|
اسلام آباد،ایمر جینسی اور پی سی او کیخلاف مظاہر ہ کر نیوالے طلبہ پر لاٹھی چارچ

06-12-07, 09:04 AM
اسلام آباد،ایمر جینسی اور پی سی او کیخلاف مظاہر ہ کر نیوالے طلبہ پر لاٹھی چارچ
اسلام آباد ( نمائندہ جنگ ) جوائنٹ ا سٹوڈنٹس موومنٹ کے زیر اہتمام بدھ کو طلبہ نے ایمرجنسی اور پی سی او کے نفاذ کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ طلبہ نے جلوس نکالا تھانہ آبپارہ پہنچنے پر پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جواب میں طلبہ نے پتھراوٴ کیا۔ مظاہرے میں ڈسٹرکٹ بار کے صدر ہارون الرشید اور سابق وفاقی وزیر جے سالک نے بھی شرکت کی۔ طلبہ کے پتھراؤ سے 2پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ طلبہ رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا تو جیل بھرو تحریک شروع کرینگے۔وفاقی دارالحکومت کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی مظاہرین تین نومبر والی عدلیہ کی بحالی اور میڈیا پر پابندیوں کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے ۔ مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر آئین کی بحالی کے نعرے درج تھے۔ طلب علم رہنماوٴں نے خبردار کیا کہ وہ آمریت کے خاتمے اور آئین کی بحالی کیلئے پر امن احتجاج کررہے ہیں مگر حکومت کی ہدایت پر پولیس نے طلبہ و سول سوسائٹی پر تشدد کرکے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اگر ہمارے احتجاج کو روکنے کیلئے تشدد کا راستہ اختیار کیاگیا تو ہم جیل بھرتحریک شروع کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ ہارون الرشید نے کہاکہ عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد وکلاء کا ایک مشن ہے جس کے لئے وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کا بھی عزم رکھتے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر جے سالک نے کہاکہ حکمرانوں نے عدلیہ کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے اس کی وجہ سے ہم دنیا بھر میں ذلیل ہورہے ہیں۔ ایمرجنسی اور پی سی او کی موجودگی میں وزارت عظمیٰ کیلئے جدوجہد کوئی دانشمندی نہیں۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو گلدستہ پیش کیا اور ان کی جدوجہد کو سلام پیش کیااس موقع پر طلب علم رہنماوٴں نے ججز کالونی جانے کا اعلان کیا تاہم بعد میں یہ پروگرام موخر کردیاگیا اور فیصلہ کیاگیا کہ طلبہ میلوڈی مارکیٹ کے سامنے چکر لگا کر منتشر ہوجائیں گے۔ تھانہ آبپارہ کے سامنے پہنچ کر طلبہ نے منتشر ہونے کا اعلان کیا اس موقع پر پولیس کے ایک گروپ نے لاٹھی چارج شروع کردیا جس کے جواب میں طلبہ نے پتھراوٴ کیاجس سے ایڈیشنل ایس پی کی گاڑی کو نقصان پہنچااور دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ تاہم سٹی مجسٹریٹ فراست علی خان نے طلبہ رہنماوٴں سے مل کر صورتحال کو مزید مخدوش ہونے سے بچالیا۔ پولیس اور طلبہ کے مابین جھڑپ کی اطلاع پر ایس ایس پی سید کلیم امام بھی موقع پر پہنچ گئے ۔ انہوں نے ڈیوٹی پر موجود پولیس افسروں کو ہدایت کی کہ وہ صرف حفاظتی فرائض انجام دیں شہریوں کے جاں ومال کا تحفظ یقینی بنائیں احتجاج کرنے والوں سے بلاجواز مت الجھیں ۔ اس موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی نے کہاکہ شہریوں کی حفاظت کیلئے کھڑے ہیں پرامن جلوس کی سہولت دینے کو تیار ہیں مگر احتجاج کرنے والوں کو بھی پولیس ملازمین سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|