تم دونوں شراب نہ پینا۔وہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اورگناہوں پر رغبت دلانے والی ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کو اپنی کتاب میں حرام قراردیاہے اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے۔إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العداوة والبغضاء في الخمر والميسر ويصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون} [المائدة:91]شیطان تو یوں ہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمھارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کردے اور الله تعالیٰ کی یاد سےاور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آوٴ گے۔
شراب سے پرہیز کرنے کیلئے اتنی ہی بات کافی ہے(یعنی اگروہ حرام نہ بھی ہوتی تو)کہ وہ عقل کو زائل کردیتی ہےاوردماغ اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوجاتاہے ۔اس کو ایک قوم نے زمانہ جاہلیت میں بھی چھوڑے رکھاتھا۔توخبردارتم دونوں اس کے قریب بھی نہ جانا اوراس گندگی سے خود کو ملوث نہ کرنا۔اللہ تباروک تعالیٰ نے اس کو اپنی کتاب میں بھی گندگی سے ہی تعبیر کیاہے اوراس کو بت اورقرعہ کے ساتھ ملا کرذکر کیا ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
{إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجسٌ من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون} [المائدة:90]اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بُت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو۔
اس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے واضح کردیاکہ شراب نوشی شیطانی عمل ہے اوراس کو گندگی سے تعبیر کیااورکامیابی کو اس سے پرہیز کرنے سے مشروط کردیا توکیااب اس کے بعد بھی کسی عقل وہوش والے کیلئے جو خدائے تبارک وتعالیٰ پر ایمان رکھتاہے اوریہ جانتاہےکہ اللہ تباک وتعالیٰ کا ہرحکم ہماری ہی بھلائی اوربہتری کیلئے ہے۔شراب کے قریب ہوسکتاہے اوراس گندگی سے خود کو آلودہ کرسکتاہے؟
سود سے بچنا
خبردار!تم دونوں سود کے لین دین سے بچے رہنا۔اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیاہے اورسود کے لین دین کو جس نے تاحال توبہ نہیں کیاخداورسول کے ساتھ جنگ سے تعبیر کیاہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
{يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا إن كنتم مؤمنين* فإن لم تفعلوا فأذنوا بحربٍ من الله ورسوله} [البقرة:279-278]اے ایمان والو الله سے ڈرو اور جو کچھ سود کابقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔ ایک دوسرے مقام پر اللہ تبارک وتعالیٰ کاارشاد ہے۔{يمحق الله الربا ويربي الصدقات} [البقرة:276] اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں۔

یتیم کامال نہ کھانا
اورتم دونوں بغیرحق کے کسی کا مال نہ کھانااورخاص کر یتیم کے مال سے احتیاط کرنا۔اس لئے کے یتیم کا مال ناحق کھانے والوں کے حق میں اللہ تبارک وتعالیٰ کاارشاد ہے۔
{إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلماً إنما يأكلون في بطونهم ناراً وسيصلون سعيرا}النساء:10].لاشبہ جو لوگ یتیموں کا مال بلا استحقاق کھاتے (برتتے)ہیں اور کچھ نہیں اپنے شکم میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جلتی آگ میں داخل ہونگے۔
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (16-06-11), فخر بٹ (15-06-11), کنعان (15-06-11)
پرانا 15-06-11, 08:35 AM   #8
Senior Member
 
فخر بٹ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 812
کمائي: 5,892
شکریہ: 2,351
408 مراسلہ میں 663 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ کے آپ نے ہمیں اتنی اچھی معلومات سے آگاہ کیا
شیئرنگ کا بہت بہت شکریہ
__________________
As you Sow' So Shall you Reap
فخر بٹ آف لائن ہے   Reply With Quote
فخر بٹ کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (15-06-11)
پرانا 15-06-11, 10:53 AM   #9
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حلال رزق کی طلب
تم دونوں اپنے اوپر رزق حلال کو لازم کرلینااورحرام سے پرہیز کرنا۔اگر حلال کسی صورت نہ ملے تومشتبہ مال بقدر ضرورت استعمال کرلینا(لیکن تب بھی حرام مال سے بچے رہنا)۔
ظلم حرام ہے
تم دونوں کسی پر ظلم نہ کرنا اس لئے ظلم قیامت کے دن تاریکی کی شکل میں سامنے آئے ۔علاوہ ازیں ظالم دنیا میں بھی مخلوق خدا کے نزدیک قابل مذمت ہوتاہے اورلوگ اس سے نفرت کرتے ہیں۔
چغل خوری نہ کرنا
تم دونوں کسی کی چغل خوری نہ کرنا کیونکہ چغل خوری کرنے میں نقصان یہ ہے کہ سب سے پہلے وہ شخص ناراض ہوتاہے جس تک تم کسی کی بات پہنچارہے ہو۔اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے۔جنت مین چغل خور داخل نہیں ہوگا۔ البخاري (6056مسلم 105).
حسد کی ممانعت
تم دونوں کسی سے حسد نہ کرنا وہ ایسی بیماری ہے جس کو لگ جائے وہ ہلاک ہوجاتاہے .
فواحش سے گریز
تم دونوں برے کام کے ارتکاب سے بچے رہنا ۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے فحش کاموں سے خواہ ظاہری ہوں یاباطنی دونوں سے منع کیا ہے اوراسی کے ساتھ گناہوں کے ارتکاب اوربغیرکسی حق کے حد سے گرزنے اورتجاوز کرنے سے منع کیاہے۔
غیبت حرام ہے
تم دونوں کسی کی غیبت نہ کرنا اس سے نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں اورگناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اورانسان خالق سے دور ہوجاتاہے اورمخلوق کی نگاہ میں مبغوض اورناپسندیدہ ہوجاتاہے۔
تکبر حرام ہے
تم دونوں تکبر نہ کرنا کیونکہ تکبر کرنے والااللہ کی ناراضگی کے لپیٹے میں رہتاہے ۔
بخالت نہ کرنا:
تم دونوں بخل سے کام نہ لینا کیونکہ اس سے زیادہ لاعلاج بیماری اورکوئی نہیں ہے اوربخیل پر دیانت داری کا بھروسہ نہیں کیاجاتاہے اورنہ بخیل لوگ سیادت کے مرتبہ پر فائز ہوسکتے ہیں۔
خلوت وجلوت مین اللہ کا دھیان
تم دونوں رسوائی اورذلیل کرنے والی باتوں اورمقامات سے پرہیز کرتے رہو۔(یعنی ایسی جگہ جانے سے بھی پرہیز کرو جہاں کہ انسان پر کسی قسم کی تہمت لگ سکتی سنیماہال،پب،ساحل سمندر اوردوسرے گناہ کے مقامات)اورہروہ امر جس کے بارے میں تم یہ چاہو کہ کوئی دوسرا اس پر مطلع نہ ہو تواس سے گریز کرنا اورجس چیز کے بارے میں تم جانتے ہوکہ اس کے مرتکب ہونے والوں کی لوگ بھری مجلس میں برائیاں کرتے ہیں تو تم ایسے کا خلوت میں بھی نہ کرنا۔
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (16-06-11), کنعان (15-06-11), عروج (09-09-11)
پرانا 15-06-11, 10:56 AM   #10
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فیصلہ میں انصاف کالحاظ:
اگرتم دونوں میں سے کوئی اس مقام کو پہنچے کہ اس سے کسی معاملہ میں فتوی اورفیصلہ طلب کیاجائے تووہ فیصلہ اورفتوی میں عدل کو ملحوظ رکھے اورفتویٰ طلب کرنے والے اورمدعی پر ظلم کرنےسے اوردھوکہ دینے سے اجتناب کرے۔ظلم کرنے والااللہ کے حکم کی مخالفت کرتاہے اوراگروہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم کی خبر دیتاہے تو وہ اس میں جھوٹ کو شامل کردیتاہے ۔اس کی شریعت کو بدل دیتاہے اللہ تبارک وتعالیٰ کاارشاد ہے۔
ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الفاسقون} [ المائدة:47].اورجوکوئی اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جس کو اللہ نے نازل کیاہے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔
اورآنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اوراللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جواس کی مخلوق کا خیال رکھنے والاہوتاہے۔
(حديث ضعيف. ابن أبي الدنيا في "قضاء الحوائج" (24)، وأبو نعيم في "حلية الأولياء" 4/237، والخطيب البغدادي في "تاريخ بغداد" 6/334.)اورایک دوسری روایت میں ہے جس شخص کو مخلوق کا ذمہ دار بنایا گیااوراس نے ان کی بھلائی کاخیال نہیں رکھا اللہ اس پر جنت کو حرام کردے گا۔ رواہ البخاري (7150)، ومسلم (142) باختلاف في اللفظ.
جھوٹی گواہی سے بچنا
خبردار تم دونوں جھوٹی گواہی نہ دینا اس لئے کہ جھوٹی گواہی دینے والا (معاشی اوردینی لحاظ سے)تباہ ہوجاتاہے اورجس کے حق میں وہ گواہی دیتاہے اس کا دین خراب کردیتاہے اورخود اس کا ذکر ہمیشہ برائی کے ساتھ ہوتاہے اورسب سے پہلے جو اس پر ناراض ہوتاہے اوراس کی چغلیاں کھاتاہے وہی شخص ہوتاہے جس کے حق میں یہ جھوٹی گواہی دیتاہے۔
رشوت حرام ہے۔
تم دونوں رشوت سے پرہیز کرنا۔اس لئے یہ کہ انسان کی بصیرت اوردل کی آنکھوں کو اندھاکردیتاہے اوررشوت لینے والے کا مرتبہ ومقام پست کردیتاہے۔
گانا دل میں فتنہ اگاتاہے
خبردار تم دونوں گانوں کی جانب رغبت نہ کرنا ۔غناء دل میں فتنہ کو اگاتا ہے اوراس کی وجہ سے دل میں برے وساوس پیداہوتے ہیں۔
شطرنج اورچوسر وقت کاضیاع ہے
خبردار تم دونوں شطرنج اورچوسر کا شوق نہ رکھنا یہ بے کار اورمالداروں کا شوق ہے اس میں عمر ضائع ہوجاتی ہے اورانسان فرائض کی ادائیگی سے رک جاتاہے ۔تم دونوں کو اس بات کاخیال رکھنا ہے کہ تمہاری عمر اوروقت ایسے لایعنی کام میں ضائع نہ ہوں جس کا دین ودنیا میں کوئی فائدہ نہیں ہے اوراس جس کے ذریعہ صرف نقصان ہی پہنچ سکتاہے فائدہ کی کوئی امید نہیں ہے۔
کہانت اورستارہ شناسی کی ممانعت
آگاہ ہوجاؤ تم دونوں میں سے کوئی بھی ستاروں کے ذریعہ کوئی فیصلہ نہ کرے اورنہ کہانت پر یقین کرے کیونکہ جواس کی تصدیق کرے گا وہ دین سے نکل جائے گا اوران لوگوں میں شامل ہوجائے گا جو دین سے نکل چکے ہیں۔
اس کے علاوہ ستاورں کے مقام کو جاننا،ستاروں کو انفرادی طورپر جاننا،ان کے طلوع وغروب کے اوقات کو جاننا، ستاروں کے راستے اورمقامات کا علم رکھنا اورچاند وسورج کے اوقات اوردرجات کا علم رکھنا تاکہ اس کے ذریعہ وقت کاپتہ چل سکے اور سفر میں راستہ معلوم ہوسکے۔ نماز کے اوقات معلوم ہوسکیں تویہ مستحسن ہے اوریہ سب حساب (پرانانام ہیئت)کے ذریعہ معلوم ہوسکتاہے اللہ تبارک وتعالیٰ کاارشاد ہے۔
{وهو الذي جعل لكم النجوم لتهتدوا بها في ظلمات البر والبحر} [الأنعام:97].اور وہ (اللہ)(ایسا ہے)جس نے تمھارے (فائدہ کے) لیے ستاروں کو پیدا کیا تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اندھیروں میں خشکی میں بھی اور دریا میں بھی رستہ معلوم کرسکو۔بےشک ہم نے (یہ) دلائل خوب کھول کھول کر بیان کردیے ہیں ان لوگوں کے لیے جو خبر رکھتے ہیں۔
ایک دوسرے مقام پراللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے۔
{هو الذي جعل الشمس ضياءً والقمر نوراً وقدره منازل لتعلموا عدد السنين والحساب ما خلق الله ذلك إلا بالحق يفصل الآيات لقومٍ يعلمون} [يونس:5].وہ اللہ ایسا ہے جس نے آفتا ب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو (بھی) نورانی بنایا اوراس کی (چال کے لئے) منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر لیا کرو اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بے فائدہ نہیں پیدا کیں یہ دلائل ان لوگوں کو صاف صاف بتلا رہے ہیں جو دانش رکھتے ہیں۔
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (16-06-11), کنعان (15-06-11), عروج (09-09-11)
پرانا 16-06-11, 07:31 AM   #11
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,334
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

Moderated Message:
متعلقہ سیکشن میں منتقل کردیا گیا ہے
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-09-11, 06:28 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خوبصورت تحریر شئیر کرنے پر مبارک۔ ھمیں بھی اپنی اولاد کی آخرت کی فکر یونہی کرنی چاھئیے کہ اسکے ذمّہ دار ھم ھیں ان کے اچھے ،بُرے اعمال کا قبر میں بھی ھم پرا ثر ھو گا۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 15-09-11, 08:58 PM   #13
Senior Member
مقبول
 
ابن جمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,060
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ تحریر ابھی پوری نہیں ہوئی ہے۔ ترجمہ توکافی پہلے مکمل ہوگیاتھا لیکن سستی کی وجہ سے مکمل تحریر پوسٹ نہیں کرسکا اب انشاء اللہ جلد ہی پوسٹ کرنے کی کوشش کروں گاتاکہ یہ موضوع کم ازکم مکمل ہوجائے
ابن جمال آف لائن ہے   Reply With Quote
ابن جمال کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (16-09-11)
جواب

Tags
unicode, فن, فرض, کتابوں, پاک, پسند, وصیت, قدم, قرآن, نماز, ماں, محبت, اللہ, انسان, اسلام, تلاش, تعلیم, تعارف, جواب, حسن, حضرات, رفتار, زندگی, شہر, غم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تمام انسانوں تک نبی ا کا پیغام پہنچایاجائے،پیرنصیر الدین نصیر عبدالقدوس خبریں 1 19-05-11 09:12 AM
اہم تنصیبات اور شخصیات پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے لشکر جھنگوی کے سات دہشت گرد گرفتار جاویداسد خبریں 0 14-10-10 03:08 PM
باپ بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئےکہانصیحت The Great قہقہے ہی قہقے 0 16-09-09 04:07 PM
نصیب اپنا تیرے نصیب سے شیراز احمد شاعری اور مصوری 2 24-07-09 10:01 AM
فرخ نصیر کے انتقال پر ممتاز شخصیات کا اظہار تعزیت عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 01:03 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger