|
آئین کی بحالی کیساتھ ہی بر طر ف جج اپنے عہدوں پر واپس آجائیں گے،جسٹس بھگوان داس

06-12-07, 09:04 AM
آئین کی بحالی کیساتھ ہی بر طر ف جج اپنے عہدوں پر واپس آجائیں گے،جسٹس بھگوان داس
کراچی( جنگ نیوز) عبوری آئینی حکم کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی برطرفی کے نوٹیفکیشنز کو مسترد کرتے ہوئے جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا ہے کہ تمام برطرف جج آئین کی بحالی کے ساتھ ہی اپنے عہدوں پر واپس آجائیں گے ۔جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ یہ ججز اپنے ( سرکاری ) گھروں میں رہیں گے اس لئے کہ وہ آئینی اور قانونی جج ہیں اور ان کو کوئی بھی یہاں سے ہٹا نہیں سکتا۔واضح رہے کہ رانا بھگوان داس بھی پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں میں شامل ہیں، جنہیں حکومت برطرف کر چکی ہے ۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نئے پی سی او کے تحت سپریم کورٹ کے جج بننے والوں کو ججز کالونی میں وہ گھر الاٹ کئے گئے ہیں جس میں وہ جج صاحبان رہائش پزیر ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا۔اس سوال کے جواب میں کہ حکومت برطرف کئے جانے والے ججوں کو مراعات نہیں دے گی، رانا بھگوان داس نے کہا کہ یہ بھی ایک بھونڈی حرکت ہے ڈرانے دھمکانے کی ، دنیا میں کوئی قانون نہیں ہے جس کے تحت یہ معاوضے ، پنشن اور الاؤنس اور تنخواہ روک سکیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان سے فون پر رابطہ ہوتا ہے روبرو نہیں، وہ قید تنہائی میں ہیں، ان پر سخت پہرہ ہے ، ان کے باہر آنے پر بھی پابندی ہے اور ان سے ملنے پر بھی پابندی ہے ۔ باقی ججوں سے آپس میں میل ملاپ ہوتا رہتا ہے ۔ سیاست دان جو پہلے ان ججوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے اور اب آہستہ آہستہ اس سے ہٹتے جارہے ہیں اس بارے میں برطرف کئے جانے والے سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ وہ اس پر کچھ بھی نہیں کہیں گے سوائے اس کے کہ اللہ ہر ایک کو اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق دے اور صحیح راہ دکھائے۔وکلاء کی طرف سے آئین اور ججوں کی بحالی کیلئے تحریک کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وکلاء میں بالکل دم ہے اور بہت اتحاد ہے ، بہت جوش اور لگن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کی بحالی کے بعد یہ جج بحال ہو جائیں گے ، اس لئے کہ اب تک جو غیر آئینی کام ہوا تھا اس کی کوئی قانونی اور آئینی وقعت نہیں رہے گی، سارے جج اور چیف جسٹس بحال ہو جائیں گے ۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|