|
اعلان مری پر عمل نہیں ہوا،نواز شریف کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہئے،پاکستان با

02-07-08, 07:26 AM
اعلان مری پر عمل نہیں ہوا،نواز شریف کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہئے،پاکستان بار کونسل
پشاور/لاہور(جنگ نیوز)پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ اعلان مری پر عمل درآمد نہ ہونے کے بعد اب نواز شریف کامرکز میں اقتدار میں رہنا درست نہیں ہے اور انہیں اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیئے، پشاورہائیکورٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بار کونسل کے وائس چیئرمین سید رحمان خان نے کہا کہ جب پی سی او ججز نے نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا تو اس کے خلاف پنجاب میں ہڑتال اور مظاہرے کئے گئے جو سمجھ سے بالا تر ہے کہ اپنی ہی حکومت کیخلاف مظاہرے اور ہڑتالیں کی جارہی ہیں،سید رحمان خان نے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ آئینی پیکج کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ آئینی پیکج کا مقصد معزول ججوں کی بحالی میں تاخیری حربے استعمال کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، ہمار ا موقف ہے کہ پارلیمنٹ سے قرارداد پاس کرانے کے بعد ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے تمام معزول ججوں کو بحال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی پیکج کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیکج درست نہیں ہے اور اس کے ذریعے تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں اس لئے ہم نے اس پیکج کو مسترد کر دیاہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک اصلی منصف اور ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا وکلاء اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ وکلاء کی تحریک ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی غیر موثر ہوئی ہے ،یہ تحریک منظم اور موثر ہے ۔دریں اثناء سابق اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ آف پاکستان بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر قاضی محمد جمیل نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے انتیس ججوں کے لئے بجٹ کی منظوری لیکر درست اقدام اٹھایا ہے,معزول ججوں نے سات مہینے کی تنخواہیں وصول کرکے کوئی غلط اقدام نہیں اٹھایا ہے،پشاورہائیکورٹ بار روم میں میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ فنانس بل کے ذریعے ہمیشہ قانون سازی ہوئی ہے،اگر سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تو یہ اچھا اقدام ہو گا کیونکہ مقدمات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ۔دوسری جانب لاہور سے نمائندہ جنگ کے مطابق معزول ججوں کی بحالی میں تاخیر کے خلاف اور ان سے اظہار یکجہتی کے لئے روزانہ ہونے والا عدالتی بائیکاٹ وکلاء کے منتخب نمائندوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، وکلاء کی اکثریت نے عدالتوں میں پیش ہونا شروع کر دیا ہے، ان میں تحریک کے سرگرم وکلاء بھی شامل ہیں، پاکستان بار کونسل کی جانب سے روزانہ ایک گھنٹہ جبکہ ہر جمعرات کو مکمل عدالتی بائیکاٹ اور احتجاجی ریلیوں کی کال کے باوجود علامتی بائیکاٹ آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے، لاہور ہائیکورٹ بار میں بھی صرف بار کے صدر اور سیکریٹری عدالتوں کے روبرو پیش نہیں ہورہے ہیں جبکہ وکلاء کی اکثریت معمول کے مطابق مقدمات میں عدالتوں کے روبرو پیش ہونا شروع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات نمٹانے کی رفتار بھی بڑھ گئی ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|