واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


اب بچے بھی ان کے عتاب سے محفوظ نہيں۔۔۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-09-11, 09:30 PM   #1
اب بچے بھی ان کے عتاب سے محفوظ نہيں۔۔۔
Fawad Fawad آف لائن ہے 22-09-11, 09:30 PM

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

اب بچے بھی ان کے عتاب سے محفوظ نہيں۔۔۔

Peshawar school van attack - پشاور حملہ - YouTube

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook

Fawad
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 678
شکریہ: 0
368 مراسلہ میں 710 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1208
Reply With Quote
پرانا 22-09-11, 09:38 PM   #2
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,508
کمائي: 52,461
شکریہ: 5,865
3,223 مراسلہ میں 6,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ لواحقین کوصبر جمیل عطا فرمائیں اور ظالموں کو تباہ کریں
ساتھ ہی ساتھ میں
منافقوں پر خدا کی لعنت

جو بچے افغانستان میں عراق میں اور اب ڈرون حملوں میں اللہ کو پیارے ہو رہے ہیں
اُن کے بارے بھی کُچھ لکھو۔
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا
فکری (23-09-11), فیصل ناصر (22-09-11), ھارون اعظم (23-09-11), مرزا عامر (23-09-11), احمد نذیر (23-09-11)
پرانا 22-09-11, 10:45 PM   #3
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,538
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امریکہ مردہ باد ۔

یہ پیغام بھی پہنچا دینا مسٹر
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (23-09-11), احمد نذیر (23-09-11)
پرانا 22-09-11, 11:43 PM   #4
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,508
کمائي: 52,461
شکریہ: 5,865
3,223 مراسلہ میں 6,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اور ہاں بچے افغان جنگ کے زمانے سے ان کے زیر عتاب آئے ہوئے ہیں پھر عراق اور اب پاکستان اور نجانے کہاں کہاں

تُسی بس بھینگے ہو کہ دیکھدے ہو
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (23-09-11), احمد نذیر (23-09-11)
پرانا 23-09-11, 12:48 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
احمد نذیر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
عمر: 22
مراسلات: 105
کمائي: 4,144
شکریہ: 8,438
92 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اور ان بچوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟؟؟؟
احمد نذیر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے احمد نذیر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (23-09-11), ننھا بچہ (23-09-11), مرزا عامر (23-09-11), رضی (24-09-11)
پرانا 23-09-11, 04:33 PM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جوں جوں اس طرح کے مراسلے لھے جاتے ہیں لوگوں کے دلوں میں امریکی حکومت کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ تو مراسلہ بجائے امریکی حمایت کے جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے ۔ اس بات کا اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا۔
ریمنڈ ڈیوس کی حادثاتی گرفتاری نے امریکی منصوبوں سے جس طرح پردہ ہٹایا ہے اس سے یہ بات صاف ظاہر ہو گئی ہے کہ امریکی لے پالک ان بچوں کو استعمال کر رہے ہیں اور اسلام کا نام بدنام کر رہے ہیں ۔ دوسری طرف امریکہ اپنی منحوس کور روائیوں کا الزام بھی اپنے اوپر لینے کے بجائے معصوم بچوں کو استعمال کرواکر ان پر ڈلوا رہا ہے۔
پاکستانی قوم اب اس سے مکمل با خبر ہو چکی ہے۔
پاکستان کا دوست امریکہ پہلے ان معصوموں کو استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کرواتا تھا لیکن اب دوستی میں اضافے کی وجہ سے اس نے پاکستان میں براہ راست حملے کی دھمکی دے دی ہے۔ شکریہ امریکہ
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (27-09-11), فکری (23-09-11), احمد نذیر (23-09-11), رضی (24-09-11)
پرانا 23-09-11, 05:17 PM   #7
Senior Member
مقبول
 
فکری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 185
کمائي: 3,102
شکریہ: 504
155 مراسلہ میں 421 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا کہیں کس کو سنائیں۔،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،
فکری آف لائن ہے   Reply With Quote
فکری کا شکریہ ادا کیا گیا
احمد نذیر (23-09-11)
پرانا 27-09-11, 12:33 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 678
کمائي: 12,900
شکریہ: 0
368 مراسلہ میں 710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

