کراچی میں جماعت الدعوۃ پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خلاف الدعوۃ سکولوں کے بچوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ پابندیوں کی آڑ میں سکول کے اساتذہ کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ منتظمین نے الزام لگایا ہے کہ پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکار سکول میں آکر اساتذہ اور بچوں کے کوائف طلب کر رہے ہیں۔
کراچی میں چودہ الدعوۃ سکول ہیں جن میں تقریباً دو ہزار تین سو بچے زیر تعلیم ہیں۔مختلف علاقوں میں قائم ان سکولوں کے طالب علم دوپہر کو کراچی پریس کلب کے باہر جمع ہوئے۔ ان کے ساتھ کچھ خواتین اور مرد موجود تھے۔
ایک خاتون ٹیچر شگفتہ طاہر نے بتایا کہ اسکولوں میں پولیس آرہی ہے جس کا اصرار ہے کہ بچوں اور اساتذہ کے نام بتائے جائیں ۔ ان کے بقول اس بنیاد پر تنگ کیا جارہا ہے تاکہ اسکول بند کر دیا جائے۔
ایک دوسری خاتون ٹیچر اقصٰی خان کا کہنا تھا کہ وہ قرآن ، حدیث اور اسلام کی تعلیم دیتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان سکولوں میں صرف خواتین ٹیچرز پڑھاتی ہیں جو حجاب میں ہوتی ہیں۔ پرنسپل مرد ہوتے ہیں اور جب بھی کلاس میں آتے ہیں تو بتاکر آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ تعلیم دیتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کی باتوں پر عمل کریں۔ اس کا دہشت گردی سے تو کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ کتابوں میں ایسی کوئی تعلیم ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا ’مسلمان دہشت گرد کیسے ہوسکتے ہیں؟ بڑے افسوس کی بات ہے، ایسے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ جماعت الدعوۃ والے دہشت گرد ہیں ان کا طالبان سے تعلق ہے۔
نارتھ کراچی میں الدعوۃ سکول میں ساتویں کلاس میں زیر تعلیم سعد الرحمان کا کہنا ہے کہ انہیں اسکول میں انگریزی، اردو، سائنس، ریاضی، معاشرتی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا بننا چاہوگے تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا ’مجاہد‘۔