|
اسلام آباد +سوات(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوات میں پاکستانی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے علاقے میں آپریشن شروع کر

13-11-07, 09:06 AM
اسلام آباد ( نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے ملک میں ایمرجنسی اور پی سی او کے نفاذ کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کرتے ہوئے صدر، چیف آف سٹاف، وزیراعظم، وفاق اور پیمرا کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں جبکہ فاضل عدالت نے مزید سماعت 15 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے جواب گزاروں کو مفصل رپورٹیں بھی پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پیر کے روز پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس محمد قائم جان خان، جسٹس موسیٰ کے لغاری اور جسٹس اعجاز یوسف پر مشتمل 8 رکنی فل کورٹ پنچ نے پی سی او اور ایمرجنسی کے خلاف دو ایک جیسی آئینی درخواستوں کی سماعت کی۔ فاضل عدالت میں آئینی درخواستیں سابق صوبائی وزیر ٹکا اقبال اور وطن پارٹی نے دائر کی تھیں۔ ٹکا اقبال کی جانب سے نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر جبکہ وطن پارٹی کی جانب سے اس کے سربراہ اور بیرسٹر اعتزازاحسن کے مقابلے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں شکست کھانے والے بیرسٹر ظفر اللہ خان نے دلائل دیئے۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس سید سعید اشہد علالت کی وجہ سے بنچ میں شامل نہ ہو سکے۔ عرفان قادر ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کو آئین کے آرٹیکل (10)(9)، (19)(17)(16)(15) اور (25) کے تحت بنیادی حقوق معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ صدر آرمی چیف کو ترمیم کا اختیار نہیں دے سکتا۔ صدر اور آرمی چیف کے بنیادی طور پر ایک ہی فرد نے دو عہدے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ عدالت آرمی چیف کی جانب سے کئے جانے والے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دے۔ ایمرجنسی کو ختم کیا جائے میڈیا پر پابندیوں خصوصاً نجی ٹیلی ویژن چینلز کو بند کرنے کے حوالے سے پابندیوں کو ختم کیا جائے جبکہ بڑی تعداد میں وکلاء، صحافی، سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے گرفتار لوگوں کو رہا کیا جائے اور پی سی او کے تحت تمام تر اقدامات کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔ جبکہ عدالت ایک اضافی ریلیف دے کہ صدر آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں۔ جسٹس عباسی نے کہا کہ وردی کا علیحدہ ایشو ہے جبکہ بیرسٹر ظفر اللہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں صدر نے ایمرجنسی کو لاگو کر دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں آرمی چیف نے ایمرجنسی کو لاگو کیا آپ نے اپنی پٹشن میں آرمی چیف کو فریق نہیں بنایا۔ آپ ان کو فریق بنائے بغیر کس طرح کیس لڑ سکتے ہیں۔ عدالت نے بیرسٹر ظفر اللہ کو کمرہ عدالت میں ہی چیف آف آرمی سٹاف کو فریق بنانے کی اجازت دے دی اور انہوں نے اپنی درخواستوں پر آرمی چیف کا بطور فریق اضافہ کر دیا۔ قبل ازیں بیرسٹر ظفر اللہ کی پٹیشن عدالت کے روبرو موجود نہ تھی جس وجہ سے 10 منٹ کے لئے عدالت ملتوی کی گئی اور پٹیشن آنے کے بعد دوبارہ عدالت نے سماعت شروع کی۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی غیر آئینی ہے جبکہ عدالت میں اٹارنی جنرل ملک قیوم بھی موجود تھے اور عدالت میں چند سرکاری وکلاء موجود تھے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|