واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


نئے صوبے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

اس موضوع کے 18 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 219 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-06-09, 02:38 PM  
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 1,469
کمائي: 17,305
ميرا موڈ:
شکریہ: 861
663 مراسلہ میں 1,335 بارشکریہ ادا کیا گیا
فرحان دانش کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں فرحان دانش کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Exclamation نئے صوبے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

حکومت کی جانب سے آئین میں وسیع پیمانے پر ترامیم کے لیے دونوں ایوانوں میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ستائیس رکنی کمیٹی کے قیام کے ساتھ ہی جنوبی پنجاب پر مشتمل نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

سرائیکی علاقے پر مشتمل نئے صوبے کی حمایت جہاں مسلم لیگ (ق) کے بعض پارلیمینٹیرینز کرتے ہیں وہاں حزب مخالف کی مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما جاوید ہاشمی اور ان کی جماعت کے جنوبی پنجاب سے منتخب بعض اراکین کے علاوہ حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی اراکین بھی حامی دکھائی دیتے ہیں۔

لسانی بنیاد پر ’سرائیکی صوبہ‘ بنانے کا مطالبہ تو تقریباًگزشتہ پچیس برسوں سے کیا جاتا رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بعض منتخب اراکین اسمبلی نے اب انتظامی بنیاد پر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا مطالبہ ایوانوں کے اندر سے شروع کر دیا ہے۔

گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں راجن پور سے پیپلز پارٹی کے منتخب رکن اسمبلی سردار اطہر خان گورچانی نے جب جنوبی پنجاب میں غربت، بدحالی، اور بھوک کا ذکر کرتے ہوئے جنوبی پنجاب پر مشتمل نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تو ایوان میں موجود مختلف جماعتوں کے اراکین نے بھی ان کی حمایت کی۔ اٹک سے مسلم لیگ (ق) کے رکن پنجاب اسمبلی ملک شیر علی نے مطالبہ کیا کہ شمالی پنجاب کو بھی ایک صوبہ بنایا جائے کیونکہ وہاں کے عوام کو بھی حقوق نہیں ملتے۔

اطہر گورچانی کی اس بات پر مسلم لیگ (ن) کے وارث کلو سے تلخ کلامی بھی ہوئی اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بھی ملکی حالات کے پیش نظر متنازع معاملات کو نہ چھیڑنے کا کہتے ہوئے معاملے کو دبا دیا۔ لیکن اطہر گورچانی کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ صوبائی اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھائیں گے۔

بدھ کو لاہور سے فون پر بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال میں سولہ اضلاع پر مشتمل جنوبی پنجاب کے لیے پانچ ارب روپے کا پیکیج دیا گیا ہے جب کہ لاہور میں رنگ روڈ پر صرف چھبیس ارب روپے لگے ہیں۔ ’جنوبی پنجاب کوئی تحصیل نہیں ہے سولہ اضلاع ہیں اس کے لیے پانچ ارب روپوں سے کیا بنے گا۔ یہ رقم تو ایک تحصیل کے بجٹ کے برابر ہے؟‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم لسانی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی بنیاد پر پنجاب کی تقسیم چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ’اگر بھارتی پنجاب جو آبادی اور آراضی کے لحاظ سے پاکستانی پنجاب سے چھوٹا ہے، انتظامی بنیاد پر تقسیم ہوسکتا ہے تو ہمارا پنجاب کیوں نہیں ہوسکتا۔ ہمارا آدمی صادق آباد سے دس گھنٹے کی مسافت کے بعد بمشکل لاہور پہنچتا ہے اور اگر کسی کو تفتیش تبدیل کروانی ہو تو چار سے چھ روز لاہور میں گزارنے پڑتے ہیں اور پورے مہینے میں جتنی ان کی آمدن نہیں ہے وہ انہیں ایک ہفتے میں خرچ کرنا پڑتا ہے۔‘

ایک سرائیکی قوم پرست رہنما تاج محمد لنگاہ کہتے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑا ’بریک تھرو‘ ہے کہ جو بات سرائیکی علاقے کے ان جیسے سیاستدان، شاعر، دانشور، ادیب، غریب اور متوسط طبقے کے لوگ کرتے تھے آج اس کی گونج منتخب ایوانوں میں بھی سنائی دے رہی ہے۔

’یہ عوام کے دباؤ کا نتیجہ ہے کہ آج سرائیکی علاقے سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ہوں، شاہ محمود قریشی یا پھر مسلم لیگ (ن) کے رانا محمود الحسن، تہمینہ دولتانہ یا مسلم لیگ (ق) یا کوئی اور جماعت ان کے لوگوں نے سرائیکیوں کو حقوق دلوانے کے نام پر ووٹ لیے ہیں اور آج اگر ان میں سے کسی نے سرائیکی صوبے کی مخالفت کی تو انہیں آئندہ ووٹ ہی نہیں ملیں گے۔‘

تاج محمد لنگاہ نے بتایا کہ آئینی ترامیم کے لیے بنائی گئی ستائیس رکنی پارلیمانی کمیٹی کو وہ خط بھیج رہے ہیں کہ سرائیکی صوبے کی شق اس میں شامل کریں۔ تاج لنگاہ نے کہا کہ ان سمیت کئی جماعتوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا اس لیے یہ ضروری ہے کہ پارلیمانی کمیٹی عوامی سماعت کر کے عوام کی رائے جانے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

’اسفند یار ولی ہوں یا مولانا فضل الرحمٰن یا الطاف حسین انہوں نے سرائیکی صوبے کی حمایت کی ہے اور اب بھی وہ حامی ہیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ سرائیکی صوبے کی شق آئینی ترامیم کے پیکیج میں شامل کریں۔ کوئی جماعت اس کی مخالفت کی جرات نہیں کرے گی۔‘

جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حوالے مسلم لیگ (ق) سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات محمد علی درانی کہتے ہیں کہ پنجاب کو انتظامی بنیاد پر پانچ صوبوں میں تقسیم ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بہاولپور، ملتان، شمالی پنجاب کو صوبہ بننا چاہیے۔’ قائد اعظم نے بہاولپور کو صوبہ بنانے کا عہد کیا تھا جس کی یحیٰی خان نے عہد شکنی کی۔ انیس سو چون میں جب ون یونٹ بنا تو بہاولپور بھی اس میں شامل ہوگیا لیکن جب ون یونٹ ختم ہوا تو یحیٰی خان نے بہاولپور ریاست کو علیحدہ صوبہ بنانے کے بجائے پنجاب میں ضم کردیا۔‘

سینیٹر درانی نے بتایا کہ بہاولپور کو انتظامی حکم کے ذریعے پنجاب کا حصہ بنایا گیا اس لیے اگر وزیراعظم چاہیں تو وہ ایک انتظامی حکم کے ذریعے بہاولپور کی صوبائی حیثیت بحال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک آئینی ترمیم کا بل پیش کرنے والے ہیں جس کے تحت کسی صوبے کو انتظامی بنیاد پر تقسیم کرنے کا اختیار متعلقہ صوبے کی اسمبلی کو سادہ اکثریت کی بنیاد پر دیا جائے گا، جیسا کہ بھارت اور دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔ تاکہ انتظامی بنیاد پر صوبہ بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت نہ پڑے۔‘

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما جاوید ہاشمی نے دو روز قبل اسلام آباد پریس کلب میں ’میٹ دی پریس‘ میں پنجاب کو تقسیم کرکے مزید صوبے بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جب کہ اس طرح کا مطالبہ پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار سردار قیوم جتوئی، رکن قومی اسمبلی جمشیدی دشتی اور بعض دیگر اراکین کے علاوہ مسلم لیگ (ق) سردار بہادر خان سِیہڑ اور ریاض پیرزادہ، مسلم لیگ (ف) کے رکن قومی اسمبلی جہانگیر خان ترین اور رکن پنجاب اسمبلی مخدوم احمد محمود بھی کرتے رہے ہیں۔

بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جس طرح بلوچستان میں آئے دن وفاق کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے اور چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے اُسے روکنے کے لیے پنجاب کو کم از کم دو حصوں میں تقسیم کرکے صوبوں کو زیادہ خودمختاری دینے کی ضرورت بعض ملکی سیاسی قوتوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی محافظ پاک فوج کو بھی محسوس ہو رہی ہے۔

ماخذ: بی بی سی اردو
__________________
فرحان دانش کا بلاگ وال چاکنگ http://www.farhandanish.tk
فرحان دانش آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 4 صارفین نے فرحان دانش کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
Arabian (29-06-09), shafresha (28-06-09), ابو عمار (29-06-09), راشد احمد (28-06-09)
پرانا 30-06-09, 11:44 AM   #16
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 349
کمائي: 5,587
ميرا موڈ:
شکریہ: 287
256 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خدا کے بندو نئے صوبے بناکر کونسا تیر مار لوگے
پہلے صوبائی خودمختاری لے لو اگر صوبائی خود مختاری مل گئی تو اسٹیبلشمنٹ خود ہی سیدھی ہوجائے گی
صوبائی خود مختاری کے جو لوگ شوشے چھوڑ رہے ہیں وہ مشرف دور میں حکومت میں رہے ہیں جہانگیر خان ترین اور محمد علی درانی
ان دونوں کو اس وقت خیال نہیں آیا جب یہ حکومت میں تھے۔ اب انہیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا تو یہ لوگ اس قسم کے شوشے چھوڑ کر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔
جہانگیر خان ترین جو ایک جاگیردار اور سرمایہ دار ہے پہلے مسلم لیگ ن میں تھا پھر مسلم لیگ ق اور پھر مسلم لیگ پیرپگاڑا میں گیا
محمد علی درانی پہلے شباب ملی کا کارکن تھا پھر تحریک انصاف میں گیا وہاں سے نکالا گیا تو پھر شباب ملی میں گیا اور آج کل مسلم لیگ ق میں ہے۔ اس نے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کی کوشش بھی کی لیکن اس کے عہدیداروں نے لفٹ نہیں کرائی

محمد علی درانی کا بچپن اور جوانی پشاور، اسلام آباد اور لاہور میں گزری ہے۔ بہاولپور کی تو تحصیلوں کا اسے پتہ تک نہیں۔
نئے صوبے بنانے کی بجائے اگر صوبائی خودمختاری مل جائے اور ترقیاتی کام ڈویژن کے لحاظ سے منصفانہ کئے جائیں تو کوئی بعید نہیں کہ یہ نئے صوبے بنانے سے زیادہ بہتر ثابت ہو۔
نئے صوبے بنانے سے جہاں بے پناہ اخراجات بڑھیں گے وہیں دوسرے صوبوں میں مزید نئے صوبوں کا شوشہ بھی کھڑا ہوجائے گا جیسے
بلوچستان میں مکران، سبی سرحد میں ہزارہ، مالاکنڈ، بلتستان، گلگت، فاٹا، سندھ میں کراچی، لاڑکانہ وغیرہ
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔
راشد احمد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 30-06-09, 10:03 PM   #17
ذیلی ناظم
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 4,797
کمائي: 43,273
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,789
2,817 مراسلہ میں 5,970 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ سب کی رائے پڑھ کر بہت کچھ معلوم ہو گیا ہے مجھے خیر جب پاکستان اور بھارت دو الگ ملک کے طور پر سامنے آئے تو اسکے ساتھ صوبے تھے اور پاکستان کے پانچ آج پاکستان کے چار ہیں اور انڈیا کے ۲۵ سے بھی زائد ہو رہیں ہیں اور جب کہ ایران کا رقبہ بھی پاکستان سے کم ہے اسکے بھی ۳۰ صوبے ہیں صوبے بننا چاہیں اس سے پاکستان کو ہی فائدہ ہے ۔
__________________
ابھی تو قید میں ہیں جذبوں کی آندھیاں دل میں لیکن
ہمارا جو صبر ٹوٹا تو قیامت ہو گی
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 30-06-09, 11:33 PM   #18
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,456
کمائي: 37,109
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,076
3,815 مراسلہ میں 9,504 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
انتظامی حالات کے تحت علاقوں کی تقسیم حکمت عملی کے تحت ہوا کرتی ہے اور اس سے ملک کے نظم و نسک کو منظم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن ذاتی خواہشات، لسانی بنیاد یا اس طرح کے کسی دوسرے ارادے سے کی گئی تقسیم اگرچہ ابتدا میں تو بڑی دلفریب لگتی ہے لیکن اس کے نتائج بڑے بھیانک ہوتے ہیں۔
خاص طور پر لسانیت کی عصبیت تمام عصبیتوں میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں بل بوتے پر کی جانے والی تقسیم بھیانک نتائج پر منتج ہو سکتی ہے۔
سکھر تک اگر اردو صوبہ بنے گا تو پھر اہل سند کے پاس کیا رہ جائے گا۔جو وہاں کے مقامی باشندے ہیں۔ سکھر کے بعد تو شکار پور، لاڑکانہ، گھوٹکی، پنو عاقل کے علاوہ کوئی اہم جگہ نہیں ہے، اور ان علاقوں پر کوئی صوبہ کیا جئے گا۔
کراچی سے لے کر سکھر تک اگر نگاہ دوڑائی جائے تو اس بیچ سندھی اکثریت کے کئ اضلاع ہیں، جن میں نوابشاہ، کنڈیارو، مورو، سانگھڑ، بدین اور مٹیاری قابل ذکر ہیں۔ اگر اردو سوبہ سکھر تک بن بھی گیا تو سندھی اور مہاجر کا جھگڑا تو پھر بھی چلتا رہے گا۔ کراچی میں پٹھان بھی ایک بڑی اکثریت میں ہیں جن کی گزشتہ کئی نسلیں یہیں پر پلی بڑھی ہیں۔ ان کے لئے بھی جگہ بنانی پڑےگی۔
قصہ مختصر یہ تقسیم انتہائی مہلک ہو سکتی ہے۔

موجودہ حالات میں نئے صوبے کی آواز اٹھانے کے پیچھے جو عناصر شامل ہیں‌ ان کا ادراک ضروری ہے۔
محمد علی درانی خود وفاقی وزیر رہے۔ ان کی پارٹی نے غیر مشروط اختیارات کے مزے لوٹے ، تب یہ صوبہ ضروری کیوں نہیں تھا۔
اصل مسئلہ پنجاب حکومت کو کمزور کرنا ہے، جس کے لئے قاف لیگ سرگرم ہے، صدر صاحب اگرچہ نواز شریف کو بھائی کہتے ہیں‌ لیکن پنجاب میں پی پی پی کی حکومت قائم کرنا ان کا دیرینہ خواب ہے جو موجودہ حالات میں پورا ہوتا ہوا نظر نہیں‌آرہا۔ اس لئے درپردہ اس کی حمایت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایک اہم بات یہ بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایک طرف سوات اور وزیر ستان میں حالات انتہائی نازک ہیں، بلوچستان میں بھی امن کی مثالی صورتحال نہیں ہے ان حالات میں پنجاب کو غیر مستحکم کرنا اور پنجابی اور سرائیکی کو لڑانے کی کوشش ملک کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

خدارا ہوش کیجئے اور دشمن کو خوش مت کیجئے۔
سب سے اہم کام ملک کی حفاظت ہے، اگر ملک مستحکم ہو جائے تو پھر یہ مسائل آپس میں بیٹھ کر طے کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر ’خاکم بدہن‘ ملک کو کچھ ہو جاتا ہے تو یہ سارے صوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔

اس لئے ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر سوچئے۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہ تحریر سرورق کے لیے پیش کریں
منتظمین آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مندرجہ ذیل 2 صارفین نے منتظمین کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے
فیصل ناصر (30-06-09), راجہ اکرام (01-07-09)
پرانا 01-07-09, 11:43 AM   #19
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 349
کمائي: 5,587
ميرا موڈ:
شکریہ: 287
256 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : waqas ali مراسلہ دیکھیں
آپ سب کی رائے پڑھ کر بہت کچھ معلوم ہو گیا ہے مجھے خیر جب پاکستان اور بھارت دو الگ ملک کے طور پر سامنے آئے تو اسکے ساتھ صوبے تھے اور پاکستان کے پانچ آج پاکستان کے چار ہیں اور انڈیا کے ۲۵ سے بھی زائد ہو رہیں ہیں اور جب کہ ایران کا رقبہ بھی پاکستان سے کم ہے اسکے بھی ۳۰ صوبے ہیں صوبے بننا چاہیں اس سے پاکستان کو ہی فائدہ ہے ۔
ایک نیا صوبہ بنانے کے لئے 150 ارب روپیہ چاہئے۔ یہ روپیہ نیا صوبائی دارالحکومت، ہائی کورٹ، انتظامی ادارے، صوبائی اسمبلی، گورنر ہاؤس، وزیراعلٰی ہاؤس اور دیگر ادارے بنانے کے لئے استعمال ہوگا۔ اس کے علاوہ مزید ایشو کھڑے ہوجائیں گے۔ ملتان، بہاولپور، خانیوال کے شہری اوردیہی علاقوں میں پنجابیوں کی اکثریت بھی ہے۔ جو لوگ سرائیکی بولتے ہیں وہ بھی پنجابی زبان میں رچ بس گئے ہیں۔

نئے صوبے بنانے کے لئے حکمرانوں اور علاقے کے لوگوں کی نیت درست ہونی چاہئے۔ جاگیرداری نظام کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ لوگوں کو لسانی تعصب سے پاک ہونا پڑے گا
راشد احمد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Bookmarks

Tags
pakistan, پاک, پاکستان, پاکستانی, وزیر, وزیراعظم, لوگ, لوٹے, نفرت, نواز شریف, نظر, مسائل, آبادی, آج, اردو, بھائی, تحریر, حل, خوش, شاندار, علی, صوبہ, صوبے, صورتحال, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پنجاب کابینہ کا اجلاس، صوبے میں مقامی حکومتوں کا ریکارڈ سیل عبدالقدوس خبریں 0 24-04-08 01:59 PM
مظفرآباد:نئےالیکشن، زور پکڑتا مطالبہ عدنان خبریں 0 19-04-08 12:25 AM
بھارت میں راہول گاندھی کو وزیراعظم بنانے کی تحریک زور پکڑ گئی، خلیجی اخبار عبدالقدوس خبریں 1 16-04-08 10:23 AM
یوسف کا معاملہ طول پکڑ گیا عدنان کرکٹ 0 21-12-07 05:56 PM
سیاسی اکھاڑے میں‌ایک نئے بحران کی زور آزمائی عبدالقدوس اپکے کالم 0 19-09-07 06:36 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:24 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger