| خاندانی زندگی خاندانی زندگی |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1354
|
||||
| 8 قاری/قارئین نے champion_pakistani کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (15-05-10), یاسر عمران مرزا (09-05-10), محمدخلیل (09-05-10), محمدعدنان (15-11-07), Zullu230 (13-11-07), اویسی (10-05-10), اخترحسین (09-05-10), عروج (12-01-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃُ اللہ وبرکاتہُ بھائی چیمپیئن پاکستانی ، آپ نے غُسل کے طریقہ کے بارے میں ایک حدیث ذِکر کر کے اِس موضوع کا آغاز فرمایا ، اور جزاک اللہ خیر بہت اچھا کیا ، واقعتا ہماری اکثریت بے جا شرم کی وجہ سے اپنی پاکیزگی اور پلیدگی کا اندازہ نہیں کر پاتی ، لیکن بھائی ، آپ کا یہ کہنا بالکل ٹھیک نہیں کہ ""کوئی بھی طریقہ جِس سے یہ مقصد حاصل ہوتا ہو اختیارکیا جا سکتا ہے "" محترم ، پاکیزہ ہونا اور پلید ہونا ، سو فیصد شرعی حُکم ہیں ، کوئی پلیدگی کے حُکم میں صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اسباب سے ہی ہو سکتا ہے ، اور اِسی طرح کوئی پاک بھی صرف اور صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر ہی ہو سکتا ہے ، معاملہ صرف اسوہ حسنہ پر عمل کا نہیں ، بلکہ ایک شرعی حُکم وحالت و کیفیت سے دوسری میں داخل ہونے کا ہے ، کوئی کِسی بھی طرح اپنے ہاتھ پاؤں چہرہ یا پورا جسم دھو دھا کر صاف تو ہو سکتا ہے ، پاک ہر گِز نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر پاکیزگی اختیار نہیں کرتا ، اور یہ ایسا معاملہ ہے جِس میں پوری اُمت میں کہیں کوئی اختلاف نہیں ، جی ہاں کچھ کاموں کے سنّت یا واجب ہونے کی بات ضرور ہے ، جِسے میں نے "" وضوء"" میں بیان کیا ہے ، دوسرا آپ کا یہ فرمانا کہ "" عائشہ رضی اللہ عنھا سے منسوب "" ، محترم بھائی ، یہ روایت اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا سے منسوب نہیں بلکہ ثابت شدہ ہے ، منسوب کا مطلب ہوتا ہے ، "" جِس کی نسبت کِسی کی طرف کی گئی ہو لیکن صحتِ نسبت کا پتہ نہ ہو "" جب کہ یہ روایت صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں ہے ، جِن کی درستگی کے بارے میں اُمت کا اجماع ہے ، آئیے ، یہاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غُسل کا طریقہ بتاتا ہوں ، جِس کے عِلاوہ کِسی بھی اور طرح سے نہا لینے یا اپنے جسم کو دھو لینے سے پاکیزگی حاصل نہیں ہو سکتی ، میں یہاں غسل کے طریقے کو کچھ اختصار سے بیان کرتا ہوں ، غُسل کے طریقہ کو جاننے سے پہلے کچھ اور باتیں بھی جاننے سیکھنے کی ضرورت ہے ، اختصار کے ساتھ وہ بھی لکھے دے رہا ہوں غسل کرنے کی ضرورت کِسی مسلمان کو اُس وقت پیش آتی ہے جب اُس کی ذات پر کوئی ایسا کام واقع ہو جائے جِس کی وجہ سے وہ طہارت یعنی پاکیزگی کے حُکم سے خارج ہو کربڑی نجاست یعنی بڑی پلیدگی (نا پاکی )کے حُکم میں داخل ہو جاتا ہے ، جِسے ''' حدث اکبر ''' کہا جاتا ہے ، وہ کام خود سے ہوا ہو یا اُس نے خود کیا ہے ، اور وہ کام ہیں ::: (١) مرد و عورت کا جنسی ملاپ ، مکمل یا نا مکمل ، تفصیل پھر ان شاء اللہ تعالیٰ (٢) منی خارج ہونا ، منی وہ سفید گاڑھا مادہ ہے جو شہوت (جنسی ملاپ کی خواہش ) کے نتیجے میں یا جماع (جنسی ملاپ ) کے نتیجے میں قوت کے ساتھ مرد کی شرم گاہ سے خارج ہوتا ہے (٣) عورت کا حیض (ماہواری) جاری ہونا (٤) عورت کا نفا س میں داخل ہونا ، ولادت کے عمل سے گذرنے کے بعد جب تک عورت کی شرمگاہ سے خون وغیرہ کے اخراج کی مُدت کو وقتِ نفاس کہا جاتا ہے ، جِس کی زیادہ سے زیادہ معیاد چالیس دِن مقرر کی گئی ہے ، دو مزید کام ایسے ہیں جِن کے واقع ہونے پر غُسل فرض ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہیں :::: (١) موت واقع ہونا (٢) کافر کا مسلمان ہونا تو کل سات کام ایسے ہوئے جو غُسل فرض ہو جانے کا سبب ہیں ، کچھ اور کام بھی ایسے ہیں جِن کے واقع ہونے سے مسلمان طہارت کی حالت سے خارج ہو جاتا ہے ، ایسے کاموں کو ''' حدث اصغر ''' کہا جاتا ہے ، یعنی چھوٹی ناپاکی میں داخل کرنے والے کام ، نماز ادا کرنے کے لیے اِس ناپاکی کو دور کر کے پاکیزگی اختیا رکرنا ہوتی ہے ، ، اور یہ پاکیزگی وضؤ کرنے سے حاصل ہوتی ہے ، ( ذِکر اور قران پڑہنے کے معاملے میں کچھ تفصیلی بیان کی ضرورت ہے کیونکہ اِن دو کاموں کے بارے میں اِختلاف کیا گیا ہے ، لہذا درست بات کا عِلم حاصل کرنے کے لیے تفصیل جاننا ضروری ہے ) حدثِ اصغر ، چھوٹی ناپاکی میں داخل کرنے والے کام مندرجہ ذیل ہیں ::: (١) پیشاب ، پاخانے والی جگہ سے کِسی بھی چیز کا خارج ہونا ، پیشاب ، پاخانہ ، ہوا ، منی ، ودی ، مذی ، ( منی کے خارج ہونے کی صورت میں غُسل فرض ہو جاتا ہے صِرف وضؤ سے طہارت اختیار نہیں کی جا سکتی ) (٢) گہری نیند (٣)عقل و حواس کا جاتے رہنا (٤) شہوت (جنسی ملاپ کی خواہش )کے ساتھ براہِ راست شرمگاہ کو چھونا یعنی ہاتھ اور شرمگاہ کے درمیان کوئی کپڑا وغیرہ نہ ہو ۔ اِس مختصر تعارف کے بعد اب آئیے غُسل کے اُس طریقہ کی طرف جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ سُنّت مبارک میں ملتا ہے ، (١) ہاتھ دھوئے جائیں ۔ (٢) دائیں (سیدھے )ہاتھ کے چُلو میں پانی لے کر بائیں (اُلٹے )ہاتھ میں لیا جائے اور اُس پانی سے شرمگاہ کو دھویا جائے۔ (٣) نماز کے وضؤ کی طرح مکمل وضؤ کیا جائے ،اگر غُسل کرنے والا چاہے تو پاؤں غُسل مکمل کرنے کے بعد دھو سکتا ہے ،، ( آپ کا سوال جس بات سے شروع ہوا تھا ، یعنی حلق میں پانی لا جانا اور غرارے وغیرہ کرنا اِس مسئلے کا تعلق وضؤ سے ہے ، اور جیسا میں نے پہلے جواب میں عرض کیا تھا کہ حلق میں پانی لے جانا یا غرارے کرنا سُنّت میں کہیں نہیں ، منہ میں پانی گھمانے اور خوب گھمانے کا ذِکر ہے ،وضو کا مکمل طریقہ اور اہم مسائل کا درس مکمل ہو چکا ہے اور کتابی صورت میں بھی تقریبا تیار کر چکا ہوں ، اِنشا اللہ چند دِنوں میں مناسب ڈھب (فارمیٹ ) میں تیار کر لوں گا ، تو ارسال کروں گا ،،،،،،،،،،،،،،،،، فی الحال واپس غُسل کی طرف آتے ہیں) ،،،،، (٤) دائیں (سیدھے )ہاتھ سے سر کی سیدھی جانب پانی ڈالا جائے اور ہاتھ کی انگلیوں کو اچھی طرح بالوں میں پھیرا جائے تا کہ پانی سر کی جِلد (کھال) تک پہنچ جائے اور کوئی حصہ خشک نہ رہے ۔ (٥) پھر سر کے بائیں (اُلٹی )جانب پانی ڈالا جائے اور ہاتھ کی انگلیوں بالوں میں پھیر کر پانی سر کی کھال تک پہنچایا جائے۔ (٦) اور دونوں طرف اپنی اپنی باری میں کانوں اور گردن کے پیچھے بھی ہاتھ پھیر کر پانی پہنچایا جایا ، سر کی دونوں طرفوں کو الگ الگ دھونے کی بجائے اکٹھا بھی دھویا جا سکتا ہے لیکن پانی ڈالنے کاآغاز دائیں طرف سے ہی کِیا جائے گا ، اور پانی کوسر و گردن کی کھال تک اچھی طرح پہنچایا جائے گا (٧) سر دھونے کے بعد اپنی دائیں طرف پانی ڈالا جائے اور پانی کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ پورے جسم پر ہاتھ پھیر کر ساری کھال اور ہر ایک بال کو تاکید کے ساتھ گیلا کیا جائے اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان بھی ہاتھ کی انگلیوں کو پھیر کر پانی پہنچایا جائے۔ (٨) پھر اپنی بائیں طرف یہ ہی عمل دہرایا جائے ، اگر آغاز کے وضؤ میں پاؤں نہیں دھوئے گئے تھے تو پاؤں دھو لیے جائیں ،،،، یہ تمام کام تین تین دفعہ کیے جائیں گے ،،،،، غُسلِ جنابت مکمل ہو گیا ، ایمان والوں کی والدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسری والدہ میمونہ رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غُسلِ جنابت کی یہ تفصیل بیان کی ہے جو دونوں صحیح یعنی صحیح البخاری ، صحیح مسلم اور سنن کی چاروں معروف کتابوں میں موجود ہے ، چلتے چلتے ایک فائدہ مند مٌلاحظہ::: اِن چھ کتابوں کے مجموعے کو غلطی سے ''' صحاح ستہ ''' یعنی ''' چھ صحیح کتابیں ''' کہا جاتا ہے ،،،،، جبکہ صحیح صرف پہلی دو ہیں ، دیگر چاروں میں کمزور روایات بھی پائی جاتی ہیں،،،،،،، غُسل مکمل کرنے کے بعد اگر اپنے جِسم کو دھونے یا صاف کرنے کا ارادہ ہو تو جیسے سہولت محسوس ہو کیا جا سکتا ہے ، کوئی ترتیب یا پابندی نہیں۔ آج کل عام طور پر فواروں (شاورز) کا استعمال ہوتا ہے اور کئی لوگ اس شش و پنج میں مبتلا ہوتے ہیں کہ شاور کے نیچے یہ ترتیب کیسے رکھی جائے ، تو جوابا عرض ہے کہ شاور کو پلکا کھول کرباری باری اپنے سر اور دائیں اور بائیں طرف کو شاور کے نیچے داخل کیا جائے اور غُسل کر لیا جائے ، اگر پھر بھی مشکل لگتا ہو تو پھر کسی بالٹی وغیرہ میں پانی لے کر غُسل کیا جایا ۔ کچھ عرصہ پہلے ایک بھائی کے سوال کے جواب میں ، یہ مراسلہ ارسال کیا تھا ، اَس ویب سائٹ کی نئی ترتیب کے بارے میں ، میں نے انتظامیہ کو چند تجاویز ارسال کی تھیں ، اور انتظار میں تھا کہ کچھ نئے عنوانین اور موجودہ عنوانین کی ترتیب میں تبدیلی کی جائے گی ، لہذااُس کے مطابق ایک نئے عنوان ’’’ طہارت ‘‘‘ کا منتظر تھا ، کہ وضو اور غسل اور طہارت سے متلعقہ دیگر مسائل اور معلومات وہاں ارسال کروں ، لیکن بھائی مسٹر رائٹ کا مضمون دیکھ کر یہاں ارسال کر رہا ہوں ، اگر مستقبل میں کبھی انظامیہ نے میری تجاویز کو قابل قبول جان کر تبدیلی کر لی تو ان شا اللہ یہ مضمون اور دیگر مضامین اپنے اپنے متعلقہ موضوع کے زیر عنوان داخل کیے جا سکتے ہیں، اُمید ہے، اللہ کی رحمت سے یہ مختصر لیکن صحیح معلومات ہر مُسلمان بھائی اور بہن کی راہنمائی کا سبب ، اور میری آخرت میں بھلائی کا سبب ہوں گی ، اِن شاء اللہ تعالیٰ ، السلام علیکم ورحمۃُ اللہ و برکاتہُ Last edited by عادل سہیل; 11-05-10 at 12:07 AM. |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (15-05-10), نورالدین (12-05-10), محمدعدنان (15-11-07), ابو عمار (10-05-10), احمد بلال (11-05-10), اخترحسین (09-05-10), ضِرار Derar (09-05-10), عبداللہ آدم (09-05-10), عبداللہ حیدر (12-05-10), عبدالله (09-10-08), عروج (12-01-11) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,641
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(٤) شہوت (جنسی ملاپ کی خواہش )کے ساتھ براہِ راست شرمگاہ کو چھونا یعنی ہاتھ اور شرمگاہ کے درمیان کوئی کپڑا وغیرہ نہ ہو ۔
یہ ایک اختلافی مسلہ ہے کیا اس بات کی وضاحت کی جائے گی کہ کن مسالک کا کیا نقطہ نظر ہے؟ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ محترم بھائی ، آپ کے سوال کا جواب حاضر ہے ، شرم گاہ کو چھونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے کہ نہیں ، اِس بارے میں اِختلاف کا سبب مختلف روایات ہیں ، ::: (١)::: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( مَن مَسَّ ذَکرِہُ فَلا یُصلِی حَتٰی یَتوَضاء ::: جِس نے اپنی شرمگاہ کو چھوا وہ وضوء کیے بغیر نماز نہ پڑہے ) سنن الترمذی /کتاب ابواب الطہارۃ /باب ١٦ اور اِمام الترمذی نے صحیح قرار دِیا ، سلسلہ الصحیحہ / حدیث ١٢٣٥، ::: (٢) ::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( مَن اَفضَی بِیَدہِ اِلیٰ ذَکرِہِ ٍلَیسَ دُونَہُ سِترٌ فَقَد وَجَبَ عَلِیہِ الوُضُوءُ ::: جِس نے اپنی شرمگاہ کو براہ راست (ننگے ہاتھ سے ) چھوا تو یقینا اُس پر وضوء کرنا واجب ہو گیا ) مُسند احمد / حدیث ٨٣٨٥ ، سلسلہ الصحیحہ / حدیث ١٢٣٥، ::: (٣) ::: طلق بن علی الیمانی رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کِسی نے پوچھا کہ اگر وہ نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو کیا اُسے وضوء کرنا پڑے گا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( وَھَل ہو اِلا مُضغَۃٌ مِنکَ اَو بَضعَۃٌ مِنکَ ) ( کیا وہ تمہارے وجود میں سے ایک پمپ نہیں یا تمہارا ایک حصہ نہیں ) سنن النسائی / حدیث ١٦٥ /کتاب الطہارۃ /باب ١١٩ ، اِمام الالبانی نے کہا حدیث صحیح ہے ، مندرجہ بالا تینوں احادیث صحیح ہیں ، اور تینوںمیں ایک ہی مسئلہ کے تین الگ حُکم نظر آتے ہیں ، (١) ''' بغیر کِسی شرط یا قید کے صِرف شرم گاہ چھونے سے ہی وضوء ٹوٹ جائے گا ''' (٢) ''' اگر شرم گاہ کو ننگے ہاتھ سے چھوا گیا تو پھر وضوء ٹوٹے گا ، اگر کپڑے وغیرہ کے ساتھ چھوا گیا تو پھر نہیں ''' (٣) شرم گاہ جِسم کا ایک حصہ ہے لہذا جِس طرح باقی جِسم کو کہیں چھونے سے وضوء نہیں ٹوٹتا اِسی طرح شرم گاہ کو چھونے سے بھی وضوء نہیں ٹوٹتا ''' احادیث میں اِس طرح کا جو اِختلاف نظر آتا ہے اُسے تین قِسموں پر بانٹا گیا ہے ، اور اُس اِختلاف کو ختم کرنے کے لیے تین حل مقرر کیے گئے ہیں ( اِس کی کچھ تفصیل میری کتاب ''' ہفتے کے دِن نفلی روزہ رکھنے کا حُکم'''میں ہے ) اگر کوئی دو مُخالف لیکن صحیح احادیث میں کِسی اور طرح اِتفاق پیدا نہ کیا جا سکے تو پھر احادیث کے اِختلاف کے مُطابق حل اِستعمال کر کے اِختلاف ختم کیا جاتا ہے ، علماء حدیث اور فقہاء کی کثرت نے پہلی بُسرہ بنت صفوان والی حدیث کو سب سے زیادہ اپنایا ، کیونکہ وہ سند و صحت و زمانے کے اعتبار سے دیگر دو احادیث سے زیادہ طاقتور ہے ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی اکثریت کا عمل بھی اِسی کے مطابق رہا ہے ، کچھ نے دوسری حدیث کو اپنایا اور پھر اُس میں لفظ''' افضَی ''' کو بنیاد بنا کر لُغت کی موشگافیاں کرتے ہوئے کہا ''اگر کوئی اپنے ننگے ہاتھ کی ہتھیلی یا اُنگلیوں کی پوروں سے ننگی شرم گاہ کو چھوئے گا تو اِس صورت میں وضوء ٹوٹے گا اور اگر ہاتھ کی اُٹی طرف سے چھوئے گا تو پھر نہیں ''' ، کچھ نے اُن کی اِس بات کو مردود قرار دِیا اور واقعتا یہ بات ہے بھی ایسی ہی ، کچھ نے تیسری حدیث کی بنیاد پرکِسی بھی حالت میں شرمگاہ کوچھونے سے وضوء نہ ٹوٹنے کا فتویٰ دیا ، کچھ نے تینوں روایات میں اتفاق کرتے ہوئے کہا ''' اگر شرم گاہ کو شہوت (جنسی ملاپ کی خواہش والی کیفیت ) سے چھوا گیا تو پھر وضوء ٹوٹ جائے گا ''' یہ آخری بات سب سے زیادہ بہتر ہے ، کیونکہ اِس میں تینوں روایات کا اتفاق ہوتا ہے ، کیونکہ بغیر کپڑے ، اور کپڑے کی آڑ میں سے شرم گاہ کو چھونا شہوت اور بغیر شہوت دونوں صورتوں میں ہو سکتا ہے ، اور ہوتا ہے ، لیکن تیسری روایت میں کیے گئے سوال کے مطابق ''' حالتِ نماز میں شرمگاہ کو چھونا ''' شہوت سے نہیں ہو سکتا ، مزید یہ کہ ، اِس آخری بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مُقرر کردہ ایک عام قانون پر عمل بھی ہوتا ہے کہ ( الدِّینُ یُسر::: دِین آسانی ہے ) صحیح البخاری /کتاب الاِیمان، اِس بات کو ہر شخص جانتا ہے کہ شرمگاہ کو چھونے کی ضرورت کِسی بھی وقت کہیں بھی پیش آ سکتی ہے ، ایک عمومی و فطری ضرورت خارش ہے ، اورصِرف پہلی حدیث کو لیا جائے تو ( دِین آسانی ہے ) کی خِلاف ورزی ہوتی ہے ، اور یہ چیز محال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مُختلف لیکن صحیح ثابت شدہ فرامین یا افعال میں اتفاق نہ ہو سکتا ہو، میں نے مذاہب و مسالک کے نام کے بغیر اُن کے عُلماء کی آراء کا ذِکر کیا ہے ، کیونکہ میں نے بات کو اصل یعنی حدیث سے بیان کیا ہے ، لہذا اِس چیز کی ضرورت نہیں رہتی کہ کِسی مسئلے کو قران یا حدیث یا دونوں کی روشنی میں جاننے کے بعد کِسی مذہب و مسلک کی بات پر غور کیا جائے ، لیکن اگر پھر بھی آپ نام بنام جاننا چاہیں تو اِن شاء اللہ آپ کو بتا دوں گا ، اِن شاء اللہ تعالیٰ ، یہ معلومات آپ کے سوال کے جواب کے طور پر کافی ہوں گی ، اگر کوئی مزید اشکال ہو تو ظاہر فرمائیے اِنشاء اللہ جواب ارسال کروں گا ۔ والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ Last edited by عادل سہیل; 11-05-10 at 12:16 AM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | محمدعدنان (17-11-07), اخترحسین (09-05-10), ضِرار Derar (09-05-10), عبداللہ آدم (09-05-10), عروج (12-01-11) |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,641
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جیسا کہ اپ نے کہا"مزید یہ کہ ، اِس آخری بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مُقرر کردہ ایک عام قانون پر عمل بھی ہوتا ہے کہ ( الدِّینُ یُسر) ( دِین آسانی ہے ) صحیح البخاری /کتاب الاِیمان،"
تو پھر آسانی کے طور پر ہم تیسری حدیث پر عمل کیوںنہیںکرتے؟ میرا مقصد صرف اور صرف دین کا سمجھنا ہی ہے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ بھائی منتظمین ، مجھے آپ کا سوال دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ، اِس خوشی کے تین سبب ہیں ، ایک تو یہ کہ آپ نے مضمون کو کافی توجہ اور سمجھ داری سے پڑھا ، اور دوسرا یہ کہ آپ نے بلا جھجک وہ پوچھ لیا جو آپ کے ذہن میں آیا ، اور تیسرا یہ کہ آپ نے جِص نیک نیتی کا اِظہار کیا ہے کہ "" میرا مقصد صرف اور صرف دِین کا سمجھنا ہی ہے "" اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین اجر عطا فرماءے اور اپنے دِین کی مکمل سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے ، اور تمام مُسلمانوں کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ تعصبات اور مذہبی قیود سے آزاد ہو کر اللہ کے دِین کو سمجھیں اور اُس پر عمل کریں ، دیکھیے بھائی ، ہر ایک معاملے و مسئلے کا حُکم جاننے کے لیے بہت سی چیزوں کو سامنے رکھنا ہوتا ہے ، ""دین آسانی ہے "" ، یہ قانون تین پہلو رکھتا ہے ، یا یہ کہیے کہ تین کیفیات پر حاوی ہے ، مختصر طور پر اُن کو بیان کرتا ہوں، ::: پہلا ، اور اساسی پہلو ::: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ((( یُریدُ اللہُ بِکُم الیُسرُ ولا یُریدُ بِکُم العُسر ::: اللہ تعالیٰ تُم لوگوں کے لیے آسانی چاہتا ہے اور اللہ تُم لوگوں کے لیے سختی نہیں چاہتا ))) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ((( الدِّینُ یُسر ::: دین آسانی ہے ))) کا معنیٰ یہ ہے کہ جو حُکم اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیئے گئے ہیں وہ سب آسان ہیں اُن میں سے کوئی بھی مشکل نہیں ، اگر کِسی حُکم پر عمل کرنا کِسی کو مشکل محسوس ہوتا ہے تو وہ اُس کے اِیمان کی کمزوری اور سوچ کے خلل کی دلیل ہے ، اگر کِسی کو کِسی حُکم پر عمل کرنے کے لیے کوئی جائز روکاٹ ہے تو اُس کے مطابق اُس شخص کے لیے عمل کی کیفیت بھی بدل جاتی ہے ، اور شریعت میں اُسے آسان طریقہِ عمل میسر ہے ، کیونکہ دین آسانی ہے ، ::: دوسرا پہلو ::: ایسے حُکم یا طریقے لوگوں میں بیان کرنا ، یا مروج کرنا جِن کی اصل تو شریعت میں ہو لیکن کیفیت لوگوں کے لیے مشکل ہو ، ناجائز عمل ہے ، جیسا کہ معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہُ کے نماز پڑہانے والے واقعے میں ملتا ہے ، ::: تیسرا پہلو ::: اگر کچھ یا کِسی دو کاموں میں اِختیار دِیا گیا ہو تو اُس میں سے آسان کو اِختیار کرنا ، جیسا کہ اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ (((ما خُيِّرَ رسول اللَّہ صَلی اللہ عَلِیہ وسلَم بين اَمرَيْنِ اِلا اَخَذَ اَيْسَرَھُمَا ما لم يَكُنْ اِثْمًا فَاِنْ كان اِثْمًا كان اَبْعَدَ الناس منہُ وما انْتَقَمَ رسولُ اللَّہِ صَلی اللہ عَلِیہ وسلَم لِنَفْسِہِ اِلا اَنْ تُنْتَھِكَ حُرْمَۃَ اللَّہ عز وجل ::: رسول اللہ صَلی اللہ عَلِیہ وسلَم کو جب بھی دو کاموں میں سے کوئی ایک اِختیار کرنے کا موقع دِیا جاتا تو اگر آسان کام گُناہ والا نہ ہوتا تو وہ صَلی اللہ عَلِیہ وسلَم آسان کام اِختیار فرماتے ، اور اگر آسان کام گناہ والا ہوتا تو وہ صَلی اللہ عَلِیہ وسلَم سب سے بڑھ کر گناہ سے دور رہتے تھے ، اور رسول اللہ صَلی اللہ عَلِیہ وسلَم نے کبھی بھی کِسی سے اپنی ذات کے لیے اِنتقام نہیں لیا لیکن اگر اللہ کے حُکم کے نافرمانی ہو تو ( پھر وہ اُس کا انتقام لیتے )))) متفق علیہ ہمارے زیرِ مطالعہ معاملے میں ہمارے لیے کوئی ایک بات اِختیار کرنے کی گنجائش نہیں دِی گئی ، جیسا کہ نمازِ وِتر اداد کرنے میں دِی گئی ہے ( اِس کا تفصیلی ذِکر اِن شاء اللہ نماز کے طریقے میں کروں گا ، اور کچھ ذِکر "بیس رکعات تراویح پر چراغوں کی چمک " کے دوسرے حصے کے جواب میں ہو گا ) اور جیسا کہ مرد کا مفلی نماز گھر میں یا مسجد میں پڑھنا ، عورت کا اپنی نماز گھر میں یا مسجد میں پڑھنا ، گھر میں باجماعت یا اکیلے پڑھنا وغیرہ ، جبکہ ہمارے اِس زیر مطالعہ مسئلے میں تین مختلف حُکم سامنے آتے ہیں ، اور ہمیں اُن پر عمل کرنا ہی کرنا ہے ، کِسی ایک کو چھوڑا نہیں جا سکتا ، اگر اِس معاملے میں کہیں کوئی ایسی صحیح حدیث ملتی کہ "" چاہے تو وضوء کر لے "" تو پھر ہم آسانی والا حُکم اِختیار کر لیتے، اگر معاملہ صرف پہلی اور تیسری حدیث کا ہوتا تو پھر "" علم الاصول الفقہ "" کے قانون جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور حُکم کے مُطابق بنایا گیا ، اُس قانون کے مُطابق پہلی حدیث کو لیا جاتا اور تیسری کو چھوڑ دِیا جاتا ( اِن قوانین و قواعد کے بارے میں کچھ تفصیل میری زیرِ تیاری کتاب "" ہفتے کے دِن نفلی روزہ رکھنے کا حُکم"" میں ہے ) ، لیکن دوسری حدیث کی موجودگی ایسا کرنے سے روکتی ہے ، لہذا لازم ہوتا ہے کہ تینوں احادیث کے احکام کو جمع کر کے ایسا راستہ اپنایا جائے جو کِسی حُکم کی مُخالفت نہ کرتا ہو ، تیسری حدیث میں سوال کرنے والے نے دورانِ نماز شرمگاہ چھونے کے بارے میں سوال کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء نہ ٹوٹنے کا حُکم دِیا ، اور دوسری حدیث میں کپڑے یا آڑ کے ذریعے چھونے پر یہی حُکم ملتا ہے ، اور بغیر کپڑے کے چھونے پر پہلی حدیث والا حُکم بن جاتا ہے ، اب دیکھیے ، دوسری حدیث میں وضوء ٹوٹنے کی شرط اور نماز چھونے سے وضوء نہ ٹوٹنا ، یہ دونوں کیفیات اِس طرف اِشارہ کرتی ہیں کہ """ شہوت کی حالت میں شرمگاہ چھونے سے وضوء ٹوٹنے کا حُکم لاگو ہو گا """ کیونکہ بغیر کپڑے کے چھونا عموماً حالتِ شہوت میں ہوتا ہے ، اور دورانِ نماز چھونا شہوت سے نہیں ہو سکتا ، اللہ تعالیٰ اُن پر اپنی بے پناہ رحمتیں فرمائے جِنہوں نے دِین کے احکام کو اِس قدر باریک بینی سے سمجھا اور سمجھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت اور صحابہ کے فہم سے بالکل نہیں ہٹے ، کِسی منطق و فلسفہ و آلان فُلان کی بے بُنیاد بات پر توجہ نہیں کی ۔ اللہ تعالیٰ ہر کلمہ گو یہ منہج (راستہ) عطا فرمائے ۔ اُمید ہے اِن شاء اللہ تعالیٰ ، یہ مختصر شرح آپ کے سوال کے جواب میں کافی ہو گی ، مزید کوئی سوال یا اشکال ذہن میں آئے تو ضرور سامنے لائیے ۔ السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ۔ Last edited by عادل سہیل; 11-05-10 at 12:21 AM. وجہ: some alphabatic corrections |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
ہاں جی اس کو بڑا کردیں ضرار بھائی سے پڑھا نہیں جاتا
Last edited by shafresha; 09-05-10 at 10:36 PM. وجہ: نام کی تصیح! |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
اختر حسین صاحب آپ میرے ساتھ میری ذات پر مذاق کرو چلے گا پر جناب اس نام کو نہیں بگاڑو کیا آپ جانتے ہو یہ کس کا نام ہے نہین جانتے ہو گے ورنہ ایسی حرکت نہ کرتے اسلام کے ایک عظیم کمانڈو ہیرو کا نام نہ بگاڑتے کہاں ہو آپ راجہ اکرام صاحب یہاں احترام کی بات یاد آنی چاہیے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,159
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ضرار بھائی
احترم ہر جگہ اور ہر کسی کے لئے یکساں ہے ، اور آپ کی ہر شکایت کا ازالہ کرنا ہماری پہلی ترجیح ہے۔ سب سے پہلے تو انتہائی معذرت کہ میں نے یہ ابھی آپ کی توجہ دلانے پر دیکھا ہے دوسری بات یہ ہے کہ یہ سیکشن میرے دائرہ اختیار میں نہیں ، میں اس میں کسی قسم کی ایڈٹنگ نہیں کر سکتا۔ ورنہ آپ کی اس توجہ پر فوری عمل کر دیا جاتا۔ اور آپ سے ایک گزارش ہے کہ فورم پر روزانہ درجنوں نئے مضامین شروع ہوتے ہیں سینکڑوں مراسلات بھیجے جاتے ہیں ، اور یہ ممکن نہیں کہ انتظامیہ ہر چیز کو دیکھ سکے، بہت سی چیزیں نظر میں نہیں آتیں۔ جہاں کہیں آپ کو ایسی کوئی شکایت ہو آپ فورا اس کی رپورٹ کیجئے انشاء اللہ انتظامیہ کی رائے اور فورم کے قانون کی روشنی میں فوری کاروائی کی جائے گی اور آپ انشاء اللہ کوئی شکایت نہیں ہو گی۔ میں اس کی رپورٹ کر رہا ہوں ، انشاء اللہ جلد اس میں ترمیم کر دی جائے گی و السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | shafresha (09-05-10), نورالدین (12-05-10), محمدعدنان (10-05-10), مزمل فاروق (09-05-10), ضِرار Derar (10-05-10), عادل سہیل (10-05-10), عبداللہ آدم (09-05-10), عروج (12-01-11) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بھائی اخترحسین السلام علیکم،
مجھے یقین ہے کہ آپ نے غلطی سے ضرار کو "دراڑ" لکھا ہوگا! نام بگاڑنے سے دین اسلام میںمنع کیا گیا ہے، آپ سے درخواست ہے کہ احتیاط سے کام لیجیئے! |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (12-05-10), راجہ اکرام (10-05-10), ضِرار Derar (10-05-10), عادل سہیل (10-05-10), عبداللہ آدم (09-05-10) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، ضِرار بھائی ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی محبت سے مالا مال کرے اور ان کی عزت کا حق ادا کرنے کی ہمت دے ، ضَرار بن ازور رضی اللہ عنہ واقعتا ایک عظیم سپر کمانڈو تھے ایک عظیم ہیرو تھے ، اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہر مسلمان کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے ، امید ہے پاک نیٹ کے ذمہ دار بھائیوں کے پیغامات اور ان کی درست کاروائی نے آپ کے غصے اور دُکھ کا مداوا کر دیا ہو گا ، ان شاء اللہ ، ان شاء اللہ پاک نیٹ پر آپ کو جانبداری نہ ملے گی بلکہ قوانین کی پاسداری ملے گی ، اور علمی دلائل کی موجودگی میں مخالف موضوعات پر گفتگو کرنے کا بھرپور موقع بھی ، لیکن کسی کی تذلیل یا اہانت کی گنجائش نہ دکھائی دے گی ، کیونکہ ہم سب پاک نیٹ کو ایک گھرانے کی طرح بنائے رکھنا چاہتے ہیں ، اور اگر گھرانے میں شخصیات پر تنقید یا طنز کا سلسلہ چل نکلے تو گھرانے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (10-05-10), ھارون اعظم (15-05-10), نورالدین (12-05-10), محمدعدنان (10-05-10), احمد بلال (11-05-10), ضِرار Derar (10-05-10), عروج (12-01-11) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
راجہ اکرام صاحب شافریشہ صاحب عادل سہیل صاحب آپ سب کا بہت شکریہ اور اختر حسین صاحب کا بھی اگر آپ میرا نام نہ بگاڑتے تو اتنی پیاری باتیں میرے حصے میں کیسے آتی |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فرض, کتابوں, پاکستانی, ویب, قران, لوگ, نیند, نماز, نظر, مکمل, موت, موجودہ, مسائل, آج, اکبر, ایمان, اللہ, انتظامیہ, انسان, حدیث, عورت, عقل, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| آتا تو وہ کیسے آتا، منہ وہ کیسے دکھاتا | The Great | مزاحیہ شاعری | 2 | 20-09-09 10:40 PM |
| ایسے حل کرئیں تو ۔۔۔۔۔۔ | wajee | Ask Experts ماہرین کی رائے | 6 | 10-03-09 09:49 AM |
| کبھی تو ایسے مل جائیں بام و در سارے | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 0 | 01-07-08 05:29 PM |
| اب یہ مسافت کیسےطے ہو اے دل تو ہی بتا | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 0 | 01-07-08 05:01 PM |
| بارش ایسے میں جو آجائے تو مزہ آجائے | پیاسا | شعر و شاعری | 0 | 01-07-08 12:08 PM |