ہندوستان کے سرکردہ وکیل اور سابق وزیر قانون رام جیٹھملانی کے مطابق دہشتگردی کے لیے وہابی ذمہ دار ہیں۔انہوں نے یہ بات دارالحکومت دلی میں سنیچر کو دہشتگردی پر ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہی۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق رام جیٹھملانی کے اس بیان کے بعد اجلاس میں شرکت کرنے والے سعودی عرب کے سفیر فیصل الترد احتجاجاً وہاں سے چلے گئے۔ لیکن اجلاس منعقد کرنے والے آدیش اگروال کے مطابق مرکزی وزیر ویرپّا موئلی کے کہنے پر وہ اجلاس میں دوبارہ شریک ہوئے۔
جیٹھملانی نے کہا ' یہ ایک افسوس کی بات ہےکہ 17 ویں صدی میں سعودی عرب ميں ان لوگوں نے ایک ایسا انسان پیدا کیا جس کا نام تھا وہاب، جسے مسلم دنیا کے زوال کی فکر تھی لیکن انہوں نے ایک غلط طریقہ کار اپنایا۔'جیٹھملانی نے الزام عائد کیا کہ وہابی نوجوانوں کے ذہن میں گندگی بھر کر انہیں دہشتگرد حملے کرنے کواکسا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا 'ہندوستان کے اس ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رہے ہیں جو وہابی دہشتگردی کی حمایت کرتا ہے۔
جیٹھملانی نے یہ بھی کہا کہ '
یہ ایک افسوس کی بات ہے کہ دہشتگردی کے لیے پورے اسلام کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو ہندو دہشت گرد بھی موجود ہيں اور بودھ دہشتگرد بھی۔'
رام جیٹھملانی نے یہ بھی کہا کہ وہ سبھی مذاہب کے طالب علم رہ چکے ہیں جس میں اسلام بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ
پیغمبرِ اسلام کی وہ بہت عزت کرتے ہیں جو بقول ان کے امن پسند شخص تھے۔دو روزہ اس اجلاس میں بھارت کی صدر پرتیبھا پاٹل بھی شرکت کر رہی تھیں۔
جیٹھملانی کے نظریے کو ذاتی نظریہ قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر ویرپّا موئلی نے کہا' دہشتگردی کو کسی مذہب کے ساتھ جوڑا نہیں جا سکتا ہے کیونکہ کوئی بھی مذہب دہشتگردی کی تعلیم نہيں دیتا ہے۔' انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو نظریہ مسٹر جیٹھملانی نے ظاہر کیا ہے حکومت اس سے اتفاق نہیں رکھتی ہے۔
بی بی سی