اسلام آباد: 56 سالہ زاہرہ بی بی کے لئے یہ ایک بڑا ہی جذباتی لمہ تھا ۔ جب ہفتے کے روز انہوں نے اپنا خواب پورا دیکھا جس میں ان کی دو بیٹیاں ایک اجتمائی شادی کی تقریب میں رخصت ہوئیں جو سیالکوٹ میں واقع ہوئی۔ زاہرہ کا شوہر کوئی دس سال پہلے ایک حادثے میں انتقال کرگیا تھا اور اس کے بعد اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس طرح ان کی شادی کروا پائے گی جب وہ بڑی ہوں گی۔
وہ اجتمائی شادی کرانے والوں کی شکرگزار ہے جنہوں نے یہ ممکن بنایا کہ زاہرہ بی بی اپنی بیٹیوں کو رخصت کرپائیں۔ زاہرہ کا کہنا ہے کہ اگر انہیں شادی کرنی پڑتی ، تو انہیں تقریبا 200000 روپے کا خرچہ اٹھانا ہوتا۔ عام خاندانوں کے لئے شادی ایک مشکل کام بن گیا ہے، اور پاکستان جیسے ملکوں میں لڑکی والوں کو جہیز اور بہت سارے تحائف لڑکے والوں کو دینے ہوتے ہیں۔
Mass wedding ceremony: a blessing for poor families | Pakistan | DAWN.COM