|
اصولوں کی سیاست نے شریف برادران کو کشمکش میں مبتلا کردیا

28-06-10, 03:52 AM
نقطہٴ نظر … شاہین صہبائی
برادران کی رائے ہے کہ اگر وہ زرداری کیخلاف گئے تو فوجی مداخلت کا خدشہ ہے
نواز شریف کو چاہیے کہ ق لیگ کیساتھ اتحاد بنا کر پی پی کو پنجاب حکومت سے نکال باہر کردیں
واشنگٹن … رائے ونڈ کے میاں برادران کشمکش میں پھنسے ہیں؛ وہ اپنی ذہنی پریشانیوں اور اصولوں میں پھنسے ہیں۔ ان میں چند پریشانیاں وہ ہیں جن کے تحت انہیں ایک اور فوجی مداخلت کا خوف ہے، کچھ کی وجہ سیاسی مجبوریاں ہیں جس کے تحت وہ مسٹر زرداری کو پنجاب میں خود پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دینا چاہتے، چند پریشانیاں اصولوں کی سیاست کے متعلق ان کے اپنے ہی بیانات جبکہ کچھ ان سمجھوتوں کی وجہ سے ہیں جو پنجاب میں اپنی حکومت چلانے کیلئے کرنا پڑے۔ میاں برادران جس کشمکش میں مبتلا ہیں وہ پیچیدہ ہے اور اس کا حل آسان نہیں۔ اگر وہ کھل کر اور مکمل طور پر مسٹر زرداری کے خلاف ہوجاتے ہیں تو ان کے خیال میں فوج کی شکل میں اونٹ کو ایک مرتبہ پھر سیاست کے خیمے میں اپنی گردن ڈالنے کا موقع مل جائے گا اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس خیمے میں اصل رہائشی افراد کو تپتے صحرا میں بے دخل ہونا پڑے گا۔ اگر وہ زرداری اینڈ کمپنی کو ریاستی اداروں کی لوٹ مار اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے نہیں روکتے تو ایسی صورت میں وہ پیچھے رہ جائیں گے اور انہیں فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے پر جائز تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا اور پیپلز پارٹی سب لے جائے گی۔ اگر وہ اپنے اصولوں پر سختی سے عمل کریں گے، خصوصاً جعلی ڈگریوں کے معاملے پر، تو ایسی صورت میں پنجاب میں سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ (ن) کو ہوگا اور ایسی صورت میں مسٹر زرداری کو ایک اور سنہری موقع ملے گا کہ وہ صورتحال میں ہیرا پھیری کرکے پنجاب میں اپنی پسند کی عبوری حکومت قائم کریں یا طویل غیر اطمینان بخش اور نقصان دہ حد تک صوبے میں گورنر راج نافذ کردیں۔ (ماضی قریب کی ایک مثال بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم کے ساتھ جلد انتخابات کے وعدے پر بلدیاتی حکومتوں کو تحلیل کرنے اور اس کے بعد وہ منظر سے غائب ہوگئی، جس کے بعد مسٹر الطاف حسین بھی اسی مخمصے کا شکار ہوگئے تھے)۔ اگر میاں برادران مسٹر زرداری، بابر اعوان اینڈ ایسوسی ایٹس کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی زیر قیادت سپریم کورٹ کے ججوں کے ساتھ محاذ آرائی اور نتیجتاً ان کے ساتھ تصادم سے نہیں روکیں گے تو اس بات کا خدشہ ہے کہ لوگ انہیں ایسے بے عزم بزدل کہیں گے جس نے ججوں کی بحالی و آزادی کے نام پر اپنی انتخابی مہم چلائی اور اس ایشو کو انتہا تک پہنچایا لیکن جب مشکل گھڑی آئی تو یہ لوگ خوف زدہ ہوگئے اور پنجاب حکومت کو بچانے کی کوششیں کرنے لگے۔ یہ اور بات ہے کہ میاں برادران کی بے سمت صورتحال کی وجہ سے زرداری اینڈ ایسوسی ایٹس پراعتماد اور عدلیہ کے خلاف عوامی مزاہمت کیلئے نڈر ہوگئے ہیں، اور تو اور بابر اعوان دھاڑتے اور چیلنج کرتے پھر رہے ہیں کہ ”جتنے برسوں تک بھی آپ ہم پر مقدمات چلاتے رہیں گے، ہم ان کا سامنا کرتے رہیں گے“۔ ان کے ساتھی اور معاونین ایسے اقدامات، بشمول 17/ مارچ 2009ء کے ججوں کی بحالی کے ایگزیکٹو آرڈر کی منسوخی کے متعلق خبریں لیک کر رہے ہیں جو مسٹر زرداری ججوں کے خلاف کرسکتے ہیں۔ اگرچہ خودکشی کے مترادف ایسا اقدام تصادم کو انتہا تک پہنچا سکتا ہے لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو زرداری اور ان کے ساتھیوں کو بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو فوجی مداخلت کی بھی پریشانی نہیں ہے کیونکہ زرداری اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما یہ کہتے پھرتے ہیں کہ انہوں نے سندھ کارڈ کو کچھ اس طرح استعمال کیا ہے کہ اب فوج انہیں چھونے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ زرداری صاحب نے گڑھی خدا بخش میں یہ تک دعویٰ کردیا کہ ان کے پاس بہر صورت جیتنے کا فارمولا موجود ہے اور اگر وہ ہار بھی جاتے ہیں تو اس کے باوجود جیت ان ہی کی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے سندھ کارڈ استعمال کرنے کی مکمل تیاری کرلی ہے اور اس بلیک میلنگ کو اضافی فریکوئنسی، سختی اور بے شرمی سے استعمال کیا جائے گا۔ پُراعتماد اور جارحانہ پیپلز پارٹی کے خلاف میاں برادران ایک ایسے جال میں پھنس چکے ہیں جو انہوں نے خود ہی تیار کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے خود کو بزعم خود کے خول میں بند کردیا ہے ، ضروری معاملات اور لازمی سیاسی چال بازیوں کے حوالے سے انہوں نے دباؤ ڈالنا بند کردیا ہے اور پارٹی کو اقتدار میں رکھنے اور اس کا مقابلہ پیپلز پارٹی سے کرنے کیلئے انہیں یہ کام پہلے ہی کرنا چاہیے تھے۔ مثال کے طور پر، ان 35 ارکان پنجاب اسمبلی کو ہی دیکھ لیجیے جنہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کو چھوڑ کر پنجاب میں ان کے اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔ یہ پنجاب اسمبلی میں محروم ارکان کا گروپ ہے جنہوں نے اتحاد سے آہستہ آہستہ نکلنا شروع کردیا ہے حالانکہ ان کے پاس جانے کیلئے اور کوئی جگہ نہیں ہے۔ حقیقت پسندی اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے جو کام شریف برادران کو کرنا چاہیے تھا وہ یہ تھا کہ وہ سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبوں میں مسلم لیگ (ن) کے تمام عناصر کو جمع کرتے اور ان کے ساتھ اسی طرح کی مناسب ایڈجسٹمنٹ کرتے جیسے مسٹر زرداری نے ایم کیو ایم، جے یو آئی اور اے این پی کے ساتھ کر رکھی ہے۔ مسلم لیگیوں کی اکثریت شریف برادران کیساتھ شمولیت اختیار کرنا چاہتی تھی لیکن رائے ونڈ میثاق جمہوریت کے ساتھ چپکا ہوا ہے، جو تمام سیاسی مقاصد کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایک ایسی مردہ چیز بن چکی ہے جسے زرداری اینڈ کمپنی دفن کرچکی ہے۔ میاں نواز شریف کو جس بات کا احساس نہیں وہ یہ ہے کہ انہوں نے اور بینظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پر جس نظریے کے تحت دستخط کیے تھے وہ یہ تھا کہ مستقبل کی سیاست کی طرف دیکھا جائے گا لیکن جو کچھ زرداری صاحب، جن کا میثاق جمہوریت کے ساتھ کوئی واسطہ ہی نہیں تھا، نے کیا ہے اس کے تحت انہوں نے سیاسی پینڈولیم کو واپس 90ء کی سیاست کی طرف گھما دیا ہے۔ انہوں نے پرانی سیاست کا ایک ایسا منظر نامہ بنا دیا ہے جیسے کہ 1996ء میں انہیں جیل میں ڈالنے کے بعد سے کچھ تبدیل ہی نہیں ہوا۔ یہی عدم احساس شریف برادران کیلئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ انہوں نے خود کو اصولوں کی سیاست اور نفاست کیلئے پُرعزم رکھا لیکن ان کا مخالف اس میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ لہٰذا اگر وہ ہر طرف سے ہونے والے اس حملے سے بچنا چاہتے ہیں تو رائیونڈ کو فوراً فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایسا کس طرح کیا جائے۔ اب تک رائیونڈ بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ ایک مہینے یا 6 ہفتوں میں صرف ایک سخت بیان اور اس کے بعد واپس خول میں چھپ جانے سے شریف برادران کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ جب بھی نواز شریف کوئی بیان دیتے ہیں تو ان کی حرکات و سکنات میں پختگی نہیں ہوتی اور وہ پریشان اور کنفیوژن کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا کسی عزم کے بغیر کر رہے ہیں۔ دوسری پریشانی، جو شریف بردران، بالخصوص میاں نواز شریف کے ذہن سے ختم ہونے کا نام نہیں لیتی، فوجی مداخلت کے خطرے کی ہے۔ کم از کم اب تک فوج سیاست سے دور ہوچکی ہے اور اس بات کا ادراک مسٹر زرداری کو ہوچکا ہے۔ انہوں نے ایسی پوزیشن اختیار کرلی ہے جو بصورت دیگر اختیار کرنا مشکل ہوتا لیکن اب وہ پُراعتماد ہیں کہ وہ فوج کا سامنا کرسکتے ہیں۔ نواز شریف اتنے پُراعتماد نہیں ہیں۔ لیکن کیوں؟ اگر فوج اور مسلم لیگ (ن) میں کوئی غلط فہمیاں تھیں تو وہ اس وقت ختم ہوجانا چاہیے تھیں جب شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان نے آرمی چیف کے ساتھ کھل کر اور خفیہ طور پر ملاقاتیں کیں۔ یہ ایک راز ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوا لیکن شریف برادران کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ جس طرح مسٹر زرداری دیوانہ وار اقدامات کرتے جا رہے ہیں اس سے وہ فوج کو مداخلت پر مجبور کر دیں گے چاہے شریف برادران کو یہ پسند ہو یا نہ ہو۔ اس سے پہلے کہ مسٹر زرداری صورتحال کو ناممکن حد تک پہنچا دیں کیوں نہ ان کا امتحان لے لیا جائے اور ایسی صورت میں آخری راستہ فوجی مداخلت کا ذریعہ ہی ہے۔ دوسری جانب زرداری صاحب نے اپنے کارڈز ایک زیرک کھلاڑی کی طرح کھیلے ہیں۔ وہ کھل کر اپنے پارٹنرز (ایم کیو ایم، جے یو آئی، اے این پی) کے خلاف بولتے ہیں حتیٰ کہ ان کے ساتھی ان پارٹنرز کی توہین بھی کرتے ہیں، لیکن اس کے بعد وہ (زرداری) انہیں مناتے ہیں اور دوبارہ اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں۔ وزیراعظم کو مسائل حل کرنے والے ایک مناسب شخص کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر نواز شریف اپنے کارڈز کھیلتے اور پاکستان مسلم لیگ کے لوگوں کو جمع کرتے تو وہ عددی کھیل کے ذریعے قومی اسمبلی میں گیلانی حکومت کو الٹنے کی پوزیشن میں ہوتے۔ اور یہ سب جمہوری اور قانونی طریقہٴ کار کے مطابق ہوتا۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو جمع کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا، اس کی بجائے ایسا اقدام زرداری کیمپ کو پریشانی سے دوچار کردیتا۔ لیکن ایسے اقدامات نہیں کیے گئے اور اس سے وجہ سے زرداری صاحب کو کھیلنے کیلئے پورا میدان مل گیا۔ پیپلز پارٹی کیمپ میں تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف ججوں پر حملے کرو، ایگزیکٹو آرڈر منسوخ کرنے کی دھمکیاں دو اور رحمن ملک کی ایگزیکٹو طاقت کے ذریعے انہیں سڑک پر پھنکوا دو، تو دوسری طرف وطن واپس آنے کیلئے جنرل پرویز مشرف کی خفیہ طور پر حوصلہ افزائی کرنا ہے تا کہ وہ واپس آکر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے جھنڈے تلے ارکان جو جمع کرکے رائیونڈ کے خلاف استعمال کرنے کیلئے پیپلز پارٹی کیساتھ مل جائیں۔ ایوان صدر کی رائے ہے کہ مشرف کی واپسی سے پی پی کو فائدہ ہوگا اور شریف برادران کو نقصان پہنچے گا جو آگے بڑھنے کی بجائے مشرف کے ٹرائل کے معاملے سے چپکے ہیں اور وہ کام نہیں کرنا چاہتے جو پی پی کو تباہ کاریوں سے روک سکے۔ ان تمام سوالات کے جواب کیلئے نواز شریف کو چاہیے کہ وہ اپنے خول سے باہر نکلیں، فوجی مداخلت کے متعلق پریشان نہ ہوں اور عدلیہ، ججوں اور آزاد میڈیا کے پیچھے ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں اور سیاسی اقدامات کے ذریعے حکومت کا سامنا کریں اور بوقت ضرورت سخت تنقید کریں۔ ان سیاسی اقدامات میں فی الوقت میثاق جمہوریت کو بھولنا شامل ہے کیونکہ حالیہ منظر نامے میں یہ غیر ضروری دستاویز بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر پنجاب اسمبلی میں حکومتی اتحاد سے پی پی کو نکال باہر کریں، قومی اسمبلی میں نئے انتظامات کے ذریعے نئے اتحاد بنائیں، ایم کیو ایم، اے این پی اور جے یو آئی کے ساتھ اپنے اختلافات ختم کریں اور جمہوری عمل کے ذریعے پیپلز پارٹی کو نکال باہر کریں۔ میرے لیے یہ مطالبہ کرنا مشکل ہے کہ میثاق جمہوریت کو دفن کردیا جائے کیونکہ میں بھی اس کا حامی تھا، لیکن جب اس کے دستخط کنندگان اس پر قائم نہیں رہے تو یہ خود ہی فالتو چیز بن جاتا ہے۔ شریف برادران کو چاہیے کہ وہ جاگ جائیں اس سے پہلے کہ زرداری اور ان کے ساتھیوں کا وہ دعویٰ سچ ثابت ہوجائے کہ 2013ء میں پیپلز پارٹی پنجاب میں زبردست کامیابی حاصل کرلے گی۔
روزنامہ جنگ کی خبر
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
Last edited by گلاب خان; 28-06-10 at 03:55 AM..
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
شکریہ: 1,535
2,971 مراسلہ میں 8,220 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|