| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
||||
|
||||
|
مناظر: 291
|
||||
|
|
#16 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,606
کمائي: 172,592
شکریہ: 8,810
5,787 مراسلہ میں 21,396 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آسیہ اگر اتنی ہی غریب اور مسکین عورت تھی تو اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط الفاظ ادا کرتے ہوئے ہوئے کوئی ڈر و خوف کیوں نہیں تھا ۔ اسی لیے کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ مسلمانوں میں اب وہ ایمانی غیرت و حمیت موجود ہی نہیں کہ اس سے کوئی باز پرس کرے گا۔
اگر اس کو ذرا بھی احساس ہوتا کہ مسلمانوں میں ابھی ٹوٹی پھوٹی ہی سہی غیرت موجود ہے تو وہ ایسے الفاظ منہ سے نکلالنے سے پہلے ہزار بار سوچتی ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() |
ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ اس دیہاتی عورت نے ایسا نہیں سوچا ۔ ۔
مگر آپ اسلام کی روح پر غور کریں ۔ اس کے تمام احکامات کو ایک کلیے کی صورت میں دیکھیں تو آپ پتہ چلے گا ۔ کہ اسلام میں غلط بات منہ سے نکالنے پر کبھی اتنی بڑی سزا کا تصور نہیں ہے کہ زندگی ہی ختم کر دی جائے ۔ خاص کر اس صورت میں جب کہ معاملہ متنازعہ ہو ۔ یا ملزم معافی مانگنے کو بھی تیار ہو ۔ اسلام میں جزا و سزا کا فارمولہ تو سیدھا سادا سا ہے ۔ آنکھ کے بدلے آنکھ ۔ ۔ ۔ جان کے بدلے جان ۔ ۔ ۔ بلکہ بعض جگہوں پر تو جان کے بدلے فدیہ کا نظام دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی اللہ نے کہ اسلام جان بچانے آیا ہے ۔ جان لینے نہيں ۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ Last edited by نورالدین; 08-02-12 at 01:18 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#18 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,606
کمائي: 172,592
شکریہ: 8,810
5,787 مراسلہ میں 21,396 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر آج آسیہ کو کسی بھی وجہ سے معاف کردیا جاتا ہے تو کل کوئی بھی کھڑا ہوگا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے اور بعد میں معافی مانگ لے گا پہر کیا اس کو بھی معاف کردیا جائے گا
نور بھائی یہ اتنی آسان بات نہیں جو آپ لوگ کہہ رہے ہیں جب ریاست کی توہین و غداری کرنے یا حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کی سزا موت ہے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی سزا موت کیوں نہیں ہوسکتی ہے |
|
|
|
|
|
#19 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کیسے ممکن ہے کہ کوئی اور بھی کھڑا ہو گستاخی کے لیے ۔ کیا ہمارا تعلیمی نظام اتنا کمزور ہے کہ کسی کو علمی جواب نہی دے سکتے ۔ یا سرزنش کرنا نہيں آتا ہمیں ۔ یا آقا کی شان اتنی معمولی ہے کہ کسی کے گستاخی کرنے سے اس پر فرق آجائے گا ۔ کیا کسی نے عام انسان کی توہین کے لیے اتنے پیچیدہ نظام بنانے کا سوچا ۔ آج تک کسی جج کو کسی نے گالی دی ۔ کیوں نہیں دی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جج کو گالی دینے کو کسی نے اہمیت نہیں دی ۔ ہم مسلمان کچھ زيادہ ہی حساس بن کر دکھا رہے ہیں دنیا کو ۔ جتنا ہم حساس اور شدت پسند بنننے کی کوشش کریں گے ۔ یہ حساسیت اور شدت پسندی ہماری کمزری بن جائے گی ۔ اور دنیا کو ہماری ایک کمزری ہاتھ آجائے گی ۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے نورالدین کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 08-02-12 | حیدر | اور دنیا کو ہماری ایک کمزری ہاتھ آجائے گی ۔ | 50 |
|
|
#20 | ||
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,606
کمائي: 172,592
شکریہ: 8,810
5,787 مراسلہ میں 21,396 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
ہم کو اپنے قانون کی امپلیمنٹیشن یا معافی دنیا کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے ایمان اور قانون کو دیکھ کر کرنا ہے ۔ |
||
|
|
|
|
|
#21 | |||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کی حیات مبارکہ میں ان کے سامنے ان کو اور ان کے صحابہ کو تکالیف دی جاتی تھیں تب ان کو کیا فرق پڑا تھا ۔ ۔ اقتباس:
اقتباس:
شایدایسے اسلام کے پیغام کو دنیا کے سامنے کبھی پیش کرنے کا نہیں سوچا ہو گا ۔ اگر سوچا ہو گا تو صرف یہ کہ مجھے اس سے کیا مجھے تو صرف اپنا اسلام دیکھنا ہے ۔ جہاں ایک طرف رواداری اور عفو ددرگزر کی بات تو دوسری طرف توہین کے نام پر خود ساختہ قوانین موت کا نفاذ ہے جہاں ایک طرف عورتوں کے برابر حقوق کی بات ہو اور دوسری طرف انہيں گدھوں کے مثل اور منحوس کہا جائے ۔ جہاں ایک اللہ اور رسول اور قرآن کے نام پر متحد ہونے کو بھی کہا جائے اور دوسری طرف روایات پرستی اور فرقہ واریت کو امت کے لیے رحمت قرار دیا جائے ۔ ایک طرف نبی کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا جائے اور دوسری طرف انہی کا نام لے کر ناجائز خون بہایا جائے ۔ ہم مسلمان تضادات سے بھر پور ہوتے جا رہے ہیں ۔ ۔ --------------------------- |
|||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#22 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,139
شکریہ: 52,552
11,191 مراسلہ میں 35,291 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے ذہن میں ایک حدیث آ رہی ہے :
"""ایک بدو آتا ہے اور مسجد نبوی میں پیشاب کر دیتا ہے۔ صحابہ مارنے کو دوڑتے ہیں۔ لیکن نبی کرئیم صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما دیتے ہیں اورمحض مسجد دھلوادیتے ہیں۔"""" کیا اس معاملے پر بھی یہی لاجک پیش کی جا سکتی ہے کہ اقتباس:
ایک طرف تو اتنا عفو و درگزر اور دوسری طرف اس قدر شدت |
|
|
|
|
|
|
#23 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
جاہلیت جدیدہ کے علم برداروں نے آزادی اظہار کے نام پر انبیائے کرام علیہم السلام کو بالعموم او رحضور حتمی المرتبت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص و اہانت کو اپنا منتہائے نگاہ ٹھہرا لیا ہے،جس کے مظاہر حالیہ چند برسوں میں مختلف یورپی ممالک میں دیکھنے کو ملے۔ان حالات میں یہ لازم تھا کہ جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیس و تعظیم کے تصور کو اجاگر کیا جاتا اور توہین رسالت کی شناعت و قباحت اور اس کی سزا وعقوبت کو کتاب وسنت کی روشنی میں واضح کیا جاتا۔اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کرامت کہیے یا عنداللہ ان کی مقبولیت کہ ناموس رسالت کے دفاع و تحفظ پر جو کچھ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کے قلم سے نکلا ہے سات صدیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اس قدر جاندار،زندہ اور مدلل ہے کہ اس مسئلہ میں آج بھی سند اور اولین مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔زیر نظر کتاب حضرت شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے خاص اسی مسئلہ پر تحریر کی ہے اور اپنے خاص انداز تحریر میں اس قضیہ کے ہر پہلو پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔اس کتاب کے حسن قبول کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو شیخ الاسلام کے سخت ناقد اور مخالف ہیں وہ بھی اس کا اردو ترجمہ کر کے شائع کر رہے ہیں،جیسا کہ اس سے قبل اس ترجمے کو اسی ویب سائٹ پر پیش کیا جا چکا ہے۔اب معروف سلفی عالم اور مصنف و مترجم جناب پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔جو اگرچہ کافی عرصہ سے موجود ہے تاہم اس کی نئی طباعت حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے عقیدہ ناموس رسالت میں پختگی آنے کی اور جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و الفت کے رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ
ڈاؤن لوڈ لنک: الصارم المسلول علی شاتم الرسول -اپ ڈیٹ - تمام کتب - کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی جانے والی اردو اسلامی کتب کا سب سے بڑا مفت مرکز |
|
|
|
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() |
سرسری طور پر پڑھا ہے ۔ کوشش کروں کا مزید پڑھ کے دیکھوں صرف آپ کی تسلی کے لیے ۔ ورنہ میں جانتا ہوں کہ سب دلائل کا ہیر پھیر ہے ۔ ۔ ۔ میں ان راویات کو جھٹلاتا تو نہيں مگر ان پر ایمان بھی نہیں رکھ سکتا دیگر معاملات جیسے کہ کسی واقعے کا حوالہ دینے میں تو یہ روایات کام آ سکتے ہیں ۔ مگر کسی کی زندگی کا فیصلہ ان راویوں کے ہاتھ میں ہو سکتا ہے ؟۔ جن کی ایک روایت دوسری روایت سے ٹکراتی ہو ۔ ذرا اپنی عقل کا استعمال کریں اور سوچیں جو راوی آپس کے اختلافات کا فیصلہ نہ کر سکے وہ ہماری زندگی اور موت کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں ۔ یا یہ راوی اس دنیا میں واپس آ سکتے ہیں یہ بتانے کے لیے کہ کون سی روایت صحیح ہے کون سی غلط ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اللہ نے جو عقل ہمیں دی ہے اس کا استعمال کر کے سچ اور جھوٹ کو پرکھیں ۔ اور دینی معاملات میں قرآن کو ترجیح دیں اورقرآں و سنت کی رہنمائی سے انسانیت پیدا کریں اپنے اندر ۔ اللہ ہم سب کو اسلام کو سمجھنے اور اس کو نافذ کرنے کی توفیق دے ۔ |
|
|
|
|
|
#25 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
عجیب رویہ ہے ہمارے لوگوںکا کہ غازی علم دین اور عامر چیمہ کو شہید ماننے کے لئے تیار ہیں
کارٹونز بنانے والے کو واجب القتل مانتے ہیں لیکن آسیہ یا گورنر کے بارے میں اُن کے رائے مکمل طور پر الگ ہے کیوں؟ صرف اسلئے کہ یہ دونوں پارٹیز پیسے والی ہیں؟ ایک کے پیچھے اربوں روپیہ ہے اور دوسری کے پیچھے گورنمنٹ؟
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
|
|
#26 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عافیہ کے لیئے کوئی کیوں نہیں بولتا پورا پاکستان بولتا ہے اور جماعت اسلامی تو بول بول کر تھک گئی شاید تنگ آگئی کیونکہ اب عمران خان کے خلاف بولنے کا عزم کیا ہے اس لیئے عافیہ کو بھلا دیا گیا۔
کیا ہم یہاں عافیہ کا بدلہ اس عیسائی عورت سے لینا چاہ رہے ہیں ؟؟
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (08-02-12) |
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE=عبداللہ حیدر;495681]جاہلیت جدیدہ کے علم برداروں نے آزادی اظہار کے نام پر انبیائے کرام علیہم السلام کو بالعموم او رحضور حتمی المرتبت حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص و اہانت کو اپنا منتہائے نگاہ ٹھہرا لیا ہے،
[/url[/QUOTE معاف کرنا بھائی عبداللہ حیدر انبیا کو برا بھلا کہنے کی جہالت نئی نہیں ہے۔ یہ اس وقت سے قائم ہے جب سے انبیاء اس دنیا میں تشریف لائے ۔ |
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (08-02-12) |
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| شاہ است حسین بادشاہ است حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ | ملک اظہر | متفرقات | 8 | 25-11-11 07:00 PM |
| شاہ است حسین رض: | سیفی خان | ویڈیوز | 1 | 23-11-11 07:59 PM |