کمیٹی نے سندھ‘ بلوچستان اورپشاور ہائیکورٹس کے 14ایڈہاک ججوں کی مدت ملازمت میںایک سال کی توسیع کی منظوری دیدی‘ ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے اختلافات کی اطلاعات میں صداقت نہیں‘ نیئر بخاری
پارلیمانی کمیٹی کو14دن کے اندر عدالتی کمیشن کی سفارشات پرفیصلہ کرنا لازمی ہے‘ اگر19 دسمبر کے اجلاس میں فیصلہ نہ ہوا تو سفارشات مﺅثر اور نام ازخود منظور تصور ہونگے
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ججز تقرری پارلیمانی کمیٹی میں اختلافات کے باعث عدالتی کمیشن کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کےججوں کے ناموں پر فیصلہ 19 دسمبر تک موخر کر دیا گیا ہے۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں نیئرحسین بخاری کی زیر صدارت اعلیٰ عدلیہ میں ججز تقرری‘ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تمام آٹھوں اراکین موجودتھے۔ اجلاس میں چوہدری شجاعت حسین‘ سردار مہتاب عباسی‘غوث بخش مہر‘ آفتاب شعبان میرانی‘ عاصمہ ارباب عالمگیر اور صابر بلوچ شریک ہوئے۔ ذرائع نے جنگ کو بتایا ہے کہ کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے مخالفت کے بعد عدالتی کمیشن کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے لئے پاکستان کے ایک معروف سابق چیف جسٹس حمود الرحمن مرحوم کے صاحبزادے جسٹس اقبال حمید الرحمن اور دو ججز کی تقرری کےلئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ انور کانسی اور سینئر قانون دان ریاض احمد خان کے ناموں کی منظوری نہیں ہو سکی اور معاملہ 19 دسمبر تک موخر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) نے عدالتی کمیشن کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کےلئےججوںکے ناموں کی سفارشات کی حمایت کی۔ عدالتی کمیشن نے 4 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے لئے ججوں کے نام منظور کئے تھے اور آئین کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کو 14 دن کے اندر عدالتی کمیشن کی سفارشات پر فیصلہ کرنا لازمی ہے۔ اس طرح 19 دسمبر آئینی ڈیڈ لائن ہے‘ اگر پارلیمانی کمیٹی نے 19 دسمبر کے اجلاس میں فیصلہ نہ کیا تو عدالتی کمیشن کی سفارشات موثر ہوجائیں گی اور یہ نام ازخود منظور تصور ہوں گے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کا معاملہ حکمران پی پی کی اندرونی سیاست کی نذر ہو رہا ہے اور پی پی پی کا ایک موثر حلقہ کریڈٹ لینا چاہتا ہے جبکہ پارلیمانی کمیٹی میں پی پی پی کے دوسرے حلقے کی مخالفت سے معاملہ لٹک گیا ہے۔ علاوہ ازیں پارلیمانی کمیٹی نے عدالتی کمیشن کی سفارشات کے تحت سندھ‘ بلوچستان اور پشاور ہائی کورٹس کے 14 ایڈہاک ججوں کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی منظوری دے دی ہے جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس عبدالعزیز کنڈی کو مستقل کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ آن لائن کے مطابق کمیٹی کے چیئرمین نیئر حسین بخاری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کیلئے معاملہ کو 19 دسمبر تک موخر کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے اختلافات کی اطلاعات میں صداقت نہیں ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی