واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


آسیہ بی بی کیس پر سلمان تاثیر کے موقف نے مذہبی حلقوں میں نفرت پیدا کی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-01-11, 04:26 AM   #1
آسیہ بی بی کیس پر سلمان تاثیر کے موقف نے مذہبی حلقوں میں نفرت پیدا کی
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 06-01-11, 04:26 AM

مسیحی خاتوں سے ملاقات، معافی کی درخواست کی وصولی اور قانون کو کالا قرار دینا قتل کا سبب بنا
گورنر نے اپنے خلاف منفی تاثر کو یہ کہہ کر ختم کرنے کی کوشش بھی کی کہ وہ قانون کے خاتمے کے حامی نہیں ہیں
اسلام آباد (عثمان منظور) آسیہ بی بی کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے واقعات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ گورنر سلمان تاثیر کا ناموس رسالت قانون پر موقف اور مذہبی حلقوں کی مخالفت نے مقتول گورنر کے بارے میں مذہبی حلقوں میں نفرت کی لہر پیدا کر دی تھی۔ مختلف موقعوں پر گورنر نے یہ کہہ کر اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کی وہ صرف آمر ضیاءالحق کا متعارف کردہ ناموس رسالت قانون میں تبدیلی چاہتے ہیں اور اس قانون کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
ذیل میں ان واقعات کی مختصر فہرست دی جاتی ہے جو گورنر تاثیر کے قتل کا سبب بنے۔
11 نومبر 2010ء کو جب ننکانہ صاحب کی سیشن عدالت نے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو سزائے موت دی تو مقتول گورنر سلمان تاثیر پہلی مرتبہ 20 نومبر کو سامنے آئے اور آسیہ سے ملاقات کرنے شیخوپورہ جیل پہنچ گئے وہاں انہوں نے تحفظ ناموس رسالت قانون کو کالا قانون قرار دیا اور جیل میں آسیہ بی بی سے معافی کی درخواست وصول کی اور علی الاعلان وعدہ کیا کہ یہ باضابطہ طور پر صدر مملکت آصف علی زرداری کو پہنچائی جائے گی جن کو آسیہ بی بی کو معاف کرنے کا قانونی اور آئینی اختیار حاصل ہے کیونکہ وہ غریب‘ بے گناہ اور ناخواندہ عورت ہے۔
اسی روز سلمان تاثیر نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ شریف کو چاہئے کہ وہ مسیحی خاتون کو سزائے موت دینے کا ازخود نوٹس لیں۔
ایک اخبار نے سلمان تاثیر کا بیان شائع کیا کہ ”لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو فوری طور پر ازخود نوٹس لینا چاہئے اور آسیہ کو سزائے موت دینے میں اس دباﺅ کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے جس نے ججز کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے“۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت قانون آمر ضیاءالحق کے آمرانہ دور میں بنایا گیا اور مذکورہ قانون نے انتہا پسندی اور اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان جھگڑے پیدا کئے اور اور آئین اور اسلام نے اقلیتوں کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
23 نومبر 2010ء کو سلمان تاثیر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ضیاءالحق کے کالے قانون کی وجہ سے پوری دنیا میں ملک کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی بے گناہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آسیہ بی بی کی معافی کی درخواست ارسال کر دی ہے اور صدر نے وعدہ کیا ہے کہ آسیہ کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔
اسی روز عالمی تنظیم اہلسنت نے فتویٰ جاری کیا کہ سلمان تاثیر نے تحفظ ناموس رسالت قانون کو کو کالا قانون قرار دیا ہے اس لئے اب وہ مسلمان نہیں رہے۔ انہوں نے چیف جسٹس پر نوٹس لینے اور تاثیر کو عہدے سے ہٹانے کے لئے زور دیا۔ پیر افضل قادری نے دھمکی دی کہ یہاں بہت سے غازی علم دین شہید موجود ہیں اس لئے حکمرانوں کو قوم کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم یا صدر کو آسیہ بی بی کو معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
اسی روز (23 نومبر) مجلس تحفظ ختم نبوت نے کہا کہ جو کوئی گستاخ رسول کو معاف کرے گا وہ مسلمان نہیں رہے گا۔ گورنر کو بم دھماکے کی دھمکی ملی اور ان کی سکیورٹی بڑھا دی گئی۔
24 نومبر کو تحفظ ناموس رسالت محاذ نے آسیہ کو بچانے کے لئے سلمان تاثیر کے اقدام کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کئے۔ تحریک حرمت رسول کے رہنما قاری شیخ یعقوب نے سلمان تاثیر اور آسیہ بی بی کے لئے موت کی سزا کا مطالبہ کیا۔ بین المذاہب ہم آہنگی کی قومی امن کمیٹی کے رکن شفیق رضا قادری نے کہا کہ جو گستاخ کی مدد کرے گا وہ برابر کا ذمہ دار ہو گا۔
مفتی مصطفی اشرف رضوی‘ مولانا غلام حسین قادری‘ مولانا سلیم اللہ خان‘ مفتی نعیم اختر قادری‘ مفتی آصف رضا قادری‘ قاری مظفر حسین کھرل‘ مفتی صفدر علی کاظمی‘ مفتی محمد علی قادری‘ مفتی محمد خان اور علامہ مفتی الطاف حسین سمیت لاہور کے بہت سے علماءنے فتوے جاری کئے کہ آسیہ بی بی کی مدد کرنے اور تحفظ ناموس رسالت قانون کو کالا قانون کہنے پر سلمان تاثیر مسلمان نہیں رہے۔
فتوے میں یہ کہا گیا کہ سلمان تاثیر کا نکاح بھی باطل / فاسد ہو گیا ہے۔
اسی روز پی پی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات فرخ الدین چوہدری نے کہا کہ گورنر کے خلاف جاری ہونے والے فتوﺅں کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ یہ فتوے جاری کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قائداعظم اور بھٹو کے خلاف فتوے جاری کئے تھے۔
25 نومبر کو گورنر سلمان تاثیر نے کہا کہ میں آسیہ بی بی سے انسانی بنیادوں پر ملنے کے لئے گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت قانون انسان کا بنایا ہوا کوئی خدائی قانون نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی آسیہ بی بی سے ملاقات کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔
تاثیر نے وضاحت کی کہ کوئی مسلمان گستاخی رسول کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میرے لئے اہم معاملہ قانون پر نظرثانی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”اب تو پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ‘ عمران خان‘ نیلوفر بختیار‘ شیری رحمن اور دیگر نے بھی قانون میں تبدیلی کی بات کی ہے“۔
اسی روز مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے گستاخی رسول کی ملزمہ کو ممکنہ طور پر معاف کرنے اور رہا کرنے کے خلاف ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مظاہرہ کیا۔ مقررین نے گورنر سلمان تاثیر کو آسیہ بی بی کی رہائی کی مہم چلانے پر خبردار کیا۔
29 نومبر کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک غریب‘ ناخواندہ اور بے بس مسیحی عورت کی مدد کرنے پر میرے خلاف فتوے جاری کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے ہم آھنگی اور امن کی تبلیغ کی ہے۔
30 دسمبر کو گورنر نے فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان پڑھ ملا کسی کو اسلام سے خارج نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ”میں اللہ کو جوابدہ ہوں ملاﺅں کو نہیں“۔
3 دسمبر کو اپنے خلاف منفی پروپیگنڈہ کا تاثر ختم کرنے کے لئے گورنر سلمان تاثیر نے وضاحت کی کہ وہ ناموس رسالت قانون کی چند ایک متنازع شقوں پر نظرثانی کے حامی ہیں اور قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کبھی نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ”یہ قطعی طور پر برا مطالبہ نہیں ہے‘ میرے خیالات کی توثیق ایاز میر‘ رانا ثناءاللہ‘ شیری رحمن اور عمران خان نے بھی کی ہے“۔
7 دسمبرکو ملی مجلس شریعہ کے عہدیداروں نے کہا کہ آسیہ بی بی سے ملاقات کر کے گورنر پنجاب نے نہ صرف توہین عدالت کی ہے بلکہ گستاخی کی ہے۔
انہوں نے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ وہ مذکورہ قانون نہ بدلیں اور صدر سے بھی مطالبہ کیا کہ آسیہ کو معاف نہ کریں اور کیس کا فیصلہ عدالت کو کرنے دیں۔
4 جنوری 2011ءکو تاثیر کو ناموس رسالت قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے پر ان کے ایک سکیورٹی گارڈ نے قتل کر دیا۔
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,970 مراسلہ میں 8,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 143
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-01-11), نیلم خان (07-01-11), عروج (07-01-11)
پرانا 07-01-11, 09:28 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انفارمیشن کا شکریہ۔ میرامعززدنیا کے باشندوں سے سؤال ھے کہ کیا آسیہ سے بڑا جرم عافیہ صدیقی کا ھے۔ جو اسکی رھائی کے لیے سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے ھیں۔ قلم کا حق ھی ادا کردیں۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-01-11), نیلم خان (07-01-11), عبدالقدوس (08-01-11)
پرانا 08-01-11, 03:15 AM   #3
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,014
شکریہ: 1,535
2,970 مراسلہ میں 8,214 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عافیہ صدیقی کا مقدمہ گزشتہ سال یعنی 2010ء میں 7 جنوری کو شروع ہوا تھا، ایک سال گزر چکا ہے اور اسے سزا بھی سنا دی گئی ہے۔
گلاب خان آف لائن ہے   Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس (08-01-11)
جواب

Tags
color, کورٹ, ٹیک, واقعات, وزیراعظم, قائداعظم, لوگ, نفرت, موت, متعارف, اللہ, اسلام, جیل, جوابدہ, خلاف, ختم نبوت, درخواست, زرداری, عورت, علی, عمران, عدالت, صفدر, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مفت ایس ایم ایس بھیجیں، پاکستان بھیر مین کہیں بھی ، کسی بھی نیٹ ورک پر proiub ایس ایم ایس 17 27-07-11 09:07 PM
ملتان اور اسلام آباد کے 2 وکیلوں کا ممتاز قادری کے کیس کی مفت پیروی کا اعلان گلاب خان خبریں 1 06-01-11 07:25 AM
بولٹن مارکیٹ میں جلاؤ گھیراؤ،پولیس و رینجرز کہاں تھی، الطاف حسین محمدعمر خبریں 9 07-01-10 10:29 AM
میجر جنرل اطہر عباس آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل مقرر‘ میجر جنرل وحید ارشد آرمی چیف سیکریٹریٹ میں ڈ ی جی پلاننگ ہوں گے ابن ضیاء خبریں 0 09-01-08 11:18 AM
آل پاکستان فٹبال: ایس ایس جی سی کی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ گئی خرم شہزاد خرم فٹبال 0 08-08-07 12:58 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger