|
آغاسراج درانی،دوسری مرتبہ جیل جانا زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا

26-02-08, 02:28 AM
آغاسراج درانی،دوسری مرتبہ جیل جانا زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا
گڑھی یٰسین (نور محمد مغل/ نامہ نگار) ابتدائی پرائمری تعلیم اپنے آبائی شہر میں ہی حاصل کی۔ سیکنڈری تعلیم کراچی گرامر اسکول میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکا گئے جہاں پر وہ 86-85 تک رہے۔ آصف علی زرداری بھی ان کے کلاس فیلو رہے اور قریبی تعلقات استوار رہے آغا صاحب امریکا میں رہتے ہوئے بھی پی پی پی سے وابستہ رہے اور ایک یونٹ کے صدررہے۔ پاکستان میں آکر بھی پی پی کی خدمت کرتے رہے۔ پہلی مرتبہ محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ جب پاکستان آئی تھیں تو کراچی میں ان کے استقبال کا اہتمام بھی پارٹی کی جانب سے آغا سراج خان درانی نے کیا تھا۔ 1988ء کے الیکشن میں پہلی بار پی پی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور مرحوم نادر حسین کاریو کے مقابلے میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور انہیں اس وقت کے Ps-7 کی سیٹ پر منتخب کیا گیا تھا۔ کامیابی کے بعد ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ کے وزیر بنے، دوسری مرتبہ 1990ء کے الیکشن میں حصہ لیا اور دوبارہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور جام صادق علی کے دور میں آٹھ ماہ تک کراچی سینٹرل جیل میں قید رہے، تیسری مرتبہ 1993ء کے الیکشن میں جیل میں رہتے ہوئے حصہ لیا اور عوام نے ایک بار پھر بھاری اکثریت سے منتخب کیا۔ دوسری مرتبہ 18ماہ تک کراچی لانڈھی جیل میں رہے۔ دوسری مرتبہ ان کا جیل جانا ان کی زندگی کا عجیب موڑ تھا اس دوران ان کی زندگی میں عجیب و غریب نشیب و فراز آئے اور ان کی زندگی تبدیل ہو گئی جوآج کل کے دور میں کسی معجزے سے کم نہیں تھی۔ آغا سراج خان درانی کی زندگی کا بڑا حصہ مغربی ممالک میں گزرا اس لئے ان کا طرز زندگی مغربی تھا۔ تین بار الیکشن کے دورمیں ان کی وہی طرز تھی لیکن دوسری 18ماہ قید ان کی زندگی کو دینی طرز میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے جیل میں رہ کر باقاعدہ طور پر عالم دین سے قرآن مجید ترجمے کے ساتھ پڑھا اور صوم و صلوٰة کے پابند ہوگئے جیسے ہی جیل سے رہا ہو کر اپنے آبائی شہر گڑھی یٰسین کوٹ درانی پہنچے اور دوستوں کے ساتھ ملے تو انہوں نے دیکھتے ہی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور شہر کے دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے عالم دین بھی انہیں ملنے کیلئے آئے اور اگلے روز ہی انہوں نے اپنے بنگلے کے احاطے میں ایک مسجد تعمیر کرنے کے احکامات دیئے اور تھوڑے ہی عرصے میں ایک شاندار مسجد تعمیر ہو گئی۔ یہی ان کی زندگی کا بہترین موڑ تھا، مسجد کی تعمیر ہونے کے بعد اس کا افتتاح شہر کے تمام فقہ کے علماء کو دعوت دیکر کیا تیسری مدت میں وزیر تعلیم بھی رہے۔ بعدازاں انہوں نے بعد میں مسلسل دو الیکشن ہارے اور درمیانی گیارہ سالہ جلاوطنی کے بعد پھر انہیں الیکشن لڑنے کا موقع ملا۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی جلاوطنی کے عرصے کے دوران بلاول ہاؤس کا انتظام سنبھالا۔ سندھ کونسل کے ممبر بھی رہے اور پی پی پی لاڑکانہ ڈویژن کے صدر رہے۔ محترمہ جیسے ہی پاکستان کراچی آئیں تو ان کے تمام تر استقبالیہ اور چیف سیکیورٹی کے انتظامات سنبھالے اور آخری دم تک ان کے ساتھ ساتھ رہے۔ درمیان عرصے میں اور وزارت ختم ہونے اور دوٹرم الیکشن ہارنے کے دوران ان پر بہت سے مقدمات درج کئے گئے جن کی مسلسل پیروی کرتے رہے اور حاضری پر جاتے رہے۔ کچھ مقدمات اب بھی عدالتوں میں چل رہے ہیں اور کچھ مقدمات ختم ہو چکے ہیں۔ پہلی بار جیل میں رہ کر انہوں نے بہت تکالیف جھیلیں اور اسی دوران انہیں اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے وزارتیں اور دیگر پیشکشیں بھی ملیں جنہیں انہوں نے ٹھکرا دیا اور حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا البتہ دوسری جیل ٹرم کی مدت کو انہوں نے اپنی زندگی کی اصلاح قرار دیا ہے۔ ان کی دو مرتبہ شکست کا سبب یہ تھا کہ آغا سراج خان درانی صرف پی پی کے نام پر الیکشن میں کامیاب ہوتے رہے۔ بعدازاں تعلقہ گڑھی یٰسین کے وڈیروں اور سرداروں نے ایک راجوانی اتحاد قائم کیا جس میں تیس سے زیادہ برادریوں نے اتحاد کیا تھا۔ اس اتحاد کی وجہ سے اور حکومتی پالیسی کی وجہ سے دو مرتبہ الیکشن ہارے تاہم اس اتحاد نے علاقے میں بدامنی اور کرپشن میں اضافہ کر دیا اور تعلقہ بھر میں اٹھارہ برادریوں میں قبائلی تصادم نے جنم لیا جس سے تعلقہ میں سیاسی سماجی اور معاشی بدحالی ہوئی اور یہ اتحاد بھی قائم نہ رہ سکا۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے وطن آنے سے عوام میں ایک بار قومیت کے جذبے کو ختم کرکے محترمہ کا جذبہ پیدا ہوگیا اور ایک امید کی کرن پیدا ہوگئی کہ اب ہمارے ملک سے بدامنی بے روزگاری اور استحصال کا خاتمہ ضروری ہوگا اور ملک میں جمہوریت کا بول بالا ہوگا لیکن شاید ملک دشمن عناصر محترمہ کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکے انہیں شہید کر دیا گیا ملک دشمن عناصر نے یہ شاید سوچا ہوگا کہ پی پی جماعت ختم ہو جائے گی لیکن محترمہ کی شہادت نے پورے ملک کے علاوہ دنیا بھر کے لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ عوام نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور محترمہ کی شہادت کا بدلہ ووٹ کے ذریعے لیا اور پی پی پی کو پورے ملک میں بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا ہے۔ پی پی پی مرکز میں بھی حکومت بنا رہی ہے اور صوبہ سندھ میں بھی حکومت بنا رہی ہے۔ آغا سراج خان درانی کا نام وزیراعلیٰ کیلئے سرفہرست ہے۔ آغا سراج خان درانی نے گڑھی یٰسین کے صحافیوں کو بتایا ہے کہ وہ وزارت اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوتے ہی سب سے پہلے صوبے کو بدامنی اور قبائلی جھگڑوں سے نجات دلا کر تمام ترقی کے وسائل مہیا کرینگے اور صوبے بھر کے عوام کو بہتر سے بہترین سہولتیں فراہم کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرینگے اور بے روزگاری ختم کرنے کیلئے نئے روزگار کے ذرائع پیدا کرنے اور ملک میں تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر غربت کا خاتمہ کرنے کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|