|
اسکاٹ لینڈ یارڈ کو بینظیر کے نامزد کردہ افراد سے تفتیش کی اجازت نہیں ہوگی

05-01-08, 08:24 AM
اسکاٹ لینڈ یارڈ کو بینظیر کے نامزد کردہ افراد سے تفتیش کی اجازت نہیں ہوگی
کراچی(رپورٹ: … طارق بٹ)نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف مہم میں بیر ونی تعاون اگرچہ جاری ہے لیکن کسی معروف پاکستانی سیاسی شخصیت کے قتل کی تحقیقات کیلئے پہلی مرتبہ غیر ملکی سراغ رسانوں کو ملوّث کیا گیا ہے۔ ایک عہدیدار کے الفاظ میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی اس چھوٹی سی ٹیم کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے کیونکہ زیادہ تر ایسے اہم شواہد جو کہ جائے واردات پر جرم کے فوراً بعد دستیاب ہو سکتے تھے، اب غائب ہوچکے ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کی تحقیقات ان ویڈیو ٹیپس کے قریبی اور جدید طریقے سے معائنے تک محدود ہوگی ،جن میں دہشتگردوں کے فوٹوز لئے گئے ہیں ، اس حوالے سے وہ جدید ترین آلات(Gadgets ) دستیاب ہونگے۔ جب جائے وقوعہ کو ہی دھوڈالا گیاہو اور شہید رہنما کے جسم کا پوسٹ مارٹم تک نہ کیا گیا ہوتو برطانوی پولیس کے پاس تحقیقات کیلئے کچھ زیادہ بچتا ہی نہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ حکومت تو بینظیر بھٹو کا پوسٹ مارٹم کرانے کیلئے تیار تھی تاہم جب اس سلسلے میں پنجاب کے سیکرٹری نے آصف زرداری سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیاتھا، تاہم ایک عہدیدار کے مطابق دلچسپ سیشن وہ ہوگا جو برطانوی ماہرین کی ان ڈاکٹروں سے ملاقات پرمشتمل ہوگا جنہوں نے بینظیر پر حملے کے بعد بینظیر کو راولپنڈی جنرل اسپتال لائے جانے پر ان کا ابتدائی معائنہ کیا تھا۔ عہدیدار کے مطابق اگر اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے آصف علی زرداری سے ملاقات نہ کی تو ان کی تحقیقات کو نامکمل تصور کیا جائیگا کیونکہ آصف علی زرداری انہیں وہ بریفنگ دے سکتے ہیں جو ان کیلئے مفید ہو۔ آصف علی زرداری نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کا پینل تحقیقات کرے۔ قبل ازیں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے 1951 میں جس پاکستانی سیاستدان کے قتل کی تحقیقات کی تھیں، وہ لیاقت علی خان کا قتل تھا اور وہ بھی اسی مقام پر ہوا تھا، جہا ں بینظیر کو شہادت نصیب ہوئی تاہم اس قتل کی رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں آسکی۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ برطانوی تحقیقات کار بہت سے سینئر عہدیداروں سے ملیں گے، جن عہدیداروں سے ان کی ملاقات کی تو قع ہے ان میں ایس پی پولیس میجر امتیاز، بھی شامل ہیں اور جنہیں بینظیر کے مطالبے پر ان کی سیکورٹی ڈیوٹی کیلئے متعین کیا گیا تھا۔ اسکا ٹ لینڈ یارڈ کو بلوانے کا بظاہر ایک مقصد تو یہ ہے کہ حکومت عوام اور بالخصوص پیپلز پارٹی کے کارکنان کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی ہے اور یہ سگنل دینے کی خواہاں ہے کہ اسے ایسی کسی دیانتدارانہ تفتیش سے کوئی ڈر نہیں ہے جس کے نتیجے میں قاتلوں کی گرفتاری ہوسکے۔تاہم متاثرہ خاندان اورپیپلزپارٹی نے اپنی انگلیاں حکومت پر اٹھائی ہیں۔ صدر پرویز مشرف پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ وہ افراد، جن کے بارے میں بینظیر نے 18 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے موقع پر اپنے شبہ کا اظہار کیا تھا ، اسکاٹ لینڈ یارڈ کو ان سے پوچھ گچھ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بینظیر کی جانب سے ق لیگ کے سینئر رہنما کا نام لئے جانے پر گجرات کے چوہدریوں اور بینظیر کے مابین لفظوں کی جنگ چھڑ گئی تھی۔ گزشتہ روز صدر پرویز نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ان سے یہ سوال کہ ان کے ہاتھوں پر خون ہے، ان کے مرتبے کے خلاف ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے سرعام اس سوال کا جواب دینا پسند کیا اور کہا کہ ” میں کوئی جاگیردار نہیں ہوں نہ ہی میں کوئی قبائلی ہوں ، انکا کہنا تھا کہ ” میں بہت پڑھا لکھا ہوں اور مہذّب خاندان سے تعلق رکھتا ہوں، ایسے خاندان سے جو عقائد و اقدار کا حامل ہے اور جو کردار پر یقین رکھتا ہے۔اور بس یہی کچھ میں کہنا چاہتا ہوں۔ اسکا ٹ لینڈ یارڈ نے جو عالمی سطح پر پیشہ ورانہ مہارت کی حامل ہے۔اس تنظیم کے سلسلے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا نام اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ہیڈ کوارٹر کے نا م سے اخذ کیا گیا ہے ، جو کہ ابتدائی طور پر گریٹ اسکاٹ لینڈ یارڈ کہلاتا تھا اور یہ مقام لند ن کی سڑک وائٹ ہال پر تھا۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|