واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور مسلم امہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-07-08, 02:49 PM   #1
اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور مسلم امہ
Real_Light Real_Light آف لائن ہے 27-07-08, 02:49 PM

اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور مسلم امہ

حکیم امین الدولہ کا قول ہے.قوت ہی حق ہے.اورکسی قوم کے لئے اسکی اپنی طاقت کے سوا حق کی حفاظت کا کوئی زریعہ نہیں.پاکستان کے سابق کمانڈر انچیف ایوب خان نے ایک مرتبہ کیا خوب بات کہی تھی.نظریاتی اختلاف کو تلخی اور تشدد میں نہیں بدلنا چاہیے.ایران اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے قوانین کی رو سے جوہری قوت کے پروگرام کو کامیابی عزم و حوصلے سے آگے بڑھا رہا ہے.کیونکہ امین الدولہ کے قول کی روشنی میں دنیا کی ہر قوم کو اخلاقی قانونی اور تہذیبی طور پر اپنی سلامتی کے تحفظ کے لئے عسکری قوت کے حصول کا حق ہے.لیکن ستم تو یہ ہے.کہ امریکہ کی سربراہی میں دنیا بھر کے وسائل کو اپنے تصرف میں لانے کے لئے سرگرم عمل خونی ٹولہ.دنیا کی معیشت پر سانپ بن کر مسلط صہیونی اور صلیبی قبیلہ ایران کو جوہری قوت کے جائز حق سے تہی دامان کرنا چاہتا ہے.

امریکہ و اسرائیل کئی سالوں سے ایران کے جوہری پروگرام کو دہشت گردی سے منسوب کرکے نیست و نابود کرنے کا غوغہ مچارہے ہیں.ایران کی جوہری قوت کو کبھی اسرائیل کی سلامتی کے لئے خطرناک ڈیکلیر کرکے تہران پر جنگ مسلط کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں. اور کبھی ایران کو برائی کے محور کا لقب دیکر اسے دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کے الزامات کا طومار باندھا جاتا ہے.ایران کا جوہری پروگرام بش اور یہود المروٹ سمیت مسلم امہ کو اپنا غلام بنانے اور اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی غلیظ و بدبودار خواہش کے پیروکاروں اور مغربی حکمرانوں کے سینوں پر سانپ کی طرح رینگ رہا ہے.اور بش ایسا خونی ہاتھی ہر صورت ایران پر شب خون مارنے کی ہیجان انگیزی میں مبتلا ہے.کیونکہ بش اور المروٹ کا تعلق سرمایاداریت کے ان نگہبانوں میں ہوتا ہے.جو مال و دولت کی ہوس میں لاکھوں کروڑوں انسانوں کو خون کی وادیوں میں دفن کرنے سے نہیں چوکتے.

یوں یہ امر قابل زکر اور زندہ جاوید سچائی کے روپ میں دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ اسرائیل تہران پر بارود برسانے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے.یوں تو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے قصے روزانہ منظر عام پر اتے ہیں.لیکن حال ہی میں امریکہ کے معتبر روزنامے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ سے یہ حقیقت جھلکتی ہے.کہ ایران پر حملے کی تیاریاں زور شور سے کی جارہی ہیں.نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے مشرقی بحیرہ روم اور یونان میں جنگی مشقیں کیں.جن میں دو سو سے زائد امریکی ساخت کے ایف سولہ اور ایف پندرہ طیاروں نے حصہ لیا. درجنوں ہیبت ناک ہیلی کاپٹروں نے بھی ان مشقوں میں اپنے فن دکھائے.جو جہازوں سے کودنے والے پائلٹوں کی جان بچانے کا کام کریں گے.علاوہ ازیں اسرائیلی ہیلی کاپٹروں اور فیول ٹینکروں نے بھی نوسو میل لمبی پرواز کی.

اتفاق ملاحظہ کیجئے کہ اسرائیل اور ایران کے جوہری پلانٹ کا ہوائی فاصلہ بھی نو سو میل ہے.امریکی حکام کے مطابق اسرائیل عالمی برادری کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام اس کی سلامتی کے لئے خطرات سے پر ہے.نیویارک ٹائمز کے بقول اسرائیلی حکام نے ان مشقوں کو معمول کی کاروائی کہا ہے.پینٹاگون کے ایک عہدیدار اپنانام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتاتے ہیں کہ اسرائیل ایسی مکر کرنیوں سے امریکہ اور ایران پر یہ ظاہر کرنے میں جتا ہوا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کو سفارتی کوششوں سے رول بیک نہ کیا گیا تو پھر وہ تہران کو ٹارگٹ بنا سکتا ہے.امریکی زرائع نے اسرائیل کی حالیہ جنگی مشقوں کے تناظر میں رائے دی ہے.کہ وہ (امریکہ )نہیں جانتے کہ تل ایب تہران کے خلاف جنگ کا فیصلہ کرچکا ہے اور نہ ہی امریکی رائے زنی کرتے ہیں کہ حملہ ناگزیر ہے.امریکیوں کے ان دورخی بیانات کا مطلب اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے؛کہ اسرائیل کے ایسے اقدامات زیادہ تر نمائشی ہوتے ہیں.یہودیوں کی عیاری و مکاری انسانی تاریخ میں خاصی شہرت رکھتی ہے.صہیونی میڈیا مسلمانوں میں شکر رنجی پیدا کرنے کے لئے یہ پروپگنڈا کرہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام اسرائیل سے زیادہ عربوں کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے.ایران کے جوہری پروگرام کو عربوں کو ایران کے جوہری پروگرام سے خوف ذدہ کرنے کی سیاہ کاریوں میں وائٹ ہاوس بھی برابر کا شریک کار ہے.امریکہ کے ایک تحقیقی ادارے نے اس ضمن میں(ایران کے جوہری پروگرام نامی) تجزیاتی مکالے میں جسےanthony h cardsman نے تحریر کیا ہے. میں بھی ایسی لغویات کو اجاگر کیا گیا ہے.لیکن دوسری طرف اسرائیلی پالیسی سازوں کے عملی اقدامات سے امر کی تائید نہیں ہوتی .جس کا ایک ثبوت اسرائیل کی حالیہ مشقیں ہیں.

علاوہ ازیں صلیبی میڈیا ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف جو غل غپاڑہ کرتا رہتا ہے.اسکی وجہ یہ ہے کہ یہودی ایران کے ایٹمی پروگرام کو اپنی ناجائز ریاست کے لئے موت اور داعی اجل کا پیغام سمجھتے ہیں.لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہودیوں کا یہ گمان بھی حقیقت پر مبنی نہیں کیونکہ ایران ایٹم بم کی تکمیل سے کوسوں دور ہے.ایران سے زیادہ اسرائیل کا جوہری پروگرام خطے کے امن کے لئے شعلہ جوالا کی حثیت رکھتا ہے. یہودیوں کے پاس بیس سال قبل دو سو ایٹم بم تھے.جس کا انکشاف برطانوی میگزین سنڈے ٹائمز نے اکتوبر 1986 میں اسرائیلی مقام ڈیموٹا کے جوہری پلانٹ سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر کیا تھا.ڈیموٹا کےmordechie vanunu نام کے جوہری شعبے میں کام کرنے والے ملازم مورڈی جا اس جگہ کو ٹیکسٹائل مل سمجھتا تھا.لیکن جب اس پر یہ سربستہ راز منکشف ہوا کہ وہ انسانیت کش ہتھیار بنانے کے گناہ میں شریک کار ہے تو اس کے ضمیر نے اسے ملازمت چھوڑنے اور ڈیموٹا پلانٹ کے حقائق دنیا پر واہ کرنے پر اکسایا.اس نے ملازمت چھوڑنے سے پہلے ڈیموٹا کی تصاویر بنائیں اور پھر لندن میں اس نے تمام راز اور تصاویر سنڈے ٹائمز کو فراہم کردیں.جسکے ردعمل میں وہ موساد کے عتاب کا نشانہ بنا.موساد نے اسے اٹلی سے گرفتار کیا.اور اسے سچ کی راہ اختیار کرنے کی پاداش میں اٹھارہ سال کی جابرانہ قید بھگتنی پڑی.

اسرائیل کے پاس بیس سال قبل دوسو ایٹم بم تھے.لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے.کہ ان بیس سالوں میں امریکہ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے دست شفقت سے اسرائیل کی جوہری قوت کتنی طاقتور ہو گئی ہوگی.نیویارک ٹائمز نے اپنے ادارئیے میں اسرائیل اور امریکہ کو وارننگ دی ہے.کہ اگر اسرائیل نے امریکی سپورٹ سے ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ کیا تو ایران کی ایٹمی تنصیبات کو زیادہ نقصان نہ ہوگا.کیونکہ ایرانی تنصیبات زیر زمین ہیں.ایران پر حملے کی صورت میں ایرانی فورسز اپنی سمندری حدود سے گزرنے والی تیل پائپ لائنوں کو کاٹ کر یورپ میں صنعتی بحران پیدا کردیں گی.یوں خلیجی ممالک بالشمول کویت سعودی عرب عراق سے مغرب کو جانے والی تیل سپلائی رک جائے گی.جس سے مغربی انڈسٹری تباہی کے دہانے پہنچ جائے گی.یوں دنیا بھر میں کساد بازاری اور مہنگائی کا گراف اسمانوں کو چھو رہا ہوگا. نوم چومسکی نامی امریکی مفکر نے تو یہ پشین گوئی تک کردی ہے.کہ اگر امریکہ نے ایران پر شب خون مارنے کی حماقت کی تو اسے خفت اٹھانی پڑے گی.

امریکی دانشوروں کا ایک گروہ ایران کے خلاف امریکی شوشہ ارائی کو دوسری چال سے جوڑتا ہے.اس چال کے مطابق امریکی پروپگنڈے کا مقصد دیگر مسلم ممالک کو جوہری توانائی سے دور رکھنا ہے. .امریکہ اپنی اس مہم جوئی میں کامیاب ہے.کیونکہ پاکستان کے سوا کوئی اسلامی ملک جوہری قوت بنانے یا خریدنے کا نام تک نہیں لیتا.دنیا بھر کے تمام ممالک جب تک جوہری ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوجاتے تو اس وقت دنیا کے ہر ملک کو اپنی سلامتی کے لئے کسی بھی قسم کا اسلحہ یا بم بنانے یا حاصل کرنے کی ازادی ہونی چاہیے. ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات.جو قومیں اپنے دفاع سے غافل رہتی ہیں وہ ایک نہ ایک دن سامراجی طاقتوں کے لئے اسان ترنولہ بن کر قصہ پارینہ بن جاتی ہیںامریکہ اسرائیل کو مڈل ایسٹ کی سپرپاور بنانے کا خواہاں ہے.جبکہ یہ بھی سچائی ہے.کہ اسرائیل خلیج کی سب سے خطرناک ایٹمی قوت ہے.خطے میں امن و سلامتی کی ضمانت کے لئے طاقت کا توازن ضروری ہے.اسرائیل کی موجودگی میں ایران سمیت ہر خلیجی ریاست کا ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہونا ناگزیر ہے.بڑی طاقتیں اگر ایران کو ایٹمی قوت سے محروم کرنا چاہتی ہیں تو انہیں سب سے پہلے امریکہ کے ناجائز بچے اسرائیل کو آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ ایٹمی ہتھیار تلف کرے.مسلم حکمرانوں کو ایران کے جوہری مسئلہ پر امریکی و اسرائیلی منافقت کے خلاف یکسو ہو جانا چا ہیے.اور اس سلسلے میں او آئی سی کے بے حس گھوڑے کو بھی چابک مار کر متحرک کرنا چاہیے.ایران کے ایٹمی پروگرام سے عربوں کو خوف زدہ کرنے کی امریکی پالیسی میںdivide and rule والی پالیسی کی بو ارہی ہے.امریکہ مسلم ممالک کو اپس میں لڑوا کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتا ہے.او ائی سی کے ممبر ملکوں کو رب سائیں نے ایٹمی قوت سمیت ہزار ہا نعمتوں سے سرفراز کیا ہے.

مسلمان ریاستوں کو باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد و یکجہتی کے دامن کو تھامن لینا چاہیے.ورنہ امریکہ نام کا پاگل ہاتھی باری باری تمام مسلمان ملکوں کو روندنے سے گریز نہیں کریگا.مسلم حکمرانوں کو اخوت و یگانگت سے کام لیکر فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے متحدہ کاوششیں کرنی ہونگی.پاکستان کو بھی امریکی مریدی کے دائرے سے باہر انا چاہیے.کیونکہ یہودی طاقتیں ایران کے ہمراہ پاکستان کی جوہری قوت کو بھی خش و خاک کی طرح تہہ بالا کرنا چاہتی ہیں.امریکہ کی دوستی پر یقین رکھنا اپنی سلامتی کو خطرات کے بھنور کے سپرد کرنا ہے.ہاتھی چاہے کتنا مہذب ہی کیوں نہ ہو وہ سونڈ ہلانے سے باز نہیں اتا.دنیا کی ستاون اسلامی ریاستوں کو پاکستان کے مرحوم فوجی صدر کے اس جملے کہ نظریاتی رنجشوں کو تشدد کا زریعہ نہیں بطنانا چاہیے.کی روشنی میں خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ کر کفریہ طاقتوں کے خلاف متحد ہونا پڑے گا.ورنہ سب کچھ بیکار ہے.مسلمانوں کو امریکہ کی خوفناک عسکری طاقت سے ڈرانے والے جغادری و لال بجھکڑ ٹائپ حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو شکسپئیر کے اس فقرے کا مفہوم سمجھنا چاہیے.کہ اگر چڑیاں بھی متحد ہوجائیں تو شیر کی کھال ادھیڑ سکتی ہیں.ایرانی قوم کو کسی بھی صورت میں اپنے حق سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے

 
Real_Light's Avatar
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 192
Reply With Quote
جواب

Tags
فرقہ واریت, گمان, پاکستان, پاگل, قید, قصہ, لندن, مہنگائی, موت, ایٹم بم, ایران, امریکہ, اسلام, اسلامی, تحریر, تصاویر, جرم, حال, خلاف, خان, خدا, شور, طاقتور, عسکری, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:01 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger