|
اقتدار میں آکر بلوچستان میں عام معافی کا اعلان اور سیاسی کارکنوں کو رہا کریں گے،بے نظیر بھٹو

12-12-07, 09:32 AM
اسلام آباد (ایجنسیاں) پیپلزپارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں عام معافی کا اعلان کیا جائے اور گرفتار سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جائے۔ پیپلزپارٹی برسراقتدار آ گئی تو بلوچستان میں عام معافی کا اعلان کرکے تمام سیاسی کارکنوں کو رہا کردینگے۔ ہم مسلم لیگ (ن) کے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اب دونوں جماعتیں ڈٹ کر مسلم لیگ (ق) کا مقابلہ کرینگی اب حکومت یا تو شفاف انتخابات کرانے پر مجبور ہوگی یا پھر بڑے پیمانے پر دھاندلی کرائے گی۔ انتخابات شفاف نہ ہونے کی صورت میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو 9جنوری سے ہی جدوجہد شروع کرنے کیلئے ابھی سے حکمت عملی مرتب کرلینی چاہیے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کو دبئی سے واپسی پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ہمیں اے پی ڈی ایم کے ٹوٹنے پر افسوس ہوا ہے اسے ٹوٹنا نہیں چاہیے تھا تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ ملک کی ایک بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے انتخابات میں حصہ لینے کا صحیح فیصلہ کیا ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اگر وہ بائیکاٹ کرتے تو مسلم لیگ (ق) سے مقابلہ کیلئے ایک پارٹی کم ہوجاتی اب ایسا نہیں ہوگا دونوں بڑی جماعتیں ڈٹ کر بھرپور طریقے سے (ق) لیگ کو شکست دیں گی۔ کنگز پارٹی کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اب یا تو حکومت بہت بڑی دھاندلی کرائے گی تاکہ (ق) لیگ کو کامیاب کرایا جاسکے یا پھر مجبور ہوگی کہ صاف وشفاف انتخابات کرائے اگر حکومت نے دھاندلی کرائی تو پھر پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوجائے گی۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ہمیں ملک اور جمہوری نظام دونوں کو بچانا ہے اور اس کیلئے جدوجہد جاری ہے اگر انتخابات شفاف نہ ہوئے تو اپوزیشن جماعتوں کو ابھی سے حکمت عملی طے کرلینی چاہیے کہ وہ 9جنوری کو کس طرح کی احتجاجی تحریک چلائینگی۔ ایک سوال پر بے نظیر بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) سمیت اپوزیشن کی تمام جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے۔ وہ نوازشریف کو اب بھی اے آر ڈی کا رکن سمجھتی ہیں اور میثاق جمہوریت میں یہ شامل تھا کہ (ن) لیگ سے ہماری انڈراسٹیڈنگ ہوسکتی ہے ایک اور سوال پر بے نظیر نے کہا کہ چارٹر آف ڈیمانڈ کو میثاق مطالبات نہ کہا جائے بلکہ شفاف انتخابات کیلئے اہداف کہا جائے اور پیپلز پارٹی اس کا جائزہ لے رہی ہے اے آر ڈی کا اجلاس بلا کر بھی ان اہداف کا جائزہ لینگے اور ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اب بھی اے آر ڈی کا حصہ ہے اور اب بھی ہم مل کر جدوجہد کرینگے کیونکہ اس جدوجہد کے نتیجے میں ہی حکومت مجبور ہوئی کہ اس نے دو سابق وزرائے اعظم کو واپس آنے دیا اور کوئی رکاوٹیں پیدا نہیں کیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اعتزاز احسن کی طرف سے تمام سیاسی جماعتوں کیلئے عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے جو حلف نامے کی تجویز دی گئی ہے وہ ان کی ذاتی رائے ہے اس پر ہم نے غور ہی نہیں کیا۔ بے نظیر بھٹو نے فاٹا اور بلوچستان کی صورتحال کو خراب قرار دیا اور کہا کہ وہاں کے حالات کی بہتری کیلئے ہمارے پاس بھرپور پروگرام ہے۔ بے نظیر بھٹو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں عام معافی کا اعلان کرے اور گرفتار کئے گئے تمام قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے۔دریں اثناء بے نظیر بھٹو نے مردان میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا مسلم لیگ (ن) کے انتخابات میں حصہ لینے کے بعد حکومت مزید دھاندلی کرسکتی ہے ایسا ہوا تو حکومت بے نقاب ہو جائے گی۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|