|
اسلام آباد پلاٹ سکینڈل:وفاقی وزیر اور کچھ بڑے نام بھی شامل

27-12-10, 03:45 AM
اسلام آباد (انصار عباسی) معلوم ہوا ہے کہ چندبااثر افراد جن میں ایک طاقتور وفاقی وزیر کے علاوہ چند ارکان پارلیمنٹ اور سی ڈی اے کے غیر رسمی مانیٹر جو دارالخلافہ کے چکر لگاتے رہتے ہیں ان کا نام بھی ان افراد میں شامل ہیں جو اسلام آباد میں 1000 پلاٹوں کے بوگس الاٹمنٹس کے منظر عام پر آنےوالے حالیہ اسکینڈل میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملے کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں جن کے ذریعے اس سارے معاملے کی ذمہ داری یا تو کسی ایک فرد پر ڈال دی جائے یا اس معاملے کی تحقیقات کسی حامی باڈی کے ذریعے کرائی جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس اسکینڈل میں ملوث بااثر افراد محفوظ اوربعافیت رہیں گے۔ ایک ذریعہ کا دعویٰ ہے کہ بااثر افر اد میں شامل وفاقی وز یر اور رسمی مانٹیر کے ان الاٹمنٹس سے بہت بڑے ذاتی مفادات وابستہ ہیں۔ ذریعے نے یہاں تک کہا کہ ان بااثر افراد کی خواہش تھی کہ وہ ان پلاٹوں میں سے سیکڑوں پلاٹ حاصل کرسکیں جنہیں بظاہر متاثرین کو الاٹ ہونا تھا تاہم ذریعہ اس حوالے سے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کرسکا لیکن اس کا کہناہے کہ اس معاملہ کی خودمختار انکوائری اس پورے عمل کا جائزہ لے گی جو اس پیکیج کو ایوارڈ کرنے کیلئے اختیار کی گئی تمام متعلقہ حکام سے سوالات کئے جائیں گے اور ان تمام افراد کے انٹرویو لئے جائیں گے جن کے نام متاثرین کی حیثیت سے فہرست میں درج ہیں تاکہ اس فریب کے پیچھے مو جود اصل چہروں کو سامنے لایا جاسکے۔ چیئرمین سی ڈی اے امتیاز عنایت الٰہی جو عام طور پر اچھی ساکھ کے مالک ہیں جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ متعلقہ افسر ڈاکٹر وسیم شمشادکو ڈائریکٹر لینڈز کے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے اور سی ڈی اے کے سینئر افسر ان پرمشتمل کمیٹی ان سے انکوائری کررہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر اس معاملے میں ابتدائی ا نکوائری سے مزید حقائق سامنے آتے ہیں اور کچھ نئے چہرے ظاہر ہوتے ہیں تو ان میں سے کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔ الٰہی کو سپروائزری افسر شمشاد کی انکوائری کمیٹی میں شامل افراد میں کوئی خر ابی نظر نہیں آتی۔ الٰہی کو ان غیر مصدقہ رپورٹس میں بھی زیادہ وزن نظر نہیں آتا کہ اس معاملے میں بعض طاقتور سیاسی شخصیات بھی ملوث ہیں انہوں نے کہا کہ لوگ ہر قسم کی باتیں کرتے ہیں لیکن جس بات کو یقینی بنانا ہے وہ یہ ہے کہ پلاٹس متاثرین کے علاوہ کسی بھی اور کو ملیں۔اگر متاثرین نے اپنی دستاویزات کسی اور کو فروخت کردی ہوں تو اس صورت میں کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود کہ فی الوقت ڈائریکٹرلینڈز سی ڈی اے ڈاکٹر وسیم شمشاد ہی مرکزی ملزم کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ ذر ائع کا کہنا ہے کہ اربوں روپے اس واضح کرپشن میں سی ڈی اے کے چند دیگر ملازمین بھی ملوث ہیں کیونکہ کوئی ایک فرد و احد اتنے بڑے پیمانے کا فراڈ نہیں کرسکتا جبکہ کوری ٹاﺅن کے ماڈل ولیج کوری میں متاثرین کے لئے 4 ہزار پلاٹس منظور کئے گئے تھے کم از کم 17 متاثرین کو مرگلہ ٹاﺅ ن میں پلاٹ الاٹ کئے گئے جب کہ اس کی بھی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ان پر یہ خصوصی مہربانی کیوں کی گئی ہے۔ مرگلہ ٹاﺅن کے ایک پلاٹ کی قیمت کوری ٹاﺅن کی قیمت سے 10 گنا زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مرگلہ ٹاﺅن میں کچھ اور الاٹمنٹس بھی کمپیٹنٹ باڈی کی منظوری کے بغیر کئے گئے ہیں سی ڈی اے نے کچھ عرصہ قبل ماڈل ولیج کوری کا اعلان کیا تھا اور اس ماڈل ولیج کے قیام کے لئے زمین حاصل کی گئی تھی جسمیں ہر ہاﺅسنگ یونٹ 30x70 فٹ پر مشتمل تھا۔ انہیں ترجیحی بنیادوں پر مقامی لوگوں کو الاٹ کیا جانا تھا جن سے سی ڈی اے نے زمین حاصل کی تھی اس کے باوجود کہ انکوائری سے اس بات کا تعین ہوگا کہ شمشاد نے الاٹمنٹس فہرست میں درج متاثرین کو کئے یا خیرات میں ایسے افراد کو پلاٹ دے دیئے جن کا نام نہ تو فہرست میں شامل تھا اور نہ ہی وہ معیار پر پورے اترتے تھے۔ ذرائع میں سے ایک نے دعویٰ کیا کہ یہ ساری خر ابی اس وقت پیدا ہوئی جب بااثر افراد نے دبا ﺅ ڈالنا شروع کیا کہ انہیں پہلے الاٹمنٹ آرڈرجاری کئے جائیں کہا جاتا ہے کہ ایسی صورتحال حقیقی متاثرین اور ان کے نمائندوں کےلئے قابل قبول نہیں تھی یہ چیئرمین سی ڈی اے تھے جنہوں نے اپنے طور پر حال ہی میں دی نیوز سے یہ انکشاف کیا کہ ان کی غیر مو جودگی میں شمشاد نے ایک دن میں رہائشی پلاٹوں کے 500 الاٹمنٹ لیٹر جاری کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا اور اگلے روز انہوں نے 400 پلاٹ الاٹ کئے وسیم شمشاد ایک ڈی جی ایم افسر ہے جنہیں وزیر اعظم کی زبانی ہدایت پر اسلام آباد لایا گیا تھا اس کے باوجود کہ پنجاب کے اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ میں ان کے خلاف چند انکو ائریز التواءمیں پڑی ہوئی تھیں۔ شمشاد کا تعلق ملتان سے ہے اور اس کی وزیراعظم سے و اقفیت ہے۔ اطلاعات کے مطابق افسر کا خاندان اسی علاقے میں رہائش رکھتا ہے جہاں وزیر اعظم رہتے ہیں اس کے باوجود کہ ایسے بہت سے افراد ہیں جو معترض ہیں کہ کرپشن کے اس غیر معمولی مقدمے میں سی ڈی اے کو اس معاملے میں انکوائری نہیں کرانی چاہئے تھی کیو نکہ وہ خود ایک پارٹی ہے مشکل ہی سے کوئی ایسا ہوگا جو ایسے معاملات کی تحقیقات کےلئے ایف آئی اے یا نیب پر اعتماد کرتا ہوکیونکہ ایف آئی اے اور نیب حکمر انوں کے حمایتی ادا رے ہیں اور ایک سے زائد بار یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ ایسے کرپشن کیسوں کی تحقیقات کی اہلیت نہیں رکھتے جن میں حکمر ان طبقے کا کوئی فرد یا ان کا کوئی پسندیدہ فرد ملوث ہو۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,220 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|