کابل میں رحمن بابا ہائی سکول اور علامہ اقبال فیکلٹی مکمل، بلخ میں لیاقت علی خان انجینئرنگ فیکلٹی زیر تعمیر
مختلف اضلاع میں پرائمری سکولز کی تعمیر کا منصوبہ فاطمہ جناح نیوکلیئر میڈیکل سنٹر بھی قائم کیا جائیگا
کابل (رانا غلام قادر) افغانستان کی تعمیر نو میں پاکستان کا تعاون و اشتراک اور امداد اب عملی روپ اختیار کرچکا ہے اور تعلیم صحت عامہ اور مواصلات کے شعبوں میں پاکستان کی جانب سے تعمیر کئے گئے ادارے اب دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور محبت کی علامت کے طور پر سمجھے جاتے ہیں۔کابل میں حکومت پاکستان نے رحمن بابا ہائی سکول تعمیر کرکے افغان حکومت کے حوالے کیا ہے جس پر چالیس لاکھ ڈالر لاگت آئی ہے اس سکول میں33 کلاس رومز ہیں کیمسٹری فزکس اور بائیو لیب دو کمپیوٹر لیب آرٹ روم لائبریری کنٹین اور سٹاف روم کی سہولت دی گئی ہے۔ اب رحمن بابا ہائی سکول کیلئے حکومت پاکستان ہاسٹل تعمیر کر رہی ہے جس پر15.86ملین ڈالر لاگت آئے گی کابل یونیورسٹی میں علامہ اقبال فیکلٹی آف ہیومنٹیز تعمیر کی گئی ہے جس کا کورڈ ایریا1,40,000مربع فٹ ہے اس تین منزلہ عمارت کی تعمیر پر دس ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ننگر ہار یونیورسٹی جلال آباد میں سرسید پوسٹ گریجویٹ فیکلٹی آف سائنسز تعمیر کی گئی ہے جس پر50 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔حکومت پاکستان نے بلخ یونیورسٹی میں لیاقت علی خان انجینئرننگ فیکلٹی زیر تعمیرہے مزار شریف میں زیر تعمیریہ منصوبہ مکمل ہونے والا ہے جس پر دس ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ پاکستان نے اب افغانستان کے مختلف اضلاع میں پرائمری سکولز کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے ایک سکول پر دو لاکھ ڈالر لاگت آئے گی جس میں آٹھ کلاس رومز ایک پرنسپل آفس سٹاف روم پہلے ایریا اور ڈوئلٹس بلاک ہوں گے۔ پاکستان ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس بھی تعمیر کرکے دے گا۔ جہاں تک صحت کے شعبہ کا تعلق ہے تو حکومت پاکستان نے جلال آباد میں نشترکڈنی سنٹر تعمیر کیا ہے جو اس سال ستر لاکھ ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوا ہے۔کابل میں جناح ہسپتال کی تعمیرکا سنگ بنیاد 10اکتوبر2007ءکو رکھا گیا تھا ہسپتال کی تعمیرکا کام2011ءمیں مکمل ہو گا۔ یہ400بستروں کا ہسپتال ہو گا جس پر20ملین ڈالر لاگت آئے گی۔لوگر میںنائب امین اللہ خان ہسپتال کی تعمیر نومبر2008ءمیں شروع کی گئی۔200بستروں کا یہ تین منزلہ ہسپتال بھی 20ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل ہو گا۔حکومت پاکستان نے صحت کے شعبہ میں مزید اعانت کے منصوبے بنائے ہیں۔جس کے تحت مزار شریف ہسپتال میں نیا بلاک تعمیر کیا جائے گا جس پر چالیس لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے۔ 80لاکھ ڈالر کی لاگت سے کابل میں فاطمہ جناح نیوکلیئر میڈیکل سنٹر بنایا جائے گا۔50بستروں کا الشفاءٹرسٹ آئی ہسپتال 75 لاکھ ڈالر سے گردیز میں تعمیر کیا جائے گا۔ قندوز میں بھی 50 بستروں کا آنکھوں کا ہسپتال تعمیر کیا جائے گا۔ مختلف اضلاع میں ڈسپنسریاں تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ایک ڈسپنسری پر ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر لاگت آئے گی۔ مواصلات کے شعبہ میں پہلا منصوبہ جو مکمل کیا گیا وہ طورخم جلال آباد روڈ ہے جو34.42ملین ڈالر سے 2006ء میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد حکومت افغانستان کی درخواست پر طورخم جلال آباد ایڈیشنل کیرج وے کی تعمیر شروع کی گئی۔72.35ملین ڈالر کے اس منصوبہ پر 75فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کو15پل فراہم کئے ہیں جن کی لاگت دس ملین ڈالر ہے۔ ان امدادی منصوبوں سے افغانستان میں پاکستان کی قدرو منزلت اور محبت میں اضافہ ہوا ہے اور افغان عوام ان خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی