| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 700
|
||||
| 17 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | rabab (21-01-11), sahj (21-01-11), sana goher (26-01-11), کنعان (21-01-11), ھارون اعظم (21-01-11), یاسر عمران مرزا (23-01-11), محمد عاصم (21-01-11), محمدمبشرعلی (21-01-11), محمدعدنان (21-01-11), مرزا عامر (21-01-11), ام حازم (23-01-11), احمد بلال (21-01-11), تانیہ رحمان ستارہ (24-01-11), عبدالقدوس (21-01-11), عبداللہ آدم (21-01-11), عدنان دانی (23-01-11), عروج (22-01-11) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,502
کمائي: 118,635
شکریہ: 13,510
4,907 مراسلہ میں 16,697 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
کچھ دن پہلے اہلیہ نے یہ خبر بتائی تھی کہ پاکستان میں جہاز کے پہیوں پر بیٹھ کر کوئی بندہ بیروں ملک آنے کی کوشش میں جہاز سے کسی کی چھت پر گر کر مر گیا ھے، میں نے اسے بہت تلاش کیا مگر حاصل نہ کر سکا اور اہلیہ کو کہا کہ ابھی تک تمہاری خبر کی تصدیق نہیں ہوئی، پہلے میں نے سوچا تھا کہ یہاں نشر کروں پھر رہ گیا کہ کہیں مذاق نہ بن جائے اگر ثبوت نہ ملا تو۔ خیر ابھی میں نے یہ خبر پائی اور پوسٹ کرنے کے لئے سیکشن کا انتخاب کر رہا تھا تو فیصل بھائی نے یہ خبر لگا دی ہوئی تھی شکریہ، تو سوچا یہیں کمنٹس پیش کر دیتا ہوں۔ پہیوں پر تو ناممکن لگتا ھے کیونکہ ٹریفک والے سب دیکھ کر ہی کلیئر کرتے ہیں اور ٹاور سے بھی کیمروں سے دیکھا جا رہا ہوتا ھے۔ خیر ایسا ضرور ہوتا ھے کہ کسی بھی تعلقات سے کارگو میں چھپ جاتے ہیں اور اگر تو بچ گئے تو یہاں آ کر میڈیکل ملے گا اور وہیں کیس بھی کر دیتے ہیں اور اگر سانس بند ہو گئی تو پھر ۔۔۔۔ ؟ جہاز کے ٹائر والا معاملہ سمجھ سے باہر ھے۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
|
#3 | |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا | sahj (21-01-11), کنعان (21-01-11), محمدعدنان (21-01-11), مرزا عامر (21-01-11), ابن آدم (22-01-11), احمد بلال (21-01-11), راجہ اکرام (21-01-11), عبداللہ آدم (21-01-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,903
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جانے دو یار۔ایسا ہونا نا ممکن لگتا ہے۔۔۔اگر ایسا ہے پھر تو لاش ہی پہنچی ہو گی بیرون ملک۔
میری معلومات کے مطابق ، ہیلی کاپٹر کے نیچے رسی سے کیپٹن نوید کو باندہ کر سیاچن کی پہاڑیوںپہ اتارا گیا تھا۔ لیکن بہت مشکل سے۔ اس کے بعد تو کوئی ایسا واقعہ نہیںسنا۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بھائی جی ایسا کئی ملکوں میں ہوچکا ہے جس دن جیو پہ محمد قاسم کےبارے میں بتارہے تھے وہیں انہوں نے بتایا تھا کہ کس کس ملک میں ایسا ہوچکا ہے میں کوشش کرتا ہوں کہ کہیں سے وہ ویڈیو مل جائے
__________________
----------
![]() |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,641
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں، لینڈنگ گیر -پہیے- میںچھپ کر سفر کرتے ہیں اور 99 فیصد راستے میں ہی گر جاتے ہیں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
نیوز میں ہی انہوں نے بتایا تھا کہ پائلٹنے کنٹرول ٹاور کو رپورٹ کی تھی گئیر میں کچھ پرابلم ہورہی ہے اور تھوڑی دیر بعد اس نے رپورٹ دی کہ ابھی گئیر ٹھیک کام کرنے لگ گیا ہے ۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا ناں کہ وہ گئیر بکس میں چھپا ہوا تھا
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
جس بلندی ( 30 ہزار فٹ) پر جہاز اڑتا ہے ، وہاں درجہ حرارت منفی 40 سے 53 درجے ہوتا ہے یعنی بندے کے پھیپھڑے فوراً منجمد۔
جہاز کے کسی بھی کھلے حصے میں بیٹھ کر سفر نہیںکیا جاسکتا۔ اس کی وجہ ہے ہوا کا دباؤ، اور درجہ حرارت۔ اس کے علاوہ، جہاز کے کھلے حصے ، اڑنے کے بعد بند ہوجاتے ہیں ۔ جس کے باعث کسی جگہ ٹکے رہنا ناممکن ہوتا ہے۔ اس پر کئی پروگرامز ہیں ۔ جو یوٹیوب پر موجود ہیں۔ لگتا یہ ہے کہ اس کا دوست بھی بے چارا کہیں گر گیا۔۔۔۔۔ اور یہ بھی ۔۔۔۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,159
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فلموں میں تو اس طرح کی کاروائی کے بعد زندہ بچ جانا ممکن ہے لیکن حقیقی زندگی میں خیال است و محال است
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,502
کمائي: 118,635
شکریہ: 13,510
4,907 مراسلہ میں 16,697 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
ائرپورٹس کے رن وے پر استعمال کرنے والی کار/وین ہوتی ھے اس پر لال رنگ کے بلاک بنے ہوتے ہیں یہ کار کنٹرول ٹاور سے آپریٹ ہوتی ھے دو بندے اس میں 24 آور بیٹھے ہوتے ہیں اپنی ڈیوٹی پر کسی بھی قسم کی انفارمیشن کنٹرول ٹاور سے ملتے ہیں فوراً یہ حرکت میں آ جاتے ہیں۔ رن وے پر اگر کوئی پرندہ بھی آ جائے تو اسی پر اس کی کلیئر کرنے کی کوشش کی جاتی ھے۔ اگر تو ایسا ھے جیسا آپ فرما رہے ہیں تو پھر پاکستان میں کنٹرول ٹاور کی ذمہ داری بہت ناقص ھے۔ میں الامارات ائرفورس میں رہ چکا ہوں اور اکثر اوقات رن وے کی باؤنڈری لائینوں پر لگی ہوئی حفاظتی ڈیوائس/ امرجینسی لینڈ بریکرز پر الیکٹرک ورکس کرنے کا اتفاق ہوتا تھا، تو اسی دوران اگر کسی کا پاؤں رن وے پر آ جاتا اور وہ غلطی سے وہیں رہتا تو فوراً ایک وین/وین وہاں پہنچ جاتی تھی اور وہ پھر وارننگ دیتے تھے کہ رن وے پر کوئی نہ آئے۔ ایک چھوٹا سا پرندہ بھی رن وے پر نہیں آ سکتا تو پھر یہ 2 لڑکے عمر 16 سال کی اور ان کا رن وے پر پہنچنا اور ٹائروں کے ساتھ چمٹنا یہ ناممکن ھے کیونکہ جہاز کی باڈی اتنی ملائم اور سلپری ہوتی ھے کہ اسے پکڑا بھی نہیں جا سکتا عملہ کی لاپرواہی یا کچھ اور سمجھ سے باہر ھے حالنکہ جہاز کے چاروں طرف سول ایوی ایشن والے بھی کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ ٹائر والے حصہ کی تصویر ھے اس سے خود ہی اندازہ لگائیں۔ والسلام Last edited by فیصل ناصر; 22-01-11 at 12:42 PM. وجہ: adjust picture size |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,641
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حالات صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی خراب ہیں۔ میں ذاتی طور پر ایسے دو بندوں کو جانتا ہوں جنہوں نے کوریا سے دوبئی جانے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا تھا اور دوبی شہر کی فضاوں میں نیچے گر گے تھے۔ ان کی پہچان دوبئی میں موجود ایک کانٹیکٹ نمبر سے ہوئی اور وہ کنٹیکٹ بھی ہمارے ہی ایک جاننے والے کا تھا۔
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,502
کمائي: 118,635
شکریہ: 13,510
4,907 مراسلہ میں 16,697 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
بی۔ بی۔ سی اردو سروس کی خبر کے مطابق معلومات میں کچھ فرق ھے۔ لاہور میں ان دونوں ایک گھر کی چھت سے ملنے والی لاش کا معمہ پولیس اور ائرپورٹ سے متعلقہ اہلکاورں کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ یہ لاش بظاہر آسمان سے چھت پر گری اور چھ روز کے بعد لاش کی شناخت تو ہوگئی لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ لاش آسمان سے کیسے آگری۔ لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں جمعرات کی دوپہر محمد قاسم کے والدین کی موجودگی میں قبر کشائی ہوئی والد اور دیگر رشتہ داروں نے لاش کی شناخت کرلی۔ محمد قاسم کی لاش اس کے آبائی قبرستان منتقل کردی گئی ہے لیکن یہ معمہ حل نہیں ہوسکا کہ وہ ہلاک کس طرح ہوا۔ پولیس کے مطابق ایک ہفتے پہلے ایک لاش ایئرپورٹ کے نزدیک واقع گھر کی چھت پر آگری لاش اتنی زور سے گری تھی چھت میں دراڑ پڑ گئی اور گرنے کی آواز اردگرد کے مکینوں نے بھی سنی۔ پولیس اور مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لاش جہاز سے گری ہے۔ محمد قاسم کے والد محمد صدیق الیکٹریشن ہیں اور وہ بھی یہی سمجھتے ہیں۔ جس گھرسے قاسم کی لاش ملی اس وہ لاہور ایئر پورٹ کے نزدیک واقع ہے اور جہاز ان کے چھت کے اوپر سے گزرتے ہیں لیکن یہ معمہ حل نہیں ہوسکا کہ سولہ سالہ محمد قاسم جہاز تک کیسے پہنچا اور جہاز میں ایسی کون سی جگہ پر وہ سوار ہوا جہاں سے گرگیا۔ اس کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹا اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کا کلاس فیلو عمر جمشید بھی اس کے ہمراہ تھا، عمر جمیشد تاحال لاپتہ ہے۔ محمد قاسم کے والد کا کہنا ہے کہ دونوں دوستوں کے کپڑے اور سکول بیگ رن وے سے ملے ہیں۔ پاکستان میں بعض افراد روز گار کی تلاش میں بیرون ملک جانے کے لیے طرح طرح کے طریقے استعمال کرتے ہیں لیکن الیکٹریشن محمد رفیق کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے کبھی بیرون ملک جانے کی خواہش ظاہر نہیں کی تھی۔ عمر جمشید کے والد نے بھی اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرا دی ہے۔ پولیس اور دیگر متعلقہ محمکے اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ متوفی کا سکول بیگ رن وے سے کیوں ملا اور اگر محمد قاسم جہاز سے گرا ہے تو وہ جہاز تک کیسے پہنچا اور اس کے کون سے ایسے حصے میں تھا جہاں سے وہ گر گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب اس کےدوست عمر جمشید کی تلاش ہے اس کی بخریت واپسی پر ہی معمہ حل ہوپائے گا کہ محمد قاسم مردہ حالت میں ایک گھر کی چھت پر کیسے پایا گیا۔ Boy falls from plane's landing gear Sat, Jan 15, 2011 The Nation/Asia News Network LAHORE, Pakistan - Authorities are investigating whether the 22-year-old boy who was found battered to death on the rooftop of a residential apartment in Al-Faisal Town area located near Allama Iqbal International Airport, fell to his death from an Airblue flight . Well-placed sources disclosed to this reporter that the pilot of an Airblue flight contacted the control tower soon after taking off from the Lahore Airport and left a message that there was a problem in the landing gear. Few minutes later, the Control Tower received another message from the pilot that the problem is over now. One line of the investigation is whether the boy was a daily wager or mechanic at the airport, who managed to enter into the landing gear of the aircraft to reach Dubai. Police sources believed that the boy presumably fell down from the Dubai-bound flight and his remains were found on the rooftop of one Haji Muhammad Afzal, an employee of the PTCL and resident of Al-Faisal Town. However, authorities declined to comment on reports that the boy was travelling covertly in the landing gear of the aircraft. The boy, yet to be identified so far, was found dead shortly after he plunged from a flight and crashed onto the rooftop of a single storey residential apartment after Thursday midnight. It is important to mention here that there were no high-rise buildings in the surrounding so it is out of question that he fell down from the rooftop of some other building. Dozens of locals in Al-Faisal Town came out of their residences soon after they heard a huge bang that took place exactly at 9.22 pm on Thursday night. Sources in Civil Aviation said that an Airblue flight took off for Dubai from the Lahore Airport at about 9.18 pm. The plane was at low altitude (about 250-feet high) when the incident took place, eyewitnesses said. 'Soon after an airplane flew over the area there was huge bang. Initially, we all failed to determine the cause of noise but later after a thorough search, the boy was found with his arms and legs broken and with visible damage to his head', Muhammad Masood, college student and resident of Al-Faisal Town told this reporter at the crime scene. اگر تو ائربلیو کو فیل کرنے کی سازش ھے تو ہو سکتا ھے یہ انسیڈنٹ کروایا گیا ھو اور ائربلیو اسے سول ایوی ایشن کی ناقص کارکردگی پر ڈالے گی۔ اگر یہ لڑکا واقع ہی ڈیلی ویجیز / یومیہ پر کام کرتا تھا تو پھر ائرپورٹ پر کام کرنے والے ٹیمپریری ورکرز/پرمننٹ ورکرز کے سیکیورٹی کارڈ تو سول ایوی ایشن ڈپارٹمنٹ ہی بناتی ھے۔ دونوں ہی طریقوں سے ایک پر تو یہ سہرہ جاتا ھے اب دیکھنا ھے کہ سول ایوی ایشن اور ائر بلیو مل کر خود کو بچانے کے لئے کیا کرتے ہیں۔ متوفی کا دوسرا ساتھی بھی شائد زندہ نہ ملے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اے اللہ ھمیں قناعت پسند بنادے۔آمین۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| ہے۔, کلاس, کرتے, کس, گھر, پہلے, پولیس, والی, لاہور, لاپتہ, ملک, ملے, ملنے, منتقل, مطابق, معلوم, اتنی, استعمال, تلاش, جگہ, جانے, حل, سمجھتے, شناخت, صدیق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|