|
اسلام آباد دھماکہ ،پاکستان کا نائن الیون، امریکہ

23-09-08, 05:46 PM
نیویارک۔
امریکا نے اسلام آباد خودکش دھماکے کو پاکستان کا 9/11 قرار دیتے ہوئے دھماکے کے بعد پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنے سے متعلق میڈیا تجاویز کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا رہے گا۔
ان خیالات کا اظہار امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان رابرٹ ووڈ نے نیو یارک میں صحافیوں کو معمول کی بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ ترجمان نے کہا کہ اگر ہفتے کو اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں ہونے والے خودکش دھماکے کو دیکھا جائے تو یہ ایک مثال ہے کہ ہمیں پاکستانیوں اور افغانیوں کو اس خطے میں استحکام اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے اپنی کوششوں کو دوگنا اور مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا القاعدہ و طالبان کے خطرے سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے ساتھ کام جاری رہے گا۔ ترجمان نے امریکاکی طرف سے میریٹ ہوٹل خودکش دھماکے کی تحقیقات میں مدد کی پیشکش کو دہرایا ہے جو پاکستان پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔ ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستانی وزارت داخلہ نے امریکا کو آگاہ کر دیا ہے کہ تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان کو فی الوقت کسی بیرونی معاونت کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے کہا تو واشنگٹن دھماکے کی تحقیقات میں مدد کے لئے تیار ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی طرف سے تحقیقات میں امریکی مدد کو مسترد کرنے کی خبر کو امریکی میڈیا میں نمایاں کوریج دی گئی ہے اور میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس اور تبصروں میں بش انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے کہ اسے اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ ترجمان نے ان میڈیا رپورٹس پر کہا کہ وہ اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ میریٹ ہوٹل خودکش دھماکا خطے میں استحکام اور جمہوریت کو دھمکی ہے۔ ہم پاکستان کے ساتھ نہ صرف اس کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ و طالبان کے خلاف جنگ میں بلکہ افغانستان کے معاملے پر بھی کام جاری رکھیں گے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ خودکش حملے کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ اپنے شہریوں کو تین مرتبہ پاکستان کا سفر نہ کرنے کی ہدایات جاری کر چکا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ دھماکے کے بعد امریکا پاکستان کے لئے اپنی امداد خاص طور پر فوجی امداد پر بھی نظرثانی کر سکتا ہے تو ترجمان نے اس کا نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امریکاکے ساتھ تعاون کے لئے پرعزم ہیں اور یہ امریکاکے قومی مفاد میں ہے کہ وہ القاعدہ و طالبان سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی مدد کرے اور فوجی امداد میں کمی کے حوالے سے کوئی منصوبہ یا سوچ زیرغور نہیں ہے۔
ایک سوال پر ترجمان نے فاٹا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو طویل المدتی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا دنیا بھر میں انتہاپسندی کے خاتمے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ اس میں وقت لگے گا تاہم ہم ثابت قدمی سے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو ہرممکن مدد فراہم کرنے کا اعادہ کر رکھا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی کانگریس میں بھی پاکستان کی مدد کے لئے اتحادی ہونے کے طور پر تعاون موجود ہے اور انتظامیہ ہروقت اراکین کانگریس اور ان کے سٹاف کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے۔
|
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|