اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي سے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد کا خطاب – سامراجي قوتوں پر سخت تنقيد | Al Qamar Online
اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے چھياسٹھويں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قيام کا نظريہ انساني تاريخ کا بہت بڑا کارنامہ ہے ليکن افسوس اس بات کا ہے کہ بين الااقوامي نظام کےمراکز پر قابض قوتيں، عالمي معاشرے کو باہمي افہام و تفہيم اور اجتماعي تعاون کے امکانات سے محروم کرنے کي کوشش کر رہي ہيں-
صدر نے کہا کہ ان تمام باتوں کے باوجود ہميں يقين رکھنا چاہيے کہ دنيا کو حقيقي معنوں ميں مشترکہ انتظام کے ذريعے ہي چلايا جاسکتا ہے-
صدر ڈاکٹرمحمود احمدي نژاد نے اپنے خطاب ميں مزيد کہا کہ حقيقي آزادي، انصاف، انتخاب کا حق، عزت ووقار، فلاح و بہبود اور پائيدار سلامتي تمام اقوام کا حق ہے تاہم يہ تمام اقدار موجودہ بدعنوان عالمي انتظام، سامراجي طاقتوں کي مداخلت يا بندوق کے زور پر حاصل نہيں کي جاسکتيں بلکہ دوسروں کے حقوق کے احترام ، ہمدلي اور تعاون کے ذريعے ہي ان انساني اقدار کو عالمي سماج ميں پائيدار بنايا جاسکتا ہے-
انہوں نے کہا کہ اقوام، امن و آشتي، برادري اور پيشرفت چاہتي ہيں ليکن ہم ديکھ رہے ہيں کہ جنگيں، قتل و غارتگري ، وسيع غربت ، اقتصادي، سماجي اور سياسي بحران، نسلي امتياز، اقوام کي تحقير، خودسري اور بدامني کو رواج دے کے اقوام کے حقوق اور وقار کومجروح کيا جارہا ہے –
انہوں نے کہا کہ ہميں اس بات کي اجازت نہيں ديني چاہئے کہ اقوام متحدہ جس کو اقوام عالم کے عزم و ارادے کا مظہر ہونا چاہئے ، اپني اعلي منزلت اور مرتبے سے گرکر اس سے زيادہ پستي ميں جائے اور بڑي عالمي طاقتوں کے وسيلے ميں تبديل ہوجائے -
اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل کے ڈھانچے کو غير منصفانہ قرار ديتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو مکمل اور حقيقي اقوام متحدہ بنانے کے لئے تبديليوں اور اصلاحات کي اشد ضرورت ہے اور جنرل اسمبلي کو اس جانب بھرپور توجہ دينا چاہيے-
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے اپني تقرير جاري رکھتے ہوئے عالمي رائے عامہ کے سامنے، پہلي اور دوسري عالمي جنگوں، جنگ کوريا ، جنگ ويتنام اور عراق نيز افغانستان پر قـبضے کے ذمہ داروں کے بارے ميں سوالات رکھے تو بعض مغربي ملکوں کے نمائندے برداشت نہ کرسکے اور وہ ہال سے اٹھ کے چلے گئے -
اقتباس:
۱۔ وہ کونسے ممالک تھے جو غلام پروری کے سیاہ دور میں افریقہ اور دوسرے مناطق سے کروڑوں انسانوں کو زبردستی امریکہ اور یورپ لے کر آتے تھے؟
۲۔ 4 صدیوں تک دردناک استعماری نظام کن ممالک نے مسلط کیا اور اقوام کے تشخص، زبان، ثقافت، صلاحیتوں اور قدرتی وسائل کو کس نے برباد کیا؟
۳۔ کن ممالک نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا آغاز کیا جس میں 7 کروڑ انسان ہلاک اور کروڑوں دوسرے زخمی ہو گئے اور کن ممالک نے کوریا اور ویتنام کی جنگوں کا آغاز کیا؟
۴۔ کن قوتوں نے مکاری اور دھوکے کے ساتھ ملت فلسطین اور خطے کی اقوام پر اسرائیل کی صہیونیستی رژیم، 60 سال سے زیادہ جنگ، جلاوطنی، دہشت گردی اور قتل و غارت کو تحمیل کیا؟
۵۔ کن افراد نے دسیوں سال لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کے ممالک پر ڈکٹیٹرز کی حمایت اور پشت پناہی کی؟
۶۔ کس ملک نے بے دفاع انسانوں کے خلاف ایٹم بم کا استعمال کیا اور آج بھی ہزاروں ایٹم بم بنا کر ذخیرہ کئے ہوئے ہے؟
۷۔ کن ممالک کی معیشت اسلحے کی فروخت اور اسکی مانگ کیلئے جنگوں کے آغاز سے وابستہ ہے؟
۸۔ کن ممالک نے نائن الیون کے مشکوک واقعے کے بہانے اور اصل میں مشرق وسطی اور اسکے تیل کے ذخائر پر قبضہ کی خاطر افغانستان اور عراق پر فوجی قبضہ کیا اور کروڑوں افراد کی ہلاکت اور جلاوطنی کا باعث بنے؟
۹۔ کونسے ممالک سالانہ 1000 ارب ڈالر یعنی دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ فوجی بجٹ کے حامل ہیں اور قوموں کو ہمیشہ فوجی حملوں کی دھمکی دیتے رہتے ہیں؟
۱۰۔ کونسے ممالک دنیا کی اقوام پر کئی ہزار ٹن بم گرانے کیلئے تو ہر وقت تیار ہیں لیکن انہیں صومالیہ کے قحط زدہ ملک کی مدد کرنے کیلئے کئی مہینوں کا وقت درکار ہے؟
|
صدر مملکت نے کہا کہ وہي سامراجي اور استعماري طاقتيں ،پہلي اور دوسري عالمي جنگوں نيز ان کے بعد کي تباہي و بربادي کے ذمہ دار، چہرہ بدل کے آج تک سلامتي کونسل اور دنيا کے سياسي و اقتصادي مراکز پر قابض ہيں جبکہ ان کے اندر عالمي معاشرے کي مديريت اور اس کا نظم و نسق چلانے کي صلاحيت نہيں ہے -
صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ بعض یورپی ممالک ہولوکاسٹ کے بہانے چھے دھائياں گذرنے کے باوجود بدستور صیہونیوں کو جرمانہ ادا کررہے ہیں اور اس درمیان فلسطین کی مظلوم قوم ان کے جرائم کا تاوان ادا کررہی ہے۔
صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے پاکستان کے سیلاب ، جاپان کی سونامی اور صومالیہ کے قحط سے متاثر ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتےہوئے سب سے اپیل کی کہ ان مصیبتوں میں گرفتار لوگوں کی مدد جاری رکھیں۔
صدر مملکت نے اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي کے اجلاس ميں امريکي صدر باراک اوباما کي تقرير کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امريکي صدر نے دھمکي آميز لہجے ميں کہا ہے کہ فلسطيني قوم کو اپنے حق حاکميت پر اصرار نہيں کرنا چاہئے – صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ امريکي صدر نے اقوام متحدہ کے منشور کي خلاف ورزي کرتے ہوئے غير قانوني طور پر فلسطينيوں کے حق حاکميت کو غاصب صيہونيوں کے ساتھ مذاکرات سے مشروط کيا ہے اور يقينا اس غير معقول روش سے يہ مسئلہ حل نہيں ہوسکتا-
انہوں نےکہا کہ حکومت ايران کي نظر ميں فلسطيني قوم کا حق ہے کہ پوري سرزمين فلسطين پر اس کي حکومت ہو، جو ہوسکتا ہے کہ آج ممکن نہ ہو لہذا ہم فلسطيني حکومت کے قيام اور اقوام متحدہ سے اس کي منظوري کو اس راہ ميں ايک پشرفت سمجھتے ہيں –
صدر مملکت نے ايران امريکا روابط اور ان کي پيچيدگي کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امريکي حکومت کے روابط صرف ايران سے ہي پيچيدہ نہيں ہيں بلکہ ديگر ملکوں سے بھي اس کے روابط ميں پيچيدگي پائي جاتي ہے – انہوں نے کہا کہ اس کا حل صرف يہ ہے کہ مشترکہ انساني اقدار کي پابندي کي جائے-
صدر ڈاکٹرمحمود احمدي نژاد نے کہا کہ کسي کو بھي يہ حق نہيں ہے کہ وہ خود کو دنيا کا مالک سمجھے بلکہ ہر ايک کو دوسروں کا احترام اوران کے حقوق کو تسليم کرنا چاہئے –
انہوں نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ اقوام کے درميان روابط کو عدل و انصاف اور باہمي محبت و مہرباني پر استوار ہونا چاہئے ، کہا کہ خلقت انسان کي اساس محبت پر استوار ہے اور انساني حقيقت دوسروں سے محبت و مہرباني کے سائے ميں پنپتي ہے، بنابريں ہم دنيا کے امور چلانے ميں اسي وقت کامياب ہوسکتے ہيں جب بني نوع انسان کي ہر فرد اور تمام اقوام کے روابط محبت و دوستي پر استوار ہوں –
انہوں نے کہا کہ جب تک کچھ لوگ دوسروں پر اپنا تسلط جمانے کي کوشش کريں گے اور اپنے لئے زيادہ حق کے قائل رہيں گے ، اس وقت تک حالات ٹھيک نہيں ہوسکتے-
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے مشرق وسطي اور شمالي افريقا کے تغيرات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران تمام ملکوں کے تعلق سے آزادي، انصاف ، اور حق انتخاب کي حمايت کرتا ہے اور اس کا نظريہ يہ ہے کہ کسي بھي حکومت کو دوسرے ملکوں کے امور ميں مداخلت کا حق نہيں ہے-
ايران کے صدر نے کہا کہ جمہوريت بيروني طاقتوں کي مداخلت اور نيٹو کي لشکرکشي سے قائم نہيں ہوسکتي – انہوں نے کہا کہ تمام ملکوں کے عوام اور سياستدانوں کو چاہئےکہ افہام و تفہيم اور خلوص نيت کے ساتھ اپنے مسائل حل کريں-
صدر ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے ايران کي خارجہ پاليسي کو شفاف قرار ديتے ہوئے کہا کہ ايران کي حمايت اور مخالفت دونوں ہي واضح اور شفاف ہيں اور ايران کسي بھي مسئلے ميں اپنا موقف بيان کرنے ميں کسي سے بھي نہيں ڈرتا-
انہوں نے کہا کہ اگر مغربي ملکوں کے سربراہ يہ سمجھتے ہيں کہ علاقے کے تغيرات ميں مداخلت اور حالات سے غلط فائدہ اٹھاکر اپنا تسلط بحال کرسکتے ہيں تو سخت غلط فہمي کا شکار ہيں کيونکہ عوام، آمروں کے خلاف اٹھے ہيں اور اچھي طرح جانتے ہيں کہ آمروں کا حامي کو ن ہے