واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


اقوام متحدہ: ’طالبان اور القاعدہ اب الگ الگ‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-06-11, 11:59 AM   #1
اقوام متحدہ: ’طالبان اور القاعدہ اب الگ الگ‘
ھارون اعظم ھارون اعظم آن لائن ہے 18-06-11, 11:59 AM

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر طالبان اور القاعدہ پر پابندیوں کی فہرستوں کو الگ الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں طالبان اور القاعدہ پر پابندیوں کے لیے ایک ہی کمیٹی تھی لیکن اب متفتہ طور پر اتفاقِ رائے ہوا ہے کہ دونوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ نمٹا جائے۔

سفارتکاروں کے مطابق اس فیصلے سے سلامتی کونسل نے طالبان کو پیغام بھیجا ہے کہ سیاسی نظام کا حصہ بننے کا یہی موقع ہے۔

اس کے علاوہ طالبان اور القاعدہ کو الگ کرنے کا مقصد افغانستان میں مصالحت کی کونسل کی حمایت بھی ہے جو طالبان سے مذاکرات میں مصروف ہے۔

مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایک ایسا موقع سامنا آیا ہے کہ طالبان کو اس بات کی طرف راغب کیا جائے کہ وہ القاعدہ سے ناطہ توڑ کر سیاسی عمل کا حصہ بن جائیں۔

پابندیوں کے اطلاق کے لیے القاعدہ کو الگ کرنے سے یورپی عدالتوں کا اعتراض بھی دور ہو گیا ہے جن کا کہنا تھا کہ طالبان اور القاعدہ ایک ہی کشتی کے سوار نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے سفارتکاروں کے مطابق سلامتی کونسل کی نئے فیصلے کے ذریعے تسلیم کیا گیا ہے کہ دونوں گروہوں کے الگ الگ اہداف ہیں۔

القاعدہ کا ہدف عالمی جہاد ہے جبکہ طالبان کا ہدف افغانستان میں مزاحمت ہے۔

لیکن اس قرارداد پر عمل درآمد سے پہلے طالبان کی طرف سے واضح پیغام کا انتظار ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے ساتھ تعلقات ترک کر دیے ہیں، تشدد کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور آئین کو تسلیم کرتے ہیں۔

طالبان رہنماؤں پر یہ پابندیاں دس سال پہلے عائد کی گئی تھیں۔ جن طالبان رہنماؤں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں ان میں ساڑھے چار سو ایسی شخصیات یا ادارے شامل تھے جن کا تعلق طالبان اور القاعدہ سے تھا۔ اس فہرست میں طالبان سے منسلک افراد اور اداروں کی تعداد ایک تہائی سے بھی کم بتائی جاتی ہے۔

جب یہ بلیک لسٹ تیاری کی گئی تھیں تو اس میں ہر طرح کے مغرب مخالف عناصر کو ایک جیسا خطرناک قرار دے کر اس میں شامل کر دیا گیا تھا۔

اب دس سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد اس پر دوبارہ غور کیا گیا ہے جس کی مقصد مسئلہ کا کسی نوعیت کا سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔

بی بی سی اردو۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,255
شکریہ: 15,094
4,234 مراسلہ میں 12,910 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 169
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (18-06-11), راجہ اکرام (18-06-11)
پرانا 18-06-11, 12:09 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,185
شکریہ: 25,210
16,391 مراسلہ میں 41,633 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا یہ سب کچھ امریکہ کی مرضی سے ہو رہا ہے؟
اگر ہو رہا ہے تو کیا وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ طالبان القاعدہ سے الگ ہیں اور دہشت گرد نہیں ہیں؟
کیا وہ طالبان کے خلاف اپنی کاروائیوں پر معافی مانگنے کے لیے تیار ہو گیا ہے؟

اگر نہیں تو پھر وہ طالبان کو مذاکرات کی دعوت کیوں دے رہا ہے، ان پر لگی پانبدیاں ہٹانے کی کوششیں کیوں کر رہا ہے؟ انہیں حکومت میں شمولیت کا لالچ کیوں دے رہا ہے؟
اس کی دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں ۔۔ یا تو یہ ایک چال ہے طالبان کے خلاف ۔۔۔۔۔ یا پھر یہ امریکہ کا اعتراف شکست ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (18-06-11), ھارون اعظم (18-06-11)
پرانا 18-06-11, 12:47 PM   #3
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,255
کمائي: 121,467
شکریہ: 15,094
4,234 مراسلہ میں 12,910 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

راجہ بھائی، امریکہ پاکستان کو طالبان سے مذاکرات کرنے سے منع کرتا رہا۔ اب خود ان سے مذاکرات کرکے افغانستان سے چلا جائے گا۔ اور پاکستان کو اس دلدل میں چھوڑ دے گا۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (18-06-11), راجہ اکرام (18-06-11)
پرانا 18-06-11, 12:51 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,185
شکریہ: 25,210
16,391 مراسلہ میں 41,633 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
راجہ بھائی، امریکہ پاکستان کو طالبان سے مذاکرات کرنے سے منع کرتا رہا۔ اب خود ان سے مذاکرات کرکے افغانستان سے چلا جائے گا۔ اور پاکستان کو اس دلدل میں چھوڑ دے گا۔
اس دوغلے پن پر بھی لوگوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔ اب بھی لوگ امریکہ کو ہی اپنا بہی خواہ سمجھتے ہیں۔ اور تو اور حکومت اور دیگر انتظامی ادارے بھی اس بات کو نہیں سمجھ رہے کہ اگر پاکستان اپنے ہمساے میں بسنے والے اور اپنے ملک میں بسنے والے لوگوں سے مذاکرات نہیں کر سکتا تو پھر امریکہ افغانستان میں مذاکرات کے لیے اتنے پاپڑ کیوں بیل رہا ہے۔

صاف ظاہر ہے کہ اصل ہدف پاکستان ہے۔ وہ پاکستان کو نہ صرف اندرونی طور پر انتشار کا شکار کرنا چاہتا ہے بلکہ اس کی سرحدوں کو بھی غیر محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ اس لیے اس کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح افغانی طالبان اور ان کے حمایتیوں کو پاکستان کے ساتھ برسر پیکار کر دیا جائے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (18-06-11), ھارون اعظم (18-06-11)
پرانا 18-06-11, 12:58 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,972
شکریہ: 2,333
913 مراسلہ میں 2,332 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جوچاہےآپکاحسن کرشمہ سازکرے
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (18-06-11), ھارون اعظم (18-06-11)
جواب

Tags
کرتے, گئی, پہلے, موقع, مقصد, مطابق, world, اقوام متحدہ, بننے, تلاش, ترک, جانے, حل, حصہ, دے, سال, طور, طالبان, علیحدہ, عناصر, عالمی, عائد, عدالتوں, عرصہ, غور


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:38 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger