| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
||||
|
||||
|
مناظر: 3461
|
||||
|
|
#136 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بابا جی چھا گئے عادل بھی ساھج کی طرح ہے اس کو معلوم نہین ہوگا کتا امریکی شریعت میں پاک ہوتا ہے بابا جی میرے کو پتہ چل ہوا تھا کہ آپ غصے میں بے قابو ہوتے ہو پر اتنا زیادہ ہو جاتے ہو گے یہ میرے کو اب پتہ چلا بابا جی میرے پر ایسا غصہ نہ کرنا |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#137 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,724
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
2 اکثر رجم کی احادیث جب سامنے آتی ہیں تو زنا کرنے والا اس مین اپنے گناہ کا اقرار کر لیتا ہے ۔ میں نے ایسی کوئی حدیث نہیں پڑھی جس کے مطابق کسی شخص کو رجم کرنا تھا لیکن اس نے اپنے جرم کا انکار کر دیا اور وہ رجم سے بچ گیا۔ کوئی تفصیل مل سکتی ہے؟
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
Last edited by مرزا عامر; 03-10-11 at 07:33 PM. |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (03-10-11), عبداللہ آدم (03-10-11) |
|
|
#138 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jul 2011
مراسلات: 195
کمائي: 3,205
شکریہ: 479
160 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ام احمد کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (03-10-11), سام (03-10-11) |
|
|
#139 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
مرزا بھائی! پہلے قرآن میں ایات رجم موجود تھیں جو باقاعدہ تلاوت کی جاتی تھیں. پھر اللہ نے ان کی تلاوت منسوخ فرما یں لیکن حکم باقی رہنے دیا.
مجھے اتنا ہی علم ہے، باقی دلائل اور بات عادل چچا فرما دیں گے. والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#140 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,972
شکریہ: 2,333
913 مراسلہ میں 2,332 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وماینطق عن الھوٰی
نبی یارسول کی حیثیت ڈاکیےکی نہیں ہوتی کہ آئے اورکتاب پڑھ کرسنادی اور بس |
|
|
|
| سام کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (03-10-11) |
|
|
#141 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,724
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس بات کا کہیں سے کوئی سر پیر نظر آتا ہے آپکو |
|
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (03-10-11) |
|
|
#142 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
مسلمان کو دھوکہ دینے کے لئے ایسا کہا جاتا ہے کہ قرآن میں ایسی آیت مووجود تھی ۔ جب کہ درست بات یہ ہے کہ "کتاب اللہ (توریت) میں ایسی آیت موجود تھی اور اس کی تلاوت بھی کی جاتی تھی"۔ قرآن حکیم میں کوئی اضافہ یا کمی نہیںکی گئی۔ ایسا کوئی بھی ثبوت نہیںملتا ہے کہ قرآن تحریف شدہ کتاب ہے ۔ بلکہ ایسے ثبوت موجود ہیں کہ اس کی ہر آیت پر کم از کم دو عدد صحابہ کی گواہی شامل ہے۔ رجم کی آیت جو توریت میںپائی جاتی ہے وہ عمر رسیدہ مرد اور عمر رسیدہ عورت کو سنگساری کی سزا دیتی ہے ۔ توریت کی یہ آیت بھی "شادی شدہ" یا "غیر شادی شدہ " افراد کی تمیز یا تخصیص نہیں کرتی ہے ۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#143 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
قران کریم میں سے آیات ، یا احکام کی منسوخی کے بارے میں درج ذیل مضامین کا مطالعہ فرمایے ، بھإئی مرزا عامر صاحب ، آپ وہاں سے ہو گذرے ہیں ، یاد دہانی کے لیے پھر مطالعہ فرما لیجیے ، اور مزید کسی بھی قسم کے سوال کے لیے مناسب ہو گا کہ موضوع سے متعلق تھریڈز میں ہی بات کی جإئے ، تا کہ ایک ہی جگہ میں ایک موضوع سے متعلقہ معلومات جمع ہو سکیں ، ان شاء اللہ ، ان تھریڈز میں آپ کے کٕچھ سوالات کے جوابات موجود ہیں ، بھائی مرزا عامر صاحب کے علاوہ اور بھی جسے قران کریم میں ناسخ و منسوخ کے بارے میں ، یا رجم کی آیت کی منسوخی کے حوالہ جات کے بارے میں کوٕئی شک ہو یا وہ حوالہ جات دیکھ چکنے کے بعد بھول چکا ہوں ، یا بھلانے کی کوشش میں ہو ، یا قارٕئین کرام کو حق سے دور کرنے کی سعی میںہو ، وہ بھی درج ذیل تھریڈز کا مطالعہ کرے ، اور انہی تھریڈز میں ، اسلامی اخلاق و آداب اور مقبول شرعی علوم کے مطابق تحقیق کے لیے بھی خوش آمدید ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | مسلم بھائی (04-10-11), عبداللہ آدم (03-10-11) |
|
|
#144 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,724
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے ان دونوں تھریڈ کا مطالعہ کیا ہے اس مین کہیں سے بھی اس بات کا مکمل ثبوت نہیں مل سکا کہ قران میں سنگساری کا حکم موجود ہے ۔
اگر آپ اس طرح کی حدیث کی بات کر رہے ہیں کہ جس کے مطابق اللہ تعالٰی نے رجم کی آیات اتاری تھیں لیکن وہ آیات کوئی بکری کھا گئی ، تو پھر معذرت اور بار بار معذرت دنیا میں ایسا کوئی مائی کا لعل نہیں جو قران میں ترمیم کر سکے تو بکری کی کیا مجال جو اللہ کو چکما دے ڈالے۔ اوپر دیئے گئے مراسلہ نمبر 137 میں جو کچھ میں نے دریافت کرنے کی کوشش کی تھی اس پر تبصرہ کرنے کی بجائے لوگ ادھر ادھر نکل گئے ۔ اگر کوئی صاحب میری بات کا جواب دینا چاہیں تو براہ مہربانی پہلے مراسلہ 137 کو غور سے پڑھ لیں |
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (04-10-11) |
|
|
#145 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مرزا بھائی ، الحمد للہ ، ہمارے ہاں ایسی کوئی بد عقیدگی نہیں پائی جاتی کہ قران کریم کے کسی حصے کو کوئی بکری کھا گئی ہو ، یا کچھ حصے کسی کو خاص طور پر یا خفیہ انداز میں الگ سے دیے گئے ہوں ، غالبا یہ بات میں پہلے بھی کہیں بھائی رانا عمار صاحب کو کہہ چکا ہوں ، جہاں وہ ہم اہل سنت و الجماعت کے اور اہل تشیع کے عقائد کو گڈ مڈ کرتے ہوئے اعتراضات کر رہے تھے ، آپ بھی شاید اسی قسم کی معلومات کی روشنی میں یہ بات کہہ گئے ہیں ، بھائی ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس کتاب قران کریم کی تکمیل کے بعد اس کے کسی ایک حرف میں بھی کوئی کمی یا بیشی نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے ، جی ، یہ ضرور ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے کہ لوگ اپنی مرضی یا اپنی ہواء نفس یا کچھ دیگر اندرونی یا بیرونی دباؤ یا مادی فوائد یا مجبوریوں کے تحت اللہ کی کتاب کے معانی اور مفاہیم میں تحریف کرتے ہیں ، جس کی بہت سی مثالیں اس پاک نیٹ پر بھی موجود ہیں ، اور اللہ نے اپنے بندوں میں سے جس کے بارے میں چاہا اسے ذریعہ بنا کر ایسی تحریفات کی حقیقت بھی واضح کروا رکھی ہے ، مرزا بھإئی ، مجھے امید تو تھی کہ آپ میری بات مان کر موضوع سے متعلق تھریڈ میں بات کرتے لیکن ،،،،،،، چلیے آپ کی خواہش کے احترام میں یہاں بھی مختصراً جواب پیش کرتا ہوں اور ان شاءاللہ اس جواب کو اس تھریڈ میں بھی لگا دیاجإئے گا ، مرزا بھإئی ، آپ کا مراسلہ رقم 137 درج ذیل ہے ::: اقتباس:
دیگر حصے کے جواب میں گذارش یہ ہے کہ اب انسانوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں میں سے صرف قران مجید ہی ایک ایسی کتاب ہے جس کے نازل ہونے کی تکمیل کے بعد سے اس کا ایک ایک حرف کسی تحریف ، کسی کمی یا زیادتی سے محفوظ و مامون باقی و برقرار ہے ، جی یہ اس مذکورہ بالا حدیث میں اسی قران کریم کا ذکر ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ ارشاد فرمانا کہ """ میں کتاب اللہ میں سے ہی تم لوگوں کا فیصلہ کروں گا """ اس بات کی دلیل ہے کہ رجم کی سزا اسی کتاب اللہ میں سے ہے ، نہ کہ اس بات کی کہ معاذ اللہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کسی اور کتاب کی بات فرما رہے ہیں مرزا بھإئی ، رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان مبارک اور فعل مبارک اس بات کے دلإئل میں سے ایک واضح دلیل ہے کہ قران کریم میں رجم کا حکم موجود تھا ، جس کے الفاظ یعنی اس کی قرات اور صُورت اللہ تبارک و تعالیٰ نے منسوخ فرما دی ، اور حکم برقرار رکھا ، اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں رجم کی سزا نافذ کروانے صحیح ثابت شدہ کے واقعات میسر نہ ہوتے ، اور نہ ہی ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے خلفاء اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس کا ثبوت ملتا ۔ ایک دفعہ پھر گذارش کروں گا کہ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ایک دفعہ پھر ان دو تھریڈز کا آرام آرام سے مطالعہ فرمایے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے دوسرے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ ::: معاملے کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی بجإئے شریعت اسلامیہ کے علوم کے مطابق تفہیمی نظر سے دیکھیے تو اس حدیث شریف اور اسی موضوع سے متعلق دیگر صحیح ثابت شدہ احادیث مبارکہ میں ، اور قران کریم میںاللہ کے احکامات کی روشنی میں صاف سمجھ آتا ہے کہ زنا کی حد قإئم کرنے کے لیے اس کام کے ہو چکے ہونے کا ثابت ہونا لازم ہے ، اور اس ثبوت کے لیے یا تو چار مردانہ گواہیاں ہوں ، یا گناہ کرنے والا یا کرنے والی خود اپنے گناہ کا اعتراف کریں ، اور ان کا بھی ایک ہی دفعہ کا اعتراف نا کافی ہوتا ہے ، (((اس کی دلیل بھی میں موجود ہے ))) لہذا میرے مرزا بھائی ، یہ معاملہ یا مسئلہ واضح ہے کہ جب تک کسی کے بارے میں کسی جرم کا مجرم ہونے کا ثبوت نہ ملے تو اس پر محض کسی کے الزام لگانے سے اسے مجرم نہیں مانا جا سکتا ، لہذا اسے سزا بھی نہیں دی جا سکتی ، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے انس ابن مالک الاسلمی رضی اللہ عنہ ُ کو انہی کے قبلیے کی اس ملزمہ عورت سے اعتراف جرم حاصل کرنے کے بعد رجم کی سزا نافذ کرنے کا حکم دیا ، اور اس کے اعتراف کے بعد ہی انس رضی اللہ عنہ ُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حکم کو نافذ کیا ، کیونکہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ ُ کے بارے میں یہ تصور بھی محال ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے کسی حکم کو جاننے کے بعد اس کی نافرمانی کرے ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہم لوگوں کی طرح تو نہیں تھے ناں مرزا بھائی ، ان کی عقل و خرد اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمان تھی تو مرزا بھائی ، شریعت مطھرہ کے اس قانون کہ """"" کسی ملزم پر عائد کیے گئے الزام شدہ جرم کے ثبوت کے لیے شرعی طور پر مطلوب گواہیاں نہ ہونے کی صورت میں ، یا اس ملزم کے اعترافء جرم نہ کرنے کی صورت میں اس کو سزا نہیں دی جا سکتی """"" کی درستگی کے لیے کسی ایسے واقعے کا وجود لازم نہیں جس میں کسی ملزم کے اقرار جرم نہ کرنے کی بنا پر اسے معاف کیا گیا ہو ، امید ہے ان شاء اللہ یہ چند