|
احتجاج کے بعد بجلی کہاں سے آگئی؟ سپریم کورٹ

27-10-11, 10:12 PM
2011 : اکتوبر-27
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) رینٹل پاورپر اجیکٹس کیس کی سماعت نے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ عوام کے احتجاج پر اتنی جلدی بجلی کہاں سے آگئی ہے جس پر فیصل صالح حیات نے بتایاکہ وزارت پانی و بجلی حکومت کو گمراہ کررہی ہے۔ رینٹل پاور پراجیکٹس پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران فیصل صالح حیات نے اپنے دلائل میں کہاکہ ملک میں 22,22گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی گئی ہے جس پر ہنگامے ہوئے اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے تو لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی جس پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے استفسار کیاکہ سڑکوں پر آنے کے بعد بجلی کہاں سے آگئی؟ فیصل صالح حیات کاکہناتھاکہ بجلی آنے کے علاوہ اتنی جلدی کہاں سے آگئی۔ اُنہوں نے عدالت کو بتایاکہ جان بوجھ کر عوام کو عذاب سے دوچار کیاگیاجبکہ وسائل کو استعمال نہیں کیاجارہا حالانکہ آئی پی پیز سے مزید چھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اُن کاکہناتھاکہ وزارت پانی و بجلی حکومت کو گمراہ کررہی ہے جبکہ آڈیٹر جنرل نے پاور پراجیکٹس میں پچاس ارب روپے کرپشن کی تصدیق کی ہے اورایشین بنک نے کرپشن کی رپورٹ بھی دی ہے جس پرعدالت کاکہناتھاکہ آپ خود کابینہ کے رکن ہیں تو وہاں کیوں نہیں آوازا ُٹھاتے ؟ کابینہ کارکن ہونے کے علاوہ بطور پاکستانی کرپشن کے خلاف آواز اُٹھانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس کاکہناتھاکہ اعظم سواتی کی مثال لیں جو اپنے ساتھی وزیر کے خلاف کھڑے ہوئے اور وزارت کی قربانی دی جبکہ عدالت کاکام صرف فیصلہ کرناہے۔ فیصل صالح حیات کاکہنا تھاکہ وہ بطور رکن کابینہ اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہورہاجس پرعدالت نے کہاکہ اب آپ کی صورتحال مختلف ہے اور خود کو کیس سے الگ نہیں ہوسکتے۔ بعد ازاں خواجہ آصف نے رینٹل پاور پراجیکٹس سے بجلی پیدا کرنے کی تفصیلات سپریم کورٹ میں پیش کردیں جس میں بتایاگیاکہ رینٹل منصوبوں سے 42روپے فی یونٹ پڑ رہی ہے ۔فیصل صالح حیات نے عدالت کو بتایاکہ 19میں سے پانچ پروجیکٹ اقبال زیڈ احمد کو دیے گئے جبکہ 2006ءمیں دیے گئے پروجیکٹ ابھی تک مکمل نہیں کیے گئے جس پر عدالت نے رینٹل پاور پروجیکٹس کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے عوام کو دی جانے والی بجلی کی قیمتوں کی تفصیلات طلب کرلیں
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|