برطانیہ اور فرانس نے خلیج فارس سے منسلک خطّے میں اپنے فوجی بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اتحادی ایران کے ساتھ جنگ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ذرایع ابلاغ عامہ باخبر عسکری حوالوں سے خبر دے رہے ہیں کہ موسم گرما کے آغاز میں ہی پہلا وار ہو سکتا ہے۔
موجودہ اطلاعات کے مطابق یہ فوجی آبنائےہرمز کے جنوب میں واقع جزیرہ اومان میں مصیرہ کے مقام پر اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں امریکہ کا جنگی فضائی اڈّہ ہے۔ اس وقت خلیج فارس میں دو طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے موجود ہیں۔ ایسی اطلاعات ملنے لگی ہیں کہ جلد ہی ان کے ساتھ ایک اور طیارہ بردار جنگی جہاز مع سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازاور جوہری آبدوز کے آ ملے گا۔ اسرائیل اور کویت میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور عرب امارات میں برطانیہ اور فرانس کے فوجی دستے بھی پہنچنے لگے ہیں۔ اخبارات میں ایسی خبریں بھی شائع ہو رہی ہیں کہ بحر ہند میں برطانیہ کے زیر تسلّط جزیرے ڈیگو گارشیا میں ایسے سینکڑوں بھاری بم جمع کئے جا چکے ہیں جو زیر زمین محفوظ ترین عمارات کو بھی تباہ کر سکتے ہیں۔
خلیج فارس سے منسلک خطے میں فوجی دستوں کا اجتماع بذات خود قابل انفجارحالات پیدا کرنے کا موجب بن رہا ہے کیونکہ ایسے میں اتفاقی طور پر صرف ایک گولی چلنا ہی کافی ہوگا اور فریقین ایک دوسرے پر پل پڑیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے ذمّہ دار مغربی اتحادی ہونگے، ایک ماہر مبصّر ولادیمیر ساژن کہتے ہیں،" اگر جنگ شروع ہو گئی تو امریکہ کے ساتھ طاقتور بحری قوت اور بے تحاشا طیارے شامل ہو جائیں گے، ساتھ ہی بحر ہند میں واقع جزیرہ ڈیگو گارشیا پر امریکہ کا جنگی فضائی اڈّہ بن جائے گا، جہاں سے ایران پر بمباری کے لیے طیارے اڑیں گے کیونکہ یہ جزیرہ کوئی اتنا دور نہیں ہے۔ برطانیہ اور فرانس امریکہ کے ساتھ مل جائیں گے اور خلیج فارس سے منسلک تیل سے مالامال ریاستوں کی بادشاہتیں بھی امریکہ کے حامی ہونگے لیکن ایران کا خطّے میں عملی طور پر کوئی بھی اتحادی نہیں ہے۔ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے اپنے حالات اس وقت اچھے نہیں ہیں۔ لبنان کی حزب اللہ ہی واحد قوت ہوسکتی ہے جس پر ایران تکیہ کرسکے اور یا پھر ممکن ہے غزہ پٹّی میں"حماس" والوں پر۔
خلیج فارس کے گرد فوجوں کا اجتماع اور حالات کا کشیدہ ہونا، ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تہران اوربین الاقوامی تنظیموں کے مابین شروع ہو جانے والے مذاکرات کو ختم کیے جانے کی وجہ بن سکتا ہے۔ روس اپنے اس موقف پر قایم ہے کہ ایران کا مسئلہ طاقت کے استعمال یا پابندیاں لگانے سے حل نہیں کیا جا سکتا، اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ویتالی چورکن نے کہا،"ہم بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ پابندیاں لگائے جانے کی اہمیت ختم ہو چکی ہے اور اب ایران کے مسئلے کو سلامتی کونسل میں پیش کرنے کا جواز باقی نہیں رہا۔ چاہیے یہ کہ ایران اور عالمی ایجنسی برائے جوہری توانائی کے درمیان سنجیدگی سے مذاکرات ہوں جن سے بہتر نتائج کے اشارے مل رہے ہیں۔ ایران میں ایجنسی مذکورہ کے معائنہ کار جا چکے ہیں۔ ایرانیوں کے ساتھ شش طرفہ مذاکرات پھر سے شروع کرنے بارے بحث جاری ہے۔ کچھ امیدیں تو ہیں ہی لیکن مغرب اور ایران کے مابین مناقشے کی بڑھتی ہوئی صورتحال پریشان کن ہے۔ یہ 2012 کا ایک تند ترین معاملہ ہوگا۔"
خلیج فارس میں جنگ کی آگ بھڑک اٹھنے کے امکان پر تشویش میں روس کے ساتھ چین سمیت بہت سے اور ملک بھی شامل ہیں لیکن افسوس تو یہ ہے کہ تاحال کوئی احتجاج، کوئی انتباہ مغرب کو مشرق وسطٰی میں ایک اور مناقشہ شروع کرنے کے ارادے سے باز رکھنے کے کام نہیں آ رہا۔