باتیں آپ کے سوالات کے جوابات میں کافی ہوں گی ، مزید کچھ اشکال ہو تو خوش آمدید ، میں نے اپنے وقت کی کمی کی وجہ سے بات کو کافی مختصر رکھا ہے ، ان شاء اللہ بیس ذی القعدہ کے بعد کچھ وقت دے سکوں گا ، اور ان شاء اللہ ان موضوعات کے علاوہ ::::::: عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا حق ہے ::::::: کا آغاز بھی کروں گا ، مرزا بھائی ، ایک دفعہ پھر گذارش ہے کہ جس موضوع کے بارے میں کوئی سوال یا اشکال ہو تو اس سے متعلق تھریڈ میں ہی ، یا چلیے اس سے متعلق تھریڈ میں بھی اسے ظاہر کیا کیجیے ، مقصد وہی ہے جو سابقہ مراسلے میں لکھا تھا کہ کسی ایک موضوع سے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات اسی تھریڈ میں جمع ہو سکیں جو خاص طور پر اس موضوع کے مطالعے کے لیے ہی کھولا گیا ہو ، و السلام علیکم۔ |
|||
|
|
|
|
|
#146 |
|
Senior Member
![]() |
اس روایت میں کتاب اللہ سے مراد "تورات" ہے ۔ اس کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ رسول اکرم نے مسلمانوں کا فیصلہ قرآن سے اور یہودیوںکا فیصلہ توریت سے کیا ۔ اس کے احکامات بھی قرآن حکیم میںموجود ہیں۔ سورۃالنور کے نازل ہونے کے بعد کسی مسلمان کی سنگساری کا حکم صحابہ کرام کے علم میںنہیںہے ۔
والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (07-10-11) |
|
|
#147 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,176
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس بات میں اللہ کی کیا حکمت ہوسکتی ہے کے وہ کسی قرات کو سورت کو منسوخ کردے اور حکم کو برقرار رکھے ؟؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (07-10-11) |
|
|
#148 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,724
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر حکم باقی ہے اور آیات منسوخ ہو گئیں ہیں تو یہ کتاب لا ریب نہیں ہے ۔ یہ کس قدر فضول قسم کی دلیل ہے کہ حکم باقی ہے لیکن آیات کا فی الحال کوئی وجود باقی نہیں ۔ اس کا مطلب یہ کہ ہمارے پاس مکمل قران نہیں ہے ۔ اگر مکمل قران ہے تو واقعات رجم صرف اور صرف لھو الحدیث ہیں۔ وہ غائب شدہ آیات کہاں ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ |
|
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (07-10-11) |
|
|
#149 | |||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
الحمد للہ ، ثم الحمد للہ ، ثم الحمد للہ ، کہ اللہ تبار ک و تعالیٰ نے ایک دفعہ پھر یہ واضح کروا دیا کہ کچھ لوگ صرف اپنی مرضی کے مطابق احادیث پر اعتراض کرنا ہی جانتے ہیں ، اور جن احادیث پر اعتراضات کرتے ہیں ، ان کے متون تک بھی ٹھیک سے نہیں پڑھتے ، ان مقتبوسہ بالا عبارات میں سوإئے اغلاط کے اور کچھ نہیں ، جس حدیث شریف کے بارے میں یہاں بات ہو رہی ہے اس میں جن لوگوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اللہ کی کتاب کے مطابق اپنے مسٕئلے کا فیصلہ طلب کیا تھا ، انہوں نے کچھ یوں خطاب کیا تھا """" یا رسول اللہ ::: اے اللہ کے رسول """' اور یہودی اسی بات کو تو مانتے نہ تھے ، اب اللہ ہی جانے کہ صحیح حدیث شریف کا انکار کرنے کے شوق میں ان صاحب کو یہ کیسے پتہ چلا کہ یہ لوگ یہودی تھے ؟ وہ کون سے واضح ثبوت ہیں جن کے ذریعے انہیں پتہ چل گیا ہے کہ اس حدیث شریف میں فیصلہ طلب کرنے والے یہودی تھے ،،،،،، ذرا ہمیں بھی تو دکھائیں !!!!!!!! اس کے علاوہ یہ بات بھی مصدق ہے کہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو کبھی بھی اپنا حاکم نہ مانتے تھے ، صرف ظاہری طور پر کسی دنیاوی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے تھے ، ((((( وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرَاةُ فِيهَا حُكْمُ اللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُولَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ ::: یہ لوگ کس طرح آپ کو قاضی بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات ہے (جس میں مذکور احکام تو مانتے نہیں تو بھلا آپ کے احکام کیسے مانیں گے) اور اس کے بعد وہ رو گردانی کرتے ہیں ، اور یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں)))))) سورت المائدہ /آیت ۴۳، قارئین کرام ذرا ان کے اپنے ہی مسلک کے خلاف ان کا اپنا ہی یہ بیان دیکھیے ::: اقتباس:
سبحان اللہ ، جو ان کے دعووں کو خود ان ہی کے ہاتھوں باطل کرواتا ہے ، ((((( مُذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَلِكَ لَا إِلَى هَؤُلَاءِ وَلَا إِلَى هَؤُلَاءِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا ::: اس کے درمیان یہ لوگ تذبذب کی حالت میں ہیں ، نہ اُن کی طرف نہ ان کی طرف ، اور جسے اللہ ہی گمراہ کردے تو آپ اس کے لیے کوئی راستہ نہیں پا سکتے ))))) سورت النساء/آیت ۱۴۳، اگر ایسی بات کسی اور نے کی ہوتی تو پتہ نہیں یہاں کیا کچھ کہا جا چکا ہوتا اور شاید سب سے زیادہ واویلا کرنے والے یہی صاحبان ہوتے ، میں صرف اتنا ہی کہوں کہ گا کہ سب خلافء قران دعویٰ کیوں کر لیے ؟؟؟ صرف ایک ایسی حدیث کو جو ان کے فلسفوں کے خلاف دلیل ہے غلط قرار دینے کے لیے !!! اللہ تعالیٰ نے تو اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو یہ احکام دیے کہ ::: ((((( سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (42) وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرَاةُ فِيهَا حُكْمُ اللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُولَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ (43) إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ (44) وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (45) ))))) ((((( وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (47) وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ( 48 ) وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ ))))) سورت المائدہ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ یہ بھی ملاحظہ کیجیے کہ جس حدیث شریف کے بارے میں یہاں بات ہو رہی ہے ، اس میں جس صحابی رضی اللہ عنہ کو رجم کی سزا نافذ کرنے کے لیے حکم دیا گیا ، ان کا نام """ انیس """ مذکور ہے ، جبکہ میں نے اپنے سابقہ مراسلے رقم ۱۴۵ میں اس کے قریبی ترین نام والے صحابی رضی اللہ عنہ ُ کا نام ذکر کیا ، جی میں نے لکھا """ انس ""' اور معترضین میں سے کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں کی ، الحمد للہ ، میں نے یہ مشابہت والا نام اسی لیے لکھا تھا کہ سب قارئین کے لیے ان شاء اللہ واضح ہو جائے کہ ان صاحبان نے صرف اعتراض کرنا ہوتے ہیں ، مطالعہ کر کے کسی کی بات کو سمجھنا نہیں ہوتا ، ((((( ذَلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَى ::: ان کا مبلغ علم فقط اتنا ہی ہے اور (اے محمد ) آپ کا رب سب سے زیادہ علم رکھتا ہے کہ کون اس رب کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون ہدایت والا ہے )))))) سورت النجم /آیت ۳۰ ، و السلام علی من اتبع الھدیٰ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اقتباس:
بھائی مرزا عامر صاحب ، احادیث کے بارے میں شکوک کا اظہار کرنے والے صاحبان میں سے آپ کا رویہ معتدل رہا ہے ، لیکن آپ کے اس مراسلے کو دیکھ کر مجھے دکھ ہوا ہے ، بھائی ، سوال کرنے والے کو اللہ نے جتنا علم دیا اس کے مطابق اس نے سوال کیا ، سوال کرنے والا تو ایک آدھ جملے میں سوال کر دیتا ہے ، جواب دینے والے کو اللہ نے جتنا علم دیا ، اس کے مطابق وہ جواب دیتا ہے ، اور مجھ جیسے کم فہم لوگوں کے لیے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ جواب سے متعلق ہر ایک ضروری نکتے کو جواب میں شامل کر لیا جائے ، لہذا جواب عموما سوال کی نسبت کافی لمبا ہوتا ہے ، توجہ برقرار رکھنے کے لیے قارئین کو اپنی اپنی صلاحیات بروئے کار لانا چاہیں ، یوں بھی جب کسی کو کسی بات کی تحقیق کرنا ہوتی ہے تو وہ مختصر جوابات کا خواہاں نہیں ہوتا کہ تحقیق کا مزاج ہی ایسا ہے کہ بسا اوقات ایک ایک لفظ کی تحقیق میں دنوں کے دن صرف ہو جاتے ہیں ، یہ تو اپنی اپنی طلب اور لگن پر منحصر ہے کہ کون کیا چاہتا ہے ، مرزا بھائی ، آپ اس قسم کے اسلوب کو مت اپنایے کہ صحیح ثابت شدہ احادیث مبارکہ ،اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال و افعال کو صرف آپ کی سمجھ میں نہ آ پانے کی وجہ سے ، یا آپ کی اختیار کردہ سوچ و فکر سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے """ لھو الحدیث """ کہنے لگیں ، بلکہ یہ سوچیے کہ جو بات ، سوچ و فکر ، فلسفہ و بیاں وغیرہ وغیرہ صحیح ثابت شدہ احادیث اور آثار کے خلاف ہے وہ """ لھو الحدیث """ ہے ، و السلام علیکم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس:
فیصل بھائی ، آپ کے سوال سے ملتا جلتا ایک سوال ضرار بھائی نے بھی کیا تھا ، اس کا جواب قران میں ناسخ اور منسوخ والے تھریڈ میں ہے ::: اقتباس:
مزید برآں یہ فیصل بھائی کہ ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے کسی قول یا فعل کی حکمت سمجھ آئے یا نہ آئے ، جب وہ قول یا فعل اللہ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے صحیح ثابت شدہ ہے تو ہمیں اس پر ایمان لانا ہے ، حکمت جان نہ سکنا ایمان کی کمزوری کا سبب نہیں بننا چاہیے ، اللہ کے فرامین اور افعال مبارکہ پر ایمان لانے کا سبب ان اقوال و افعال کے اسباب اور حکمت کو جاننا نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ ان اقوال و افعال کی نسبت کی درستگی ثابت ہونے کی صورت میں """ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ """ کے مصداق یونا چاہیے ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطاء فرمائے ، و السلام علیکم۔ |
|||||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | کنعان (09-10-11), عبداللہ آدم (09-10-11) |
|
|
#150 |
|
Senior Member
![]() |
اتنی ساری باتیں اور کام کی بات ایک بھی نہیں؟؟؟؟
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہونے, کردیا, پتھر, یہودی, قائم, قرآن, قرآن حکیم, نیوز, موت, محمد, مطابق, افراد, الزام, از, اسے, بذریعہ, ثابت, جنگ, حکم, شہر, شادی, شخص, عدالت, عدالتی, صومالیہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| رسمِ نکاح اور شریعت کی مخالفت | Hina4malik | کتاب گھر | 1 | 30-12-10 04:26 PM |
| شریعت اور طریقت۔۔۔ معارض یا معاون | راجہ اکرام | اسلامی نظریہ حیات | 45 | 21-12-10 12:42 PM |
| رسم نکاح اور شریعت کی مخالفت | ابن آدم | شادی / منگنی کی تقریبات اور انتظامات | 13 | 01-12-10 05:14 PM |
| ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا کوئی اصول نہیں | فیصل ناصر | عمومی بحث | 36 | 08-10-09 03:03 AM |
| احکام شریعت ۔۔۔۔۔ | مجاہد حسین | اسلامی عقیدہ | 1 | 11-03-08 06:10 PM |