کسی بھی جنگ يا مسلح لڑائ کے دوران بے گناہ شہريوں کی ہلاکت ايک تلخ حقيقت ہے۔ اس سے کوئ انکار نہيں کہ "فرينڈلی فائر" کے نتيجے میں اپنے ہی فوجيوں کی ہلاکت کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں۔ دنيا کے کسی بھی حصے میں جنگ کے نتيجے میں انسانی جان کے نقصان کی حقیقت کے حوالے سے بھی کوئ بحث يا دليل نہيں دی جا سکتی۔ ليکن اس ويڈيو کا مقصد دہشت گردوں کے اس غير انسانی، سفاک اور بربريت پر مبنی رويے کو واضح کرنا تھا جس کے تحت وہ دانستہ سکول کے معصوم بچوں کو باقاعدہ ايک جنگی حکمت عملی اور ترجيحی طريقہ واردات کے تحت نشانہ بنا کر انھيں ہلاک کرتے ہیں۔ صرف يہی نہيں بلکہ وہ دھڑلے سے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں اور مستقبل ميں بھی ايسے ہی حملوں کرنے کی دھمکی ديتے ہیں۔

وہ حمايتی جو اب بھی ان دہشت گردوں کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہيں اور ان کے حملوں کے ليے تاويليں اور توجيحات پيش کر کے انھيں کسی مقدس مشن پر گامزن آزادی کے متوالے سمجھتے ہيں، ان سے ميرا سوال ہے کہ سکول کے معصوم بچوں کو ہلاک کر کے کاميابی کے دعوے کرنے ميں جرات، بہادری اور عظمت کا کون سے پہلو ہے جو لائق تحسين ہے؟

اس حوالے سے کوئ ابہام نہيں ہونا چاہيے۔ ايسی سوچ اور نقطہ نظر جو دانستہ سکول کے بچوں کی ہلاکت کو قابل ترجيح حربہ اور جائز اقدام قرار دے کر اپنی خونی تحريک کو پروان چڑھانے اور عوام کو دہشت زدہ کرنے کے لیے استعمال کرے، اسے کسی بھی صورت ميں درست يا قابل ستائش قرار نہيں ديا جا سکتا۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-09-11, 10:25 PM   #9
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,538
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
کسی بھی جنگ يا مسلح لڑائ کے دوران بے گناہ شہريوں کی ہلاکت ايک تلخ حقيقت ہے۔ اس سے کوئ انکار نہيں کہ "فرينڈلی فائر" کے نتيجے میں اپنے ہی فوجيوں کی ہلاکت کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں۔ دنيا کے کسی بھی حصے میں جنگ کے نتيجے میں انسانی جان کے نقصان کی حقیقت کے حوالے سے بھی کوئ بحث يا دليل نہيں دی جا سکتی۔ ليکن اس ويڈيو کا مقصد دہشت گردوں کے اس غير انسانی، سفاک اور بربريت پر مبنی رويے کو واضح کرنا تھا جس کے تحت وہ دانستہ سکول کے معصوم بچوں کو باقاعدہ ايک جنگی حکمت عملی اور ترجيحی طريقہ واردات کے تحت نشانہ بنا کر انھيں ہلاک کرتے ہیں۔ صرف يہی نہيں بلکہ وہ دھڑلے سے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں اور مستقبل ميں بھی ايسے ہی حملوں کرنے کی دھمکی ديتے ہیں۔

وہ حمايتی جو اب بھی ان دہشت گردوں کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہيں اور ان کے حملوں کے ليے تاويليں اور توجيحات پيش کر کے انھيں کسی مقدس مشن پر گامزن آزادی کے متوالے سمجھتے ہيں، ان سے ميرا سوال ہے کہ سکول کے معصوم بچوں کو ہلاک کر کے کاميابی کے دعوے کرنے ميں جرات، بہادری اور عظمت کا کون سے پہلو ہے جو لائق تحسين ہے؟

اس حوالے سے کوئ ابہام نہيں ہونا چاہيے۔ ايسی سوچ اور نقطہ نظر جو دانستہ سکول کے بچوں کی ہلاکت کو قابل ترجيح حربہ اور جائز اقدام قرار دے کر اپنی خونی تحريک کو پروان چڑھانے اور عوام کو دہشت زدہ کرنے کے لیے استعمال کرے، اسے کسی بھی صورت ميں درست يا قابل ستائش قرار نہيں ديا جا سکتا۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
جناب میں تو دہشتگردوں سے سخت نفرت کرتا ہوں ۔ خواہ وہ دہشت گرد پے رول پر ہوں جیسا کہ تحریک طالبان پاکستان یا پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عزم لیئے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے پر دہشت گردی کرتے پھرتے ہوں جیسا کہ امریکی یا بھارتی یا پھر جن کی اصل شہ ہو جیسا کہ یہودی میں تو تمام دہشت گردوں سے نفرت کرتا ہوں

سب سے بڑا دہشت گرد اسرائیل
دوسرے نمبر بڑا دہشت گرد امریکہ
تیسرے نمبر دہشت گرد بھارت
چو تھے نمبر دہشت گرد تحریک طالبان پاکستان

اور ان سب پر لعنت۔لیکن آج کل خاص طور ہر امریکہ پر ویسے اسرائیل کا نمبر ون پھر بھی ہے
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (27-09-11), ننھا بچہ (28-09-11), مرزا عامر (27-09-11), شمشاد احمد (27-09-11)
پرانا 27-09-11, 11:45 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 678
کمائي: 12,900
شکریہ: 0
368 مراسلہ میں 710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

جو چيز پاکستان کو کمزور کر رہی ہے وہ دہشت گردی، متعدد دہشت گرد تنظيميں اور اس کے نتيجے ميں پيدا ہونے والی بے چينی کی فضا ہے نا کہ امريکی حکومت جو کہ اب تک حکومت پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے ليے کئ ملين ڈالرز کی امداد دے چکی ہے۔ اگر امريکہ کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہوتا تو اس کے ليے دہشت گردوں کی کارواۂياں ہی کافی تھيں، امريکہ کو اپنے 10 بلين ڈالرز ضائع کرنے کی کيا ضرورت تھی۔ يہ بھی ايک حقيقت ہے کہ بہت سے سرکردہ دہشت گردوں نے پاکستانی نظام کو سرے سے ختم کرنے اور اسے اپنے نظريات ميں ڈھالنے کے حوالے سے اپنے ارادوں کا برملا اظہار کيا ہے۔

کچھ لوگ امريکہ پر يہ بے سروپا الزام لگاتے ہيں کہ ہم ان افراد اور گروہوں کو فنڈنگ فراہم کرتے ہيں جو کم سن بچوں کی برين واشنگ کر کے انھيں دہشت گرد بناتے ہيں اور پاکستان بھر ميں تبائ کا موجب بنتے ہيں۔ ليکن يہ دعوی کرنے والے يہ فراموش کر ديتے ہیں کہ پاکستان کی سول اور عسکری قيادت تو امريکی حکومت کے ساتھ مل کر اس عفريت کے خاتمے کے ليے کوشاں ہے۔ سوال يہ ہے کہ اگر امريکہ پاکستان ميں دہشت گردی کا ذمہ دار ہے تو پھر پاکستان کی فوج ان کوششوں ميں امريکہ کی مدد اور سپورٹ کيوں کرے گی؟ اگر آپ تازہ اخباری شہ سرخياں ديکھيں تو آپ پر واضح ہو جاۓ گا کہ پاکستانی فوج تو خود دہشت گردوں تنظيموں اور خودکش بمباروں کا ہدف بنی ہوئ ہے۔ اسی طرح اہم پاکستانی سياسی قيادت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سينير اہلکار بھی روزانہ ان کا نشانہ بن رہے ہيں۔ کراچی اور پشاور ميں ہونے والے تازہ حملوں سے يہ واضح ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس لڑائ ميں بے مثال قربانی دے رہے ہیں۔

يقينی طور پر اگر امريکہ پر لگاۓ جانے والے الزامات میں صداقت ہوتی تو پاکستانی حکومت ہمارے ساتھ تعاون اور دہشت گردی کے خاتمے کے ضمن ميں مشترکہ جدوجہد کا حصہ نہ ہوتی۔

ان حملوں کے ذمہ دار افراد نے ان حملوں کے حوالے سےاعتراف بھی کر ليا ہے اور اپنی خونی ايجنڈے کو جاری رکھنے کے لیے دھمکی بھی دی ہے۔ اب اگر حکومت پاکستان اور افواج پاکستان ان افراد اور گروہوں کے خلاف کاروائ کرتی ہے جو ان حملوں کے ذمہ دار ہيں تو کيا آپ اسے امريکہ کی جنگ کہيں گے؟ ان حملوں ميں کسی امريکی کی موت نہيں ہوئ۔ حکومت پاکستان اور فوج کی کاروائ پاکستان کے عوام کی حفاظت کو يقينی بنانے اور ان افراد کو انصاف کے کٹہرے ميں لانے کے ليے ہو گی جن کے ہاتھوں پر پاکستانی خون ہے۔ کسی بھی رياست اور فوج سميت اس کے تمام اداروں کی يہ بنيادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنے شہريوں کی حفاظت کو يقينی بناۓ۔

اس ميں کوئ شک نہيں کہ امريکہ اور پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کر رہے ہيں اور اس کاوش ميں وسائل کا اشتراک، تکنيکی مہارت، لاجسٹک سپورٹ اور فوجی تعاون بھی شامل ہے۔ ليکن مجموعی مقاصد اور دہشت گردی کے خاتمے اور ان دہشت گرد گروہوں کو قلع قمع کرنے کے نتيجے ميں خطے ميں جس ديرپا استحکام اور امن کا حصول ممکن ہو سکے گا وہ دونوں ممالک کے باہمی مفاد ميں ہے۔ اس تناظر میں يہ کہنا بالکل غلط ہے کہ پاکستانی فوج کو خطے ميں امريکہ کی جنگ کے ليے استعمال کيا جا رہا ہے۔

دنيا کی کوئ بھی فوج اپنے فوجيوں کی جان کی قربانی اور اپنے وسائل صرف اپنے عوام کے بہترين مفاد میں ہی صرف کرتی ہے۔ امريکی حکومت پاکستانی فوج کے بہادر سپاہيوں کی بے پناہ قربانيوں کو پوری طرح تسليم بھی کرتی ہے اور اسے قابل احترام بھی سمجھتی ہے، جنھوں نے پاکستان کے معصوم شہريوں کی جانوں کی حفاظت کے ليے اپنی جانوں کا نذرانہ پيش کيا ہے

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-09-11, 02:03 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 761
کمائي: 15,398
شکریہ: 2,135
582 مراسلہ میں 1,659 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
کچھ لوگ امريکہ پر يہ بے سروپا الزام لگاتے ہيں کہ ہم ان افراد اور گروہوں کو فنڈنگ فراہم کرتے ہيں جو کم سن بچوں کی برين واشنگ کر کے انھيں دہشت گرد بناتے ہيں اور پاکستان بھر ميں تبائ کا موجب بنتے ہيں۔
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
حقیقت ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں

Last edited by dxbgraphics; 28-09-11 at 03:54 PM.
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-09-11, 06:41 AM   #12
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,538
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
جو چيز پاکستان کو کمزور کر رہی ہے وہ دہشت گردی، متعدد دہشت گرد تنظيميں اور اس کے نتيجے ميں پيدا ہونے والی بے چينی کی فضا ہے نا کہ امريکی حکومت جو کہ اب تک حکومت پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے ليے کئ ملين ڈالرز کی امداد دے چکی ہے۔ اگر امريکہ کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہوتا تو اس کے ليے دہشت گردوں کی کارواۂياں ہی کافی تھيں، امريکہ کو اپنے 10 بلين ڈالرز ضائع کرنے کی کيا ضرورت تھی۔ يہ بھی ايک حقيقت ہے کہ بہت سے سرکردہ دہشت گردوں نے پاکستانی نظام کو سرے سے ختم کرنے اور اسے اپنے نظريات ميں ڈھالنے کے حوالے سے اپنے ارادوں کا برملا اظہار کيا ہے۔

کچھ لوگ امريکہ پر يہ بے سروپا الزام لگاتے ہيں کہ ہم ان افراد اور گروہوں کو فنڈنگ فراہم کرتے ہيں جو کم سن بچوں کی برين واشنگ کر کے انھيں دہشت گرد بناتے ہيں اور پاکستان بھر ميں تبائ کا موجب بنتے ہيں۔ ليکن يہ دعوی کرنے والے يہ فراموش کر ديتے ہیں کہ پاکستان کی سول اور عسکری قيادت تو امريکی حکومت کے ساتھ مل کر اس عفريت کے خاتمے کے ليے کوشاں ہے۔ سوال يہ ہے کہ اگر امريکہ پاکستان ميں دہشت گردی کا ذمہ دار ہے تو پھر پاکستان کی فوج ان کوششوں ميں امريکہ کی مدد اور سپورٹ کيوں کرے گی؟ اگر آپ تازہ اخباری شہ سرخياں ديکھيں تو آپ پر واضح ہو جاۓ گا کہ پاکستانی فوج تو خود دہشت گردوں تنظيموں اور خودکش بمباروں کا ہدف بنی ہوئ ہے۔ اسی طرح اہم پاکستانی سياسی قيادت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سينير اہلکار بھی روزانہ ان کا نشانہ بن رہے ہيں۔ کراچی اور پشاور ميں ہونے والے تازہ حملوں سے يہ واضح ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس لڑائ ميں بے مثال قربانی دے رہے ہیں۔

يقينی طور پر اگر امريکہ پر لگاۓ جانے والے الزامات میں صداقت ہوتی تو پاکستانی حکومت ہمارے ساتھ تعاون اور دہشت گردی کے خاتمے کے ضمن ميں مشترکہ جدوجہد کا حصہ نہ ہوتی۔

ان حملوں کے ذمہ دار افراد نے ان حملوں کے حوالے سےاعتراف بھی کر ليا ہے اور اپنی خونی ايجنڈے کو جاری رکھنے کے لیے دھمکی بھی دی ہے۔ اب اگر حکومت پاکستان اور افواج پاکستان ان افراد اور گروہوں کے خلاف کاروائ کرتی ہے جو ان حملوں کے ذمہ دار ہيں تو کيا آپ اسے امريکہ کی جنگ کہيں گے؟ ان حملوں ميں کسی امريکی کی موت نہيں ہوئ۔ حکومت پاکستان اور فوج کی کاروائ پاکستان کے عوام کی حفاظت کو يقينی بنانے اور ان افراد کو انصاف کے کٹہرے ميں لانے کے ليے ہو گی جن کے ہاتھوں پر پاکستانی خون ہے۔ کسی بھی رياست اور فوج سميت اس کے تمام اداروں کی يہ بنيادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنے شہريوں کی حفاظت کو يقينی بناۓ۔

اس ميں کوئ شک نہيں کہ امريکہ اور پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کر رہے ہيں اور اس کاوش ميں وسائل کا اشتراک، تکنيکی مہارت، لاجسٹک سپورٹ اور فوجی تعاون بھی شامل ہے۔ ليکن مجموعی مقاصد اور دہشت گردی کے خاتمے اور ان دہشت گرد گروہوں کو قلع قمع کرنے کے نتيجے ميں خطے ميں جس ديرپا استحکام اور امن کا حصول ممکن ہو سکے گا وہ دونوں ممالک کے باہمی مفاد ميں ہے۔ اس تناظر میں يہ کہنا بالکل غلط ہے کہ پاکستانی فوج کو خطے ميں امريکہ کی جنگ کے ليے استعمال کيا جا رہا ہے۔

دنيا کی کوئ بھی فوج اپنے فوجيوں کی جان کی قربانی اور اپنے وسائل صرف اپنے عوام کے بہترين مفاد میں ہی صرف کرتی ہے۔ امريکی حکومت پاکستانی فوج کے بہادر سپاہيوں کی بے پناہ قربانيوں کو پوری طرح تسليم بھی کرتی ہے اور اسے قابل احترام بھی سمجھتی ہے، جنھوں نے پاکستان کے معصوم شہريوں کی جانوں کی حفاظت کے ليے اپنی جانوں کا نذرانہ پيش کيا ہے

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
بعد میں جواب دونگا تمہاری اس بیہودہ قسم کی وکالت کے ۔ پاکستان میں لائٹ کا بھی اشو ہے
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (30-09-11)
پرانا 29-09-11, 11:57 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 678
کمائي: 12,900
شکریہ: 0
368 مراسلہ میں 710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
دوسری طرف امریکہ اپنی منحوس کور روائیوں کا الزام بھی اپنے اوپر لینے کے بجائے معصوم بچوں کو استعمال کرواکر ان پر ڈلوا رہا ہے۔
پاکستانی قوم اب اس سے مکمل با خبر ہو چکی ہے۔
پاکستان کا دوست امریکہ پہلے ان معصوموں کو استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کرواتا تھا لیکن اب دوستی میں اضافے کی وجہ سے اس نے پاکستان میں براہ راست حملے کی دھمکی دے دی ہے۔ شکریہ امریکہ

اگر آپ اس ويڈيو کو ديکھيں تو اس ميں واضح ہے کہ طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن کی تفصيل دکھائ گئ ہے۔ ان کی جانب سے ان حملوں کا برملا اعتراف پاکستانی ميڈيا کے سامنے کيا گيا۔ بلکہ ايسے بے شمار حملے ہيں جن کی ذمہ داری قبول کی گئ ہے۔

يہ بات توجہ طلب ہے کہ ايک جانب تو راۓ دہندگان انسانی زندگی کے زياں پر افسوس کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور دہشت گردی کے جاری واقعات کے سبب معاشرے کی شکست وريخت پر بھی کف افسوس ملتے ہيں ليکن پھر جو گروہ اور افراد ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہيں ان کو ہدف تنقيد بنانے کی بجاۓ وہ پھر وہی پرانی اور گھسی پٹی سازشوں کا تذکرہ شروع کر ديتے ہيں جن کے مطابق بليک واٹر يا کوئ اور بيرونی ان ديکھی قوت ان حملوں کی ذمہ دار ہے۔

کيا اس سوچ ميں دانش کا کوئ پہلو ہے کہ بغير کسی ثبوت اور شواہد کے چند افراد کی اختراح کردہ بے سروپا کہانيوں پر تو لاحاصل بحث و مباحثہ کو طول ديا جاۓ ليکن ان آوازوں کو يکسر نظرانداز کر ديا جاۓ جو برملا ان جرائم کا اعتراف بھی کر رہی ہيں اور مستقبل ميں بھی اپنے قتل وغارت گری کے ايجنڈے کو جاری رکھنے کا تہيہ کيے ہوۓ ہيں۔

اس دليل ميں کيا کوئ عقل و فہم کا عنصر ہے؟

وقت کا تقاضا ہے کہ ان دہشت گردوں کے مقاصد اور ارادوں سے متعلق کسی بھی قسم کے ابہام سے اپنی سوچ کو آزاد کيا جاۓ۔ انھوں نے اپنے سفاکانہ اعمال اور دقيانوسی نظريات سے يہ واضح کر ديا ہے کہ پاکستانی معاشرے، يہاں کے رہنے والوں کی بہتری اور ملک کے مستقبل کے معماروں کی فلاح ان کے مذموم ارادوں کی راہ ميں رکاوٹ ہے۔

افراتفری اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار معاشرہ جس ميں مايوسی کا دور دورہ ہو ايک ايسے ماحول کو جنم دينے کا سبب بنتا ہے جو ان کی صفوں میں مزيد افراد کو شامل کرنے کے ليے انتہائ سودمند ثابت ہوتا ہے۔

پاکستان اس لڑائ میں تنہا نہيں ہے۔ ليکن معاشرے کے تمام مقطبہ فکر کی جانب سے اجتماعی کاوش کی ضرورت ہے تا کہ اس ناسور کا قلع قمع کيا جا سکے جو کہ اب ايک عالمی مسلۂ اور ہم سب کے ليے مشترکہ خطرہ ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-10-11, 08:19 PM   #14
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,538
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
اگر آپ اس ويڈيو کو ديکھيں تو اس ميں واضح ہے کہ طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن کی تفصيل دکھائ گئ ہے۔ ان کی جانب سے ان حملوں کا برملا اعتراف پاکستانی ميڈيا کے سامنے کيا گيا۔ بلکہ ايسے بے شمار حملے ہيں جن کی ذمہ داری قبول کی گئ ہے۔

يہ بات توجہ طلب ہے کہ ايک جانب تو راۓ دہندگان انسانی زندگی کے زياں پر افسوس کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور دہشت گردی کے جاری واقعات کے سبب معاشرے کی شکست وريخت پر بھی کف افسوس ملتے ہيں ليکن پھر جو گروہ اور افراد ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہيں ان کو ہدف تنقيد بنانے کی بجاۓ وہ پھر وہی پرانی اور گھسی پٹی سازشوں کا تذکرہ شروع کر ديتے ہيں جن کے مطابق بليک واٹر يا کوئ اور بيرونی ان ديکھی قوت ان حملوں کی ذمہ دار ہے۔

کيا اس سوچ ميں دانش کا کوئ پہلو ہے کہ بغير کسی ثبوت اور شواہد کے چند افراد کی اختراح کردہ بے سروپا کہانيوں پر تو لاحاصل بحث و مباحثہ کو طول ديا جاۓ ليکن ان آوازوں کو يکسر نظرانداز کر ديا جاۓ جو برملا ان جرائم کا اعتراف بھی کر رہی ہيں اور مستقبل ميں بھی اپنے قتل وغارت گری کے ايجنڈے کو جاری رکھنے کا تہيہ کيے ہوۓ ہيں۔

اس دليل ميں کيا کوئ عقل و فہم کا عنصر ہے؟

وقت کا تقاضا ہے کہ ان دہشت گردوں کے مقاصد اور ارادوں سے متعلق کسی بھی قسم کے ابہام سے اپنی سوچ کو آزاد کيا جاۓ۔ انھوں نے اپنے سفاکانہ اعمال اور دقيانوسی نظريات سے يہ واضح کر ديا ہے کہ پاکستانی معاشرے، يہاں کے رہنے والوں کی بہتری اور ملک کے مستقبل کے معماروں کی فلاح ان کے مذموم ارادوں کی راہ ميں رکاوٹ ہے۔

افراتفری اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار معاشرہ جس ميں مايوسی کا دور دورہ ہو ايک ايسے ماحول کو جنم دينے کا سبب بنتا ہے جو ان کی صفوں میں مزيد افراد کو شامل کرنے کے ليے انتہائ سودمند ثابت ہوتا ہے۔

پاکستان اس لڑائ میں تنہا نہيں ہے۔ ليکن معاشرے کے تمام مقطبہ فکر کی جانب سے اجتماعی کاوش کی ضرورت ہے تا کہ اس ناسور کا قلع قمع کيا جا سکے جو کہ اب ايک عالمی مسلۂ اور ہم سب کے ليے مشترکہ خطرہ ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
فواد ڈیجیٹل ،کلمہ حق ، اداس ساحل ، اجل کنول اور انکے دوستوں سے سوالات
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-10-11, 10:16 PM   #15
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,538
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
اگر آپ اس ويڈيو کو ديکھيں تو اس ميں واضح ہے کہ طالبان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن کی تفصيل دکھائ گئ ہے۔ ان کی جانب سے ان حملوں کا برملا اعتراف پاکستانی ميڈيا کے سامنے کيا گيا۔ بلکہ ايسے بے شمار حملے ہيں جن کی ذمہ داری قبول کی گئ ہے۔

يہ بات توجہ طلب ہے کہ ايک جانب تو راۓ دہندگان انسانی زندگی کے زياں پر افسوس کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور دہشت گردی کے جاری واقعات کے سبب معاشرے کی شکست وريخت پر بھی کف افسوس ملتے ہيں ليکن پھر جو گروہ اور افراد ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہيں ان کو ہدف تنقيد بنانے کی بجاۓ وہ پھر وہی پرانی اور گھسی پٹی سازشوں کا تذکرہ شروع کر ديتے ہيں جن کے مطابق بليک واٹر يا کوئ اور بيرونی ان ديکھی قوت ان حملوں کی ذمہ دار ہے۔

کيا اس سوچ ميں دانش کا کوئ پہلو ہے کہ بغير کسی ثبوت اور شواہد کے چند افراد کی اختراح کردہ بے سروپا کہانيوں پر تو لاحاصل بحث و مباحثہ کو طول ديا جاۓ ليکن ان آوازوں کو يکسر نظرانداز کر ديا جاۓ جو برملا ان جرائم کا اعتراف بھی کر رہی ہيں اور مستقبل ميں بھی اپنے قتل وغارت گری کے ايجنڈے کو جاری رکھنے کا تہيہ کيے ہوۓ ہيں۔

اس دليل ميں کيا کوئ عقل و فہم کا عنصر ہے؟

وقت کا تقاضا ہے کہ ان دہشت گردوں کے مقاصد اور ارادوں سے متعلق کسی بھی قسم کے ابہام سے اپنی سوچ کو آزاد کيا جاۓ۔ انھوں نے اپنے سفاکانہ اعمال اور دقيانوسی نظريات سے يہ واضح کر ديا ہے کہ پاکستانی معاشرے، يہاں کے رہنے والوں کی بہتری اور ملک کے مستقبل کے معماروں کی فلاح ان کے مذموم ارادوں کی راہ ميں رکاوٹ ہے۔

افراتفری اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار معاشرہ جس ميں مايوسی کا دور دورہ ہو ايک ايسے ماحول کو جنم دينے کا سبب بنتا ہے جو ان کی صفوں میں مزيد افراد کو شامل کرنے کے ليے انتہائ سودمند ثابت ہوتا ہے۔

پاکستان اس لڑائ میں تنہا نہيں ہے۔ ليکن معاشرے کے تمام مقطبہ فکر کی جانب سے اجتماعی کاوش کی ضرورت ہے تا کہ اس ناسور کا قلع قمع کيا جا سکے جو کہ اب ايک عالمی مسلۂ اور ہم سب کے ليے مشترکہ خطرہ ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
شیطان کی معلوم ہے کیا فطرت ہے وہ انسان نہ کہ صرف پاکستانیوں اور مسلمانوں کو بلکہ انسان کو اس کے نرم پہلو کی طرف سے اکساتا ہے ۔ یعنی کہ جس معاملے میں انسان نرم ہوتا ہے وہیں سے وہ فتنہ داخل کرتا ہے۔ اور امریکہ بہادر یہی پالیسی پاکستانیوں کے ساتھ اپنائے ھوئے ہے۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
com, email, facebook, pages, school, sta, state, url, يو, فواد, ٹيم, پشاور, ڈيجيٹل, محفوظ, wall, www, you, youtube, آؤٹ, ايس, اسٹيٹ, بچے, حملہ, ريچ, عتاب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تجربہ تو كرنے ديں۔ شمشاد احمد تعلیم و تربیت 10 04-10-11 11:58 AM
مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبروں کا انکشاف، 2156 شہری دفن ہیں، بھارت نے بھی اعتراف کرلیا گلاب خان خبریں 0 22-08-11 03:34 AM
عادل سہيل بھائي كہاں ہيں۔ شمشاد احمد آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 4 24-06-11 03:44 AM
پھر مشکل پڑ گئی ،کھلاڑیوں نے پیسوں کا اعتراف کرلیا:پی سی بی ، برطانوی اخبار بھی مزید انکشاف کرے گا جاویداسد خبریں 0 04-09-10 02:35 PM
داڑھی پر مسلمانوں کے اعتراضات عبداللہ حیدر اسلامی نظریہ حیات 10 07-06-09 09:37 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:56 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger