|
اعتماد کا ووٹ لینے تک پرویز مشرف کو صدر تسلیم نہیں کیا جائیگا، بلور

18-04-08, 07:57 AM
اعتماد کا ووٹ لینے تک پرویز مشرف کو صدر تسلیم نہیں کیا جائیگا، بلور
کراچی (جنگ نیوز) وفاقی وزیر برائے دیہی ترقی اوررکن قومی اسمبلی حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ پرویز مشرف نے ماضی میں جتنا انجوائے کرنا تھا کرلیااب وہ اِس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ مزید انجوائے کریں تاہم پرویز مشرف کی قسمت کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی ،جب تک پرویز مشرف قومی اسمبلیسے اعتماد کا ووٹ نہیں لیں گے اُنہیں آئینی صدر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ جب بھی ڈکٹیٹر آتے ہیں تو انسانی حقوق دفن ہو جاتے ہیں اور پھر انتہا پسند ابھرتے ہیں، جب انتہا پسندی فروغ پاتی ہے تو دہشت گردی جنم لیتی ہے۔ وفاق وزیر برائے جہاز رانی نوید قمرکا کہنا تھا کہ محترمہ کی شہادت پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ تھا، اگر دہشت گردوں کا نشانہ ہم ہیں تو پھر یہ جنگ ہماری کہلائے گی اور ہمیں اِس کے خلاف ہر سطح پر مذمت کرنی چاہئے ، اُنہوں نے کہا کہ الیکشن کے نتائج نے پرویز مشرف کے خلاف اپنا پیغام واضح کردیا ہے ۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی پر مشاورت کی ضرورت ہے ، ہمارے دور میں یہ حکمتِ عملی اختیار نہیں کی گئی کیونکہ ہمارے دور میں یہ تاثر عام تھا کہ ہم سب کچھ امریکا کی ایما پر کررہے ہیں لہٰذا وقت آگیا ہے کہ منتخب سیاسی جماعتیں اِس مسئلے کا بہتر حل تلاش کرسکتی ہیں۔ پروگرام میں شریک سابق سفیر طارق فاطمی نے کہا کہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ صدر پرویز مشرف کا اسٹیج سے چلے جانا ملک کی بہتری کیلئے انتہائی ضروری ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ پاکستان کودہشت گردی کے خلاف جنگ کے عوض بڑی رقم فراہم کی جارہی ہے۔اِن خیالات کا اظہارشرکا نے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں میزبان حامد میر سے ”پاکستان میں دہشت گردی کی صورتحال “ پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ٹیلیفون پر ایک سوال کے جواب میں دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا کہ امریکا کو یہ اندازہ ہوچکا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کرنا چاہتا ہے چونکہ پاکستان میں جمہوریت آچکی ہے لیکن اِس کی جڑوں کو مضبوط ہونے میں وقت درکار ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی میں زیادہ تبدیلی نہیں لائی جائے گی۔ ایک سوال پر نوید قمرنے جواب دیا کہ ماضی کی تمام فوجی حکومتوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امداد ملتی رہی ہے تاہم ہم نے یہ گزارش کی ہے کہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے بھی امداد ملنی چاہئے ۔ حاجی غلام احمد بلور نے مزید کہا کہ ہم دہشت گردوں کا مزید نشانہ بننے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں بمباری کے بعد ایسا لگتا ہے کہ قبائل نے مشرف سے ذاتی دشمنی اختیار کرلی ہے۔ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ یہ سب جانتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکی جنگ اور پالیسی ہے ، موجودہ حکمران بھی اس سلسلے میں امریکی عہدیداروں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|