| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 653
|
||||
| ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (29-04-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
زبردست بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھی شیرنگ ہے
کوئی بھائی ضرار کو بھی اور مجھے بھی تصویر کو مراسلے میں واضح دکھانے کا طریقہ بتا دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ مولا خوش رکھے
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | ضِرار Derar (29-04-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اس کا ایک آسان حل تو یہ ہے کہ آپ اپنے تصویری مُراسلے کو فوٹو شاپ میںایڈٹ کرکے پانچ A-4 سائز کی تصاویر بنا لیں(کیونکہ ایک مُراسلے میںپانچ سے ذیادہ تصاویر اٹیچ کرنے کی سہولت فی الحال میسر نہیںہے) پھر اُن تصاویر کو ترتیب سے لگا دیں!
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | ضِرار Derar (29-04-10), عبداللہ آدم (30-04-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
شافریشہ صاحب اگر کسی کے پاس فوٹو شاپ نہ ہو آپ اگر کوئی آسان طریقہ بتا دو کوٕی فری وٕئیر پکچر ایڈیٹرز بتا دو تو آپ کا بہت بہت شکریہ |
|
|
|
| ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا | اویسی (29-04-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ جی واہ
بہت بہت بہت شکریہ اور پھر بہت بہت بہت شکریہ پر ہمیں بھی اس کا طریقہ بتا دو شافریشہ صاحب بقول عبداللہ آدم صاحب مولا خوش رکھے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
jpeg یا gif کی فائلیں تو ونڈو ایکس پی پینٹ برش کے پروگرام سے بھی ایڈٹ ہو جاتی ہيں
بس اصل فائل کی ایک کاپی بنا کر رکھ لیں اور ہر بار کھول کر کینوس کا سائز چھوٹا کر کے ...Save As کر کے نیا نام نمبر ترتیب وار دیتے جائیں
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
| نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (30-04-10) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,169
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر کسی کے پاس فوٹو شاپ نہ ہو تو paint استعمال کریں
میرے پاس بھی فوٹو شاپ نہیں ہے، بلکہ مجھے تو پتہ ہی نہیں کہ یہ ہوتا کیا ہے اس میں برابر سائز میں تصویر کو کاٹ لیں اور پھر ترتیب سے لوڈ کر دیں
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
ابرہہ کا لشکر اور ابابیلیں
آج سے تقریباَ چھ برس قبل وہ ایک ہفتے کے لئے میرے ہمسفر تھے. ایرانی انقلاب کی پچییسویں سالگرہ کی تقریبات تھیں. کانفرنس کا موضوع تھا "ایرانی انقلاب دنیا کے دانشوروں کی نظر میں" میرے مقالے کا موضوع تھا" اقبال کی شاعری اور ایرانی انقلاب" اسی کانفرنس میں پہلی دفعہ میری ملاقات حزب اللہ کے سبراہ حسن نصراللہ سے ہوئی. پاکستانی وفد میں بہت سے صحافی اور سیاستدان بھی موجود تھے. ان میں پشاور سے حاجی عدیل بھی تھے. صبح و شام ان سے ملاقات رہتی. میں نے انہیں ایک مرنجا مرنج اور مجلسی پشتون کی حیثیت سے دیکھا. ان میں رواداری، حس مزاح اور قصہ خوانوں جیسی گفتگو کرنے کا ملکہ تھا. بس ایک دفعہ میں نے انہیں خونخوار ہوتے دیکھا.شاہ ایران کا محل جواب ایک عجائب گھر بنا دیا گیا تھا.اُسے دیکھانے کے لئے سب مندوبین کو بسوں میں لے جایا گیا. محل کی سیر کے بعد سب اپنی اپنی بسوں میں آکربیٹھ گئے. بسیں سٹارٹ ہوئیں لیکن چند مندوبین غائب تھے. ایرانی پروٹوکول کے لوگ انہیں محل کے وسیع باغات میں ڈھونڈنے چلے گئے. ادھر ہماری بس کے ڈرائیور نے دروازے مقفل کئے اور دور جا کر کھڑا ہوگیا. میں دیکھ رہا تھا کہ حاجی صاحب شدید بے چین ہورہے ہیں، وہ بار بار ان لوگوں کو بُرا بھلا کہتے اور بے چینی میں پہلو بدلتے. آدھے گھنٹے سے زیادہ گزر گیا، تمام دروزے پریشر سے بند تھے، حاجی صاحب اُٹھے اور ڈرائیور کے ساتھ کھڑکی سے نیچے کودگئے.چند ایرانی دوڑ کر ان کی طرف آئے کہ کہیں اب یہ مسافر بھی گم نا ہوجائے. انہوں نے حاجی صاحب کو فارسی میں اندر جانے کو کہا. حاجی صاحب پہلے انگریزی جسے وہاں بہت کم لوگ جانتے ہیں اور پھر اشاروں میں بتایا کہ اگر وہ کچھ دیر اور ایسے بیٹھے رہتے تو ان کا مثانہ پھٹ جاتا. یہ سب انہوں نے اس قدر غصے میں کہا کہ ہم لوگ بھی باہر کود آئے کہ کہیں ضبط پیشاب کے اس عالم میں فساد برپانہ ہوجائے. اس ایک واقعہ کے علاوہ حاجی عدیل کا تاثر میرے لئے ایک انتہائی خوش کن اور مجلسی انسان کا تھا. اسلئے مجھے سب سے زیادہ حیرت ان کے اِس بیان سے ہوئی کہ ہمارا ہیرو محمد بن قاسم نہیں بلکہ راجہ داہر ہے. مجھے دکھ بھی بہت ہوا اور ایک لمحے کو یقین بھی نہیں آیا.کوئی بھیل، کوہلی، شودر، دلت، راجپوت یا برہمن نسل کا آدمی یہ بات کرتا تو اتنا دکھ بھی نا ہوتا کہ اُنہیں اپنے آباء و اجداد کا مذہب اور حکومت یاد آرہی ہوگی. مجھے اپنا دوست محمد علی داہر شدت سے یاد آیا جو کہ راجہ داہر کی نسل سے ہے لیکن میرے اللہ نے اُسے نورِایمانی سے سرفراز کیا کہ اُس کی اسلام سے محبت پر رشک آتا ہے. لیکن شاید حاجی صاحب پختونخواہ کی ایک ایسی بس میں سوار ہیں جس کے دروازے بند کرکے لوگ بھاگ چکے ہیں. اور لگتا ہے کہ اس دفعہ ڈرائیور والی کھڑکی بھی بند کردی گئی ہے. اس لئے حاجی صاحب اپنے اضطراب میں بھول گئے کہ وہ اُس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے کئی سو سال اپنے گھوڑوں کا رُخ اس برصغیر پر فاتح کی حیثیت سے پھیرے رکھا. یہ افغانستان کی سرزمین سے خیبر کےراستے ترکوں اور مغلوں کے ساتھیوں کی حیثیت سے اور کبھی خود غوری، خلجی اور سوری پشتونوں کے طور پر بتکدہ ہندوستان پر حملہ آور رہے. لیکن کیا کروں مجھے جتنی عقیدت اور محبت محمد بن قاسم سے ہے اتنی ہی محمود غزنوی، شہاب الدین غوری اور سب سے آخر میں ہندوستان آنے والے احمد شاہ ابدالی سے ہے. اس لئے کہ اگر وہ اس ہندوستان میں شاہ ولی اللہ کی درخواست پر نا آتا تو مرہٹوں کا برصغیر کو ہندو گپتا حکومت کی طرح ہندو تواکاخواب پورا ہوجاتا. حاجی صاحب! کاش آپ نے اپنی عمر کا کچھ حصہ راجہ داہر کے وارث ہندو حکمرانوں کے بھارت میں گزارا ہوتا. میں نے چار سال قبل بھارت کے دس سے زیادہ شہروں میںمسلمانوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے. ان میں آپ کے رہیل کھنڈ کے غیرت مند پشتون بھی شامل تھے.لیکن ایسے زندگی گزار رہے تھے کہ دلت اور شودر ان سے زیادہ معزز اور محترم تھے. اسی سال سچرکمیشن کی رپورٹ آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بھارت کے مسلمانوں کی حالت شوردوں سے بھی بدتر ہے. ان کے علاقوں میں پانی ہے نہ بجلی، ہسپتال ہے نہ سکول، یہ بدبودار اور تعفن زیادہ آبادیاں ہیں جو ہندو اکثریت کے خوف سے سہمی ہوئی رہتی ہیں. اسی دوراں یعنی جنوری 2007 میں جب میں وہاں تھا تو رہیل کھنڈ کے ایک مدرسے میں پڑھنے والی دو مسلمان جو نسلاَ پختوں تھیں، ان بچیوں کو ہندو غنڈوں نے اغوا کیا تھا اور چار روز بعد سٹرک پر پھینک دیا تھا. ان کے والدین رو رو کرٹی وی پر کہتے تھے، ہم تو خوف سے بچیوں کو انگریزی سکولوں میں بھی داخل نہیں کرتے لیکن اب تو ہمارے مذہبی مدرسوں کے راستے بھی محفوظ نہیں. میں اُس کے بعد پندرہ دن وہاں رہا لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا تھا. میری دعاہے کہ حاجی صاحب! اللہ آپ کو ایسے راجہ داہر کے دیس میں بسنے سے بچائے. جہاں آپ گاڑی میں آنکھیں بند کرکے سفر کر رہے ہوں تو جیسے ہی بدبو سے آپ کی ناک پھٹنے لگے آپ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو وہ مسلمانوں کا علاقہ ہو. حاجی صاحب! آپ کا غصہ ایک کلمہ گو محمد بن قاسم پر کیوں ہے؟ آیئے ذرا پہلے تاریخ میں جھانک کردیکھتے ہیں. آپ ایرانی حکمران دارا کو گالی کیوں نہیں نکالتے جس نے 500 قبل مسیح میں پورے افغانستان اور پشتون قوم کو غلام بنایا اور اپنی زبان تک وہاں رائج کردی. آپ 330 قبل مسیح کے سکندر کو بُرا بھلا کیوں نہیںکہتے جس نے اس پوری سرزمیں کو روندتے ہوئے یہاں اپنی حکومت قائم کی. آپ نے سکندر کو ایسا مسلمان بنایا کہ ہردوسرے گھر میں بیٹے کا نام سکندر ہے. تقریباَ ڈیڑھ ہوسال کی یونانی حکومت کے بعد کشان آپ پر چڑھ دوڑے اور چار سو سال تک حکومت کرتے رہے. وہ تو سندھ سےلیکر گوبی صحرا تک حکمران تھے. آپ نے انہیں کبھی نہیں ملامت کی. ان کی نشانی بامیان کے بدھ کے مجسموں کو جب طالبان نے آُڑایا تو آپ نے ایسے شور مچایا جیسے وہ فاتح نہیں بلکہ آپ کے پختون تھے. فرق صرف یہ ہے کہ وہ کلمہ گو نہ تھے ورنہ شاید آج آپ بھی انہیں گالیاں دے رہے ہوتے. اُس کے بعد سفید ہن قبائل سو سال تک اس خطے پر حکمران رہے لیکن انہیں بھی آپ نے کبھی دشمن، ولن یا غاصب کے طور پر نہیں پکارا. صرف اسلئے کہ وہ یورپ سے آئے تھے اور کلمہ نہیں پڑھتے تھے. لیکن آپ شاید اس حقیقت سے آنکھیں موند لیں لیکن یہ روزِروش کی طرح واضح ہے کہ جس دن سے افغان قوم نے اس کاءنات کے رب اور مالک کی غلامہ کا طوق گلے میں پہنا ہے پھر اُس کے بعد اُس پر کوئی غیر مسلم فاتح اپنی حکومت قائم نہیں کرسکا. اللہ کی غلامی نے انہیں ایسی سرفرازی عطا کی ہے کہ انہوں نے صرف ایک صدی کے اندر دنیا کی تین علامی طاقتوں کو شکست سے دوچار کیا. افغان مسلم امہ کا وہ سرمایہ ہے جس پر میرے اللہ کا یہ فرمان صادق آتا ہے کہ تم اگر تعداد میں کم بھی ہوگے تو ہم تمہیں بڑے گروہ پر غلبہ عطا کریں گے. برطانیہ جس پر سورج غروب نہیں ہوتا شکست کھا کر نکلا. روس جس کے آپ بہت ممدوح تھے اور طورخم کے بارڈر پر سُرخ جھنڈوں کا انتظار کرتے تھے، ایسے شکست کھا کر نکلا کہ اُس کی عظیم سلطنت کا نشان تک باقی نہ رہا. آپ نے کہا یہ امریکہ کی مدد سے ہوا. شاید آپ کو اللہ پر یقین نہ تھا. لیکن میرے اللہ نے آپ کے اس حیلے بہانے کو بھی توڑدیا. آپ کے سامنے اس وقت 48 ممالک اقوام متحدہ کے پرچم تلے، امریکہ، نیٹو اور خود آپ جیسے اُس کےہمسائے بھی افغانوں کے خلاف تھے. کوئی مدد کو تیار نہ تھا. سب دہشت گردی کی جنگ میں ان کے خلاف تھے. لیکن آج نیٹو کے ملک اور امریکہ جیسی طاقت یہ کہتی ہے کہ ہم جنگ ہار چکے ہیں. شاید اب اس جیت کے خلاف کوئی دلیل آپ کے پاس نہ ہو لیکن کروڑوں افغانوں کے پاس ایک دلیل ہے کہ اللہ ان کا مددگار ہے افغان جو ایک اللہ کی وحدانیت، اور سید الانیباء صلٰی علیہ وسلٰم کی محبت کے جزبے سے سرشار قوم اپنے اُس ماضی سے نفرت کرتی ہے جس میں وہ دارا، سکندر، کنشک اور ہن قوم کی غلام تھی، لیکن شاید آپ اُس غلامی کی جانب واپس لوٹنا چاہتے ہیں. قاسم فرشتہ نے اپنی تاریخ میں مطلع الانوار سے ایک تاریخی حوالہ دیا ہے کہ جب ابرہہ کے گرد نے خانہ کعبہ پر حملکہ کرنے کے لئے تیاری کی تو اس وقت کعبے کے بہت سے دشمن نزدیک دور سے آکر ابراہہ کے گرد جمع ہوگئے. انہی لوگوں میں افغان قبائل بھی شامل تھے. جن پر میرے رب نے ابابیلوں کے ذریعے کنکریاں برسائیں اور انہیں کھائے ہوئے بھس کی مانند کردیا. آپ شاید ابرہہ کے اُس لشکر کے افغانوں کو ہیرو سمجھتے ہیں لیکن آپ کو علم نہیں اس پر میرے اللہ کے نام کی تختی لگی ہوئی ہے اور آپ کی ہی پختون قوم اللہ سے لازوال محبت اور وفاداری کی علامت ہے. آپ ابرہہ کے لشکر کا ساتھ دیجئے میرے رب کو ابابیلیں بھیجنے میں دیر نہیں لگے گی |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
نئے دور کے اتاترکی تُرکی والے چونکہ قوم پرستوں کی جماعت رہی ہے اس وجہ سے اپنی پوری تاریخ کو اپنی قومیّت کا کمال سمجھتے ہیں کہ ہم تُرک یہ ہیں اور وہ ہیں۔ دراصل عثمانی ترکوں کے یورپی صلیبیوں کے خلاف جہاد میں مدد پوری دنیا کے مسلمان مجاہدین کرتے رہے تھے اور انکی کامیابی اسلام ہی کی بدولت تھی جو اسلام سے روگردانی کے ساتھ کمزور تر پڑتی گئی اور اب انکے اپنے وطن کے کُرد بھی انکے خلاف ہیں کیونکہ وہ اپنے علاوہ ادھر ادھر دیکھ ہی نہیں سکتے۔
یاد رہے کہ پورے ہندوستان میں انگریزی حکومت کے خلاف پہلی عوامی تحریک جس نے قربانی دی وہ قصّہ خوانی بازار پشاور سے شروع ہوئی جسمیں تقریبا" چار سو لوگوں نے قُران سروںپر رکھتے ہوئے شہادت کا رُتبہ پایا وہ خاکسار تحریک کے لوگ تھے جو آجکل کے اس پختون قوم پرست تحریک کا منبع تھی مگر پچھلے چالیس سال سے یہ تحریک کُفر کا علمبردار رہی ہے اور موجودہ دور میں آصف علی زرداری نے وقتی طور پر اس تحریک کو کافی ہوا دی ہے۔ یہ عام طور پر صوبہء سرحد کی کوئی پسندیدہ تنظیم نہیںہے مگر جسطرح تمام اہم سرکاری تنصیبات کا نام بے نظیر رکھا گیا ہے اسی طرح اس تنظیم کی خواہش پر صوبے کا نام بھی رکھا گیا ہے۔ زرداری کی آشیرباد حاصل کر کے یہ تنظیم اب دین اسلام کے خلاف بولنا بھی شروع ہو گئی ہے۔ یہ روس کی شہہ پر بھی ایک زمانے میں اسلام کے خلاف بولتے تھے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ Last edited by محمد الیاس; 29-04-10 at 09:18 PM. |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
سب سے اہم بات پوچھنا چاہتا ہوں
کہ یہ کالم ہے کن صاحب کا ان کا بھی ذکر خیر کر دیا جائے تا کہ ان کے لیے بھی دل سے دعائیں کی جاسکیں ۔ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,169
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نور الدین بھائی
آپ نے اچھا سوال کیا ہے کسی بھی چیز کو نقل کیا جائے تو اس کے لکھنے والے کا نام ساتھ ضرور ہونا چاہئے یہ میرے خیال میں اوریا مقبول جان کا کالم ہے اچھا لکھتے ہیں یہ صاحب بھی |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ما شااللہ بہت خوب جواب دیا ہے ہماری طرف سے صاحب مضمون نے حاجی عدیل عرف فدائیانِ راجہ داہر کو۔ اللہ انکو جزائے خیر دے۔امین
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
نور الدین صاحب تیسری لین بلکل پلے نہین پڑی
|
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
مثال کے طور پر آپ نے
مذکورہ بالا کالم کی فائل GIF فارمیٹ میں پینٹ برش میں اوپن کی جس کی چوڑائی تو 512 پکسل ہے جو پرفیکٹ ہے اس فورم پر مطالعے کے لیے مگر لمبائی 2391 پکسل ہے ۔ یہ اتنی زیادہ لمبائی ہی مسئلہ کر رہی ہے اس کے ویو میں لہٰذا ۱ ۔ اس فائل کو پہلے تو Express.gif کے نام سے سیو کر لیں۔ ۲ ۔ پھر اس کے کینوس کا سائز 600 کر لیں (Image مینو میں Attrib کے آپشن سے ) اور نوٹ کر لیں کہ اس امیج کے آخر میں کون سی لائن آ رہی ہے ۔ ۳ ۔ پھر اس 512x600 کی فائل کو Save as .... کرتے ہوئے Colum1.gif کے نام سے سیف کر لیں لیجیے اس فائل کا پہلا قابل مطالعہ حصہ تو ہوگیا ۔ ۴ ۔ اس کے بعد دوبارہ فائل Express.gif اوپن کر یں اور ۵۔ امیج کو سلیکٹ آل کر کے کھسکا کر اتنا اوپر لے آئیں کہ پچھلی فائل Colum1.gif جہاں ختم ہوئی وہاں سے یہ امیج شروع ہو ۔۔ ۶۔ اب پھر اس کینوس کا سائز 512x600 کر لیں (Image مینو میں Attrib کے آپشن سے ) ۷ ۔ اور پھر اس فائل کو Save As... کر کے Colum2.gif کے نام سے سیو کر لیں ۔۔ یہی ۴۔ ، ۵۔ ، ۶ اور ۷ دہراتے رہيں تا وقتیکہ اس Express.gif کا آخری حصہ بھی ایک الگ فائل بن جائے امید ہے کہ یہ طریقہ آپ کے لیے فائدہ مند ہو گا ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (02-05-10), عبداللہ آدم (05-05-10) |
![]() |
| Tags |
| com, express, story, url, فوٹو, کالم, واضح, لگا, لنک, لشکر, مراسلے, اپنے, بنا, تصویر, تصاویر, حل, خوش, دکھانے, دیں, رکھے, زبردست, شیرنگ, شاندار, ضرار, طریقہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|